FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

💀 "دفن سرگوشیاں"



رات کا پہلا پہر تھا۔ نیا گھر، نیا شہر، نئی زندگی۔
ثریا ابھی کچھ دن پہلے ہی شادی کے بندھن میں بندھی تھی۔ اُس کا شوہر احسن نرم مزاج مگر کم گو انسان تھا۔ شادی کے بعد وہ اُسے لاہور کے نواح میں واقع اپنے آباؤ اجداد کے پرانے حویلی نما گھر میں لے آیا۔

یہ حویلی کسی زمانے میں شان و شوکت کی علامت سمجھی جاتی تھی، مگر اب اس کے بڑے بڑے در و دیوار خاموشی میں لپٹے ہوئے تھے۔ لکڑی کے دروازے کے قبضے چرچراتے، دیواروں پر پرانی تصویریں لٹکی ہوئی تھیں، اور لمبے راہداریوں میں ماضی کی ہوا ابھی بھی بھٹک رہی تھی۔

ثریا کو یہ سب ایک خواب جیسا لگا تھا۔ مگر وقت گزرتا گیا اور خواب کی چمک ماند پڑنے لگی۔




پہلا دن: سرگوشی

ایک رات ثریا نے کمرے کی لائٹ بند کی، کھڑکی کے قریب بیٹھی ہوئی چاندنی میں بھیگی خاموشی کو محسوس کر رہی تھی۔ احسن اُس وقت دوسرے کمرے میں اپنے کاغذات ترتیب دے رہا تھا۔

اچانک، ایک مدھم آواز… جیسے کوئی عورت کسی سے دھیرے دھیرے بات کر رہی ہو۔
"ارحم… آؤ بیٹا، یہاں آؤ…"

ثریا چونک اٹھی۔ آواز صاف اُس دیوار کے پیچھے سے آ رہی تھی جو اُس کے بستر کے ساتھ والی طرف تھی۔
"کون…؟" اُس نے دبے لفظوں میں کہا، مگر کوئی جواب نہیں آیا۔
وہ چند لمحے ساکت رہی، پھر خود کو سمجھایا کہ شاید یہ وہم ہے، یا باہر سے کوئی آواز آئی ہو گی۔

مگر وہ آواز اگلی رات پھر آئی —
"مجھے معاف کر دو… میں نے ایسا نہیں چاہا تھا…"

اب کی بار ثریا کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ اُس نے احسن کو جگایا، مگر اُس کے کمرے تک جاتے جاتے آواز ختم ہو گئی۔ احسن نے ہلکا سا مسکرا کر کہا،
"یہ گھر بہت پرانا ہے، شاید دیواروں میں پانی کی نالیاں ہیں، یا چوہوں کی آوازیں ہوں۔ تم بس زیادہ سوچو مت۔"

لیکن ثریا کا دل مطمئن نہیں ہوا۔ وہ دیوار کو چھوتی، کان لگا کر سنتی — مگر دن کے وقت وہاں کوئی آواز نہ آتی۔


دوسرا مرحلہ: دیوار کا راز

ایک دن، صفائی کرتے وقت ثریا نے دیکھا کہ دیوار کے ایک حصے کا پلستر تھوڑا سا اکھڑا ہوا ہے۔ اُس نے انگلی سے ہلکا سا دبایا تو پلستر جھڑنے لگا۔ اندر سے کوئی پرانا نشان ابھر آیا — جیسے کسی نے دیوار پر کچھ لکھ کر چھپایا ہو۔

قریب سے دیکھنے پر اُس نے ہلکے ہلکے الفاظ پہچانے:
"کمرہ نمبر سات، نیچے کا راز نہ کھولنا۔"

ثریا کے ہاتھ کانپنے لگے۔
کمرہ نمبر سات؟
اُس نے فوراً احسن سے پوچھا،
"یہ حویلی میں کتنے کمرے ہیں؟"
احسن نے بے دھیانی سے جواب دیا، "آٹھ، مگر ایک بند ہے۔ بہت پرانا، کسی کام کا نہیں۔"

ثریا کا دل دھڑکنے لگا۔
"کمرہ نمبر سات وہی تو نہیں؟"

احسن نے بات بدل دی۔ "چلو، چھوڑو۔ کل شہر چلتے ہیں، کچھ خریداری کرنی ہے۔"

مگر اُس رات ثریا سو نہ سکی۔
سرگوشی پھر آئی — پہلے سے زیادہ واضح، زیادہ قریب:
"مت کھولو… مت کھولو… وہ تمہیں بھی لے جائے گا…"

ثریا کے حلق سے چیخ نکلنے ہی والی تھی کہ اچانک کمرہ خاموش ہو گیا۔


تیسرا مرحلہ: ممنوعہ کمرہ

اگلی صبح ثریا نے موقع دیکھا، احسن کام پر گیا ہوا تھا۔ اُس نے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور نیچے کی راہداری میں پہنچی۔ راہداری کے آخر میں ایک دروازہ تھا — بند، زنگ آلود۔

دروازے پر نمبر سات ماندہ رنگ میں لکھا ہوا تھا۔

ثریا نے دھیرے سے چابی گھمائی۔ دروازہ چرچرا کر کھلا۔ اندر گھپ اندھیرا تھا، پرانی بوسیدگی کی بدبو تھی۔ اُس نے موم بتی جلائی۔

کمرے میں پرانے فرنیچر کے علاوہ ایک لکڑی کا صندوق رکھا تھا۔ اُس کے اوپر گرد جمی تھی، مگر ایک کونے میں چھوٹے بچے کے کھلونے پڑے تھے — ایک رُوئی کا گڑیا، اور لکڑی کی چھوٹی گاڑی۔

ثریا کے قدم لڑکھڑانے لگے۔
اچانک ہوا کے جھونکے سے موم بتی بجھ گئی۔
اندھیرے میں ایک مدھم آواز ابھری —
"میرا راز مت کھولنا… نہیں تو تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو میرا ہوا…"

ثریا کا دل جیسے بند ہو گیا۔
مگر اُس نے خود پر قابو پایا اور موم بتی دوبارہ جلائی۔
پھر آہستگی سے صندوق کھولا۔




چوتھا مرحلہ: صندوق کے اندر

صندوق میں کپڑوں کے نیچے ایک پرانی ڈائری رکھی تھی، جس کے کور پر لکھا تھا:
"نائلہ بیگم — 1962"

ثریا نے کپکپاتے ہاتھوں سے ڈائری کھولی۔
پہلے صفحے پر لکھا تھا:
"میں نے ایک گناہ کیا ہے، جس کا کفارہ شاید میری نسلیں ادا کریں گی۔"

صفحے پلٹتے گئے — اور کہانی سامنے آنے لگی۔

نائلہ بیگم احسن کے دادا کی پہلی بیوی تھیں۔ اُن کے ایک بیٹا تھا — ارحم۔ نائلہ بیگم شدید حسد میں مبتلا تھیں، کیونکہ ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی تھی۔
ایک رات انہوں نے اپنے بیٹے کو حویلی کے اسی کمرے میں بند کر دیا تاکہ کوئی اُسے چھین نہ سکے۔ مگر حادثاتی طور پر کمرہ بند ہو گیا اور بچہ دم گھٹنے سے مر گیا۔

اُسی رات نائلہ نے خود کو اسی دیوار کے پیچھے دفنا دیا — اپنے جرم کے ساتھ۔

ڈائری کا آخری جملہ پڑھتے ہی ثریا کے ہاتھوں سے ڈائری گر گئی۔
"میں اس دیوار کے پار سے تمہیں پکاروں گی… کوئی نہ کوئی میری بات سنے گا۔"


پانچواں مرحلہ: انجام

احسن گھر لوٹا تو ثریا بخار میں تپ رہی تھی۔ اُس نے ڈائری دیکھ کر سب کچھ سمجھنے کی کوشش کی، مگر یقین نہ آیا۔

"یہ سب جھوٹ ہے، کہانیاں ہیں!"
مگر رات کو، جب وہ ثریا کے پاس بیٹھا تھا، اچانک دیوار سے مدھم آواز آئی:
"احسن… ارحم… بیٹا…"

احسن کا رنگ زرد پڑ گیا۔
"یہ… یہ تو امی کی آواز ہے!"

دیوار ہلکی سی لرزنے لگی۔ جیسے اندر کوئی زندہ ہو۔
پھر ایک دھماکے کی آواز ہوئی — دیوار کا ایک حصہ گر گیا۔

اندر سے ہڈیوں کا ڈھانچہ، اور اُس کے قریب بچے کی ٹوٹی ہوئی لکڑی کی گاڑی پڑی تھی۔

ثریا کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
دیوار کے پار سے آخری بار آواز آئی —
"شکریہ… تم نے میرا راز کھول کر مجھے آزاد کر دیا… مگر احتیاط کرنا… کچھ دیواریں خاموشی سے نہیں جیتیں…"

دیوار دوبارہ ساکت ہو گئی۔


اختتام

اگلی صبح احسن نے فیصلہ کیا کہ وہ حویلی ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے گا۔
ثریا نے آخری بار اُس دیوار کو دیکھا — جہاں سے وہ سرگوشیاں آتی تھیں۔ اب وہاں مکمل سکوت تھا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ دیوار پر ہلکی سی دراڑ بنی ہوئی تھی، جس کے اندر سے کسی بچے کی ہنسی کی گونج سنائی دیتی تھی۔

ثریا جانتی تھی —
کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں،
وہ بس دیوار کے پار چلی جاتی ہیں۔


اختتامیہ پیغام:
کبھی کبھی خاموش دیواریں صرف اینٹ اور پتھر نہیں ہوتیں… وہ ماضی کے رازوں کو سنبھالے بیٹھی ہوتی ہیں — انتظار میں کہ کوئی اُن کی سرگوشیاں سن لے۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...