FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

🏆 خط جو کبھی بھیجے نہیں گئے – وقت، خاموش محبت اور ادھورے جذبات کی رومانوی

 

خط جو کبھی بھیجے نہیں گئے

ساحلی شہر کی صبحیں ہمیشہ خاموش ہوتیں۔ سمندر کی لہریں جیسے آہستہ آہستہ وقت سے باتیں کرتی ہوں، اور ہوا میں نمکین خوشبو کسی پرانی یاد کی طرح بسی رہتی۔ اسی شہر کی ایک تنگ مگر پُرسکون گلی میں ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی — “صفحۂ آخر”۔

یہ دکان ماہم کی تھی۔

ماہم کی عمر ستائیس برس تھی، مگر اس کی آنکھوں میں وقت سے پہلے ٹھہراؤ آ چکا تھا۔ شاید اس لیے کہ اس نے زندگی کو ہمیشہ الفاظ کے ذریعے جیا تھا۔ اس کے لیے کتابیں صرف کاغذ کے صفحے نہیں تھیں، بلکہ وہ لوگ تھیں جن سے وہ بات کر سکتی تھی، جن سے وہ اپنا دکھ بانٹ سکتی تھی۔

ماہم اکثر کہتی تھی:
“انسان چھوڑ جاتا ہے، لفظ نہیں۔”

اسی دکان میں، ایک شام جب بارش نے شہر کو دھو ڈالا تھا، ماہم کو دکان کے پچھلے حصے میں ایک پرانا لکڑی کا صندوق ملا۔ وہ صندوق گرد سے اٹا ہوا تھا، جیسے برسوں سے کسی نے اسے ہاتھ نہ لگایا ہو۔ اس پر زنگ آلود تالا لگا تھا، مگر حیرت انگیز طور پر وہ بغیر کسی کوشش کے کھل گیا۔

اندر خط تھے۔

درجنوں خط…
پیلا پڑا کاغذ، سیاہی جو وقت کے ساتھ مدھم ہو چکی تھی، مگر جذبات آج بھی تازہ تھے۔

ماہم نے پہلا خط کھولا۔

“میں نہیں جانتا تم کون ہو،
مگر یہ جانتا ہوں کہ تم وہ ہو جس سے میں نے کبھی بات نہیں کی،
اور پھر بھی سب کچھ کہہ دیا۔”

ماہم کا دل رک سا گیا۔

یہ محبت نامے تھے، مگر عجیب…
کسی ایک عورت کے نام نہیں،
کسی مخصوص چہرے کے لیے نہیں۔

ہر خط کسی انجان محبوب کے نام تھا۔

ماہم نے گھنٹوں وہ خط پڑھے۔ ہر خط میں ایک گہری خاموشی تھی، ایک ایسا انتظار جو وقت سے لڑ رہا ہو۔

اور سب سے عجیب بات یہ تھی کہ ان خطوط کی تاریخیں دس سال پرانی تھیں۔

اس رات ماہم سو نہ سکی۔




خاموش آنے والا شخص

چند دن بعد، ایک شخص دکان میں داخل ہوا۔

وہ درمیانہ قد، سادہ لباس، اور آنکھوں میں عجیب سی تھکن لیے ہوئے تھا۔ اس کا نام احمد تھا۔

وہ بولنے سے زیادہ سننے والا لگتا تھا۔

“کیا آپ کے پاس تاریخِ وقت پر کوئی کتاب ہے؟”
اس نے دھیرے سے پوچھا۔

ماہم نے چونک کر اسے دیکھا۔
یہ وہی کتاب تھی جو وہ ہر ہفتے مانگتا تھا۔

“جی، وہی شیلف پر ہے،”
ماہم نے مسکرا کر کہا۔

احمد نے کتاب لی، قیمت ادا کی، اور بغیر زیادہ بات کیے چلا گیا۔

مگر اس کے جانے کے بعد بھی ماہم کو یوں لگا جیسے دکان میں کچھ باقی رہ گیا ہو۔

خاموشی۔


خط اور دل

اگلے ہفتے احمد پھر آیا۔
اور اس کے بعد ہر ہفتے۔

آہستہ آہستہ ماہم نے محسوس کیا کہ احمد کے جملے، اس کی خاموشی، حتیٰ کہ اس کا ٹھہراؤ…
ان خطوط جیسا ہے۔

ایک دن ماہم ضبط نہ کر سکی۔

“کیا آپ کبھی خط لکھتے تھے؟”
اس نے اچانک پوچھا۔

احمد نے چونک کر اسے دیکھا۔
“لکھتا تھا… مگر کبھی بھیجے نہیں۔”

ماہم کے ہاتھ سے کتاب گر گئی۔


راز کی پہلی پرت

ماہم نے ایک دن احمد کو دکان بند ہونے کے بعد روک لیا۔

“میں آپ کو کچھ دکھانا چاہتی ہوں،”
اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا۔

وہ احمد کو صندوق کے پاس لے گئی۔

احمد نے جیسے ہی پہلا خط دیکھا، اس کا رنگ اُڑ گیا۔

“یہ… یہ کہاں سے ملا؟”

ماہم کی آواز کانپ رہی تھی:
“یہ آپ نے لکھے ہیں، ہے نا؟”

احمد نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا:
“میں نے یہ خط دس سال پہلے لکھے تھے… ایک ایسی محبت کے لیے جو کبھی میری زندگی میں آئی ہی نہیں تھی۔”


احمد کی کہانی

احمد نے بتایا کہ وہ ایک حادثے میں اپنی یادداشت کا بڑا حصہ کھو بیٹھا تھا۔ اس وقت اس کی زندگی میں ایک احساس تھا، ایک کمی، ایک نامعلوم محبت۔

وہ روز خط لکھتا،
مگر کسی پتے کے بغیر۔

“مجھے لگتا تھا اگر میں اسے نام دے دوں، تو وہ حقیقت بن جائے گی،”
احمد نے کہا۔

ماہم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

“شاید وہ حقیقت بن گئی تھی،”
ماہم نے آہستہ کہا۔


وقت کا کھیل

ماہم نے احمد کو بتایا کہ وہ خطوط پڑھ کر کیسے خود کو پہچاننے لگی تھی۔

“یہ الفاظ… یہ میرے دل کی آواز تھے،”
ماہم نے کہا۔

احمد نے پہلی بار مسکرا کر اسے دیکھا۔

“شاید محبت وقت سے پہلے لکھ دی گئی تھی،”
اس نے کہا۔

مگر تقدیر آسان نہیں ہوتی۔




جدائی کا لمحہ

ایک دن احمد نے بتایا کہ اسے شہر چھوڑنا ہوگا۔
علاج مکمل ہونے کے بعد اسے نئی زندگی شروع کرنی تھی۔

ماہم خاموش رہی۔

وہ دونوں جانتے تھے کہ محبت کہی نہیں گئی، مگر محسوس ہو چکی ہے۔

آخری دن، احمد نے ماہم کو ایک نیا خط دیا۔

“اگر کبھی وقت ہمیں دوبارہ ملنے دے،
تو شاید ہم وہ باتیں کہہ سکیں
جو ان خطوط میں قید رہ گئیں۔”


اختتام… یا آغاز؟

مہینوں بعد، ایک دن دکان میں ایک خط آیا۔

لفافے پر لکھا تھا:

ماہم کے نام۔

اندر صرف ایک جملہ تھا:

“میں نے آخرکار خط بھیج دیا۔”

ماہم مسکرا دی۔

سمندر کی لہریں آج کچھ زیادہ قریب لگ رہی تھیں۔

کیونکہ کچھ محبتیں
وقت سے پہلے لکھی جاتی ہیں،
اور وقت کے بعد ملتی ہیں۔


0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...