FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

عنوان: آخری تصویر

 عنوان: آخری تصویر

ایک چھوٹے سے شہر کے پرانے بازار میں ہارون اکثر اپنے شوق کی خاطر جایا کرتا تھا۔ وہ ایک نوجوان فوٹوگرافر تھا، جسے ماضی کی خوشبو میں بسی ہوئی چیزوں سے عجیب سا لگاؤ تھا۔ ٹوٹے ریڈیو، زنگ آلود گھڑیاں، پرانی تصویریں — سب اس کے لیے وقت کی داستانیں تھیں۔ اس کا ماننا تھا کہ ہر پرانی چیز میں ایک کہانی چھپی ہوتی ہے، بس دیکھنے والا چاہیے جو اسے محسوس کر سکے۔

ایک دن جب سورج ڈھلنے کے قریب تھا، وہ ہمیشہ کی طرح پرانے بازار کی تنگ گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ ہر دکان کے باہر گرد آلود اشیاء، بوسیدہ لکڑی کے فریم اور پرانی کتابوں کے ڈھیر لگے تھے۔ ہارون کی نظریں ایک ایسی چیز پر ٹھہر گئیں جس نے اس کا دل تیز دھڑکنے پر مجبور کر دیا — ایک پرانا کیمرا۔

کیمرا سیاہ چمڑے کی جلد سے ڈھکا ہوا تھا، مگر اس پر وقت کے نشان واضح تھے۔ دھات پر زنگ، لینس پر ہلکی خراشیں، اور پیچھے ایک آدھا مٹا ہوا نام: “El...”۔
ہارون نے دکاندار سے پوچھا،
“یہ کیمرا کس کا ہے؟”

دکاندار، جو جھریوں بھرا بوڑھا آدمی تھا، مسکرا کر بولا،
“یہ کیمرا عام نہیں ہے بیٹا۔ یہ بیچنے سے پہلے اپنی آخری تصویر خود لیتا ہے۔

ہارون نے ہنستے ہوئے کہا، “یہ کیسا مذاق ہے؟ کیمرے خود کب سے تصویریں لینے لگے ہیں؟”

بوڑھے نے سنجیدہ لہجے میں کہا، “میں مذاق نہیں کر رہا۔ جو بھی اسے بیچتا ہے، اس کی ایک آخری تصویر اس کے مرنے سے پہلے خود بخود لی جاتی ہے۔ میں نے دو بار ایسا ہوتے دیکھا ہے۔”

ہارون نے کندھے اچکا دیے، “شاید کسی اتفاق کی بات ہو گی۔”
پھر اس نے کیمرہ خرید لیا — صرف 500 روپے میں۔




پہلا دن: کیمرے کی خاموشی

گھر پہنچ کر ہارون نے کیمرہ صاف کیا، لینس پر سے گرد ہٹائی، اور اسے اپنی میز پر رکھ دیا۔ وہ ایک پرجوش لمحہ تھا۔ اس نے کیمرے کے اندر پرانی فلم کا رول دیکھا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ فلم بالکل نئی لگ رہی تھی — جیسے کل ہی رکھی گئی ہو۔

ہارون نے کچھ تصویریں کھینچنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی کھڑکی سے باہر درختوں، گلی کے بچوں اور اپنی بلی کی چند تصویریں بنائیں۔ کیمرہ بالکل صحیح کام کر رہا تھا، بس ہر تصویر کے بعد ہلکی سی کلک کے ساتھ کچھ سرگوشی جیسی آواز آتی تھی — جیسے کوئی سانس لے رہا ہو۔

ہارون نے اسے نظرانداز کیا۔ مگر رات کو جب وہ سونے لگا تو محسوس ہوا کہ الماری کے اندر سے ہلکی سی ٹک ٹک کی آواز آ رہی ہے۔ وہ اٹھ کر گیا، لائٹ جلائی — کیمرہ اپنی جگہ رکھا تھا۔ مگر لینس بالکل سیدھا اس کی طرف تھا۔

“یہ وہم ہے،” اس نے خود سے کہا اور سو گیا۔


دوسرا دن: عجیب تصویریں

اگلی صبح ہارون نے کیمرے سے بنائی گئی تصویریں ڈیولپ کرنے کے لیے لیبارٹری میں جمع کروائیں۔ شام کو جب وہ تصویریں لینے گیا تو دکاندار نے کہا،
“بھائی صاحب، یہ کیمرا کچھ الگ ہی چیز ہے۔ دیکھیں، ان تصویروں میں کچھ گڑبڑ ہے۔”

ہارون نے تصویریں دیکھیں تو چونک گیا۔
پہلی چند تصویریں نارمل تھیں، مگر پھر ایک تصویر میں وہ خود نظر آ رہا تھا — جبکہ اس نے ٹرائیپوڈ پر کیمرا رکھ کر ٹائمر سیٹ نہیں کیا تھا۔
اور سب سے عجیب بات — پس منظر میں ایک دھندلا سا سایہ کھڑا تھا۔

“شاید روشنی کی خرابی ہوگی،” اس نے سوچا، مگر دل میں بےچینی نے گھر کر لیا۔


تیسرا دن: رات کا مہمان

اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔ کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی تھی۔ اس نے نوٹ کیا کہ کیمرے کا لینس ہلکا سا چمک رہا تھا — جیسے کوئی آنکھ اسے دیکھ رہی ہو۔
ہارون نے موبائل سے ویڈیو ریکارڈنگ آن کی اور بستر پر لیٹ گیا۔

رات کے پچھلے پہر جب وہ سو چکا تھا، کیمرے سے ایک ہلکی کلک کی آواز آئی۔
صبح جب اس نے ویڈیو دیکھی تو کچھ لمحوں کے لیے اس کا خون منجمد ہو گیا۔
ویڈیو میں صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کیمرے نے خود بخود فلیش مارا — اور اگلے لمحے ہارون کے بستر کے پاس ایک سایہ دار وجود جھک رہا تھا۔


چوتھا دن: راز کی تلاش

ہارون نے گھبرا کر پرانی مارکیٹ میں جا کر وہی دکاندار تلاش کیا، مگر وہاں دکان بند تھی۔ پاس والے دکاندار نے بتایا،
“بابا کریم؟ ارے وہ تو تین دن پہلے فوت ہو گئے۔ کہتے ہیں دل کا دورہ پڑا، لیکن عجیب بات ہے... ان کے مرنے سے چند گھنٹے پہلے کسی نے ان کے ہاتھ میں کیمرہ دیکھا تھا۔”

ہارون کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
“یعنی... وہ کیمرا…؟”

اس کے ذہن میں آواز گونجنے لگی —
“یہ کیمرا بیچنے سے پہلے اپنی آخری تصویر خود لیتا ہے۔”


پانچواں دن: آخری فریم

ہارون نے طے کیا کہ وہ اس کیمرے سے جان چھڑائے گا۔ رات کے وقت وہ اسے ندی کے کنارے لے گیا، جہاں اکثر وہ تصویریں کھینچنے جایا کرتا تھا۔
چاندنی میں کیمرے کا لینس چمک رہا تھا — جیسے اسے روک رہا ہو۔

“بس، اب ختم!” ہارون نے کہا اور کیمرے کو ندی میں پھینکنے کے لیے ہاتھ بلند کیا۔

اچانک کیمرے سے فلیش نکلا — ایک چمکدار روشنی نے اندھیرا چیر دیا۔
ہارون کے ہاتھ خود بخود نیچے گر گئے۔
کیمرا اب اس کے ہاتھ میں نہیں تھا — وہ زمین پر پڑا تھا، مگر لینس اب بھی اس کی طرف تھا۔

ہارون کے دل میں ایک انجانی سردی اتر گئی۔
پھر اس نے دیکھا — کیمرے کے ویو فائنڈر کے اندر اس کا چہرہ جھلک رہا تھا۔
لیکن وہ مسکرا نہیں رہا تھا — وہ مردہ چہرہ تھا۔




چھٹا دن: خاموش الماری

اگلی صبح شہر کے اخبارات میں ایک خبر چھپی:
“مقامی فوٹوگرافر ہارون اپنے گھر میں مردہ پایا گیا۔ پولیس کے مطابق موت کی وجہ دل کا دورہ معلوم ہوتی ہے۔ جائے وقوعہ سے ایک پرانا کیمرا برآمد ہوا۔ آخری تصویر میں ہارون خود کھڑا ہے — مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تصویر کسی نے کھینچی ہی نہیں۔

پولیس نے کیمرے کو ثبوت کے طور پر ضبط کر لیا، مگر جب کچھ دن بعد اسے نیلامی میں رکھا گیا، ایک نوجوان لڑکی نے دلچسپی ظاہر کی۔
“کتنا خوبصورت پرانا کیمرا ہے!”
دکاندار نے مسکرا کر کہا،
“جی بی بی، بس یہ دھیان رکھیں... یہ کیمرا بیچنے سے پہلے اپنی آخری تصویر خود لیتا ہے۔”

اور کہیں دور کسی اندھیرے کمرے میں فلیش کی ہلکی سی روشنی چمکی —
اور کہانی دوبارہ شروع ہو گئی۔


اختتام

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...