باب 1: پہاڑوں کے بیچ چھپا ہوا گاؤں
شمالی پاکستان کے برف پوش پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گاؤں تھا — "چیرک گاؤں"۔
دنیا کے نقشے پر اس کا نام موجود نہیں تھا۔ نہ باہر کے لوگ وہاں آتے تھے، نہ گاؤں والے باہر جاتے تھے۔
اس گاؤں کی سب سے عجیب بات یہ تھی کہ ہر انسان کے ساتھ تین سائے ہوتے تھے۔
پہلا سایہ — عام انسان کا سایا، جیسے دنیا میں سب کا ہوتا ہے۔
دوسرا سایہ — اُن کے اندر چھپے خوف اور اندھیروں کا عکس۔
تیسرا سایہ — اُن کے مستقبل کا اشارہ۔ جسے دیکھ کر لوگ سمجھ جاتے کہ آنے والا وقت خوشی کا ہے یا تباہی کا۔
یہ سائے ان کے ساتھ چلتے، بات کرتے، کبھی کبھی ان پر غصہ بھی کرتے… اور کبھی ان کو بچاتے۔
لیکن ان ساؤں کا ایک قانون تھا:
"سایہ انسان کی حفاظت کے لیے ہے، لیکن اگر سایہ آزاد ہو جائے تو انسان کو تباہ بھی کر سکتا ہے۔"
اس قانون کی تفصیل صرف ایک شخص جانتا تھا — بوڑھی نانی زرینہ۔
باب 2: ریحان — جس کے سائے بہت مطیع تھے
ریحان 22 سالہ خاموش مزاج لڑکا تھا۔
لوگ حیران ہوتے کہ اس کے تینوں سائے ہمیشہ اس کے تابع رہتے۔
کبھی اونچی آواز نہ کرتے، کبھی لڑتے نہ تھے، کبھی گھوم پھر کر اُس کے سامنے آ کر راستہ نہیں روکتے تھے۔
ریحان اکثر سوچتا:
"کیا میرے اندر ہی کوئی خامی ہے، یا میرے سائے کمزور ہیں؟"
لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس میں ایک خاص طاقت تھی۔
وہ اپنے دل کی آواز سنتا تھا، اور اپنے خوف کو دباتا نہیں تھا۔
اس لیے اس کا دوسرا سایہ، جو خوف کا عکس تھا، کمزور تھا۔
اور اس کا تیسرا سایہ، جو مستقبل دکھاتا تھا، ہمیشہ چاندنی سا نرم اور روشن دکھائی دیتا تھا۔
ریحان لکڑیاں کاٹ کر گھر چلاتا تھا۔
باپ بہت سال پہلے مر گیا تھا اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری اُس کے کندھوں پر تھی۔
باب 3: آمدہ — ایک لڑکی جس کا سایہ اُس کا راز جانتا تھا
آمدہ گاؤں کی بہادر ترین لڑکی تھی۔
اپنے گھر والوں کی واحد کفیل۔
لیکن اس کی زندگی میں ایک راز تھا — بہت بڑا راز۔
اس کا دوسرا سایہ، یعنی "خوف کا سایا"، ہمیشہ اس کے گرد چکراتا رہتا۔
وہ سایہ اکثر اس کے قریب آ کر کوئی بات کہنا چاہتا، جیسے:
“سچ بتا دے… سب کو بتا دے…”
لیکن آمدہ گھبرا کر منہ پھیر لیتی۔
پوری گاؤں میں بس ایک ہی شخص تھا جس کے سامنے وہ کھل کر بات کرتی تھی — ریحان۔
دونوں کے درمیان ایک انجانی دوستی تھی، شاید محبت بھی، لیکن کسی نے اعتراف نہ کیا تھا۔
باب 4: ایک رات جو سب کچھ بدل گئی
پہاڑی گاؤں میں سردیوں کی راتیں ہمیشہ پُراسرار لگتی تھیں، لیکن اُس رات ایک خوفناک واقعہ ہوا۔
آدھی رات کے قریب اچانک ہوا رک گئی۔
درختوں کا شور بند ہو گیا۔
گاؤں کی گھنٹی خود بخود بجنے لگی۔
گاؤں والے باہر نکلے تو انہوں نے سانس روک لی۔
کچھ لوگوں کے تیسرے سائے غائب ہو چکے تھے۔
پہلا سایا موجود تھا۔
دوسرا سایا موجود تھا۔
لیکن مستقبل کا سایا… کہیں نہیں تھا۔
بوڑھی نانی زرینہ نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا:
“جس کا تیسرا سایہ غائب ہو جائے… وہ انسان صبح تک پتھر بن جاتا ہے!”
لوگوں کے چہرے مرجھا گئے۔
ڈری ہوئی چیخیں نکلنے لگیں۔
ماؤں نے اپنے بچوں کو گود میں چھپا لیا۔
ریحان نے حیرت سے دیکھا کہ آمدہ کا تیسرا سایہ بھی موجود نہیں تھا۔
وہ خاموش کھڑی تھی، لیکن اس کی آنکھیں اندر سے ٹوٹ رہی تھیں۔
باب 5: صبح جو قیامت لے کر آئی
صبح سورج نکلا تو گاؤں میں کہرام مچا ہوا تھا۔
چار لوگ پتھر بن چکے تھے۔
جیسے کسی نے انہیں چلتے چلتے روک کر پتھر میں تبدیل کر دیا ہو۔
ان کے گھروں کے سامنے سائے دیواروں پر اچھل رہے تھے، جیسے وہ بھی خوفزدہ ہوں۔
ریحان کو ایک عجیب سی وحشت نے گھیر لیا۔
اگر آمدہ کا سایہ واپس نہ آیا…
اگر آمدہ بھی…
یہ سوچ کر اس کا دل کانپ اٹھا۔
باب 6: بوڑھی نانی زرینہ کا راز
ریحان فوراً نانی زرینہ کے پاس پہنچا۔
“نانی! یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ سایے کیوں غائب ہو رہے ہیں؟”
بوڑھی عورت نے اپنی دھندلی آنکھیں اٹھائیں۔
“ریحان… وہ وقت آگیا ہے جسے ہم نے نسلوں سے چھپایا تھا۔
گاؤں کے نیچے ایک خانقاہ ہے…
جہاں سایوں کا محافظ قید ہے۔
اگر وہ بیدار ہو جائے… تو سائے انسانوں سے الگ ہو کر آزاد ہو جائیں گے۔
اور انسان… محض خول رہ جائیں گے۔”
ریحان نے حیرت سے پوچھا:
“لیکن وہ جاگا کیسے؟”
نانی زرینہ نے آنے والی طوفانی خبر سنائی:
“کیونکہ گاؤں میں کسی نے قانون توڑا ہے۔
کسی نے اپنے سائے کو دھوکہ دیا ہے…
کسی نے ایسا کام کیا ہے جس سے مستقبل کا سایا ناراض ہو کر فرار ہو گیا ہے۔
خالِقِ سایہ ناراض ہے۔”
ریحان کا دل کانپا۔
کیا یہ سب آمدہ کے راز کی وجہ سے ہوا؟
باب 7: آمدہ کا چھپا ہوا راز
ریحان نے اسے پہاڑی نالے کے کنارے پایا۔
آسمان سرمئی تھا، دھند ہر طرف تیر رہی تھی۔
“آمدہ… تمہارا تیسرا سایہ کہاں ہے؟”
آمدہ کے چہرے سے آنسو بہنے لگے۔
“ریحان… میں نے ایک غلطی کی تھی… بہت سال پہلے۔
میں نے ایک انسان کو بچانے کے لیے… دوسرے کی جان لے لی۔
یہاں سب سمجھتے ہیں کہ میرا چھوٹا بھائی پہاڑی دریا میں ڈوب کر مر گیا تھا۔
لیکن سچ یہ ہے…
میں نے اسے دھکا دیا تھا۔
میں نے اسے دلدل میں گرنے دیا۔
وہ میرا بھائی نہیں تھا… وہ میری سوتیلی ماں کا بیٹا تھا…
وہ مجھے ہر روز مارتا تھا…
ایک دن میں نے بس برداشت کر لیا…
اور… اور…”
ریحان سن کر ہکا بکا رہ گیا۔
زمین اس کے قدموں کے نیچے کانپنے لگی۔
آمدہ نے آنسو پونچھے:
“میرا دوسرا سایہ روز مجھے وہ لمحہ یاد دلاتا ہے۔
اور میرا تیسرا سایہ… مجھ سے ناراض تھا۔
اسی لیے وہ بھاگ گیا۔
اسی لیے محافظ جاگ رہا ہے۔
اسی لیے لوگ پتھر بن رہے ہیں…
میری وجہ سے…”
ریحان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا:
“نہیں آمدہ… تمہیں خود کو معاف کرنا ہوگا۔
ورنہ یہ رات کبھی ختم نہیں ہوگی۔”
باب 8: زیرِ زمین خانقاہ کا راستہ
ریحان نے فیصلہ کر لیا۔
وہ سایوں کے محافظ کو واپس سلا دے گا۔
چاہے اسے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔
نانی زرینہ نے انہیں ایک چھوٹا سا نقشہ دیا جس میں ایک سرنگ کا راستہ بنا تھا۔
ریگزار کے نیچے بنی ہوئی قدیم خانقاہ۔
پھٹے ہوئے پردے۔
پتھریلی دیواروں پر لٹکے ہوئے ہزاروں سائے۔
جیسے زندہ ہوں…
جیسے حرکت کر رہے ہوں۔
اندھیرے میں کانوں میں سرگوشیاں گونجنے لگیں۔
"واپس جاؤ…"
"یہ جگہ انسانوں کے لیے نہیں…"
"اپنے سائے کو بچاؤ…"
لیکن ریحان آگے بڑھتا رہا۔
آمدہ نے بھی اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
باب 9: سایوں کا محافظ
وہ ایک وسیع ہال میں داخل ہوئے جہاں ایک دیو جیسے سائے کی شکل پتھر میں بند پڑی تھی۔
اس کے اردگرد اندھیرے کی لہریں تھی۔
آنکھیں بند…
لیکن سینہ ہل رہا تھا — وہ جاگنے والا تھا۔
اچانک ہزاروں سائے باہر نکلنے لگے…
وہ گاؤں کے لوگوں کے سائے تھے۔
وہ رو رہے تھے، چیخ رہے تھے، مدد مانگ رہے تھے۔
ریحان نے بلند آواز میں کہا:
“رک جاؤ! ہم محافظ کو جگانے نہیں آئے…
ہم اسے واپس سلانے آئے ہیں!”
اندھیرے نے ایک دم اس پر حملہ کیا۔
سائے اس کے جسم کے گرد لپٹنے لگے۔
اس کی سانس رکنے لگی۔
آمدہ چیخی:
“ریحان!!”
اس کا دوسرا سایہ، یعنی خوف کا سایہ، اچانک سامنے آیا۔
پہلی بار وہ مسلسل پیچھے نہیں ہٹ رہا تھا۔
وہ اس کے سامنے کھڑا ہو کر چیخا:
“میں اس کی حفاظت کروں گا!”
ریحان حیران رہ گیا۔
“میرا… میرا خوف میرا دفاع کر رہا ہے!”
ریحان نے پہلی بار اپنا خوف قبول کیا۔
اور وہی قبولیت سائے کے لیے طاقت بن گئی۔
محافظ کی آنکھیں کھلنے لگی تھیں۔
زمین لرزنے لگی۔
باب 10: مستقبل کا سایا واپس آ گیا
اچانک روشنی کی ایک لہر آئی۔
خانقاہ کے در و دیوار روشن ہوگئے۔
ریحان نے دیکھا:
آمدہ کا تیسرا سایہ واپس آ رہا تھا۔
آہستگی سے…
کمزور قدموں کے ساتھ…
یوں جیسے وہ بہت دور بھٹک کر آیا ہو۔
اس سائے نے آتے ہی محافظ کے سامنے اپنے بازو پھیلا دیے۔
سایوں کے محافظ نے دھیرے سے آنکھیں بند کیں۔
اس کے بدن کا تناؤ کم ہوا۔
اندھیرا پیچھے ہٹنے لگا۔
ریحان، آمدہ اور ان کے سائے — سب مل کر محافظ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
اور پھر… محافظ نے ایک لمبی سانس لی…
اور دوبارہ نیند میں چلا گیا۔
تمام سائے واپس دیواروں میں کھو گئے۔
گاؤں کی طرف اٹھتا ہوا اندھیرا بکھر گیا۔
باب 11: واپسی — ایک نئی صبح
سورج طلوع ہوا تو گاؤں والوں نے دیکھا کہ جو پتھر بنے ہوئے لوگ تھے…
وہ دوبارہ انسان بن چکے تھے۔
لوگ خوشی سے چیخنے لگے۔
گلیوں میں جشن ہونے لگا۔
سائے بھی پہلے سے زیادہ نرم اور ہلکے نظر آ رہے تھے۔
ریحان اور آمدہ جب باہر آئے تو گاؤں والوں نے ان کا استقبال کیا۔
انہیں گاؤں کے ہیرو کہا جانے لگا۔
نانی زرینہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
“تم دونوں نے وہ کام کیا ہے جو صدیوں میں کسی نے نہیں کیا۔
تم نے نہ صرف گاؤں کو بچایا…
بلکہ سایوں کے قانون کا نیا مطلب سمجھا۔
سایہ دشمن نہیں…
سایہ انسان کا آئینہ ہے۔”
باب 12: انجام — محبت جو سائے سے بھی مضبوط تھی
ایک شام ریحان اور آمدہ پہاڑی کنارے بیٹھے تھے۔
دور سورج ڈوب رہا تھا۔
ہوا میں ٹھنڈک تھی۔
ریحان نے دھیرے سے کہا:
“آج تمہارا تیسرا سایہ روشن لگ رہا ہے۔”
آمدہ مسکرائی:
“کیونکہ آج… میرا مستقبل روشن ہے۔”
ریحان نے ہمت کر کے کہا:
“اگر تم چاہو… تو میں… میں تمہاری زندگی کا سایہ بن سکتا ہوں۔”
آمدہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“ریحان… تم سائے نہیں… میرا سورج ہو۔”
اور دونوں کے تینوں سائے…
ہلکی ہوا میں ایک جیسے جھوم رہے تھے۔

.jpg)
Post a Comment