🌙 چھت پر رکھا ہوا خط
1: چاندپور کی شامیں
چاندپور ایک چھوٹا سا قصبہ تھا — پرانے مکان، کچی گلیاں، نیم کے درخت، اور ہوا میں مٹی کی خوشبو۔
اسی قصبے میں رہتے تھے دو ہمسائے — علی اور مریم۔
بچپن سے دونوں ایک دوسرے کے ہمراز تھے۔ مریم کی مسکراہٹ اور علی کی شرارت چاندپور کے لوگوں کے لیے ایک قصہ بن چکی تھی۔
محلے والے انہیں “چاند سورج” کہتے تھے — کیونکہ جہاں علی جاتا، مریم کی ہنسی ضرور گونجتی۔
ہر شام دونوں اپنی چھتوں پر بیٹھ کر باتیں کرتے۔ ان کی چھتوں کے درمیان صرف ایک دیوار تھی — پرانی اینٹوں سے بنی، جس پر بیل بوٹیاں چڑھی تھیں۔
دونوں اس دیوار کے اوپر بیٹھ کر خواب بُنتے:
"جب ہم بڑے ہوں گے، تو ایک ہی گھر میں رہیں گے۔"
"اور تمہارے ہاتھ کی چائے میں چاند کی روشنی گھل جائے گی۔"
مریم ہنستی تو علی کہتا، “دیکھنا، یہ ہنسی کبھی نہ بدلنا۔”
اور مریم کہتی، “وعدہ ہے علی، میں ہمیشہ یہیں رہوں گی، تمہارے سامنے کی چھت پر۔”
لیکن وعدے اکثر ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں…
2: خالی لفافہ
ایک دن صبح کے وقت چاندپور کی فضا غیر معمولی تھی۔
دروازے بند تھے، گلیاں خاموش، اور پرندے بھی جیسے کچھ محسوس کر رہے تھے۔
جب علی اسکول سے لوٹا، تو مریم کا دروازہ بند تھا۔
پورا دن گزرا، اگلا دن بھی — مگر مریم نہ آئی۔
پانچویں دن علی کو معلوم ہوا کہ مریم کا پورا خاندان راتوں رات چاندپور چھوڑ کر چلا گیا۔
کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں گئے۔
علی پاگلوں کی طرح ہر دروازے پر دستک دیتا رہا، مگر ہر جواب خاموشی تھا۔
پھر شام ڈھلے وہ چھت پر گیا، جہاں مریم ہمیشہ بیٹھا کرتی تھی۔
وہاں دیوار کے کونے پر ایک پرانا لفافہ رکھا تھا۔
علی نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا —
مگر وہ خالی تھا۔
اس نے کئی بار الٹا پلٹا، مگر اس میں کچھ نہیں تھا۔
“شاید مریم جلدی میں کچھ لکھ نہیں سکی…” وہ خود کو دلاسا دیتا رہا۔
لیکن اس رات، جب چاند نکلا — ہوا میں کسی نے جیسے سرگوشی کی:
“لفافہ خالی نہیں تھا، تم نے صحیح وقت پر نہیں دیکھا…”
علی چونک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا، مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
3: پندرہ سال بعد
پندرہ سال بیت چکے تھے۔
چاندپور اب ویسا نہیں رہا تھا — ٹوٹی عمارتیں، اداس گلیاں، اور چھتوں پر ویرانی۔
علی اب ایک معروف صحافی بن چکا تھا، مگر اس کے اندر ایک خلا باقی تھا — مریم کا نہ ملنا۔
ایک دن ڈاکیے نے اس کے دروازے پر ایک پرانا خط دیا۔
کاغذ بھورا ہو چکا تھا، اور اس پر لکھا تھا:
“تم نے میری آخری بات کبھی پڑھی ہی نہیں۔ چھت پر دوبارہ جاؤ۔ — م”
علی کے ہاتھ کانپ گئے۔
یہ کیسے ممکن تھا؟ مریم تو پندرہ سال پہلے غائب ہو گئی تھی!
اسی رات وہ چاندپور واپس پہنچا۔
گاؤں اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، جیسے وقت وہاں رک گیا ہو۔
جب وہ اپنی پرانی چھت پر چڑھا، تو دیوار کے دوسری طرف مریم کا گھر خالی اور ٹوٹا ہوا تھا۔
مگر اس کی آنکھوں نے کچھ دیکھا — دیوار پر کسی نے بھوری سیاہی سے لکھا تھا:
“لفافہ خالی نہیں تھا۔ تم نے صحیح وقت پر نہیں دیکھا۔”
4: چھت پر سرگوشیاں
علی کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
وہ دیوار کے قریب گیا تو ایک ہلکی سی خوشبو آئی — جیسے چند لمحوں پہلے کسی نے وہاں بیٹھ کر بات کی ہو۔
“مریم…؟” علی کی آواز گونجی۔
پھر ہوا سے جیسے ایک مدھم ہنسی سنائی دی — وہی ہنسی، جو بچپن میں اس کے دل کو روشن کر دیتی تھی۔
“میں یہاں ہوں، علی…”
علی کا دل دھڑکنے لگا۔
“کہاں؟ کہاں ہو تم؟”
“تمہارے سامنے… بس دیکھنا سیکھو۔”
اچانک دیوار کے اس پار ہلکی سی روشنی نمودار ہوئی — جیسے کسی نے دیا جلایا ہو۔
علی نے جھانک کر دیکھا — وہاں مریم بیٹھی تھی، مگر اُس کا چہرہ دھند میں لپٹا ہوا تھا۔
“تم زندہ ہو؟” علی نے سوال کیا۔
مریم نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“زندہ؟ شاید… مگر اب وقت کم ہے۔ تمہیں وہ لفافہ دوبارہ دیکھنا ہوگا۔”
5: پوشیدہ تحریر
علی نے اگلے دن وہ پرانا لفافہ نکالا — وہی جو اس نے بچپن میں سنبھال کر رکھا تھا۔
کاغذ زرد اور نازک ہو چکا تھا۔
اس نے اسے چاندنی میں رکھا تو لفظ ابھرنے لگے — پانی میں بھیگنے سے۔
لفظ تھے:
“مجھے مت ڈھونڈنا۔ جو مجھے ڈھونڈے گا، وہ اپنے آپ کو کھو دے گا۔”
علی کی سانس رک گئی۔
“یہ کیا ہے؟ مریم کیوں لکھے گی یہ؟”
اُس نے اس رات دوبارہ چھت پر جا کر دیوار کے پار جھانکا، مگر وہاں اب کچھ نہیں تھا۔
دیوار کے نیچے زمین میں ہلکی سی دراڑ تھی۔
علی نے اینٹ ہٹائی — نیچے ایک اور لفافہ تھا۔
اس میں صرف ایک تصویر تھی —
بچپن کی، جس میں وہ اور مریم بیٹھے ہیں۔
مگر تصویر میں مریم کے چہرے پر سیاہی پھیلی ہوئی تھی — جیسے کسی نے اسے مٹانے کی کوشش کی ہو۔
6: قصبے کا راز
اگلے دن علی نے گاؤں کے بزرگ “چودھری سلیم” سے ملاقات کی۔
انہوں نے علی کو پہچانا، اور آہستہ سے بولے:
“بیٹا، وہ خاندان عجیب تھا۔ راتوں کو ان کے گھر سے روشنی نکلتی تھی، جیسے کوئی دعا یا جنتر منتر ہو رہا ہو۔”
“مریم کا کیا ہوا؟” علی نے سوال کیا۔
چودھری نے لرزتی آواز میں کہا:
“اس رات جب وہ غائب ہوئے، کسی نے دیکھا کہ ان کے گھر کی کھڑکی میں ایک لڑکی کھڑی تھی — مگر اس کا چہرہ آئینے جیسا چمک رہا تھا۔”
علی کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
7: سایوں کا کھیل
اب ہر رات کچھ نہ کچھ عجیب ہونے لگا۔
کبھی دروازہ خود بخود کھل جاتا، کبھی چھت پر قدموں کی آواز آتی۔
ایک رات علی نے چھت پر کسی کو کھڑے دیکھا — وہی سائے جیسی مریم۔
“تم کیوں آئی ہو؟” علی نے پکارا۔
وہ بولی، “کیونکہ تم نے وہ پڑھ لیا جو تمہیں نہیں پڑھنا چاہیے تھا۔”
علی نے خوف زدہ لہجے میں کہا، “میں تمہیں بچانے آیا ہوں، مریم!”
“میں بچائی نہیں جا سکتی، علی۔ میں وہ ہوں جو کبھی چاندپور سے گئی ہی نہیں…”
اچانک روشنی غائب ہوگئی۔
دیوار پر خون جیسے نشان بن گئے — دو ہاتھوں کے نشانات۔
8: نفسیاتی موڑ
علی اب نیند میں بھی مریم کو دیکھتا۔
ڈاکٹر نے کہا کہ وہ پوسٹ ٹرامیٹک ہیلوسینیشن کا شکار ہے — یعنی ماضی کی یادیں اُس کے دماغ میں زندہ ہیں۔
لیکن علی جانتا تھا کہ مریم محض یاد نہیں — وہ حقیقت ہے۔
ایک دن اس نے اپنی پرانی نوٹ بک کھولی تو دیکھا کہ کئی صفحوں پر خود بخود الفاظ لکھے جا چکے ہیں:
“تم نے وعدہ کیا تھا کہ میں ہمیشہ تمہارے سامنے کی چھت پر رہوں گی۔”
9: آخری راز
علی نے آخرکار فیصلہ کیا کہ وہ مریم کے گھر کی تہہ خانے میں جائے گا، جہاں اب مٹی کے نیچے صرف خاموشی تھی۔
وہاں ایک بوسیدہ صندوق ملا — جس میں وہی خالی لفافہ پڑا تھا۔
مگر اس بار اس کے پیچھے کچھ لکھا تھا:
“اگر تم نے یہ دوبارہ پڑھ لیا، تو تم بھی وہی بن جاؤ گے جو میں ہوں — ایک سایہ، جو کبھی مکمل نہیں ہوتا۔”
اچانک فضا میں ہلکی سی خوشبو پھیلی —
اور علی نے اپنے پیچھے ایک سایہ محسوس کیا۔
وہ مُڑا —
مریم کھڑی تھی، مسکرا رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں چاند کی روشنی نہیں، اندھیرا تھا۔
“میں نے کہا تھا، علی… تمہیں نہیں آنا چاہیے تھا۔”
دیوار ہلکی سی لرزی، ہوا رُک گئی۔
پھر سب کچھ خاموش ہوگیا۔
10: اختتام — یا آغاز؟
چاندپور کے لوگوں نے اگلے دن علی کے گھر کا دروازہ کھلا پایا۔
چھت پر ایک نیا لفافہ رکھا تھا —
جس میں صرف اتنا لکھا تھا:
“میں نے اپنا وعدہ نبھایا، مریم۔
اب میں ہمیشہ تمہارے سامنے کی چھت پر ہوں۔”
اس دن سے چاندپور کی راتوں میں کبھی کبھی دو سایے دکھائی دیتے ہیں —
ایک لڑکا اور ایک لڑکی، دیوار کے دونوں طرف بیٹھے، چاند کو دیکھتے ہوئے خاموش۔
ہوا میں ہلکی سی سرگوشی گونجتی ہے:
“لفافہ کبھی خالی نہیں تھا… تم نے بس صحیح وقت پر نہیں دیکھا۔”
🌙 اختتام
یہ کہانی بچپن کی محبت، یادوں، گمشدگی، اور حقیقت و خواب کے بیچ ایک ایسی لکیر پر کھڑی ہے جہاں قاری آخر تک یہ فیصلہ نہیں کر پاتا —
کیا مریم واقعی زندہ تھی؟
یا وہ صرف علی کی یاد کا سایہ تھی، جو کبھی مٹ نہیں سکا۔


Post a Comment