FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

1. "وقت کا اندھا گاؤں"

 

باب اوّل: ایک ایسا گاؤں جو لمحوں کو پہچان نہیں پاتا

پہاڑوں کے بیچ چھپا ہوا ایک گاؤں تھا — ایسا گاؤں جس کا نام کسی کتاب میں نہیں ملتا، کسی نقشے میں نہیں دکھائی دیتا، اور کسی مسافر نے کبھی اُس کا کوئی قصہ بیان نہیں کیا۔
لوگ اسے وقت کا اندھا گاؤں کہتے تھے۔ مگر اس گاؤں کے لوگ نہیں جانتے تھے کہ انہیں اندھا کیوں کہا جاتا ہے۔

یہ گاؤں دوسرے گاؤں جیسا نہیں تھا۔

اس گاؤں میں:

  • سورج روز چڑھتا تھا مگر لوگوں کو نہیں معلوم ہوتا کہ کب؟

  • بچے ایک دن کھیلتے کھیلتے بڑے ہو جاتے اور اگلے دن پھر چھوٹے ہو جاتے۔

  • بوڑھے کبھی چلتے چلتے جوان ہو جاتے، کبھی جوان ہوتے ہوتے لرزنے لگتے۔

  • درختوں میں پتے ایک لمحے میں اُگتے اور دوسرے لمحے میں گر جاتے۔

  • گھڑیاں اگر ہوتیں بھی تو سب کی سوئیاں ایک ہی جگہ پر پھنس جاتی تھیں۔

گاؤں کے لوگ وقت کو دیکھ ہی نہیں سکتے تھے۔
اور وہ ایسا اس لیے نہیں کرتے تھے کہ وہ چاہیں…
بلکہ اس لیے کہ وہ وقت کو محسوس کرنے کی صلاحیت سے محروم تھے۔

اسی گاؤں میں ایک 12 سالہ لڑکا رہتا تھا — ریحان۔

ریحان کے بارے میں سب کہتے تھے:
“یہ لڑکا بہت سوال کرتا ہے۔ بے وجہ غور کرتا ہے۔ گاؤں کا ہو کر بھی گاؤں جیسا نہیں لگتا۔”

ریحان واقعی مختلف تھا۔

کیونکہ وہ ایک ایسی چیز محسوس کرتا تھا… جسے باقی لوگ نہیں کرتے تھے۔

وہ "وقت" کو محسوس کرتا تھا۔




باب دوم: لمحوں کا عجیب سا درد

ریحان کو جب پہلی بار یہ فرق محسوس ہوا، وہ صرف آٹھ سال کا تھا۔

ایک دن اس نے دیکھا کہ اُس کے باپ کی داڑھی صبح پوری سفید تھی، مگر دوپہر تک آدھی سیاہ ہو گئی۔
اس نے ماں سے پوچھا: “امی، ابا کی داڑھی کا رنگ بدل گیا۔ کیوں؟”

ماں نے وہی ایک جملہ کہا جو وہ ہمیشہ کہتی تھی:
"بیٹا، دن بدلتے ہیں تو سب بدلتا ہے۔"

صرف… اس گاؤں میں “دن” کبھی بدلتے ہی نہیں تھے۔
یا شاید لوگوں کو دکھائی نہیں دیتے تھے۔

ریحان کا ذہن الجھ گیا۔

اگلے دن وہی باپ پھر مکمل جوان ہو چکا تھا۔ ہنستا تھا، دوڑتا تھا، اور کہتا تھا کہ وہ ابھی ابھی پندرہ سال کا ہوا ہے۔
ریحان چپ چاپ اُسے دیکھتا رہا۔
اس کی آنکھوں میں عجیب سا رنگ تھا — جیسے روشنی ٹھہری ہوئی ہو۔

ایک رات ریحان سو نہ سکا۔

اچانک دیوار پر حرکت ہوتی نظر آئی۔
ریہان نے آنکھیں ملیں۔

دیوار پر دھبے تھے۔

عام دھبے نہیں… چمکتے ہوئے دھبے۔

وہ دھبے بدل رہے تھے، جیسے کوئی نامعلوم قوت انہیں کسی ترتیب میں لانا چاہ رہی ہو۔

ریحان قریب گیا۔

اس نے انگلی سے ایک دھبے کو چھوا تو اسے ایک جھٹکا سا لگا۔

اسے لگا جیسے کوئی کہہ رہا ہو:

“یہ وقت کا زخم ہے…”

ریحان پیچھے ہٹا۔
دل زور سے دھڑکا۔
اس نے فوراََ پکارا، “امی!”

مگر ماں وہی ایک جملہ بول رہی تھی:

"بیٹا، دن بدلتے ہیں تو سب بدلتا ہے۔”

ریحان نے سوچا:
"اگر ہمارے گاؤں میں دن بدلتے ہی نہیں، تو یہ جملہ ہر بار کیوں دہرایا جاتا ہے؟"


باب سوم: وقت پہلی بار حرکت کرتا ہے

ریحان کی بارہویں سالگرہ کے دن عجیب ہوا چل رہی تھی۔
ہوا میں نمی تھی، مگر بادل کہیں نہ تھے۔
سورج نکلا ہوا تھا مگر روشنی کم تھی۔
درختوں کے پتّے جیسے سست ہو کر لٹک رہے تھے۔

ریحان بہتے نالے کے پاس بیٹھا پانی دیکھ رہا تھا کہ پانی ایک لمحے کے لیے رک گیا…
اور پھر چل پڑا۔

یہ پہلی بار تھا کہ وقت حرکت کر کے رکا… اور پھر حرکت کی۔

ریحان نے اپنے ہاتھوں پر پھونک مار کر کہا:
“کیا واقعی میرا دماغ ایسے کھیل کھیلتا ہے؟”

اس لمحے اسے دور سے ایک لرزتی آواز سنائی دی۔

“ریحان… وقت تمہیں دیکھ رہا ہے…”

ریحان چونکا۔
اس نے پلٹ کر دیکھا مگر کوئی نہ تھا۔
صرف ہوا تھی جو پہاڑوں سے ٹکرا کر گونج رہی تھی۔

اچانک اس نے دیکھا کہ سامنے کھڑا درخت اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہل گیا۔

ایسے جیسے کسی نے اسے دھکا دیا ہو۔

اور پھر…

درخت کے پیچھے ایک سایہ چلتا ہوا نکل آیا — مگر سایہ کسی انسان کا نہیں تھا۔

وہ سایہ بلکل روشنی کی طرح تھا… مگر کالا نہیں، نہ سفید…
وہ شفاف تھا، جیسے دھند میں بنی کوئی آنکھیں۔

وہ چیز رک کر اسے دیکھنے لگی۔

ریحان کو لگا کہ وہ چیز وقت ہی ہے… یا وقت جیسی کوئی چیز۔

وہ پہلی بار ڈرا۔


باب چہارم: وقت کی خفیہ کہانی — صنوبر بی بی

یہ گاؤں میں ایک ہی شخص تھا جو پرانے قصے جانتا تھا — صنوبر بی بی۔

وہ ایک شکستہ جھونپڑی میں رہتی تھی۔
لوگ کہتے تھے کہ وہ “گزرے ہوئے لمحوں” کو دیکھ سکتی ہے۔
ریحان اسی رات اس کے پاس گیا۔

دروازہ پر دستک دی۔

ایک کپکپاتی ہوئی آواز آئی:
"کیا تم وہ ہو جسے وقت نے چنا ہے؟"

ریحان نے سہم کر کہا:
"میں… میں نہیں جانتا۔"

دروازہ کھل گیا۔
صنوبر بی بی کی آنکھوں میں خوف اور امید دونوں تھے۔

وہ بولی:
"یہ گاؤں وقت سے اندھا ہے… مگر وقت ہم سے اندھا نہیں۔
ہمیں لمحے دکھائی نہیں دیتے مگر وقت ہمیں دیکھتا ہے۔
یہ گاؤں اس کے غضب کا شکار ہے۔"

ریحان نے پوچھا:
"وقت ہم سے ناراض کیوں ہے؟"

صنوبر بی بی نے لمبی سانس لی۔

"کیونکہ ہمارے بزرگوں نے وقت کو قید کر دیا تھا۔
انہوں نے وقت کو روک کر رکھ دیا — تاکہ کوئی بوڑھا نہ ہو، کوئی جوان نہ ہو…
لیکن انہوں نے یہ نہ سوچا کہ وقت کے بغیر زندگی زندہ نہیں رہتی۔
وقت کا بہاؤ رکتا ہے تو وجود ٹوٹنے لگتا ہے۔"

ریحان نے پچھلے دن دیوار پر نظر آنے والے چمکتے دھبے یاد کیے۔

“وہ دھبے کیا تھے؟”

صنوبر بی بی کی آواز بھاری ہوگئی:

"وہ وقت کے زخم تھے…
جو ابھی بھرے نہیں۔
اور اگر وہ زخم گہرے ہو گئے تو…
یہ گاؤں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔"

ریحان نے پوچھا:
“میں کیا کرسکتا ہوں؟ میں صرف ایک بچہ ہوں۔”

صنوبر بی بی نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔
جیسے وہ کچھ پڑھ رہی ہو۔

"تم وہ واحد انسان ہو جسے وقت دکھائی دیتا ہے۔
وقت نے تمہیں چُنا ہے —
شاید اس لیے کہ تم اس کے درد کو سمجھ سکتے ہو۔
تمہیں وقت کو آزاد کرنا ہوگا۔"

ریحان ہچکچایا:
"اور اگر میں ناکام ہو گیا؟"

بوڑھی عورت نے لرزتی آواز میں کہا:

"پھر نہ وقت بچے گا…
نہ یہ گاؤں…
نہ کوئی لمحہ…
نہ کوئی زندگی۔"


باب پنجم: وقت کے سفر کی شروعات

صنوبر بی بی نے ریحان کو بتایا کہ وقت کو آزاد کرنے کے لیے اسے چار مقامات تک جانا ہوگا:

  1. وقت کا درخت

  2. گزرے ہوئے لمحوں کا کنواں

  3. منجمد وادی

  4. آخری گھڑی کی غار

ریحان نے راستہ پوچھا۔
صنوبر بی بی نے کہا:

"یہ راستے دنیا میں نہیں… لمحوں میں ملتے ہیں۔
تمہیں آنکھوں سے نہیں… دل سے دیکھنا ہوگا۔"

ریحان بے چینی سے باہر نکلا۔
گاؤں کی گلیاں سنسان تھیں۔
چاندنی زمین سے ٹکر کر جیسے رک رہی تھی۔

ریحان نے دل پر ہاتھ رکھا۔

اسے لگا وقت کا ہاتھ اُس کے ہاتھ پر ہے۔
اس نے آنکھیں بند کیں۔

اور دنیا بدل گئی۔


باب ششم: وقت کا درخت

جب ریحان نے آنکھیں کھولیں، وہ گاؤں میں نہیں تھا۔

وہ ایک ایسے جنگل میں تھا جہاں درختوں کے پتے چمک رہے تھے۔
ہر پتا جیسے اندر سے روشنی چھوڑ رہا تھا۔

درمیان میں ایک بڑا، سیاہ تنے والا درخت تھا۔
اس کا نام تھا:

وقت کا درخت۔

یہ درخت ہر لمحے کی حفاظت کرتا تھا۔
پتوں پر رکھے ہوئے روشنی کے قطرے… لمحوں کی شکل تھے۔

ریحان کے قریب آتے ہی درخت نے سرسراہٹ کی۔

ایک پتا گرا۔

پتا زمین پر گرتے ہی سیکڑوں سال کے لمحے اس کے سامنے کھل گئے:

  • محنت کرنے والے کسان

  • روتی ہوئی ماں

  • کھیلتے بچے

  • ہنستے چہرے

  • لکھتے شاعر

  • مرتے ہوئے انسان

  • جنم لیتے بچے

ریحان کی آنکھیں بھر آئیں۔

ہر پتا “ایک لمحہ” تھا۔
اور ہر لمحہ… زندگی تھا۔

اچانک ایک سیاہ سایہ سامنے آیا —
وہی شفاف دھند جیسا سایہ۔

وہ دھمکی دیتا ہوا بولا:

“انسان… تم ان لمحوں کو چھُو نہ دینا۔
وقت کو آزاد کرو گے تو یہ گاؤں مٹ جائے گا۔
لوگ لمحوں سے ڈرتے ہیں، وقت سے بھاگتے ہیں۔”

ریحان نے کانپتی آواز میں کہا:
"وقت کے بغیر زندگی کیسی؟"

سایہ غرایا:
"وقت تکلیف دیتا ہے۔ زندگی تبھی آسان ہوتی ہے جب وقت رک جائے۔"

ریحان نے درخت سے گرے ہوئے روشنی کے قطرے اٹھائے۔

"نہیں… وقت نہ ہو تو زندگی رک جاتی ہے۔
میں وقت کو آزاد کروں گا۔"

سایہ غائب ہو گیا۔

درخت کی جڑوں سے روشنی پھوٹی…
اور ریحان اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا۔


باب ہفتم: گزرے لمحوں کا کنواں

یہ کنواں ایسے لمحوں سے بھرا تھا جو کبھی ادا نہیں ہوئے:

  • نامکمل دعائیں

  • آدھے خواب

  • ادھوری محبتیں

  • روکے ہوئے آنسو

  • ٹوٹے ہوئے وعدے

ریحان نے کنویں کے اندر جھانکا۔
پانی نہیں تھا…
اندر تیرتے ہوئے لمحے تھے۔

ایک لمحہ اوپر آیا:

ایک چھوٹی بچی اپنی گڑیا کو بچا رہی تھی۔
مگر وہ لمحہ پھٹ کر ٹوٹ گیا۔

کنویں کی گہرائی سے ایک آواز آئی:

"ان لمحوں کو چھُڑانے کے لیے… تمہیں اپنا ایک لمحہ دینا ہوگا۔"

ریحان لرز گیا۔

"میرا لمحہ… یعنی میری یاد؟ میرا وقت؟"

آواز بولی:
"ہر آزادی کی قیمت ہوتی ہے۔
تمہارا ایک قیمتی لمحہ دو…
تب وقت ان لمحوں کو چھوڑ دے گا۔"

ریحان نے سوچا۔
پھر اپنی سب سے پیاری یاد چن لی —
وہ دن جب اس کے والد نے پہلی بار اسے گود میں اٹھایا تھا۔
ایک بے حد روشن لمحہ…

ریحان نے ہاتھ دل پر رکھا…
اور وہ لمحہ ہوا میں تحلیل ہو گیا۔

کنواں چمکا۔

سب لمحے آزاد ہو گئے۔

اب ریحان اگلے مرحلے کی جانب بڑھا۔


باب ہشتم: منجمد وادی

یہ وادی موت جیسی خاموش تھی۔
ہر چیز رُکی ہوئی تھی:

  • دریا

  • درخت

  • پرندے

  • پہاڑ

  • حتیٰ کہ روشنی بھی

ریحان کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
ایک لمحے کے لیے اسے لگا جیسے کوئی اس کی گردن کے پیچھے سانس لے رہا ہے۔

پھر وہی سیاہ سایہ نمودار ہوا۔

“یہ وادی وہ جگہ ہے جہاں وقت مر جاتا ہے…
تم اسے آزاد کرو گے تو کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
لوگ بوڑھے ہو جائیں گے، بچے بڑے ہو جائیں گے، یادیں بدل جائیں گی۔”

ریحان نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا:
“پھر بھی وقت کا آزاد ہونا ضروری ہے!”

سایہ غصہ سے لرز اٹھا۔

“تم سمجھتے نہیں…
وقت ظلم ہے!
میں اسے ختم کرنا چاہتا ہوں!”

ریحان پہلی بار سمجھ گیا:

یہ سایہ “وقت نہیں” تھا…
بلکہ وقت کا دشمن تھا۔
ایک ایسی ہستی جو چاہتی تھی دنیا لمحوں سے محروم ہوجائے —
تاکہ کوئی بدل نہ سکے…
کوئی بڑھ نہ سکے…
کوئی سیکھ نہ سکے۔

ریحان نے کہا:
"اگر وقت ظلم ہے… تو زندگی کیا ہے؟"

سایہ چپ ہو گیا۔

ریحان آگے بڑھا۔
اس نے وادی کے درمیان پڑے ہوئے منجمد دل کو چھوا۔
یہ "وقت کا دل" تھا۔

جیسے ہی اس نے اسے چھوا —
ہر چیز پگھلنے لگی۔
درخت ہلے، ہوا چلی، پانی بہنے لگا، روشنی حرکت کرنے لگی۔

وقت پھر سے زندہ ہوا۔


باب نہم: آخری گھڑی کی غار

غار کے اندر اندھیرا بہت تھا۔
ریحان نے دل مضبوط کیا۔

غار کے آخری کمرے میں ایک عظیم گھڑی رکھی تھی —
جسے “زندگی کی گھڑی” کہتے تھے۔

اس گھڑی کی سوئیاں رکی ہوئی تھیں۔
اگر یہ دوبارہ چل پڑتیں…
وقت آزاد ہو جاتا۔

سایہ آخری بار نمودار ہوا۔

اس نے چلا کر کہا:

“اگر تم نے یہ گھڑی چلائی…
تو پورا گاؤں بدل جائے گا!
تمہارے والد کی جوانی ختم ہو جائے گی…
تمہاری ماں بوڑھی ہو جائے گی…
لوگ اپنے اصل وقت میں چلے جائیں گے!”

ریحان کے دل میں درد اٹھا۔

اس نے سوچا:

“اگر وقت آزاد ہوا تو کیا میرے وہ سب پل بھی آ جائیں گے جو چھوٹ گئے؟
یا وہ لوگ جنہوں نے کبھی بڑھاپا نہیں دیکھا…
اچانک بوڑھے ہو جائیں گے؟”

مگر پھر اس نے خود سے کہا:

“یہ گاؤں زندہ ہے… مگر صحیح طرح زندہ نہیں۔
وقت تو زندگی کا سانس ہے۔”

ریحان نے گھڑی کی سوئی پکڑ کر رکھی۔
اس کی ہاتھ کانپ رہا تھا۔

سایہ چلا:

“مت کرو!!!”

ریحان نے زور سے دھکا دیا۔

سوئیاں چل پڑیں۔

روشنی پھوٹی۔

دنیا بدل گئی۔


باب دہم: آزادی

ریحان کو لگا جیسے اس کا دل ٹوٹ کر آزاد ہو رہا ہو۔

وہ بے ہوش ہو کر گرا۔
جب آنکھ کھلی تو وہ دوبارہ اپنے گاؤں میں تھا۔

مگر گاؤں… ویسا نہیں تھا۔

اس کے والد اب باقاعدہ بڑے ہو رہے تھے۔
اس کی ماں کے بالوں میں سفیدیاں بھی تھیں مگر وہ زندہ تھی — حقیقی، مکمل، باشعور۔

لوگ اب لمحے محسوس کر رہے تھے:

  • بچے وقت سے سیکھ رہے تھے

  • بوڑھے وقت کی قدر کر رہے تھے

  • جوان سمجھ رہے تھے کہ وقت کیوں ضروری ہے

ریحان نے آسمان دیکھا۔
بادل چل رہے تھے۔
سورج فرق سے چمک رہا تھا۔
ہوا کا بہاؤ سمجھ میں آ رہا تھا۔

وقت چل رہا تھا۔
زندگی چل رہی تھی۔

صنوبر بی بی نے دور سے دعا دی:

“تم نے گاؤں کو بچا لیا…
وقت کو آزاد کر دیا۔
اب یہ گاؤں اندھا نہیں رہا۔”

ریحان نے دل پر ہاتھ رکھا۔

اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک لمحہ…
جو اس نے کنویں میں قربان کیا تھا…

وہ کبھی واپس نہیں ملے گا۔

مگر وہ مسکرایا۔

“چلو… کچھ لمحے قربان بھی ہو جائیں…
تو بھی زندگی آگے بڑھتی رہتی ہے۔”


اختتام

وقت کا اندھا گاؤں اب وقت کا زندہ گاؤں بن چکا تھا۔
ریحان اب وہ لڑکا نہیں رہا تھا جو لمحوں سے ڈرتا تھا۔
اب وہ لمحوں کا محافظ تھا۔

اور دور کہیں…
سایہ اب بھی اندھیری دنیا میں چیخ رہا تھا:

“انسان نے پھر وقت کو آزاد کر دیا…”

مگر دنیا جانتی نہیں تھی —
کہ ہر بار وقت خطرے میں ہو…
ریحان جیسے بچے اسے بچانے پیدا ہوتے رہیں گے۔


0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...