FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

وہ گاؤں جہاں جھوٹ سچ ہو جاتا ہے

 

وہ گاؤں جہاں جھوٹ سچ ہو جاتا ہے

حصہ اول: راستے کی بھٹکن

صبح کی دھند میں لپٹا ہوا وہ گاؤں ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی خواب کا ٹکڑا زمین پر اتر آیا ہو۔ عدنان نے جب اپنی گاڑی کو سڑک کے کنارے روکا تو اسے یقین نہیں آیا کہ اس کا GPS اسے یہاں لے آیا ہے۔ نقشے میں تو یہ راستہ بالکل نہیں تھا۔

"شاید کوئی شارٹ کٹ ہو،" اس نے خود سے کہا اور گاڑی سے باہر نکل آیا۔

تیس سالہ عدنان ایک کامیاب کاروباری آدمی تھا، جو شہر کی بھاگ دوڑ میں اتنا کھو گیا تھا کہ اسے اپنے دل کی آواز سننا بھی بھول گیا تھا۔ آج وہ ایک اہم میٹنگ کے لیے دوسرے شہر جا رہا تھا، لیکن قسمت نے اسے اس پراسرار گاؤں "حقیقت پور" میں لا کھڑا کیا۔

گاؤں کے داخلی دروازے پر ایک پرانا سا تختہ لگا تھا جس پر عجیب سی تحریر لکھی تھی: "یہاں جھوٹ کا وزن سچ سے زیادہ ہے۔ ہوشیار رہیں۔"

عدنان ہنس پڑا۔ "گاؤں والوں کی دلچسپ مزاح کی حس ہے۔"

اندر داخل ہوتے ہی اسے ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی، جیسے ہوا میں کوئی غیر معمولی توانائی تھی۔ گلیاں تنگ تھیں، مٹی کے گھر تھے، اور لوگ ایسے چل رہے تھے جیسے ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھا رہے ہوں۔

ایک چائے کی دکان نظر آئی۔ عدنان نے سوچا کہ راستہ پوچھنے کے ساتھ ایک کپ چائے بھی ہو جائے۔

دکان پر ایک بزرگ شخص بیٹھا تھا، جس کی آنکھوں میں گہرائی تھی۔ اس کا نام بابا نورالدین تھا۔

"آؤ بیٹا، بیٹھو،" بابا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

عدنان نے بیٹھتے ہوئے کہا، "ایک چائے دیں اور بتائیں کہ یہاں سے شہر کا راستہ کیسے جاتا ہے؟"

بابا نے چائے بناتے ہوئے کہا، "بیٹا، یہاں سے جانا آسان نہیں۔ حقیقت پور میں جو آ جاتا ہے، وہ بغیر سبق سیکھے نہیں جاتا۔"

"سبق؟" عدنان نے حیرت سے پوچھا۔

"ہاں، یہ گاؤں مخصوص ہے۔ یہاں لوگ بہت احتیاط سے بولتے ہیں۔"

عدنان نے لاپرواہی سے کہا، "اچھا؟ کیوں؟"

بابا نے سنجیدگی سے کہا، "کیونکہ یہاں جو جھوٹ بولا جاتا ہے، وہ چوبیس گھنٹے میں سچ ہو جاتا ہے۔"

عدنان زور سے قہقہہ لگایا۔ "واہ! کیا دلچسپ کہانی ہے! لوگ اب بھی ایسی باتوں پر یقین کرتے ہیں؟"

بابا نے خاموشی سے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا۔



حصہ دوم: وہ لمحہ جو سب بدل گیا

اسی وقت دکان میں ایک نوجوان لڑکی داخل ہوئی۔ اس کا نام زینب تھا، سولہ سترہ سال کی عمر، معصوم چہرہ اور آنکھوں میں سوالات۔

"بابا، ابو کی دوائی آ گئی؟" اس نے پوچھا۔

بابا نے حامی بھری اور دوائی دیتے ہوئے کہا، "بیٹی، یہ صاحب شہر سے آئے ہیں۔"

زینب نے عدنان کو دیکھا اور شرماتے ہوئے سلام کیا۔

کچھ دیر بعد ایک اور آدمی آیا، جلدی میں تھا۔ اس نے بابا سے کہا، "بابا جان، میرے بھائی نے آج صبح کہا کہ وہ کبھی شادی نہیں کرے گا۔ اب وہ پاگلوں کی طرح ہر لڑکی کو دیکھ کر بھاگ رہا ہے!"

بابا نے افسوس سے سر ہلایا۔ "میں نے منع کیا تھا۔ یہاں جھوٹ بولنا بہت مہنگا پڑتا ہے۔"

عدنان کو یہ سب مذاق لگ رہا تھا۔ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا، "تو پھر میں بھی کچھ جھوٹ بول دوں؟ شاید میری زندگی بہتر ہو جائے!"

بابا نے سنجیدگی سے کہا، "بیٹا، مذاق نہ کرو۔"

لیکن عدنان کو شہری آدمی کی وہ غرور تھا جو گاؤں کی باتوں کو توہم پرستی سمجھتا ہے۔ اس نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور کھڑے ہوتے ہوئے زور سے کہا:

"میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سے محبت نہیں کی۔"

یہ جھوٹ تھا۔ عدنان نے زندگی میں بہت محبت کی تھی - اپنی ماں سے، اپنی بہن سے، اپنے دوستوں سے، اور خاص طور پر صوفیہ سے، جو اس کی منگیتر تھی۔

بابا کا چہرہ فق ہو گیا۔ "بیٹا، تم نے کیا کر دیا!"

"ارے، مذاق کیا ہے،" عدنان ہنستے ہوئے باہر نکل گیا۔

حصہ سوم: یادوں کا مٹنا

گاڑی میں بیٹھتے ہی عدنان کو سر میں ایک تیز درد محسوس ہوا۔ اس نے سر پکڑا اور آنکھیں بند کر لیں۔

جب آنکھیں کھولیں تو اسے کچھ عجیب محسوس ہوا۔ اس نے اپنے موبائل کی اسکرین دیکھی - والپیپر پر صوفیہ کی تصویر تھی۔ ایک خوبصورت لڑکی، جو ہاتھ میں گلاب پکڑے مسکرا رہی تھی۔

"یہ کون ہے؟" عدنان نے خود سے پوچھا۔

اسے کچھ یاد نہیں آیا۔

گھبراہٹ میں اس نے فون کی کانٹیکٹ لسٹ کھولی۔ "امی" لکھا تھا ایک نمبر پر۔ اس نے نمبر ڈائل کیا۔

"السلام علیکم، امی؟" اس نے کہا، لیکن آواز میں شناسائی کا وہ گرم جوش نہیں تھا۔

"وعلیکم السلام، عدنان بیٹا! کیسے ہو؟" دوسری طرف سے ایک پیار بھری آواز آئی۔

عدنان کو یہ آواز بالکل اجنبی لگی۔ "میں... میں ٹھیک ہوں۔ آپ... آپ کون ہیں؟"

سناٹا۔

"عدنان، یہ کیسا مذاق ہے؟ میں تمہاری ماں ہوں!"

"معاف کیجیے،" عدنان نے فون کاٹ دیا۔

اس کے دل میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ کچھ غلط ہو رہا تھا۔ اسے صوفیہ یاد نہیں آ رہی تھی، اپنی ماں کی آواز اجنبی لگ رہی تھی۔

وہ گاڑی سے اتر کر دوبارہ بابا کی دکان کی طرف بھاگا۔

"بابا! بابا!" وہ چیخا۔

بابا باہر آیا۔ عدنان کی حالت دیکھ کر اسے سب سمجھ آ گیا۔

"شروع ہو گیا ہے، بیٹا۔"

"کیا شروع ہو گیا؟" عدنان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

"تمہارا جھوٹ سچ ہونے لگا ہے۔ تم نے کہا کہ تم نے کبھی کسی سے محبت نہیں کی، اب تمہارے دماغ سے وہ سب یادیں مٹ رہی ہیں جن سے تمہیں محبت تھی۔"

عدنان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

حصہ چہارم: یادوں کو بچانے کی جنگ

بابا نے عدنان کو اندر بٹھایا اور پانی پلایا۔

"کوئی راستہ ہے اس کو روکنے کا؟" عدنان نے روتے ہوئے پوچھا۔

بابا نے سوچتے ہوئے کہا، "ایک ہی راستہ ہے۔ اگلے چوبیس گھنٹوں میں تمہیں محبت کا اصل معنی سمجھنا ہوگا۔ تمہیں یاد کرنا ہوگا کہ تم نے واقعی محبت کی تھی، اور اس محبت کو دوبارہ محسوس کرنا ہوگا۔"

"لیکن کیسے؟ مجھے تو کچھ یاد ہی نہیں رہا!"

"یادیں دل میں ہوتی ہیں، دماغ میں نہیں۔ تمہیں اپنے دل کو جگانا ہوگا۔"

عدنان نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑا۔ وہ سوچنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن جتنا سوچتا، اتنا ہی خالی پن محسوس ہوتا۔

تبھی زینب وہاں آئی۔ اس نے عدنان کی حالت دیکھی۔

"بابا، یہ صاحب کو کیا ہوا؟"

بابا نے سارا واقعہ سنایا۔ زینب کی آنکھوں میں ہمدردی آ گئی۔

"میں ان کی مدد کرنا چاہتی ہوں،" زینب نے کہا۔

عدنان نے اسے دیکھا۔ یہ معصوم لڑکی جو اسے بالکل نہیں جانتی تھی، اس کی مدد کرنا چاہتی تھی۔

حصہ پنجم: محبت کے نشانات

زینب نے عدنان کو گاؤں میں گھمانا شروع کیا۔

"آپ دیکھیں، یہ ہمارا گاؤں ہے۔ یہاں ہر چیز میں محبت ہے۔ یہ دیکھیں، وہ بوڑھی عورت جو اپنے پوتے کو گود میں لیے کھیلا رہی ہے - یہ محبت ہے۔ یہ دیکھیں، وہ کسان جو اپنے کھیت میں محنت کر رہا ہے تاکہ اپنے بچوں کو پیٹ بھر کھانا کھلا سکے - یہ محبت ہے۔"

عدنان خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کے دل میں کچھ ہلچل ہونے لگی۔

وقت گزرتا گیا۔ عدنان کی حالت اور خراب ہوتی جا رہی تھی۔ اسے اپنا نام بھی بھولنے لگا تھا۔

شام ہونے لگی۔ زینب اسے ایک پرانے مکان کی طرف لے گئی۔

"یہ میرا گھر ہے۔ میں آپ کو اپنے ابو سے ملواتی ہوں۔"

اندر ایک بزرگ آدمی بستر پر لیٹا تھا، بیمار۔ عدنان نے اسے دیکھا۔

زینب نے اپنے ابو کے پاس بیٹھ کر ان کا ہاتھ پکڑا۔

"ابو، یہ شہر سے آئے ہیں۔ انہیں مشکل ہے۔"

بزرگ نے عدنان کو دیکھا اور کمزور آواز میں کہا، "بیٹا، زندگی میں سب کچھ چھن سکتا ہے، لیکن محبت... محبت وہ چیز ہے جو مرنے کے بعد بھی رہ جاتی ہے۔"

عدنان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے نہیں معلوم تھا کیوں۔

حصہ ششم: دل کی آواز

رات کا وقت تھا۔ عدنان کی یادیں تیزی سے مٹ رہی تھیں۔ اب اسے اپنا نام بھی یاد نہیں تھا۔ وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، خالی نظروں سے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔

زینب اس کے پاس آئی اور بیٹھ گئی۔

"آپ ہار مت مانیں۔ ابھی وقت ہے۔"

عدنان نے اس کی طرف دیکھا۔ "میں... میں کون ہوں؟"

زینب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "آپ ایک انسان ہیں جو بھٹک گیا ہے۔ لیکن آپ واپس آ سکتے ہیں۔"

"کیسے?"

"اپنے دل کی سنیں۔"

عدنان نے آنکھیں بند کیں۔ اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔

کچھ دیر بعد، اسے ایک دھڑکن محسوس ہوئی۔ ایک یاد کا ٹکڑا۔

ایک عورت کی آواز: "عدنان، میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔"

کون تھی وہ؟

اس نے اور گہرائی میں جانے کی کوشش کی۔

ایک اور یاد: چھوٹا عدنان، کسی کی گود میں، محبت سے سر پر ہاتھ پھیرا جا رہا تھا۔

"امی..." عدنان کے منہ سے نکلا۔

یاد واپس آنے لگی۔ اس کی ماں کا چہرہ، جو رات بھر جاگ کر اس کی دیکھ بھال کرتی تھی جب وہ بیمار ہوتا تھا۔

"امی!" عدنان نے زور سے چیخ کر کہا۔

زینب خوشی سے مسکرائی۔

اب یادیں تیزی سے واپس آنے لگیں۔

اس کی بہن، جو ہمیشہ اس کے لیے لڑتی تھی۔

اس کے دوست، جنہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا۔

اور پھر... صوفیہ۔

حصہ ہفتم: محبت کی واپسی

صوفیہ۔ وہ لڑکی جس نے عدنان کی زندگی بدل دی تھی۔

یادیں سیلاب کی طرح آنے لگیں۔

پہلی ملاقات - یونیورسٹی کی لائبریری میں۔ صوفیہ کتاب پڑھ رہی تھی اور عدنان نے اس سے کتاب کے بارے میں پوچھا تھا۔

پہلی بات چیت - گھنٹوں کی بات چیت جو منٹوں میں گزر گئی۔

پہلی تاریخ - سمندر کنارے، ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوئے۔

وہ لمحہ جب عدنان نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر صوفیہ سے شادی کا پیغام دیا تھا۔

عدنان رونے لگا۔ وہ زار و قطار روتا رہا۔

"میں نے... میں نے سب کو بھلا دیا تھا۔ میں نے اپنی امی کو بھلا دیا، اپنی صوفیہ کو بھلا دیا۔ میں کیسا انسان ہوں!"

زینب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "لیکن اب آپ یاد کر رہے ہیں۔ اور یہی اصل محبت ہے۔"

عدنان کو سمجھ آنے لگا۔ اس نے شہر کی بھاگ دوڑ میں اپنے پیاروں کو نظرانداز کر دیا تھا۔ وہ میٹنگوں، کانٹریکٹوں اور پیسوں میں اتنا مصروف ہو گیا تھا کہ اسے یہ یاد ہی نہیں رہا کہ اس کی ماں کو اس کی ضرورت ہے، اس کی صوفیہ اس کے وقت کی منتظر ہے۔

"میں نے غلطی کی،" عدنان نے کہا۔ "میں نے واقعی کسی سے محبت نہیں کی - نہیں، میں نے محبت کی تھی، لیکن میں نے اس کی قدر نہیں کی۔"

بابا نورالدین وہاں آئے۔

"بیٹا، اب تمہیں سمجھ آ گئی؟"

"جی، بابا۔ مجھے سمجھ آ گئی۔ محبت صرف کہنے کی چیز نہیں ہے۔ محبت دکھانے، محسوس کرنے، اور اس کی قدر کرنے کی چیز ہے۔"

بابا نے مسکراتے ہوئے کہا، "بس یہی سبق تھا جو تمہیں سیکھنا تھا۔"

حصہ ہشتم: واپسی

صبح ہو گئی۔ چوبیس گھنٹے پورے ہو چکے تھے۔

عدنان کی سب یادیں واپس آ چکی تھیں۔ بلکہ وہ پہلے سے زیادہ واضح اور قیمتی لگ رہی تھیں۔

اس نے فوری طور پر اپنی ماں کو فون کیا۔

"السلام علیکم، امی!"

"وعلیکم السلام، بیٹا! کل کا فون کیا تھا؟ تم ٹھیک ہو؟"

عدنان کی آواز بھرا گئی۔ "امی، میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں۔ معاف کر دیں کہ میں نے آپ کو وقت نہیں دیا۔"

دوسری طرف سے سناٹا، پھر رونے کی آواز۔

"بیٹا، میں نے ہمیشہ تمہیں سمجھا ہے۔ بس یہی سننا چاہتی تھی۔"

عدنان نے صوفیہ کو بھی فون کیا۔

"صوفیہ، میں آ رہا ہوں۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔"

"عدنان، کیا ہوا؟ تمہاری آواز بدلی ہوئی ہے۔"

"بس آ رہا ہوں۔"

حصہ نہم: الوداع اور شروعات

عدنان نے زینب اور بابا نورالدین سے الوداع کیا۔

"زینب، تم نے مجھے بچایا۔ میں تمہارا شکریہ کیسے ادا کروں؟"

زینب نے مسکراتے ہوئے کہا، "بس اپنے پیاروں کو وقت دیں۔ یہی میرا شکریہ ہے۔"

عدنان نے بابا کے پاؤں چھوئے۔

"بیٹا، یاد رکھنا، زندگی میں سب سے قیمتی چیز محبت ہے۔ پیسہ، شہرت، کامیابی - یہ سب آتے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں سے تم محبت کرتے ہو، ان کو کبھی نظرانداز مت کرنا۔"

"جی بابا، میں کبھی نہیں بھولوں گا۔"

عدنان نے گاڑی سٹارٹ کی اور شہر کی طرف روانہ ہوا۔

راستے میں اس نے اپنی میٹنگ کینسل کر دی۔ آج اس کے پاس کام سے زیادہ اہم کام تھا۔

حصہ دہم: نئی زندگی

عدنان پہلے اپنی ماں کے پاس گیا۔ دروازہ کھولتے ہی اس نے اپنی ماں کو گلے لگا لیا۔

"امی، مجھے معاف کر دیں۔"

ماں نے اسے سینے سے لگایا۔ "بیٹا، تم ٹھیک ہو؟"

"جی امی، اب بالکل ٹھیک ہوں۔ اور آج سے میں ہر ہفتے آپ کے پاس آیا کروں گا۔"

ماں کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔

پھر عدنان صوفیہ کے پاس گیا۔ صوفیہ نے دروازہ کھولا اور عدنان کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔



"عدنان، کیا ہوا؟"

عدنان نے اس کا ہاتھ پکڑا۔

"صوفیہ، میں نے ایک سفر کیا ہے جہاں مجھے سب سے بڑا سبق ملا ہے۔ میں نے تمہیں نظرانداز کیا، اپنے کام کو تم سے اہم سمجھا۔ لیکن اب مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ تم، امی، میری فیملی - یہ سب

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...