وہ شخص جو کل کا دکھ یاد رکھتا تھا
شہر کے نقشے میں اس قبرستان کا نام کبھی درج نہیں ہوا تھا۔
لوگ اسے جانتے ضرور تھے، مگر مانتے نہیں تھے۔
وہ شہر کے آخری کنارے پر تھا—جہاں سڑک ختم ہو جاتی تھی اور خاموشی شروع ہو جاتی تھی۔
اسی قبرستان کے پرانے دروازے کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی تھی۔
اسی میں سلیم رہتا تھا۔
سلیم کا کام سادہ تھا:
وہ قبروں کے کتبے لکھتا تھا۔
نام، تاریخ، اور وہ جملہ جو زندہ لوگ مردوں کے لیے چن لیتے ہیں—
“ہمیشہ یاد رہو گے”
“اللہ تمہیں جنت نصیب کرے”
“تم بہت اچھے تھے”
سلیم نے سینکڑوں بار یہ جملے لکھے تھے،
مگر وہ جانتا تھا کہ یہ الفاظ اکثر جھوٹ ہوتے ہیں۔
کیونکہ سلیم…
سچ جانتا تھا۔
1
سلیم عام آدمی نہیں تھا۔
اسے کوئی غیبی آوازیں نہیں آتی تھیں،
کوئی خواب نہیں دکھائی دیتے تھے،
کوئی فرشتے یا سائے اس سے بات نہیں کرتے تھے۔
مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا بوجھ رہتا تھا۔
وہ کل کا دکھ آج محسوس کر لیتا تھا۔
نہ حادثہ، نہ موت، نہ بیماری—
صرف وہ درد جو انسان کے اندر جنم لیتا ہے۔
مایوسی
ٹوٹنے کی آواز
کسی کے دل کے خالی ہو جانے کا احساس
یہ سب سلیم کے سینے میں،
ایک دن پہلے اتر آتا تھا۔
2
اکثر ایسا ہوتا کہ وہ رات کو جاگ اٹھتا۔
سانس بھاری، آنکھیں نم،
اور دل میں ایک ایسا درد
جیسے کسی نے امید کا گلا گھونٹ دیا ہو۔
وہ جانتا تھا:
کہیں، کوئی… کل ٹوٹنے والا ہے۔
لیکن کون؟
کیوں؟
اور کیسے؟
یہ وہ کبھی نہیں جان سکا۔
3
شروع میں سلیم گھبرا گیا تھا۔
اس نے سمجھا وہ بیمار ہے۔
وہ شہر کے ڈاکٹر کے پاس گیا۔
ڈاکٹر نے اس کا دل سنا،
خون کا ٹیسٹ کیا،
اور آخر میں کہا:
“سب ٹھیک ہے۔
تم بس زیادہ سوچتے ہو۔”
سلیم مسکرا دیا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا—
یہ سوچ نہیں تھی۔
یہ ذمہ داری تھی۔
4
وقت کے ساتھ سلیم نے سیکھ لیا
کہ اس درد کے ساتھ کیسے جینا ہے۔
جب اسے دل پر بوجھ محسوس ہوتا،
وہ شہر کی گلیوں میں نکل جاتا۔
وہ لوگوں کو غور سے دیکھتا۔
کسی ماں کو بچوں کے ساتھ ہنستے دیکھ کر بھی
اسے درد محسوس ہوتا—
کیونکہ وہ جانتا تھا
کل اس ہنسی میں دراڑ پڑنے والی ہے۔
5
ایک دن اس نے ایک نوجوان لڑکے کو دیکھا
جو بس اسٹاپ پر کھڑا تھا۔
لڑکے کی آنکھوں میں امید تھی،
مگر سلیم کے سینے میں
ایسا درد اٹھا
جیسے کسی نے خواب توڑ دیا ہو۔
سلیم اس کے قریب گیا۔
“بیٹا… سب ٹھیک ہے؟”
لڑکا مسکرایا۔
“جی ہاں، بس نوکری کے انٹرویو کے لیے جا رہا ہوں۔”
سلیم نے کچھ نہ کہا۔
بس اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اگلے دن خبر آئی:
لڑکا انٹرویو میں ناکام ہو گیا تھا
اور گھر جا کر
خاموشی سے رو پڑا تھا۔
6
سلیم نے کبھی کسی کو
اس کے دکھ کے بارے میں نہیں بتایا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا—
کل کے دکھ کے بارے میں
آج سننا
انسان کو اور توڑ دیتا ہے۔
اس لیے وہ خاموش رہا۔
7
شہر میں لوگ اسے عجیب سمجھتے تھے۔
وہ کم بولتا تھا۔
اکثر قبرستان میں بیٹھا رہتا۔
اور کچھ لوگ کہتے تھے:
“یہ آدمی مردوں سے باتیں کرتا ہے۔”
مگر حقیقت یہ تھی
کہ سلیم زندہ لوگوں کا درد سنتا تھا—
بغیر آواز کے۔
8
ایک رات
وہ درد آیا
جو باقی سب سے مختلف تھا۔
یہ کوئی عام بوجھ نہیں تھا۔
یہ…
ناقابلِ برداشت تھا۔
سلیم گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
اس کا سینہ جلنے لگا۔
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
بغیر کسی یاد کے۔
وہ ہانپتے ہوئے بولا:
“یا اللہ… یہ کس کا دکھ ہے؟”
مگر دل نے جواب دیا:
یہ تمہارا ہے۔
9
سلیم کو پہلی بار خوف محسوس ہوا۔
یہ درد
کسی اور کا نہیں تھا۔
یہ اس کا اپنا مستقبل تھا۔
10
اگلی صبح
سلیم نے محسوس کیا
کہ کچھ بدل چکا ہے۔
اسے یاد نہیں آ رہا تھا
کہ اس نے کتنے کتبے لکھے تھے۔
اسے کچھ چہرے
دھندلے لگنے لگے۔
اور تب
اسے سمجھ آ گیا۔
وہ اپنی یادداشت کھونے والا ہے۔
11
وہ جان گیا
کہ اس کی صلاحیت
کل ختم ہو جائے گی۔
وہ کل کے دکھ
اب کبھی محسوس نہیں کرے گا۔
اور اس کے ساتھ
وہ خود بھی
آہستہ آہستہ
خالی ہو جائے گا۔
12
سلیم کے پاس
صرف ایک دن تھا۔
ایک دن
سب کچھ کرنے کے لیے۔
13
اس نے کاغذ اور قلم نکالا
اور خط لکھنے شروع کیے۔
وہ لوگوں کے نام نہیں جانتا تھا،
مگر وہ ان کے درد کو پہچانتا تھا۔
“تم مضبوط ہو،
تمہیں لگتا ہے تم اکیلے ہو،
مگر تم نہیں ہو۔”
“جو کچھ ٹوٹا ہے
وہ تمہیں مار نہیں رہا،
وہ تمہیں بدل رہا ہے۔”
14
وہ ہر خط
کسی نہ کسی دروازے کے نیچے
رکھ آتا۔
خاموشی سے۔
15
آخری خط
اس نے خود کے نام لکھا۔
“سلیم،
تم نے کسی کا دکھ چوری نہیں کیا۔
تم نے اسے اٹھایا۔
تم ناکام نہیں ہو۔
تم بس تھک گئے ہو۔
خود کو معاف کر دو۔”
16
اگلی صبح
سلیم کو
کچھ یاد نہ رہا۔
وہ قبرستان میں بیٹھا تھا
اور سوچ رہا تھا:
“میں یہاں کیوں ہوں؟”
17
شہر کے لوگ
اس دن عجیب سا سکون محسوس کر رہے تھے۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کیوں۔
مگر پہلی بار
کل کا دکھ
کسی اور کے سینے میں نہیں اترا۔
18
اور قبرستان کے ایک کونے میں
ایک نیا کتبہ لگا تھا:
“یہاں وہ شخص آرام کر رہا ہے
جس نے سب کے دکھ یاد رکھے
تاکہ وہ بھول سکیں”

Post a Comment