چھت پر اگنے والا درخت
پہلا باب: درخت کی دریافت
لاہور کے پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں، جہاں سورج کی شعاعیں مشکل سے زمین تک پہنچ پاتی تھیں، ایک قدیم حویلی کھڑی تھی۔ یہ حویلی کبھی کسی امیر زمیندار کی رہائش گاہ تھی، لیکن اب اس کی دیواریں بوسیدہ، دروازے ٹوٹے ہوئے اور کھڑکیاں ٹیڑھی ہو چکی تھیں۔ حویلی میں پانچ خاندان رہتے تھے، سب ایک دوسرے کی زندگیوں میں الجھے ہوئے، جیسے پرانی حویلیوں کا دستور ہوتا ہے۔
پندرہ سالہ عمران اس حویلی کے سب سے اوپر والے کمرے میں اپنی بیوہ دادی کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والدین چند سال پہلے ایک حادثے میں فوت ہو چکے تھے، اور دادی ہی اس کی پرورش کر رہی تھیں۔ عمران ایک خاموش طبیعت کا لڑکا تھا، جو کتابوں میں کھویا رہتا اور حویلی کے دوسرے بچوں سے زیادہ گھلنا ملنا پسند نہیں کرتا تھا۔
گرمیوں کی ایک تپتی دوپہر، جب لو کی گرمی سے بچنے کے لیے پورا محلہ اپنے گھروں میں دبکا بیٹھا تھا، عمران چھت پر چڑھ گیا۔ وہ اکثر یہاں آتا تھا، کیونکہ یہاں اسے تنہائی ملتی تھی اور شہر کا وسیع نظارہ دیکھ سکتا تھا۔ لیکن آج کچھ مختلف تھا۔
چھت کے ایک کونے میں، جہاں پرانی اینٹوں میں دراڑیں پڑی ہوئی تھیں، ایک چھوٹا سا پیپل کا پودا اگا ہوا تھا۔ عمران نے پہلے کبھی اسے نہیں دیکھا تھا، حالانکہ وہ روزانہ چھت پر آتا تھا۔ پودا تقریباً تین فٹ اونچا تھا، اس کی پتیان ہوا میں لہرا رہی تھیں، جیسے کسی نے اسے ابھی ابھی پانی دیا ہو۔
"یہ کہاں سے آ گیا؟" عمران نے خود سے پوچھا۔
وہ پودے کے قریب گیا اور اس کی پتیوں کو چھوا۔ پتیاں نرم اور تازہ تھیں، جیسے کوئی انہیں بڑے پیار سے سنبھال رہا ہو۔ اس کی جڑیں چھت کی دراڑوں میں گہرائی تک اتری ہوئی تھیں، جیسے وہ حویلی کی بنیادوں سے خود کو مضبوطی سے باندھ رہی ہوں۔
عمران نے فیصلہ کیا کہ وہ اس پودے کا خیال رکھے گا۔ اگلے دنوں میں، وہ روزانہ چھت پر آتا اور پودے کو پانی دیتا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ پودا تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ ہر روز وہ چند انچ اور بڑھ جاتا، اور اس کی شاخیں مضبوط ہوتی جاتیں۔
دوسرا باب: پہلی آواز
تین ہفتے گزر گئے اور پیپل کا پودا اب ایک چھوٹے درخت میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اس کی شاخیں اب عمران کے قد سے بھی اونچی ہو گئی تھیں، اور اس کا تنا اتنا موٹا ہو گیا تھا کہ اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑنا پڑتا تھا۔
ایک رات، جب پورا شہر سو رہا تھا، عمران کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ گرمی اور بے چینی میں وہ کروٹیں بدل رہا تھا۔ تبھی اسے ایک عجیب سی آواز سنائی دی۔ یہ آواز ہوا کی سرسراہٹ جیسی تھی، لیکن اس میں الفاظ تھے، دھیمے دھیمے لیکن واضح۔
"عمران... عمران..."
عمران چونک کر بیٹھ گیا۔ اس نے ارد گرد دیکھا، لیکن کمرے میں صرف اس کی سوتی ہوئی دادی تھیں۔ آواز پھر آئی، اس بار تھوڑی واضح۔
"عمران... چھت پر آؤ..."
دل دہلا دینے والی اس آواز میں بھی ایک عجیب کشش تھی۔ عمران نے آہستہ سے کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں۔ چاندنی رات تھی، اور چھت چاندی کی روشنی میں نہائی ہوئی تھی۔
پیپل کا درخت وہاں کھڑا تھا، اس کی پتیاں چاند کی روشنی میں جگمگا رہی تھیں۔ لیکن آج کچھ مختلف تھا۔ درخت کی شاخیں ہوا میں لہرا رہی تھیں، حالانکہ کوئی ہوا نہیں چل رہی تھی۔
"تم نے مجھے بلایا؟" عمران نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں، میں نے تمہیں بلایا۔" آواز درخت سے ہی آ رہی تھی، اس کے پتوں کی سرسراہٹ سے۔
عمران کے پیروں تلے زمین کھسکنے لگی۔ "تم... تم بول سکتے ہو؟"
"میں صرف تم سے بول سکتا ہوں، عمران۔" درخت نے کہا۔ "کیونکہ تم نے مجھ پر یقین کیا، مجھے پانی دیا، مجھے زندہ رہنے دیا۔"
عمران نے درخت کے تنے کو چھوا۔ چھال نرم اور گرم تھی، جیسے کسی زندہ مخلوق کی جلد ہو۔
"تم کون ہو؟ کہاں سے آئے؟" عمران نے پوچھا۔
"میں اس شہر کی یادوں کا درخت ہوں۔" درخت نے جواب دیا۔ "میں یہاں اس لیے اگا ہوں کہ اس حویلی میں، اس شہر میں، بہت سے راز دفن ہیں۔ راز جو بھلا دیے گئے، راز جو چھپا دیے گئے، راز جو دبا دیے گئے۔ میں انہی یادوں اور رازوں سے پروان چڑھا ہوں۔"
عمران نے حیرت سے درخت کو دیکھا۔ "اور تم مجھ سے کیوں بات کر رہے ہو؟"
"کیونکہ کچھ راز ایسے ہوتے ہیں جنہیں کسی کو جاننا چاہیے۔" درخت نے کہا۔ "اور تم اس کے اہل ہو، عمران۔ تمہارے دل میں سچائی ہے، تمہاری آنکھوں میں انصاف کی تلاش ہے۔"
تیسرا باب: پہلا راز
اگلی رات، عمران پھر چھت پر گیا۔ اس بار وہ تیار تھا، اپنے ساتھ ایک نوٹ بک لے کر آیا تھا۔
"تم نے کہا تھا کہ تم اس شہر کے راز جانتے ہو۔" عمران نے کہا۔ "مجھے ایک راز بتاؤ۔"
درخت کی شاخیں ہلیں، جیسے وہ سوچ رہا ہو۔
"یہ حویلی جانتی ہو؟ اس میں کبھی ایک امیر آدمی رہتا تھا، سیٹھ کریم بخش۔ وہ بہت دولت مند تھا، لیکن اس کی دولت ایمانداری سے نہیں آئی تھی۔"
"کیا مطلب؟" عمران نے پوچھا۔
"1947 میں، جب تقسیم ہوئی، بہت سے لوگ بھارت سے آئے اور بہت سے لوگ یہاں سے بھارت چلے گئے۔" درخت نے بیان جاری رکھا۔ "سیٹھ کریم بخش نے ان لوگوں کی مدد کرنے کا وعدہ کیا جو لاہور آئے تھے۔ انہوں نے اپنی دولت، اپنا سونا، اپنے زیورات اس کے پاس امانت رکھے، تاکہ وہ انہیں محفوظ رکھے اور بعد میں واپس کرے۔"
"اور پھر؟"
"پھر سیٹھ نے وہ ساری دولت اپنے پاس رکھ لی۔" درخت کی آواز میں اداسی تھی۔ "بہت سے خاندان تباہ ہو گئے، بہت سے لوگ بے گھر ہو گئے، لیکن سیٹھ نے کبھی ان کی دولت واپس نہیں کی۔"
عمران نے نوٹ بک میں لکھنا شروع کیا۔ "وہ دولت کہاں ہے؟"
"اس حویلی میں ہی کہیں چھپی ہے۔" درخت نے کہا۔ "لیکن یہ سب سے بڑا راز نہیں ہے۔ سب سے بڑا راز یہ ہے کہ سیٹھ کے اپنے پوتے، جو اب بھی اس حویلی میں رہتے ہیں، اس سچائی کو جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی دولت حرام ہے، لیکن وہ خاموش ہیں۔"
عمران کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ "تم میاں شاہد کی بات کر رہے ہو؟ جو نیچے والے فلیٹ میں رہتے ہیں؟"
"ہاں۔" درخت نے کہا۔ "ان کے دادا وہی سیٹھ کریم بخش تھے۔"
چوتھا باب: محلے کا فیصلہ
صبح ہوئی تو عمران بے چین تھا۔ درخت نے جو کچھ بتایا تھا، وہ اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ سامنے آیا۔
دوپہر میں، جب عمران اسکول سے واپس آیا، تو حویلی کے صحن میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ محلے کے بزرگ، حویلی کے رہائشی، سب جمع تھے۔
"کیا ہوا؟" عمران نے اپنی دادی سے پوچھا۔
"چھت پر جو درخت اگا ہے، لوگ اسے کاٹنا چاہتے ہیں۔" دادی نے جواب دیا۔ "کہتے ہیں یہ حویلی کی بنیادوں کو نقصان پہنچائے گا۔"
عمران کا دل بیٹھ گیا۔ وہ سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر گیا۔ وہاں میاں شاہد اور چند دوسرے لوگ کھڑے تھے، درخت کو دیکھ رہے تھے۔
"یہ درخت اتنی تیزی سے کیسے بڑھ گیا؟" میاں شاہد کہہ رہے تھے۔ "تین ہفتے پہلے یہاں کچھ نہیں تھا۔ اب یہ اتنا بڑا ہو گیا ہے۔ اس کی جڑیں حویلی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔"
"نہیں!" عمران چیخا۔ "اس درخت کو مت کاٹو!"
سب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
"کیوں نہیں؟" میاں شاہد نے پوچھا۔ "یہ محض ایک درخت ہے، اور یہ غلط جگہ پر اگا ہے۔"
"یہ محض درخت نہیں ہے۔" عمران نے کہا، اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ "یہ درخت اس شہر کی یادوں کا محافظ ہے۔"
لوگ ہنس پڑے۔
"یادوں کا محافظ؟" ایک بزرگ نے طنز سے کہا۔ "لڑکے، تم بہت زیادہ کتابیں پڑھتے ہو۔"
"نہیں، میں سچ کہہ رہا ہوں۔" عمران نے اصرار کیا۔ "یہ درخت مجھ سے باتیں کرتا ہے۔ یہ مجھے راز بتاتا ہے، وہ راز جو لوگ چھپانا چاہتے ہیں۔"
خاموشی چھا گئی۔ میاں شاہد کا چہرہ سفید ہو گیا۔
"تم کیا بکواس کر رہے ہو؟" انہوں نے سختی سے کہا۔ "کوئی درخت بات نہیں کرتا۔"
"یہ کرتا ہے۔" عمران نے کہا۔ "اور اس نے مجھے سیٹھ کریم بخش کے بارے میں بتایا ہے، اور اس دولت کے بارے میں جو انہوں نے چرائی تھی۔"
میاں شاہد کی آنکھیں پھیل گئیں۔ باقی لوگوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
"یہ جھوٹ ہے!" میاں شاہد نے چیخ کر کہا۔ "یہ لڑکا پاگل ہو گیا ہے!"
لیکن عمران کی دادی آگے آئیں۔ "ٹھہرو۔" انہوں نے کہا۔ "میں نے سنا ہے کہ پرانے زمانے میں، پیپل کے درخت مقدس سمجھے جاتے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ ان میں روحیں بستی ہیں۔"
"یہ سب خرافات ہیں۔" میاں شاہد نے کہا۔
"ہو سکتا ہے۔" دادی نے کہا۔ "لیکن اگر یہ لڑکا سچ کہہ رہا ہے تو کیا؟ اگر واقعی اس درخت نے اسے کچھ بتایا ہے؟"
پانچواں باب: رات کا انکشاف
اس رات، محلے کے بزرگوں نے ایک فیصلہ کیا۔ وہ درخت کو اس وقت تک نہیں کاٹیں گے جب تک عمران اپنا دعویٰ ثابت نہ کر دے۔ اگر درخت واقعی اس سے باتیں کرتا ہے، اور اگر وہ جو کچھ کہتا ہے وہ سچ ہے، تو پھر سب سوچیں گے۔
عمران اس رات پھر چھت پر گیا۔ اس کے ساتھ اس کی دادی اور چند دوسرے لوگ بھی تھے، جو چھپ کر دیکھنا چاہتے تھے کہ واقعی کیا ہوتا ہے۔
آدھی رات ہوئی تو درخت کی پتیاں سرسرانے لگیں۔
"عمران..." درخت نے بلایا۔
"ہاں، میں یہاں ہوں۔" عمران نے کہا۔
"تم نے آج مجھے بچایا۔" درخت نے کہا۔ "لیکن تمہاری مشکلیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ میاں شاہد تمہیں خاموش کرنا چاہیں گے۔"
"میں نہیں ڈرتا۔" عمران نے کہا۔ "مجھے مزید بتاؤ۔ سیٹھ کریم بخش کی دولت کہاں ہے؟"
"وہ اس حویلی کے تہہ خانے میں ہے۔" درخت نے کہا۔ "سیٹھ نے اسے دیوار میں چھپایا تھا۔ مشرقی دیوار، نیچے سے تیسری اینٹ، بائیں طرف سے پانچویں۔ وہاں ایک خفیہ دروازہ ہے۔"
چھپے ہوئے لوگوں نے یہ سب سنا۔ عمران کی دادی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "یہ سب سچ ہے۔" انہوں نے سرگوشی میں کہا۔ "میری ماں نے مجھے بتایا تھا کہ تقسیم کے وقت ہم نے بھی اپنے زیورات سیٹھ کو دیے تھے، لیکن وہ کبھی واپس نہیں ملے۔"
صبح ہوئی تو پورا محلہ تہہ خانے میں جمع تھا۔ کسی نے وہ اینٹ تلاش کی جو درخت نے بتائی تھی۔ اور واقعی، جب اسے ہٹایا گیا، تو پیچھے ایک خفیہ کمرہ تھا۔
کمرے میں صندوق رکھے تھے، بھرے ہوئے سونے، چاندی، اور زیورات سے۔ ہر صندوق پر ایک نام لکھا تھا، ان لوگوں کے نام جنہوں نے اپنی دولت سیٹھ کے حوالے کی تھی۔
میاں شاہد وہاں کھڑے تھے، سر جھکائے، شرمندہ۔
چھٹا باب: دوسرا راز
درخت کو اب کوئی کاٹنے کی بات نہیں کرتا تھا۔ بلکہ لوگ اسے احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ عمران حویلی میں ایک ہیرو بن گیا تھا۔
لیکن عمران کے لیے یہ سب اتنا سادہ نہیں تھا۔ اس کے دل میں سوالات تھے۔ کیا یہ صحیح تھا کہ وہ لوگوں کے راز کھولے؟ کیا اسے یہ حق تھا؟
ایک رات، وہ پھر درخت سے بات کرنے گیا۔
"تم نے مجھے یہ راز کیوں بتایا؟" عمران نے پوچھا۔ "تم جانتے تھے کہ اس سے میاں شاہد کے خاندان کی عزت داؤ پر لگ جائے گی۔"
"کیونکہ سچائی ضروری ہے، عمران۔" درخت نے جواب دیا۔ "سچائی کے بغیر، انصاف نہیں ہو سکتا۔ وہ لوگ جن کی دولت چرائی گئی تھی، ان کے خاندان ابھی بھی تنگ دستی میں ہیں۔ وہ اپنا حق پانے کے مستحق ہیں۔"
"لیکن میاں شاہد کا کیا قصور؟" عمران نے کہا۔ "انہوں نے تو کچھ نہیں کیا۔ یہ ان کے دادا کا گناہ تھا۔"
"یہ سچ ہے۔" درخت نے کہا۔ "لیکن جب وہ اس سچائی کو جانتے ہوئے خاموش رہے، تو وہ اس ظلم کے شریک بن گئے۔ کبھی کبھی خاموشی بھی ایک گناہ ہوتی ہے۔"
عمران نے سوچا۔ درخت کی بات میں وزن تھا۔
"مجھے ایک اور راز بتاؤ۔" عمران نے کہا۔
"تم تیار ہو؟" درخت نے پوچھا۔ "کچھ راز بھاری ہوتے ہیں، عمران۔"
"میں تیار ہوں۔"
درخت کی شاخیں ہلیں، جیسے وہ کسی گہرے سوچ میں ہو۔
"تمہاری دادی کی شادی ایک زبردستی کی شادی تھی۔" درخت نے کہا۔
عمران چونک گیا۔ "کیا؟"
"وہ کسی اور سے محبت کرتی تھیں، ایک لڑکے سے جو تقسیم کے دوران بھارت چلا گیا تھا۔" درخت نے بیان جاری رکھا۔ "لیکن ان کے والدین نے انہیں تمہارے دادا سے شادی پر مجبور کیا۔ وہ ساری زندگی خاموش رہیں، لیکن ان کے دل میں وہ پہلی محبت ہمیشہ زندہ رہی۔"
عمران کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کبھی اپنی دادی کو اتنا مضبوط، اتنا صبر کرنے والا سمجھا تھا۔ لیکن اب وہ سمجھ گیا کہ ان کی اس مضبوطی کے پیچھے کتنا درد چھپا ہوا تھا۔
"یہ راز تم نے مجھے کیوں بتایا؟" عمران نے پوچھا۔
"کیونکہ تمہاری دادی کو اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی انہیں سمجھے۔" درخت نے کہا۔ "وہ اپنا درد کسی سے شیئر نہیں کر سکیں۔ شاید تم ان کے قریب ہو سکو، ان کی زندگی کو تھوڑا آسان بنا سکو۔"
ساتواں باب: درخت کی حفاظت
ہفتے گزرتے گئے۔ حویلی میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ دولت تقسیم ہو چکی تھی، ان خاندانوں میں جن کے نام صندوقوں پر لکھے تھے۔ میاں شاہد نے معافی مانگی تھی اور اپنے دادا کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
عمران اور اس کی دادی کا رشتہ اور گہرا ہو گیا تھا۔ عمران نے دادی سے کبھی ان کی پہلی محبت کے بارے میں نہیں پوچھا، لیکن اب وہ ان کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا، ان کی باتیں زیادہ توجہ سے سنتا، اور انہیں محسوس ہونے دیتا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔
لیکن پھر ایک نیا مسئلہ سامنے آیا۔
شہر کی حکومت نے اعلان کیا کہ پرانی حویلیوں کو گرا کر وہاں نئی عمارتیں بنائی جائیں گی۔ عمران کی حویلی بھی فہرست میں تھی۔
اگر حویلی گری، تو درخت بھی ختم ہو جائے گا۔
محلے کے لوگ اس فیصلے کے خلاف تھے، لیکن حکومت کے پاس قانون تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حویلیاں خطرناک ہیں، اور شہر کی ترقی کے لیے انہیں گرانا ضروری ہے۔
عمران نے فیصلہ کیا کہ وہ کچھ کرے گا۔
"تمہیں بچانا ہو گا۔" عمران نے درخت سے کہا۔ "میں تمہیں نہیں جانے دوں گا۔"
"عمران، میں صرف ایک درخت ہوں۔" درخت نے کہا۔ "لیکن تم ایک انسان ہو، تم اس شہر کو بدل سکتے ہو۔"
"میں کیسے؟" عمران نے پوچھا۔
"سچائی بتا کر۔" درخت نے کہا۔ "یہ شہر اپنی تاریخ بھول رہا ہے، اپنی جڑیں کھو رہا ہے۔ لوگوں کو یاد دلاؤ کہ یہ پرانی حویلیاں صرف عمارتیں نہیں ہیں، یہ اس شہر کی روح ہیں۔"
عمران نے سوچا۔ اور پھر اسے ایک خیال آیا۔
اگلے دن، عمران نے اپنی نوٹ بک کھولی، جس میں اس نے درخت کی باتیں لکھی تھیں۔ اس نے وہ سب کچھ ایک مضمون میں لکھ دیا، اور پھر مقامی اخبار کو بھیج دیا۔
مضمون چھپا تو شہر بھر میں ہلچل مچ گئی۔ "چھت پر اگنے والا درخت - لاہور کی بھولی ہوئی کہانیاں" کے عنوان سے یہ مضمون ہر کوئی پڑھ رہا تھا۔
لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ پرانی حویلیاں واقعی قیمتی ہیں۔ ان میں ان کے آباؤ اجداد کی یادیں بسی ہیں، ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔
احتجاج شروع ہوئے۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے، مطالبہ کرتے ہوئے کہ پرانی حویلیوں کو محفوظ رکھا جائے۔
حکومت کو جھکنا پڑا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پرانی حویلیوں کو محفوظ ثقافتی ورثہ قرار دیا جائے گا، اور انہیں مرمت کر کے محفوظ رکھا جائے گا۔
آٹھواں باب: آخری راز
عمران کی جیت ہوئی تھی۔ حویلی بچ گئی، اور درخت بھی۔
لیکن ایک رات، جب عمران چھت پر گیا، تو درخت نے کچھ اور کہا۔
"عمران، تمہارے والدین کا حادثہ حادثہ نہیں تھا۔"
عمران کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ "کیا مطلب؟"
"تمہارے والد ایک صحافی تھے۔" درخت نے کہا۔ "وہ کچھ طاقتور لوگوں کے خلاف تحقیقات کر رہے تھے، لوگ جو بدعنوانی میں ملوث تھے۔ انہیں روکنے کے لیے وہ حادثہ کروایا گیا تھا۔"
عمران کو چکر آ گیا۔ "تم جھوٹ بول رہے ہو۔"
"میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا، عمران۔" درخت نے کہا۔ "یہ سب سے بھاری راز ہے جو میں نے تمہیں بتایا ہے۔ لیکن تمہیں یہ جاننے کا حق ہے۔"
عمران بیٹھ گیا، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے ہمیشہ سوچا تھا کہ اس کے والدین کی موت ایک حادثہ تھا، بری قسمت۔ لیکن اگر یہ سچ ہے...
"مجھے کیا کرنا چاہیے؟" عمران نے پوچھا۔
"یہ فیصلہ تمہارا ہے۔" درخت نے کہا۔ "تم سچائی تلاش کر سکتے ہو، انصاف کی لڑائی لڑ سکتے ہو۔ یا تم اسے جانے دے سکتے ہو، اپنی زندگی آگے بڑھا سکتے ہو۔ کوئی بھی فیصلہ غلط نہیں ہو گا۔"
عمران نے پوری رات سوچا۔ صبح ہوئی تو اس کا فیصلہ تیار تھا۔
آخری باب: نیا آغاز
عمران نے فیصلہ کیا کہ وہ سچائی تلاش کرے گا، لیکن اپنے وقت پر۔ ابھی وہ صرف پندرہ سال کا تھا، لیکن وہ جانتا تھا کہ ایک دن وہ اتنا مضبوط ہو گا کہ اپنے والدین کے لیے انصاف لا سکے۔
اس نے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، جیسے اس کے والد نے کی تھی۔ وہ سچائی کا پیچھا کرے گا، جیسے درخت نے اسے سکھایا تھا۔
پیپل کا درخت اب پوری طرح بڑھ چکا تھا۔ اس کی شاخیں چھت سے نیچے لٹک رہی تھیں، اس کے پتے ہوا میں گانا گا رہے تھے۔ پورا محلہ اسے احترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
عمران اب بھی ہر رات چھت پر جاتا، درخت سے باتیں کرتا۔ درخت اسے اور بھی کہانیاں سناتا، اور بھی راز بتاتا۔ کچھ راز عمران نے لوگوں کو بتائے، کچھ اپنے پاس رکھے۔
کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا کہ ہر راز بتانا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی رازوں کو رکھنا بھی حکمت ہوتی ہے۔
ایک دن، عمران کی دادی نے اس سے پوچھا، "تم ہر رات چھت پر کیوں جاتے ہو؟"
"میں درخت سے باتیں کرتا ہوں۔" عمران نے مسکرا کر کہا۔
"اور وہ تمہیں کیا بتاتا ہے؟" دادی نے پوچھا۔
"وہ مجھے سکھاتا ہے کہ سچائی کتنی اہم ہے۔" عمران نے کہا۔ "لیکن وہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ محبت، معافی، اور انسانیت اس سے بھی زیادہ اہم ہیں۔"
دادی نے اپنے پوتے کو گلے لگا لیا۔ "تم بہت سمجھدار ہو، عمران۔"
سال گزرتے گئے۔ عمران بڑا ہوا، تعلیم حاصل کی، ایک صحافی بنا۔ اس نے اپنے والدین کے قاتلوں کو ڈھونڈا، انصاف دلوایا۔ لیکن اس نے کبھی نفرت نہیں کی، کبھی بدلہ نہیں لیا۔ اس نے صرف سچائی پیش کی، اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
اور پیپل کا درخت؟ وہ اب بھی وہاں کھڑا ہے، لاہور کی اس پرانی حویلی کی چھت پر۔ اس کی شاخیں اب اتنی بڑی ہو گئی ہیں کہ پورے محلے کو سایہ دیتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ جو بھی اس کے نیچے بیٹھتا ہے، اسے سکون ملتا ہے، اور اگر وہ دھیان سے سنے، تو درخت اس سے باتیں کرتا ہے۔
لیکن سب جانتے ہیں کہ درخت صرف ان سے بات کرتا ہے جن کے دلوں میں سچائی ہو، جن کی آنکھوں میں انصاف کی تلاش ہو۔
اور عمران؟ وہ اب بھی کبھی کبھار چھت پر جاتا ہے، اپنے پرانے دوست سے ملنے۔ درخت اسے نئے راز بتاتا ہے، اور عمران اسے نئی کہانیاں سناتا ہے۔
کیونکہ کچھ دوستیاں عمر بھر رہتی ہیں، اور کچھ سبق کبھی نہیں بھولتے۔
اور یہ سبق کہ سچائی ہمیشہ راستہ نکالتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔


Post a Comment