حصہ اوّل: پراسرار دکان
رات کا پہلا پہر تھا۔ پرانے قصبے کی گلیاں خاموش تھیں، جیسے کوئی بھاری راز ان کی دیواروں پر کندہ ہو۔ ٹھنڈی ہوا میں پرانی اینٹوں کی مہک تھی، اور کہیں دور سے گھنٹی کی ہلکی سی آواز سنائی دے رہی تھی — “ٹھن۔۔۔ ٹھن۔۔۔”
قصبے کے بیچوں بیچ ایک تنگ گلی میں ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ دروازے پر لکڑی کا بورڈ ٹنگا تھا، جس پر دھندلی روشنی میں کچھ مٹا ہوا لکھا تھا:
"وقت خرید و فروخت — صرف رات کے لیے"
دکان کا دروازہ خود بخود چرچراتے ہوئے کھلتا تھا، اور اندر سے ایک بوڑھی عورت کی آواز آتی:
“آ جاؤ بیٹی، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔۔۔”
حصہ دوم: ثنا کی آمد
ثنا کے قدم ہچکچا رہے تھے۔ وہ دکان کے سامنے کافی دیر کھڑی رہی۔ اس کے ہاتھ میں ماں کی پرانی چوڑیاں تھیں — وہی جو ماں نے مرنے سے ایک رات پہلے اسے دی تھیں۔
دل کی گہرائیوں میں ایک خواہش چبھ رہی تھی — "اگر میں صرف پانچ منٹ کے لیے اپنی ماں سے بات کر سکوں..."
اس نے دروازہ دھیرے سے دھکیلا۔ دکان کے اندر اندھیرا سا تھا، مگر ایک کونے میں لالٹین جل رہی تھی۔ دیواروں پر گھڑیاں لٹک رہی تھیں — ہزاروں گھڑیاں، ہر ایک مختلف وقت پر رکی ہوئی۔
کاؤنٹر کے پیچھے ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی۔ اس کے بال چاندی جیسے سفید، آنکھیں نیلے شیشے کی طرح چمکدار۔ اس کے سامنے ایک بڑی کتاب کھلی ہوئی تھی، جس کے صفحات خود بخود پلٹ رہے تھے۔
عورت نے سر اٹھایا۔
“تم وہی ہو جو پچھتاوے کے وقت کو واپس خریدنے آئی ہو؟”
ثنا نے لرزتی آواز میں کہا:
“میں اپنی ماں سے دوبارہ بات کرنا چاہتی ہوں... صرف پانچ منٹ کے لیے۔”
بوڑھی عورت نے آنکھیں بند کیں، جیسے کسی حساب میں گم ہو۔ پھر آہستہ سے بولی:
“وقت لوٹانے کی قیمت وقت ہی ہوتا ہے۔ تمہیں اپنے آنے والے سالوں میں سے پانچ سال دینے ہوں گے۔”
ثنا کے لب کانپے۔
“پانچ سال...؟ اگر میں نہ دوں تو؟”
“تو تمہاری خواہش ادھوری ہی رہے گی۔ وقت ادھورا رہنا پسند نہیں کرتا۔”
ثنا نے آنکھیں بند کیں۔ ایک آنسو بہا، اور اس نے ہاں کر دی۔
حصہ سوم: وقت کا سودا
بوڑھی عورت نے کتاب بند کی اور میز پر رکھا ریت کا گھڑالیا۔
“یہ ریت تمہارے پانچ منٹ ہیں۔ جیسے ہی یہ ختم ہوگی، تم واپس لوٹ آؤ گی۔”
ثنا نے گھڑالیا ہاتھ میں لیا، اور آنکھوں کے سامنے دھند سی چھا گئی۔ جب آنکھیں کھلیں تو وہ اپنے پرانے گھر میں تھی — وہی کچن، وہی ماں کی خوشبو۔
ماں چولہے کے پاس کھڑی تھی، مسکراتی ہوئی، جیسے وقت نے کبھی اسے چھوا ہی نہ ہو۔
“ثنا! تُو اتنی دیر کہاں رہ گئی؟ کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا بیٹا۔”
ثنا دوڑ کر ماں سے لپٹ گئی۔ اس نے آنکھیں بند کر کے وہ لمحہ محسوس کیا جسے وہ برسوں سے ترس رہی تھی۔ ماں کے ہاتھوں کی گرمی، آواز کا سکون، اور وہ جملہ —
“بیٹا، وقت ضائع نہ کیا کر، یہ سب سے قیمتی چیز ہے۔”
ثنا کے آنسو اس کے چہرے پر بہہ رہے تھے۔
“امی، کاش میں آپ کو کبھی نہ کھوتی...”
ریت گھڑی کی ریت ختم ہو رہی تھی۔ ماں نے اس کے گال تھپتھپائے اور دھیرے سے کہا:
“وقت کبھی واپس نہیں آتا، بیٹی۔ صرف تمہیں سکھانے آتا ہے کہ تمہیں آگے کیسے بڑھنا ہے...”
روشنی تیز ہوئی — اور سب ختم۔
حصہ چہارم: واپسی... مگر بدلاؤ کے ساتھ
ثنا نے آنکھیں کھولیں تو وہ دوبارہ دکان میں تھی۔ مگر دکان بدل چکی تھی۔ دیواروں پر وہی گھڑیاں تھیں، مگر اب ان میں کچھ کی سوئیاں الٹی سمت میں گھوم رہی تھیں۔
“تم واپس آ گئی ہو؟” بوڑھی عورت نے مسکرا کر پوچھا۔
ثنا نے گھبرا کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا — وہ تھوڑے بڑے لگ رہے تھے۔ آئینے میں جھانکا تو چہرے پر وقت کے ہلکے نشانات تھے۔
“میرے پانچ سال...” وہ دھیرے سے بولی۔
“وقت کبھی مفت نہیں ملتا، بچی۔”
ثنا باہر نکلی، مگر قصبہ ویسا نہیں رہا۔ گلیاں بدل گئی تھیں، دکانیں نئی تھیں، اور لوگ اجنبی۔ اس نے ایک اخبار اٹھایا — تاریخ پانچ سال آگے کی تھی۔
لیکن یہی کافی نہیں تھا — ایک نوجوان لڑکی اس کے گھر سے باہر نکلی۔ وہی گھر جہاں وہ رہتی تھی۔ اور اس کے ساتھ ایک آدمی اور بچہ تھا۔
“امی، یہ کون ہے؟” بچے نے پوچھا۔
لڑکی نے جواب دیا، “پتہ نہیں بیٹا، شاید کوئی راہ بھٹکی ہوئی ہے۔”
ثنا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ دنیا آگے بڑھ چکی تھی، اور وہ کسی اور کی زندگی میں قید ہو چکی تھی۔
حصہ پنجم: رازِ وقت
ثنا واپس اسی دکان کی طرف دوڑی۔ دروازہ بند تھا، مگر وہ پھر بھی دھکا دیتی رہی۔ اندر بوڑھی عورت اپنی کتاب کے سامنے بیٹھی تھی۔
“تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا!” ثنا چیخی۔
“میں نے تمہیں صرف وہ دیا جو تم نے مانگا تھا۔ وقت کی قیمت، وقت ہی ہوتی ہے۔”
“میں واپس اپنی زندگی چاہتی ہوں!”
بوڑھی عورت نے سر جھکایا۔
“اب تم ایک اور کی زندگی میں شامل ہو چکی ہو۔ وقت کے دھارے بدل گئے ہیں۔ اگر تم اپنی زندگی واپس لو، تو کسی اور کی زندگی ختم ہو جائے گی۔ کیا تم کسی اور کی سانسیں چھیننا چاہتی ہو؟”
ثنا خاموش ہو گئی۔ اس کی سانس تیز ہو رہی تھی، مگر آنکھوں میں ماں کی مسکراہٹ گھوم رہی تھی۔
“تم آخر ہو کون؟”
بوڑھی عورت نے دھیرے سے کہا:
“میں وقت کی محافظ ہوں۔ میں لمحوں کے درمیان رہتی ہوں۔ تم جیسے لوگ آتے ہیں، اپنی کہانیاں بدلنے کے لیے۔ مگر میں صرف توازن قائم رکھتی ہوں — کیونکہ اگر وقت رک جائے، تو دنیا ختم ہو جائے۔”
حصہ ششم: قربانی
بوڑھی عورت نے گھڑالیا اٹھایا۔
“تم چاہو تو اپنا وقت واپس لے سکتی ہو۔ مگر یاد رکھو، کوئی اور تمہاری جگہ کھو دے گا۔”
ثنا نے ماں کے چہرے کو یاد کیا۔ وہ پانچ منٹ — وہ پانچ منٹ ہی اس کی پوری زندگی تھے۔
اس نے ریت گھڑی کو دیکھا۔ ریت کے چند ذرے باقی تھے۔
“نہیں... میں نہیں چاہتی کہ کوئی اور وہ تکلیف جھیلے جو میں نے جھیلی ہے۔ میرا وقت، میری قسمت۔”
بوڑھی عورت نے ہلکا سا مسکرا کر سر جھکایا۔
“تم نے توازن بچا لیا۔”
ریت گھڑی کی ریت مکمل رک گئی۔ دکان میں گھڑیاں ایک لمحے کے لیے بند ہو گئیں — پھر دوبارہ چلنے لگیں۔
ثنا نے آنکھیں بند کیں۔ روشنی کا ایک ہالہ اسے گھیرنے لگا۔ جب اس نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو وہ قصبے کی گلی میں کھڑی تھی، جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مگر اس کے دل میں سکون تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وقت واپس نہیں آتا، لیکن وہ لمحہ — وہ ایک لمحہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
حصہ آخر: “وقت کی آواز”
مہینے گزر گئے۔ قصبے کے لوگ اب ایک نئی دکان کے بارے میں سرگوشیاں کرنے لگے۔
ایک دکان جو صرف رات کو کھلتی ہے۔
جس پر لکھا ہے:
"وقت خرید و فروخت — مالک: ثنا"
اور اندر سے ایک نرم آواز آتی ہے:
“آ جاؤ بیٹی... وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔۔۔”
اختتام 🕯️
یہ کہانی انسانی خواہش، قربانی، اور وقت کے توازن کی تمثیل ہے۔
کہ بعض اوقات، جو لمحہ ہم واپس چاہتے ہیں، وہ دراصل ہمیں آگے بڑھنے کا سبق دینے آتا ہے۔


Post a Comment