وقت کے پہریدار
لاہور کے پرانے شہر میں، جہاں تنگ گلیوں کی دیواریں صدیوں کی کہانیاں سنانے کے لیے بے تاب رہتی ہیں، ایک عظیم الشان حویلی کھڑی تھی۔ اس حویلی کا نام "منزل وقت" تھا۔ یہ کوئی عام حویلی نہیں تھی - اس کی دیواریں سرخ اینٹوں سے بنی تھیں، جن پر نیلے اور سفید ٹائلوں کے نقش ایسے چمکتے تھے جیسے کسی کی یادیں۔ بڑے بڑے دروازوں پر لکڑی کی نفیس کاریگری تھی، اور آنگن میں ایک پرانا کنواں تھا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ وقت کی گہرائیوں تک جاتا ہے۔
اس حویلی میں خان خاندان رہتا تھا - نسل در نسل، صدیوں سے۔ لیکن یہ کوئی عام خاندان نہیں تھا۔ خان خاندان کے پاس ایک راز تھا، ایک ذمہ داری تھی جو صرف خاندان کے بزرگ ترین فرد کو معلوم ہوتی تھی۔ وہ "وقت کی کتاب" کے محافظ تھے۔
پہلا باب: راز کا انکشاف
نواب محمد افضل خان، خاندان کے بزرگ ترین فرد، اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔ ان کی عمر پچاسی سال تھی، لیکن ان کی آنکھوں میں اب بھی گہری چمک تھی۔ ان کے سامنے ایک پرانا لکڑی کا صندوق رکھا تھا، جس پر عجیب نشانیاں بنی ہوئی تھیں۔
"زینب، بیٹی، پاس آؤ،" انہوں نے اپنی پوتی کو بلایا۔
زینب پچیس سال کی نوجوان تھی، جو یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتی تھی۔ اس کے بال لمبے تھے اور آنکھوں میں سوالوں کی ایک دنیا بستی تھی۔ وہ گھبراہٹ کے ساتھ دادا جان کے پاس بیٹھ گئی۔
"دادا جان، آپ نے اتنی جلدی کیوں بلایا؟"
نواب صاحب نے گہری سانس لی۔ "بیٹی، میرا وقت قریب آ گیا ہے۔ اب تمہیں وہ راز بتانا ہے جو صدیوں سے ہمارے خاندان میں چلا آ رہا ہے۔"
زینب کی سانسیں تھم گئیں۔
نواب صاحب نے صندوق کھولا۔ اندر ایک بہت پرانی کتاب تھی۔ اس کا جلد چمڑے کا تھا، اور اس پر سنہری حروف میں لکھا تھا: "کتاب الاوقات" - وقت کی کتاب۔
"یہ کیا ہے؟" زینب نے حیرت سے پوچھا۔
"یہ وہ کتاب ہے جو ہر انسان کی زندگی کے اہم لمحات محفوظ کرتی ہے۔ جب کوئی لاہور میں پیدا ہوتا ہے، اس کی زندگی کے سب سے اہم تین لمحات اس کتاب میں خود بخود لکھ جاتے ہیں۔ پہلا لمحہ جب وہ پیدا ہوتا ہے، دوسرا وہ لمحہ جو اس کی زندگی کو بدل دیتا ہے، اور تیسرا وہ لمحہ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔"
زینب کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ "یہ کیسے ممکن ہے؟"
"یہ صدیوں پرانا معجزہ ہے، بیٹی۔ مغلوں کے دور میں، ایک صوفی بزرگ نے یہ کتاب ہمارے خاندان کے پہلے فرد کو سونپی تھی۔ اور تب سے ہمارا خاندان اس کی حفاظت کرتا آیا ہے۔"
دوسرا باب: ذمہ داری کا بوجھ
زینب کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے کتاب کو چھوا۔ کتاب گرم تھی، جیسے اس میں زندگی ہو۔ اس نے ایک صفحہ کھولا۔ وہاں نام لکھے تھے، تاریخیں تھیں، اور چھوٹے چھوٹے جملے تھے۔
"دیکھو،" نواب صاحب نے ایک صفحے پر انگلی رکھی۔ "یہ تمہارا نام ہے۔"
زینب نے پڑھا: "زینب افضل خان - پیدائش: 15 اگست 1999 دوسرا لمحہ: 12 جنوری 2026 - جب وہ حقیقت کو جان لے گی تیسرا لمحہ: ؟؟؟"
"لیکن دادا جان، یہ تو آج کی تاریخ ہے!" زینب کی آواز میں خوف تھا۔
"ہاں، بیٹی۔ آج تمہاری زندگی بدل جائے گی۔ آج سے تم اس کتاب کی محافظ ہو۔"
زینب کے دماغ میں ہزاروں سوال آئے۔ "لیکن میں کیسے؟ میں کیا کروں گی؟ کیا میں لوگوں کی موت کی تاریخ دیکھ سکتی ہوں؟"
نواب صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ "یہ عظیم ذمہ داری ہے، زینب۔ تم دیکھ سکتی ہو، لیکن بتا نہیں سکتیں۔ یہ قدرت کا قانون ہے۔ اگر کسی کو اس کے مستقبل کے بارے میں بتا دیا، تو وقت کا توازن بگڑ جائے گا۔"
"لیکن اگر میں کسی کو بچا سکتی ہوں؟"
"تم نہیں بچا سکتیں، بیٹی۔ یہی تو سب سے مشکل حصہ ہے۔ تمہیں دیکھنا ہے، جاننا ہے، لیکن خاموش رہنا ہے۔"
تیسرا باب: پہلا امتحان
زینب نے اگلے چند دن کتاب کا مطالعہ کیا۔ وہ رات رات بھر جاگتی، لوگوں کے نام پڑھتی، ان کی کہانیاں جانتی۔ کچھ لوگ جلد مر جانے والے تھے، کچھ کی زندگی میں خوشیاں آنے والی تھیں۔
ایک دن، جب وہ یونیورسٹی میں پڑھا رہی تھی، اس کی نظر اپنے بہترین دوست سارہ پر پڑی۔ اچانک اسے یاد آیا کہ اس نے سارہ کا نام کتاب میں دیکھا تھا۔
اس رات، اس نے دوبارہ کتاب کھولی: "سارہ احمد - تیسرا لمحہ: 25 جنوری 2026 - کار حادثہ"
زینب کی چیخ نکل گئی۔ آج 20 جنوری تھی۔ صرف پانچ دن رہ گئے تھے۔
وہ دوڑتی ہوئی دادا جان کے پاس گئی۔ "دادا جان، میری سب سے اچھی دوست! میں اسے نہیں بچا سکتی؟"
نواب صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "میں جانتا ہوں یہ کتنا مشکل ہے۔ میں خود یہ سب دیکھ چکا ہوں۔ تمہارے والد کو بھی میں نہیں بچا سکا تھا۔"
"لیکن یہ ظلم ہے!"
"نہیں، بیٹی۔ یہ زندگی ہے۔ ہم صرف دیکھنے والے ہیں، فیصلے کرنے والے نہیں۔"
چوتھا باب: بغاوت کا فیصلہ
زینب نے فیصلہ کر لیا کہ وہ سارہ کو بچائے گی۔ اس نے ایک منصوبہ بنایا۔ اگر سارہ اس دن گھر سے باہر نہ نکلے، تو شاید حادثہ نہ ہو۔
24 جنوری کو، اس نے سارہ کو فون کیا۔ "سارہ، کل گھر پر رہنا۔ باہر مت نکلنا۔"
"کیوں؟ کیا ہوا؟"
"بس... میری بات مان لو۔"
25 جنوری کو، زینب نے صبح سے سارہ کو فون کیے۔ لیکن سارہ نے بتایا کہ اس کی ماں بیمار ہے اور اسے ہسپتال لے جانا ہے۔
"نہیں! کسی اور کو بھیج دو!"
"زینب، تم پاگل ہو گئی ہو؟ میری ماں ہے!"
دوپہر کو، زینب کا فون بجا۔ سارہ کے بھائی کا فون تھا۔
"زینب... سارہ کا حادثہ ہو گیا۔"
زینب کے ہاتھ سے فون گر گیا۔ وہ حویلی کی طرف بھاگی۔ کتاب کھولی۔ سارہ کے نام کے آگے لکھا تھا: "تیسرا لمحہ: 25 جنوری 2026 - مکمل"
پانچواں باب: کتاب کا قانون
نواب صاحب نے زینب کو سمجھایا۔ "بیٹی، تم نے کوشش کی، لیکن وقت کو تم نہیں بدل سکتیں۔ یہ کتاب صرف وہی دکھاتی ہے جو ہونا ہے۔ اگر تم نے مداخلت کی، تو چیزیں اور خراب ہو سکتی ہیں۔"
"تو پھر اس کتاب کا فائدہ کیا ہے؟" زینب رو رہی تھی۔
"اس کتاب کا مقصد بچانا نہیں، بلکہ سمجھنا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر لمحہ قیمتی ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں تین خاص لمحے ہوتے ہیں۔ ہمیں ان لمحوں کی قدر کرنی چاہیے۔"
زینب نے آنسو پونچھے۔ "لیکن یہ اتنا مشکل ہے۔"
"میں جانتا ہوں۔ لیکن اب تم اس کی محافظ ہو۔ تمہیں اس ذمہ داری کو نبھانا ہوگا۔"
چھٹا باب: نئی سمجھ
مہینے گزرتے گئے۔ زینب نے سیکھا کہ کتاب کے ساتھ کیسے رہنا ہے۔ اس نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے دوسرے لمحے بہت خوبصورت تھے - شادی، بچے کی پیدائش، کامیابی۔ کچھ کے لمحے درد سے بھرے تھے۔
ایک دن، اس نے اپنے استاد پروفیسر کریم کا نام دیکھا: "پروفیسر عبدالکریم - دوسرا لمحہ: 5 فروری 2026 - جب وہ اپنی بیٹی سے ملے گا جسے وہ بیس سال سے نہیں دیکھا"
زینب نے سوچا۔ اگر وہ کچھ نہیں بدل سکتی، تو کم از کم کچھ اچھا تو کر سکتی ہے۔
اس نے باتوں باتوں میں پروفیسر کریم سے پوچھا، "سر، آپ کی فیملی کیسی ہے؟"
پروفیسر کی آنکھوں میں اداسی آ گئی۔ "میری ایک بیٹی تھی... لیکن ہم نے بات کیے بیس سال ہو گئے۔"
"شاید آپ کو اسے فون کرنا چاہیے۔"
"میں نہیں جانتا..."
"زندگی چھوٹی ہے، سر۔ کچھ لمحے واپس نہیں آتے۔"
5 فروری کو، پروفیسر کریم نے زینب کو بتایا کہ اس کی بیٹی اس سے ملنے آ رہی ہے۔ ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
ساتواں باب: کتاب کا راز
ایک رات، زینب کو کتاب کے آخری صفحات میں کچھ عجیب نظر آیا۔ ایک خالی صفحہ تھا، جس پر سنہری سیاہی میں لکھا تھا:
"محافظ کو یہ معلوم ہونا چاہیے: یہ کتاب وقت کو نہیں بناتی، بلکہ دکھاتی ہے۔ لیکن محافظ کے پاس ایک طاقت ہے - وہ لوگوں کو ان کے لمحوں کی قدر کرنا سکھا سکتا ہے۔"
زینب سمجھ گئی۔ اس کا کام لمحوں کو بدلنا نہیں، بلکہ لوگوں کو زندگی کی قیمت سمجھانا تھا۔
آٹھواں باب: دادا جان کی آخری تعلیم
مارچ 2026 میں، نواب صاحب بہت بیمار ہو گئے۔ زینب نے کتاب میں دیکھا: "نواب محمد افضل خان - تیسرا لمحہ: 18 مارچ 2026"
وہ دادا جان کے پاس بیٹھ گئی۔ "دادا جان، میں جانتی ہوں۔"
نواب صاحب نے مسکرا کر کہا، "میں بھی جانتا ہوں، بیٹی۔ میں نے خود اپنی تاریخ کتاب میں دیکھی تھی۔ لیکن دیکھو، میں نے اپنی زندگی اچھے سے گزاری۔ میں نے اپنے لمحوں کی قدر کی۔"
"آپ کو ڈر نہیں لگتا؟"
"بالکل نہیں۔ ڈر اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں زندگی ادھوری نہ رہ جائے۔ میری زندگی مکمل ہے۔ اور اب تم اس کتاب کی اصل محافظ ہو۔"
18 مارچ کو، نواب صاحب نے اپنی آخری سانس لی۔ ان کی موت پرسکون تھی، ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
نواں باب: زینب کی نئی سمجھ
دادا جان کی موت کے بعد، زینب نے سمجھ لیا کہ اس کی ذمہ داری کیا ہے۔ وہ لوگوں سے باتیں کرتی، انہیں اپنے پیاروں سے مل لینے کا مشورہ دیتی، معافی مانگنے کی اہمیت بتاتی۔
اس نے یونیورسٹی میں ایک نئی کلاس شروع کی: "لمحوں کی قدر"۔ اس میں وہ طلبہ کو سکھاتی کہ زندگی میں ہر لمحہ کتنا قیمتی ہے۔
دسواں باب: ایک خاص واقعہ
ایک دن، کتاب میں ایک نیا نام ظاہر ہوا: "عمران احمد - پیدائش: 15 اپریل 2026"
زینب کو احساس ہوا کہ یہ اس کے پڑوسی کا بیٹا ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوا۔ لیکن دوسرا لمحہ پڑھ کر وہ حیران رہ گئی:
"دوسرا لمحہ: 10 جون 2026 - جب اس کی زندگی بچائی جائے گی"
زینب نے غور کیا۔ یہ دلچسپ تھا۔ کتاب نے یہ نہیں کہا کہ کون بچائے گا۔
10 جون کو، زینب گلی سے گزر رہی تھی جب اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ سڑک پر آ گیا ہے اور ایک تیز رفتار گاڑی آ رہی ہے۔ اس نے بھاگ کر بچے کو بچا لیا۔
اس رات، اس نے کتاب دیکھی۔ عمران کا واقعہ مکمل تھا۔
اس نے سمجھ لیا: کتاب لمحوں کو بیان کرتی ہے، لیکن یہ نہیں بتاتی کہ وہ کیسے ہوں گے۔ کچھ چیزیں قسمت ہیں، لیکن کچھ چیزیں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔
گیارہواں باب: نئی نسل
سال گزرتے گئے۔ زینب بوڑھی ہوتی گئی۔ اس کی اپنی بیٹی ہوئی، پھر پوتی۔ اس نے کتاب کی حفاظت کی، لیکن اسے اپنی زندگی کا بوجھ نہیں بننے دیا۔
اس نے سیکھا کہ کتاب ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ یہ یاد دلاتی رہی کہ زندگی عارضی ہے، لمحے قیمتی ہیں، اور محبت ہمیشہ رہتی ہے۔
بارہواں باب: کتاب کی اصل تعلیم
ایک دن، زینب کی پوتی آئشہ نے پوچھا، "دادی، آپ اتنی خوش کیسے رہتی ہیں؟ آپ نے اتنے دکھ دیکھے ہیں۔"
زینب نے مسکرا کر کہا، "بیٹی، میں نے سیکھا ہے کہ ہر لمحے کی قدر کرو۔ ماضی کو سوچ کر پچھتاؤ نہیں، مستقبل کے ڈر سے نہ گھبراؤ۔ بس اب کو جیو۔"
"لیکن اگر آپ کو پتا ہو کہ کل کیا ہوگا؟"
"تب بھی، بیٹی۔ کیونکہ زندگی لمحوں کا نام ہے، تاریخوں کا نہیں۔"
اختتام: وقت کا سبق
منزل وقت حویلی آج بھی کھڑی ہے۔ اس کی دیواریں آج بھی کہانیاں سناتی ہیں۔ اور "وقت کی کتاب" آج بھی محفوظ ہے، نئے محافظ کے پاس۔
لیکن سب سے اہم سبق جو اس کتاب نے سکھایا وہ یہ تھا: زندگی کی قیمت اس کی لمبائی میں نہیں، بلکہ اس کی گہرائی میں ہے۔ ہر لمحے میں محبت کرو، معاف کرو، اور خوش رہو۔
کیونکہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، لیکن محبت ہمیشہ رہتی ہے۔
اور یہی "وقت کی کتاب" کا اصل پیغام تھا۔
اختتامیہ
آج بھی، لاہور کے پرانے شہر میں، اگر آپ غور سے سنیں، تو آپ کو "منزل وقت" کی دیواروں سے آواز سنائی دے گی - ایک خاموش یاد دہانی کہ ہر لمحہ قیمتی ہے، اور زندگی ایک تحفہ ہے۔
محافظ بدلتے رہیں گے، نسلیں گزرتی رہیں گی، لیکن کتاب کا پیغام ہمیشہ رہے گا: زندگی کو خوبصورتی سے جیو، کیونکہ وقت


Post a Comment