FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

آخری خط لکھنے والا

 

آخری خط لکھنے والا

حصہ اول: خاموشی کی دکان

شہر کے سب سے پرانے محلے میں، جہاں گلیاں اتنی تنگ تھیں کہ سورج کی روشنی بھی مشکل سے زمین کو چھوتی، ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان کے باہر کوئی نمایاں تختی نہیں تھی، صرف ایک دھندلا سا بورڈ جس پر لکھا تھا: "خطوط کی خدمات"۔

یہ دکان حکیم صاحب کی تھی۔ اسّی سال کی عمر میں ان کی کمر جھک چکی تھی، بال برف کی طرح سفید ہو گئے تھے، لیکن ان کی انگلیاں ابھی بھی قلم تھامنے میں مضبوط تھیں۔ ان کی آنکھیں، جو موٹے شیشوں کے عینک کے پیچھے چھپی رہتیں، اب بھی ہر لفظ کو پڑھ سکتی تھیں۔

لیکن حکیم صاحب کی اصل خصوصیت کچھ اور تھی۔ وہ عام خطوط نہیں لکھتے تھے۔ وہ "آخری خطوط" لکھتے تھے۔

یہ سلسلہ کیسے شروع ہوا، یہ خود حکیم صاحب کو بھی ٹھیک سے یاد نہیں تھا۔ شاید پچاس سال پہلے، جب ایک بوڑھی عورت ان کے پاس آئی تھی، آنسوؤں سے شرابور، اور کہا تھا، "میرا بیٹا بہت دور ملک میں رہتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں۔ میں اسے ایک خط لکھنا چاہتی ہوں، لیکن میرے ہاتھ کانپتے ہیں اور الفاظ نہیں ملتے۔"

اس دن حکیم صاحب نے پہلا آخری خط لکھا تھا۔

اس کے بعد، دھیرے دھیرے، لوگ ان کے پاس آنے لگے۔ وہ لوگ جو جانتے تھے کہ ان کی زندگی کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے پیاروں کو ایک آخری پیغام دینا چاہتے تھے، لیکن خود الفاظ نہیں تلاش کر پاتے تھے۔

حکیم صاحب کا ہنر یہ تھا کہ وہ لوگوں کی باتیں سنتے، ان کی آنکھوں میں دیکھتے، ان کی خاموشی کو سمجھتے، اور پھر ایسے 

خط لکھتے جو بالکل ان کی اپنی آواز میں ہوتے۔ جیسے وہ خود بول رہے ہوں، اپنے دل کی گہرائیوں سے۔



حصہ دوم: روزمرہ کی زندگی

حکیم صاحب کی اپنی زندگی بہت سادہ تھی۔ صبح چھ بجے اٹھتے، وضو کرتے، نماز پڑھتے، پھر چائے بناتے۔ ان کا گھر دکان کے اوپر ہی تھا - ایک چھوٹا سا کمرہ، جس میں ایک پلنگ، ایک الماری، اور کتابوں سے بھری ہوئی ایک الماری تھی۔

آٹھ بجے وہ دکان کھولتے۔ زیادہ تر دن خاموشی سے گزرتے۔ کبھی کوئی گاہک آتا، کبھی نہیں۔ لیکن حکیم صاحب کو کوئی جلدی نہیں تھی۔ وہ صبر سے انتظار کرتے، کتابیں پڑھتے، یا کھڑکی سے باہر گزرتے لوگوں کو دیکھتے۔

ایک دن ایک جوان آدمی آیا۔ اس کا چہرہ پیلا تھا، آنکھوں میں تھکاوٹ تھی۔

"آپ... آپ وہ ہیں جو آخری خطوط لکھتے ہیں؟" اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔

حکیم صاحب نے سر ہلایا۔ "بیٹھیں۔"

جوان آدمی بیٹھ گیا۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔

"میری بیوی..." اس نے شروع کیا، پھر رک گیا۔ "ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ... زیادہ سے زیادہ تین مہینے۔"

حکیم صاحب نے کچھ نہیں کہا، بس انتظار کرتے رہے۔

"ہم شادی کے صرف دو سال بعد ہیں۔ ہماری ایک بیٹی ہے، ابھی چھ مہینے کی۔" جوان آدمی کی آواز ٹوٹ گئی۔ "وہ... وہ اپنی بیٹی کو ایک خط لکھنا چاہتی ہے۔ اس کی اٹھارویں سالگرہ کے لیے۔ جب وہ بڑی ہو جائے۔"

حکیم صاحب کی آنکھیں نم ہو گئیں، لیکن ان کی آواز مستحکم تھی۔ "آپ کی بیوی کب آ سکتی ہیں?"

"کل، اگر آپ کا وقت ہو۔"

"میرے پاس ہر وقت ہے۔"

اگلے دن وہ عورت آئی۔ اسکارف میں لپٹی، کمزور لیکن باوقار۔ اس نے ڈیڑھ گھنٹے تک بات کی - اپنی بیٹی کے بارے میں، اپنی امیدوں کے بارے میں، اپنے خوابوں کے بارے میں۔ حکیم صاحب نے ہر لفظ سنا، کچھ نوٹس لیے۔

اس کے جانے کے بعد، حکیم صاحب نے لکھنا شروع کیا۔

"میری پیاری بیٹی،


آج تیری اٹھارویں سالگرہ ہے، اور میں یہاں نہیں ہوں تیرے ساتھ یہ دن منانے کے لیے۔ لیکن جان لو کہ جہاں بھی میں ہوں، میری دعائیں ہمیشہ تیرے ساتھ ہیں۔

جب تو پیدا ہوئی، تو میں نے تجھے پہلی بار اپنی بانہوں میں لیا اور جانا کہ محبت کیا ہوتی ہے۔ میں چاہتی تھی کہ تیری ہر خوشی میں شریک ہوں، تیرے ہر غم میں تیرا سہارا بنوں۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

مجھے معلوم ہے تو نے بغیر ماں کے بڑے ہونا سیکھا ہوگا۔ شاید تو نے مجھے بھلا دیا ہوگا، یا شاید تو نے میرے بارے میں سوالات پوچھے ہوں گے جن کے جوابات تیرے ابّا کے پاس نہیں تھے۔

لیکن یہ جان لو - تو میری زندگی کی سب سے خوبصورت تخلیق تھی۔ میرے چھ مہینے تیرے ساتھ میری پوری زندگی سے زیادہ قیمتی تھے۔

اب جب تو جوان عورت بن گئی ہے، تو میں چاہوں گی کہ تو یاد رکھے: مضبوط بنو، لیکن نرم دل۔ ہمت والی بنو، لیکن مہربان۔ اپنے خواب دیکھو، اور ان کے پیچھے بھاگو۔

اور ہاں، اپنے ابّا کا خیال رکھنا۔ وہ سب سے بہترین انسان ہیں جو میں نے کبھی جانے۔

ہمیشہ تیری ماں، جو تجھے آسمان سے دیکھ رہی ہے۔"


حصہ سوم: یادوں کا بوجھ

سالوں میں، حکیم صاحب نے سینکڑوں آخری خطوط لکھے۔ ہر خط ایک کہانی تھا، ہر خط ایک زندگی کا نچوڑ۔

انہوں نے ایک بوڑھے باپ کا خط لکھا جو اپنے بیٹے سے برسوں سے نہیں ملا تھا لیکن اسے معاف کرنا چاہتا تھا۔

انہوں نے ایک جوان فوجی کا خط لکھا جو جنگ میں جا رہا تھا اور واپس نہیں آیا۔

انہوں نے ایک استاد کا خط لکھا جو اپنے شاگردوں کو آخری سبق دینا چاہتا تھا۔

ہر خط کے ساتھ، حکیم صاحب نے دوسروں کے دکھ میں شریک ہوتے، ان کی کہانیاں اپنے دل میں محفوظ کرتے۔

لیکن ان کی اپنی کہانی کیا تھی؟

حکیم صاحب کبھی شادی نہیں کیے تھے۔ ان کے والدین بہت پہلے گزر چکے تھے۔ ان کا ایک بھائی تھا، لیکن وہ پچیس سال پہلے امریکہ چلا گیا تھا اور پھر رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔

دوست تھے کبھی، لیکن وقت کے ساتھ سب بکھر گئے۔ کچھ گزر گئے، کچھ دوسرے شہروں میں چلے گئے، کچھ صرف بھول گئے۔

حکیم صاحب کی زندگی دوسروں کے خطوط لکھنے میں گزر گئی۔ ان کے پاس اپنی کوئی کہانی نہیں بچی تھی۔

یا شاید تھی، لیکن انہوں نے کبھی اسے جینا نہیں سیکھا۔

حصہ چہارم: تشخیص

یہ ایک معمولی دن تھا جب حکیم صاحب کو سانس لینے میں تکلیف ہوئی۔ انہوں نے سوچا شاید سردی ہے، یا عمر کا اثر۔ لیکن جب تین دن تک تکلیف بڑھتی گئی، تو انہیں ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا۔

ڈاکٹر نے ٹیسٹ کرائے۔ ایکسرے، خون کے ٹیسٹ، اسکین۔

ایک ہفتے بعد، ڈاکٹر نے انہیں اپنے دفتر میں بلایا۔

"حکیم صاحب، مجھے افسوس ہے۔" ڈاکٹر کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ "آپ کے پھیپھڑوں میں کینسر ہے۔ آخری سٹیج۔"

حکیم صاحب نے سر ہلایا۔ کوئی حیرت نہیں، کوئی صدمہ نہیں۔ جیسے وہ پہلے سے جانتے تھے۔

"کتنا وقت؟" انہوں نے پوچھا۔

ڈاکٹر نے جھجکتے ہوئے کہا، "شاید دو مہینے۔ زیادہ سے زیادہ تین۔"

"شکریہ، ڈاکٹر صاحب۔"

واپس گھر آتے ہوئے، حکیم صاحب نے شہر کو دیکھا۔ وہی پرانی گلیاں، وہی دکانیں، وہی لوگ۔ سب کچھ ویسا ہی تھا، لیکن اب سب کچھ مختلف بھی تھا۔

انہوں نے ہمیشہ جانا تھا کہ ایک دن یہ وقت آئے گا۔ انہوں نے سینکڑوں لوگوں کو اس وقت سے گزرتے دیکھا تھا۔ لیکن خود اس وقت کا سامنا کرنا... یہ کچھ اور ہی تھا۔


حصہ

پنجم: آخری خط کا فیصلہ

اس رات حکیم صاحب سو نہیں سکے۔ وہ بستر پر لیٹے رہے، چھت کو دیکھتے رہے، اور سوچتے رہے۔

ان کا پورا کام آخری خطوط لکھنا تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ وہ اپنا آخری خط لکھیں۔

لیکن کسے؟

انہوں نے اپنی زندگی پر نظر ڈالی۔ کون تھا جس سے وہ الوداع کہنا چاہتے تھے؟

بھائی؟ لیکن وہ کہاں تھا، کیا کرتا تھا، زندہ بھی تھا یا نہیں - کچھ معلوم نہیں تھا۔

دوست؟ کون سا دوست؟ وہ سب تو کب کے بکھر چکے تھے۔

کوئی محبوب؟ نہیں، حکیم صاحب نے کبھی شادی نہیں کی، کبھی محبت نہیں کی۔

کوئی شاگرد؟ نہیں، یہ فن انہوں نے کبھی کسی کو نہیں سکھایا۔

تو پھر کسے؟

صبح ہوئی، پھر دوپہر، پھر شام۔ حکیم صاحب دکان میں بیٹھے رہے، خالی کاغذ کو دیکھتے رہے۔

یہ ستم ہی تو تھا - ایک آدمی جو زندگی بھر دوسروں کے آخری خط لکھتا رہا، اب اپنا آخری خط لکھنا چاہتا تھا لیکن کوئی ایسا نہیں تھا جسے وہ لکھ سکے۔

حصہ ششم: ایک نیا گاہک

دوسرے دن، دکان میں ایک چھوٹی بچی آئی۔ عمر شاید دس سال کی تھی، بڑی بڑی آنکھیں، گھنگریالے بال۔

"السلام علیکم،" اس نے ادب سے کہا۔

"وعلیکم السلام، بیٹی۔" حکیم صاحب مسکرائے۔ "تم یہاں اکیلی؟"

"ہاں۔ میری نانی نے بھیجا ہے۔" بچی نے اپنے چھوٹے سے ہاتھ سے لفافہ نکالا۔ "کہا تھا کہ حکیم صاحب کو یہ دے دوں۔"

حکیم صاحب نے لفافہ لیا۔ اس پر کسی نے کانپتے ہاتھوں سے لکھا تھا: "حکیم صاحب کے لیے۔"

انہوں نے لفافہ کھولا۔ اندر ایک خط تھا:

"محترم حکیم صاحب،

میں نصیرہ ہوں۔ شاید آپ کو یاد نہیں ہوگا، لیکن پندرہ سال پہلے میں آپ کے پاس آئی تھی۔ میرا شوہر فوت ہو گیا تھا اور میں اپنے بیٹے کو ایک خط لکھنا چاہتی تھی۔ آپ نے وہ خط لکھا تھا۔

اب میری اپنی موت قریب ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ میری پوتی کے لیے ایک خط لکھیں۔ اس کا نام زارا ہے۔

میں خود آنا چاہتی تھی، لیکن اب چل نہیں سکتی۔ کیا آپ میرے گھر آ سکتے ہیں؟ زارا آپ کو راستہ دکھا دے گی۔

نصیرہ"

حکیم صاحب نے بچی کو دیکھا۔ "تمہاری نانی کیسی ہیں؟"

"بہت بیمار ہیں۔ بستر پر لیٹی رہتی ہیں۔" زارا کی آواز میں غم تھا۔

"چلو، میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔"

حصہ ہفتم: نصیرہ کی کہانی

نصیرہ کا گھر دور نہیں تھا، لیکن حکیم صاحب کے لیے وہ چھوٹا سا سفر تھکا دینے والا تھا۔ ان کا سانس پھول رہا تھا، لیکن انہوں نے زارا کے آگے کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا۔

نصیرہ ایک چھوٹے سے کمرے میں بستر پر لیٹی تھی۔ اس کے بال سفید تھے، چہرہ جھریوں سے بھرا، لیکن آنکھوں میں ایک چمک تھی۔

"حکیم صاحب، آپ آ گئے۔" اس کی آواز کمزور لیکن خوش تھی۔

"کیسی ہیں آپ؟" حکیم صاحب نے قریب ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

"جا رہی ہوں۔ جلد ہی۔" نصیرہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "لیکن جانے سے پہلے، میں اپنی زارا کو کچھ کہنا چاہتی ہوں۔"

"میں سن رہا ہوں۔"

نصیرہ نے بات شروع کی۔ اس نے اپنی زندگی کی کہانی بتائی - کیسے اس کا شوہر جوانی میں گزر گیا، کیسے اس نے اکیلے اپنے بیٹے کو پالا، کیسے اس کا بیٹا ڈاکٹر بنا لیکن پھر ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔

"اب صرف زارا بچی ہے۔" نصیرہ نے کہا، بچی کی طرف دیکھتے ہوئے۔ "اس کی ماں دوسری شادی کر کے چلی گئی۔ زارا میرے پاس ہے۔ لیکن اب میں بھی جا رہی ہوں۔"

"اسے کون سنبھالے گا؟" حکیم صاحب نے پوچھا۔

"میری ایک بہن ہے۔ وہ لے جائے گی زارا کو۔ اچھی عورت ہے، اچھا خیال رکھے گی۔" نصیرہ نے کہا۔ "لیکن میں چاہتی ہوں کہ زارا جانے کہ میں اسے کتنا پیار کرتی ہوں۔ کہ وہ میری زندگی کی روشنی تھی۔"

حکیم صاحب نے نوٹس لیے۔ نصیرہ بولتی رہی - اپنی یادوں کے بارے میں، اپنی امیدوں کے بارے میں، زارا کے مستقبل کے بارے میں۔

گھنٹے بھر بعد، جب حکیم صاحب جانے لگے، تو نصیرہ نے ان کا ہاتھ تھاما۔

"حکیم صاحب، میں نے سنا ہے کہ آپ بھی بیمار ہیں۔"

حکیم صاحب چونکے۔ "کیسے...؟"

"محلے میں باتیں پھیلتی ہیں۔" نصیرہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "آپ نے زندگی بھر دوسروں کے آخری خط لکھے۔ آپ کا اپنا آخری خط کس نے لکھنا ہے؟"

حکیم صاحب خاموش ہو گئے۔

حصہ ہشتم: احساس

واپس گھر آ کر، حکیم صاحب دیر تک سوچتے رہے۔ نصیرہ کے سوال نے انہیں جھنجھوڑ دیا تھا۔

انہوں نے اپنی زندگی پر نظر ڈالی۔ کیا انہوں نے کبھی واقعی جیا تھا؟ یا صرف دوسروں کی زندگیوں کے گواہ بنے رہے تھے؟

انہوں نے سینکڑوں محبتوں کے بارے میں لکھا، لیکن خود کبھی محبت نہیں کی۔

انہوں نے سینکڑوں خاندانوں کے پیغامات لکھے، لیکن خود کبھی خاندان نہیں بنایا۔

انہوں نے سینکڑوں خوابوں کے بارے میں لکھا، لیکن خود کے کوئی خواب نہیں تھے۔

کیا یہ غلطی تھی؟ کیا انہیں افسوس تھا؟

نہیں، حکیم صاحب نے سوچا۔ افسوس نہیں تھا۔ ان کی زندگی کا مقصد یہی تھا - دوسروں کی خدمت کرنا، ان کے دکھ میں شریک ہونا، ان کے الفاظ کو آواز دینا۔

لیکن اب، جب ان کا اپنا وقت آ گیا تھا، تو کون ان کی آواز بنے گا؟

حصہ نہم: زارا کا خط

اگلے تین دنوں میں، حکیم صاحب نے زارا کا خط لکھا۔ انہوں نے ہر لفظ پر غور کیا، ہر جملے کو سنوارا۔

یہ صرف نصیرہ کی آواز نہیں تھی۔ یہ ایک دادی کی محبت تھی، ایک عورت کی طاقت تھی، ایک زندگی کا خلاصہ تھا۔

جب خط مکمل ہوا، تو حکیم صاحب خود اس کو لے کر نصیرہ کے گھر گئے۔

نصیرہ نے خط سنا۔ زارا نے پڑھا، کیونکہ نصیرہ کی آنکھیں اب پڑھ نہیں سکتی تھیں۔

جب خط ختم ہوا، تو کمرے میں خاموشی تھی۔ پھر نصیرہ نے آنسو بہانا شروع کیے۔

"بالکل ایسے ہی... جیسے میں کہنا چاہتی تھی۔" وہ بولی۔ "شکریہ، حکیم صاحب۔ اب میں چین سے جا سکتی ہوں۔"

تین دن بعد، زارا حکیم صاحب کی دکان پر آئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔

"نانی چل بسیں۔" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔

حکیم صاحب نے اسے گلے لگایا۔ "اللہ مغفرت کرے۔"

"انہوں نے آخر میں آپ کے لیے کچھ کہا تھا۔" زارا نے کہا۔ "کہا تھا کہ حکیم صاحب سے کہنا - اب ان کی باری ہے۔"

حصہ دہم: خود سے مکالمہ

اس رات، حکیم صاحب نے پھر کوشش کی اپنا آخری خط لکھنے کی۔

انہوں نے قلم اٹھایا، پھر رکھ دیا۔ کاغذ سامنے تھا، خالی اور منتظر۔

"کسے لکھوں؟" انہوں نے خود سے پوچھا۔

اور پھر، خاموشی میں، ایک خیال آیا۔

شاید... شاید انہیں کسی کو نہیں لکھنا تھا۔ شاید انہیں اپنے آپ کو لکھنا تھا۔

لیکن اپنے آپ سے کیا کہیں؟

حکیم صاحب نے آنکھیں بند کیں۔ اپنی پوری زندگی سامنے سے گزر گئی۔ بچپن، جوانی، بڑھاپا۔ ہر لمحہ، ہر فیصلہ، ہر راستہ۔

اور پھر انہیں احساس ہوا۔

وہ غلط سوال پوچھ رہے تھے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ "کسے لکھوں؟" سوال یہ تھا کہ "کیوں لکھوں؟"

لوگ آخری خط اس لیے لکھتے ہیں تاکہ ان کے پیچھے کچھ باقی رہ جائے۔ ایک یاد، ایک پیغام، ایک نشان کہ وہ یہاں تھے۔

لیکن حکیم صاحب کا نشان تو پہلے ہی موجود تھا - ان سینکڑوں خطوط میں جو انہوں نے لکھے تھے۔ ہر خط میں ان کی محنت تھی، ان کا ہنر تھا، ان کی حساسیت تھی۔

شاید ان کا اپنا آخری خط لکھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

حصہ یازدہم: نیا احساس

لیکن پھر بھی کچھ ادھورا تھا۔

اگلے دن، حکیم صاحب دکان میں بیٹھے تھے جب ایک نوجوان آیا۔ اس کے ہاتھ میں کئی پرانے خطوط تھے۔

"حکیم صاحب، میرا نام فرحان ہے۔" اس نے کہا۔ "یہ خطوط میرے والد کو آپ نے لکھے تھے۔"

حکیم صاحب نے خطوط دیکھے۔ یاد آیا - پندرہ سال پہلے، ایک بزرگ آئے تھے، جو اپنے تینوں بیٹوں کو خطوط لکھوانا چاہتے تھے۔

"آپ کے والد کیسے ہیں؟" حکیم صاحب نے پوچھا۔

"وہ تو بہت پہلے گزر گئے۔" فرحان نے کہا۔ "لیکن یہ خطوط... یہ ہماری سب سے قیمتی چیز ہیں۔ ہر سال ان کی برسی پر ہم تینوں بھائی مل کر یہ خطوط پڑھتے ہیں۔"

فرحان نے جیب سے لفافہ نکالا۔ "میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کیونکہ اب میری ماں بھی بیمار ہیں۔ وہ بھی ہمیں خط لکھنا چاہتی ہیں۔"

اس دن، حکیم صاحب کو احساس ہوا کہ ان کا کام صرف خطوط لکھنا نہیں تھا۔ ان کا کام محبت کو زندہ رکھنا تھا، یادوں کو محفوظ کرنا تھا، رشتوں کو لفظوں میں بند کرنا تھا۔

اور یہ کام ان کی موت کے بعد بھی زندہ رہے گا۔

حصہ بارہواں: ایک نیا رخ

ہفتے بھر بعد، حکیم صاحب کی طبیعت بگڑنی شروع ہوئی۔ سانس لینا مشکل ہو گیا، چلنا پھرنا کم ہو گیا۔

ایک دن انہوں نے دکان بند کر دی۔ وہ جانتے تھے کہ اب زیادہ دن نہیں بچے۔

لیکن وہ ابھی بھی اپنا آخری خط نہیں لکھ سکے تھے۔

اس شام زارا آئی۔ اس کے ہاتھ میں کھانے کا ڈبہ تھا۔

"خالہ نے بھیجا ہے۔" اس نے کہا۔ "کہا تھا کہ حکیم صاحب اکیلے ہیں، انہیں گھر کا کھانا بھیج دو۔"

حکیم صاحب کی آنکھیں بھر آئیں۔ "تمہاری خالہ کا شکریہ کہنا۔"

زارا نے کمرے میں نظر دوڑائی۔ میز پر خالی کاغذ پڑے تھے، قلم رکھا تھا۔

"آپ کچھ لکھ رہے ہیں?" اس نے پوچھا۔

"کوشش کر رہا ہوں۔" حکیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔

"کیا لکھ رہے ہیں؟"

"اپنا آخری خط۔"

زارا کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر اس نے پوچھا، "کسے لکھ رہے ہیں؟"

"یہی تو مسئلہ ہے۔ پتا نہیں۔"

زارا نے سوچا۔ پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔

"تو مجھے کیوں نہیں لکھتے؟"

حکیم صاحب نے اسے حیرت سے دیکھا۔ "تمہیں؟"

"ہاں۔ آپ نے نانی کی طرف سے مجھے ایک خط لکھا تھا۔ اب آپ اپنی طرف سے بھی لکھ دیں۔"

حصہ سیزدہم: نیا مقصد

اس رات، حکیم صاحب بہت دیر تک جاگتے رہے۔ زارا کی بات ان کے ذہن میں گھومتی رہی۔

صبح ہوئی تو انہوں نے قلم اٹھایا۔ اور اس بار، الفاظ خود آنے لگے۔

"میری پیاری زارا،

شاید تم حیران ہو کہ یہ خط کیوں؟ ہم تو اجنبی ہیں - ایک بوڑھا آدمی اور ایک چھوٹی بچی۔ لیکن زندگی عجیب طریقوں سے لوگوں کو جوڑتی ہے۔

میں نے اپنی زندگی دوسروں کے آخری خط لکھنے میں گزاری۔ ہزاروں الفاظ لکھے، ہزاروں جذبات کو کاغذ پر اتارا۔ لیکن جب اپنا وقت آیا، تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کیا لکھوں، کسے لکھوں۔

تم نے مجھے راستہ دکھایا، زارا۔ تم نے مجھے یاد دلایا کہ رشتے خون سے نہیں بنتے، دلوں سے بنتے ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ تم کچھ باتیں یاد رکھو:

پہلی بات - الفاظ میں طاقت ہے۔ صحیح وقت پر کہے گئے صحیح الفاظ کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ لیکن غلط الفاظ دل توڑ سکتے ہیں۔ اپنے الفاظ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا۔

دوسری بات - ہر انسان کی ایک کہانی ہوتی ہے۔ لوگوں کو سننا سیکھو۔ واقعی سننا، نہ صرف الفاظ بلکہ خاموشی کو بھی۔

تیسری بات - زندگی جینا نہ بھولنا۔ میں نے یہ غلطی کی۔ میں نے دوسروں کی زندگیوں کو دیکھا، ان میں حصہ لیا، لیکن اپنی زندگی کبھی پوری طرح نہیں جی۔ تم ایسا مت کرنا۔

چوتھی بات - تنہائی اور اکیلا ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ میں زندگی بھر اکیلا رہا، لیکن تنہا نہیں تھا۔ میرے پاس میرا کام تھا، میرے مقصد تھا۔ لیکن آخر میں، تمہاری نانی کی موت نے، اور تمہاری محبت نے مجھے سکھایا کہ انسانی رشتے بھی ضروری ہیں۔

زارا، میں جلد چلا جاؤں گا۔ لیکن میں یہ خط تمہارے لیے چھوڑ رہا ہوں، تاکہ جب بھی تم اسے پڑھو، یاد رکھو کہ ایک بوڑھے آدمی نے تمہیں بہت پیار کیا۔

اور ہاں، ایک آخری بات - جب کبھی تم کسی کے لیے اہمیت رکھو، اسے بتانا مت بھولنا۔ انتظار مت کرنا۔ کل شاید نہ ہو۔

ہمیشہ تمہارا، حکیم صاحب"

حصہ چودہواں: سلسلہ

خط لکھنے کے بعد، حکیم صاحب کو سکون ملا۔ جیسے ایک بوجھ اتر گیا ہو۔

لیکن اب ایک اور خیال آیا۔

اگلے دن، انہوں نے ایک اور خط لکھا۔ یہ خط زارا کے لیے نہیں تھا۔ یہ خط کسی ایسے شخص کے لیے تھا جو اب تک پیدا نہیں ہوا تھا۔

"جو کوئی یہ خط پڑھ رہا ہے،

میرا نام حکیم ہے۔ میں نے اپنی زندگی آخری خطوط لکھنے میں گزاری۔

اب جب میں خود اپنی موت کے قریب ہوں، تو میں یہ خط لکھ رہا ہوں - نہ کسی خاص شخص کے لیے، بلکہ ہر اس شخص کے لیے جو کبھی اسے پڑھے۔

میں تمہیں کچھ باتیں بتانا چاہتا ہوں:

محبت کرنے سے مت ڈرنا۔ ہاں، محبت میں دکھ ہے، نقصان ہے، درد ہے۔ لیکن محبت کے بغیر زندگی خالی ہے۔

اپنے جذبات کا اظہار کرنا سیکھو۔ میں نے زندگی بھر دوسروں کے جذبات لکھے، لیکن اپنے کبھی ظاہر نہیں کیے۔ یہ غلطی تھی۔

وقت کی قدر کرو۔ ہر لمحہ قیمتی ہے، ہر ملاقات اہم ہے۔

اور ہاں - اپنی کہانی لکھو۔ چاہے قلم سے، چاہے اپنی زندگی سے، لیکن اپنی کہانی ضرور لکھو۔

تمہارا حکیم"

حصہ پندرہواں: آخری دن

اگلے چند ہفتے تیزی سے گزرے۔ حکیم صاحب کی طبیعت بگڑتی گئی۔

زارا روز آتی۔ کبھی کھانا لاتی، کبھی صرف بیٹھ کر باتیں کرتی۔ اس نے حکیم صاحب کو اپنے اسکول کے بارے میں بتایا، اپنے دوستوں کے بارے میں، اپنے خوابوں کے بارے میں۔

حکیم صاحب سنتے، مسکراتے، اور کبھی کبھی نصیحت کرتے۔

ایک دن زارا نے پوچھا، "حکیم صاحب، آپ کا کوئی خواب تھا؟"

حکیم صاحب نے سوچا۔ "نہیں، میرا کوئی بڑا خواب نہیں تھا۔ بس یہی چاہتا تھا کہ لوگوں کی مدد کر سکوں۔"

"اور آپ نے کی۔" زارا نے کہا۔ "آپ نے بہت سے لوگوں کی مدد کی۔"

"شکریہ، بیٹی۔"

"حکیم صاحب... کیا آپ ڈرتے ہیں؟ مرنے سے؟"

حکیم صاحب نے زارا کو دیکھا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں سوالیہ تھیں۔

"نہیں، بیٹی۔ اب نہیں ڈرتا۔" انہوں نے کہا۔ "میں نے اپنا کام کر لیا ہے۔ اب جانے کا وقت آ گیا ہے۔"

حصہ سولہواں: آخری رات

آخری رات، حکیم صاحب بیدار تھے۔ سانس لینا مشکل تھا، لیکن ذہن صاف تھا۔

انہوں نے کمرے میں نظر دوڑائی۔ دیواروں پر کچھ نہیں تھا، الماری میں چند کپڑے تھے، میز پر قلم اور کاغذ تھے۔

یہی ان کی زندگی تھی - سادہ، خاموش، لیکن مقصد سے بھری۔

انہیں اب کوئی افسوس نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے طریقے سے زندگی جی تھی۔ انہوں نے لوگوں کی خدمت کی تھی، ان کے دکھ میں شریک ہوئے تھے۔

اور آخر میں، انہیں زارا ملی تھی - ایک چھوٹی سی بچی جس نے انہیں سکھایا تھا کہ خاندان صرف خون سے نہیں بنتا، محبت سے بنتا ہے۔

حکیم صاحب نے آنکھیں بند کیں۔ ایک آخری مسکراہٹ ان کے چہرے پر آئی۔

اور پھر، خاموشی میں، وہ چلے گئے۔

حصہ سترہواں: میراث

زارا کو اگلے دن صبح پتا چلا۔ وہ روئی، بہت روئی۔

لیکن جب آنسو تھم گئے، تو اس نے اپنے خالہ سے کہا، "مجھے حکیم صاحب کی دکان پر جانا ہے۔"

دکان میں سب کچھ ویسا ہی تھا جیسے حکیم صاحب نے چھوڑا تھا۔ میز پر قلم، الماریوں میں پرانے خطوط، کھڑکی سے آتی دھیمی روشنی۔

زارا نے میز پر ایک لفافہ دیکھا۔ اس پر لکھا تھا: "زارا کے لیے۔"

اس نے لفافہ کھولا۔ اندر وہ خط تھا جو حکیم صاحب نے اس کے لیے لکھا تھا۔

زارا نے خط پڑھا، اور پھر سے آنسو آ گئے۔ لیکن اس بار یہ صرف غم کے آنسو نہیں تھے۔ یہ شکر گزاری کے بھی تھے۔

اس کے ساتھ ایک اور خط تھا - وہ خط جو حکیم صاحب نے "جو کوئی یہ پڑھے" کے نام لکھا تھا۔

اور ایک چھوٹا سا نوٹ بھی تھا:

"زارا، اگر تم چاہو تو یہ دکان تمہاری ہے۔ نہ ابھی، بلکہ جب تم بڑی ہو جاؤ۔ شاید تم بھی لوگوں کے خطوط لکھو۔ یا شاید کچھ اور کرو۔ فیصلہ تمہارا ہے۔ بس یاد رکھنا - الفاظ میں طاقت ہے۔"

اختتام: نیا آغاز

بیس سال بعد...

شہر کے اسی پرانے محلے میں، اسی تنگ گلی میں، وہی دکان اب بھی کھلی تھی۔

باہر نیا بورڈ لگا تھا: "زارا کی خطوط کی خدمات"۔

زارا اب تیس سال کی تھی۔ اس نے ادب میں ماسٹرز کیا تھا، پھر فیصلہ کیا تھا کہ حکیم صاحب کا کام آگے بڑھائے گی۔

لیکن اس نے کچھ نیا بھی شامل کیا تھا۔ اب وہ صرف آخری خطوط نہیں لکھتی تھی۔ وہ محبت کے خطوط بھی لکھتی تھی، معافی کے خطوط بھی، شکرگزاری کے خطوط بھی۔

اور ہر خط کے ساتھ، وہ لوگوں کو یہ بھی سکھاتی تھی کہ وہ خود اپنے خطوط کیسے لکھیں۔

دکان کی دیوار پر، ایک فریم میں، حکیم صاحب کی تصویر لگی تھی۔ اور اس کے نیچے، ان کے الفاظ:

"الفاظ میں طاقت ہے۔ انہیں سوچ سمجھ کر استعمال کرو۔"

ایک دن، ایک نوجوان لڑکا دکان میں داخل ہوا۔

"کیا آپ... کیا آپ آخری خطوط لکھتی ہیں؟" اس نے پوچھا۔

زارا نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہاں، میں لکھتی ہوں۔ لیکن پہلے بتاؤ - تم یہ خط کیوں لکھنا چاہتے ہو؟"

اور جیسے حکیم صاحب کیا کرتے تھے، زارا نے سننا شروع کیا۔ واقعی سننا۔ صرف الفاظ نہیں، بلکہ خاموشی کو بھی۔

حکیم صاحب کی میراث زندہ تھی۔

اور شاید، یہی ان کا اصل آخری خط تھا - ایک ایسا خط جو وقت کی حدوں سے ماورا تھا، جو نسلوں سے نسلوں تک چلتا رہے گا۔

کیونکہ سچی محبت، سچی خدمت، اور سچے الفاظ کبھی نہیں مرتے۔

وہ صرف نئی شکلیں اختیار کرتے ہیں، اور آگے بڑھتے رہتے ہیں۔

اختتام


"کچھ لوگ اپنی زندگی سے لکھتے ہیں، کچھ اپنی موت سے۔ حکیم صاحب نے دونوں سے لکھا - اور دونوں کو خوبصورت بنا دیا۔"

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...