1 — پہاڑیوں کے دامن میں چھوٹا سا گاؤں
دھند سے ڈھکی ہوئی پہاڑیوں کے نیچے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا—نوری پاس۔ اس گاؤں کے لوگ نرم دل اور خاموش مزاج تھے۔ سورج یہاں دیر سے نکلتا، اور شامیں بہت جلد آ جاتی تھیں۔ سردیوں کی ہوا یوں چبھتی تھی جیسے کسی نے برف کو چاقو بنا رکھا ہو۔ مگر اسی سردی میں ایک ایسی گرمی تھی جسے لوگ کبھی فراموش نہیں کر پاتے تھے۔
یہ گرمی تھی بابا نعیم کی قلفیوں کی۔
بابا نعیم ایک دبلا پتلا سا، لمبی سفید داڑھی والا شخص تھا۔ اس کی آنکھوں میں سہمی ہوئی اداسی اور خاموشی میں لپٹے ہوئے راز جھلکتے تھے۔ وہ روز صبح اپنا قلفی کا ٹھیلہ گاؤں کے چوک میں لگا دیتا۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے کہتے تھے کہ اس کی قلفی صرف قلفی نہیں، دل کا دروازہ کھول دینے والی چابی تھی۔
کیوں؟
کیونکہ جس نے بھی اس کی قلفی کھائی—وہ اپنی کھوئی ہوئی یاد اچانک یاد کر لیتا۔
کوئی اپنا بچپن یاد کر کے ہنسنے لگتا،
کوئی اپنی ماں کو یاد کر کے رونے لگتا،
کوئی کسی چھوٹے سے لمحے کو پکڑ کر سینے سے لگا لیتا۔
یہ بات گاؤں میں مشہور تھی:
بابا کی قلفی دل کا دروازہ کھول دیتی ہے۔
2 — حفصہ اور اس کی خاموش خواہش
گاؤں میں ایک 16 سال کی لڑکی رہتی تھی: حفصہ۔
وہ شوخ، ذہین، اور اداس تھی۔
وہ کیوں اداس تھی؟
کیونکہ اس کے والد چار سال پہلے لاپتہ ہو گئے تھے۔
کسی کو نہیں معلوم وہ کہاں گئے۔
نہ کوئی جنازہ، نہ کوئی قبر، نہ کوئی نشانی۔
اس کی ماں کہتی تھی:
“بیٹا، جو لوٹ کر نہ آئے… وہ یادوں میں زندہ رہ جاتے ہیں۔”
مگر حفصہ کی روح اس بات کو ماننے سے انکاری تھی۔
وہ چاہتی تھی ایک لمحہ—
بس ایک لمحہ—
اپنے والد کو یاد کرنے کا۔
اور اسے یقین تھا کہ یہ بابا نعیم اسے وہ یاد دلا سکتا ہے۔
لیکن ایک مسئلہ تھا۔
جب بھی وہ بابا کی قلفی کھاتی—
اُسے کوئی یاد واپس نہیں آتی تھی۔
کیوں؟
کیونکہ جو یاد ک کبھی تھی ہی نہیں… وہ واپس کیسے آتی؟
حفصہ کی پوری زندگی میں اس کا باپ ہمیشہ ایسے رہا تھا… جیسے دھند کے پیچھے کھڑا ایک سایا۔
وہ اسے صرف چھوٹی چھوٹی چیزوں میں محسوس کرتی تھی—
کھڑکی کے پار آتی ہوا میں،
بڑی بارشوں کی بو میں،
یا کبھی کبھی دل کی دھڑکن میں۔
لیکن تصویر؟
کوئی نہیں۔
آواز؟
کہیں نہیں۔
ایک لمحہ؟
ایک بھی نہیں۔
اسی لئے وہ خاموش تھی۔
مگر اس خاموشی کے پیچھے ایک سوال جل رہا تھا:
بابا نعیم کے پاس آخر یہ یادیں آتی کہاں سے ہیں؟
3 — چاندی کی چابی کا راز
ایک رات گاؤں میں سخت سردی تھی۔ آسمان پر بادلوں کی دودھیا تہہ تھی۔ اس رات حفصہ نے چادر لپیٹ کر بابا نعیم کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا۔
وہ دیکھتی ہے کہ بابا نعیم تنہا پہاڑی کی جانب جا رہا ہے۔
اس کے ہاتھ میں ایک چاندی کی چابی ہے، جو چاندنی میں چمک رہی ہے۔
پہاڑی کے اوپر ایک پرانا پتھریلا دروازہ کھڑا ہے—ایک محراب۔
مگر اس محراب میں کوئی دروازہ نہیں۔
بابا نعیم اس خالی محراب کے سامنے کھڑے ہو کر چابی فضا میں گھماتا ہے۔
اور جیسے ہی چاند کی روشنی محراب پر پڑتی ہے—
محراب آہستہ آہستہ چمکنے لگتی ہے۔
جیسے کوئی پرانا مقفل دروازہ کھل رہا ہو۔
اس روشنی میں رنگ تیرتے نظر آتے ہیں—
لگتا ہے جیسے ہوا میں لوگوں کے چہرے بن رہے ہوں۔
اور پھر بابا نعیم اپنے ہاتھ سے ایک روشنی کا ننھا سا دانہ پکڑ لیتا ہے۔
حفصہ سانس روک لیتی ہے۔
یہ… یہ تو یاد ہے۔
بابا نعیم اس روشنی کو ایک شیشی میں قید کرتا ہے…
اور واپس چل دیتا ہے۔
حفصہ نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔
4 — یادیں کون دیتا ہے؟
اگلی صبح حفصہ بابا سے کہتی ہے:
“بابا… چاند کی چابی کے بارے میں بتائیں۔”
بابا چونک جاتے ہیں۔
پھر آہستہ سے بیٹھ جاتے ہیں۔
ان کی آواز بھاری اور تھکی ہوئی ہوتی ہے:
“بیٹی… لوگ سمجھتے ہیں کہ میں چاند سے یادیں کھینچتا ہوں۔
مگر حقیقت اس کے الٹ ہے۔”
حفصہ حیران:
“تو پھر؟”
بابا کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں:
“میں اپنی یادیں چاند کو دے دیتا ہوں۔
بدلے میں چاند مجھے کسی اور کی بھولی ہوئی یاد دے دیتا ہے۔”
حفصہ کا دل دھک سے رہ جاتا ہے۔
“یعنی… ہر قلفی میں… آپ کا کچھ حصہ… آپ کی یاد… شامل ہے؟”
بابا سر ہلاتے ہیں۔
“ہاں بیٹی۔
اس قلفی کے بدلے… میں اپنی زندگی آہستہ آہستہ بھول رہا ہوں۔
جو یاد کسی اور کو ملتی ہے… وہ میری یاد بن کر نہیں رہتی۔
میں اسے ہمیشہ کے لیے کھو دیتا ہوں۔”
حفصہ کے قدم لرز جاتے ہیں۔
5 — “میری آخری یاد تمہارے لیے ہے”
حفصہ کی آواز روتے ہوئے ابھرتی ہے:
“میری ایک ہی خواہش ہے بابا…
ایک ہی۔
اپنے والد کی صرف ایک یاد دیکھ لوں۔”
بابا خاموش رہتے ہیں۔
ان کی سانس بھاری ہو جاتی ہے۔
پھر وہ کہتے ہیں:
“جو یاد تم مانگ رہی ہو…
وہ میری آخری یاد ہے۔
وہ یاد… جو مجھے اب تک زندہ رکھے ہوئے ہے۔
اگر میں وہ بھی دے دوں…
تو میں خود ختم ہو جاؤں گا۔
پھر میرے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔
میں… میں کون رہ جاؤں گا؟”
حفصہ کے آنسو بہہ پڑتے ہیں۔
خاموشی…
لمبی۔۔۔ بھاری۔۔۔ کڑوی۔
پھر بابا مسکرا دیتے ہیں۔
ایک ایسی مسکراہٹ… جو قربانی اور محبت کی ہوتی ہے۔
“بیٹی… تم اپنے باپ کو دیکھ لو۔
میں آخر تک یاد رہنے کے لیے تو نہیں جیتا رہا۔”
6 — آخری چاند... آخری چابی
اس رات چاند سب سے زیادہ روشن تھا۔
بابا نعیم پہاڑی پر کھڑے تھے۔
حفصہ بھی ساتھ تھی۔
بابا چابی گھماتے ہیں۔
روشنی پھول کی طرح کھلتی ہے۔
محراب ایک چاندی کے دروازے میں بدل جاتی ہے۔
بابا اپنا ہاتھ بڑھاتے ہیں—
اور اپنی آخری یاد باہر نکال لیتے ہیں۔
وہ یاد شیشی میں بند ہوتی ہے۔
بالکل نرم سنہری روشنی کی طرح۔
بابا شیشی حفصہ کو تھما دیتے ہیں۔
“جاؤ بیٹی… یہ یاد تمہاری ہے۔”
حفصہ شیشی کھولتی ہے۔
اور جیسے ہی روشنی اس کے دل میں اترتی ہے—
وہ اپنے والد کو دیکھ لیتی ہے۔
وہ یاد… وہ لمحہ… وہ سائے… سب واضح ہو جاتے ہیں۔
وہ دیکھتی ہے—
اس کا والد اسے گود میں اٹھائے ندی کنارے چل رہا ہے،
ہوا ہلکی ہے،
اور وہ ہنس رہا ہے،
اور بار بار اس کے ماتھے پر بوسہ دے رہا ہے۔
وہ ایک لمحہ…
جو اس کی روح پوری زندگی مانگ رہی تھی۔
حفصہ زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی ہے۔
7 — صبح کا لمحہ
صبح جب گاؤں والے چوک میں آتے ہیں—
وہ دیکھتے ہیں کہ:
بابا نعیم ٹھیلے کے پاس بیٹھے ہیں۔
مگر وہ بے خبر ہیں کہ وہ کون ہیں۔
نہ وہ ٹھیلے کو پہچانتے ہیں۔
نہ گاؤں والوں کو۔
نہ خود کو۔
وہ مسکرا رہے ہیں۔
بالکل بے فکر، بالکل ہلکے۔
جیسے دنیا کا کوئی بوجھ ان کے دل پر رہا ہی نہ ہو۔
حفصہ آہستہ چل کر ان کے پاس آتی ہے۔
انہیں دیکھتی ہے۔
اور ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیتی ہے۔
بابا اسے پہچان نہیں پاتے۔
مگر مسکرا دیتے ہیں۔
اس مسکراہٹ میں… سکون تھا۔
اور سکون بھی کیسا؟
ایسا سکون جو صرف اپنے آپ کو قربان کرنے والوں کو ملتا ہے۔
8 — اختتام
گاؤں والے آج بھی کہتے ہیں:
بابا نعیم کی قلفی دل کھول دیتی تھی۔
مگر کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں:
“اصل میں، وہ دلوں میں یادیں نہیں لوٹاتا تھا…
وہ اپنے آپ کو لوگوں میں تقسیم کر رہا تھا۔”
اور حفصہ جب بھی چاند کو دیکھتی ہے—
وہ جانتی ہے:
محبت کبھی ختم نہیں ہوتی۔
بس شکل بدل لیتی ہے۔


Post a Comment