آخری تصویر
پہلا باب: پرانا کیمرا
علی ایک نوجوان فوٹوگرافر تھا۔ فوٹوگرافی اس کا جنون بھی تھی اور ذریعۂ روزگار بھی۔ وہ شادیوں، پارٹیوں اور مختلف تقریبات میں تصاویر کھینچتا تھا لیکن دل ہمیشہ کچھ منفرد کرنے کو چاہتا تھا۔ ایک دن وہ پرانے لاہور کی گلیوں میں پرانی چیزوں کے بازار میں گھوم رہا تھا۔ لکڑی کے صندوق، پرانے سکے، زنگ آلود گھڑیاں اور مٹی میں لپٹی کتابیں وہاں بکھری پڑی تھیں۔
اسی دوران اس کی نظر ایک دکان پر پڑی جہاں ایک بوسیدہ کیمرا رکھا تھا۔ کیمرا دیکھنے میں عام سا تھا مگر اس کے لینس میں عجیب سا خمار تھا، جیسے آنکھ جھپک رہی ہو۔ دکاندار نے بتایا کہ یہ بہت پرانا ہے اور کئی سالوں سے یہاں رکھا ہے۔ علی نے شوقیہ وہ کیمرا خرید لیا اور گھر لے آیا۔
دوسرا باب: پہلی جھلک
علی نے وہ کیمرا اپنے کمرے میں رکھ دیا۔ اگلے دن اس نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کیمرے میں فلم ڈالی اور گلی میں جا کر چند تصاویر کھینچ لیں۔ رات کو جب فلم دھلوا کر وہ تصاویر گھر لایا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
جو تصویر اس نے ایک دکان کے باہر کھینچی تھی، اس میں ایک ہجوم نظر آ رہا تھا اور دکان کے آگے ایک شخص گر کر مر رہا تھا، جبکہ حقیقت میں تصویر لیتے وقت ایسا کچھ نہیں تھا۔ علی نے یہ سوچ کر نظرانداز کیا کہ شاید فلم پرانی ہے اور اس میں کوئی خرابی ہے۔
لیکن اگلے ہی دن خبر ملی کہ عین اسی دکان کے آگے ایک شخص کو دل کا دورہ پڑا اور وہ گر کر مر گیا۔ علی کے ہاتھوں سے اخبار پھسل گیا۔
تیسرا باب: تحفہ یا لعنت؟
علی اب ہر روز کیمرے سے تصاویر کھینچنے لگا۔ کچھ تصویریں عام تھیں، لیکن کچھ میں خوفناک مناظر جھلکتے۔ ایک بچے کو سڑک پار کرتے دکھایا گیا تھا اور چند لمحوں بعد واقعی کار نے اسے ٹکر ماری۔ ایک تصویر میں ایک عورت کھڑکی کے پاس کھڑی تھی اور اگلے دن وہ عورت چھت سے گر کر مر گئی۔
علی خوفزدہ تھا، لیکن ساتھ ہی اسے یہ طاقت پرکشش لگ رہی تھی۔ وہ سوچتا، "اگر میں یہ مناظر پہلے دیکھ لیتا ہوں تو کیوں نہ کسی کو بچاؤں؟" مگر ہر بار قسمت کا جال ایسا بُنا جاتا کہ وہ چاہ کر بھی حقیقت کو بدل نہ پاتا۔
چوتھا باب: آخری تصویر
ایک رات علی تنہائی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہ کیمرہ آخر چاہتا کیا ہے۔ اسی دوران تجسس نے اس پر غلبہ پا لیا اور اس نے کیمرا میز پر رکھ کر ٹائمر لگا دیا۔ کیمرے نے ایک تصویر کھینچی اور جب وہ فوٹو ڈویلپ ہوئی تو علی کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
تصویر میں وہ خود دکھائی دے رہا تھا۔ ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے، آنکھوں پر پٹی، اور پیچھے اندھیرے میں ایک پراسرار شخص کھڑا تھا جس کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ علی کی سانس رک گئی۔ یہ تصویر کوئی اور نہیں بلکہ اس کے اپنے مستقبل کی تھی۔
پانچواں باب: سچ کی تلاش
علی اب پاگلوں کی طرح ہر طرف دوڑنے لگا۔ وہ پرانے بازار گیا تاکہ دکاندار سے کیمرے کی حقیقت پوچھ سکے، مگر دکان بند تھی۔ لوگ کہتے تھے وہ دکاندار کئی سال پہلے مر چکا ہے۔ علی نے اپنے دوستوں کو بتایا، مگر وہ ہنستے اور کہتے کہ یہ سب اس کے ذہن کا وہم ہے۔
لیکن علی جانتا تھا کہ یہ سب سچ ہے۔ اس نے طے کیا کہ وہ اپنی موت یا اس پراسرار حقیقت کا سامنا کرے گا۔ اس نے ہر تصویر کو غور سے دیکھنا شروع کیا تاکہ کوئی اشارہ مل سکے۔ ایک تصویر میں اسے ایک پرانی کوٹھی کی جھلک نظر آئی، بالکل اسی کے پیچھے جس میں وہ اندھیرے کمرے میں بندھا تھا۔
چھٹا باب: پراسرار کوٹھی
علی نے اس کوٹھی کو تلاش کیا۔ وہ شہر کے کنارے پر ویران کھڑی تھی۔ ٹوٹے ہوئے دروازے، دیواروں پر کائی اور ہوا میں عجیب سی نمی۔ علی نے کانپتے دل کے ساتھ اندر قدم رکھا۔ ہر کمرہ ویران تھا مگر ایک کمرے میں پرانے اخبار اور بوسیدہ تصاویر بکھری تھیں۔
ان تصویروں میں مختلف لوگ تھے — کچھ اجنبی، کچھ شہر کے پرانے واقعات سے جڑے چہرے۔ سب کی تصاویر میں ایک ہی چیز مشترک تھی: سب کی موت کی جھلک۔ اور پھر علی نے اپنی تصویر دیکھی۔ وہی تصویر جس میں وہ بندھا ہوا تھا۔
اچانک دروازہ زور سے بند ہوا۔ کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔
ساتواں باب: نقاب پوش
علی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی پراسرار شخص سامنے کھڑا تھا جس کا عکس اس نے تصویر میں دیکھا تھا۔ اس کا چہرہ سیاہ نقاب میں چھپا ہوا تھا۔ اس کی آواز کھوکھلی اور سرد تھی:
"اب تیری باری ہے۔ یہ کیمرہ ہمیشہ اگلے شکار کو دکھاتا ہے۔ جیسے تجھے دوسرے کی موت کی جھلک دکھاتا تھا، ویسے ہی اب دوسروں کو تیری موت دکھائے گا۔"
علی نے چیختے ہوئے کہا: "میں جاننا چاہتا ہوں! یہ سب کیوں؟"
نقاب پوش نے دھیرے سے کہا:
"یہ کیمرا لعنت ہے۔ جو بھی اسے حاصل کرتا ہے، وہ موت کا قیدی بن جاتا ہے۔ ہر تصویر ایک کہانی ہے، اور ہر کہانی کا انجام صرف موت ہے۔"
آٹھواں باب: انجام
علی نے بھاگنے کی کوشش کی، مگر اس کے قدم بوجھل ہو گئے۔ نقاب پوش نے اسے پکڑ کر کرسی پر باندھ دیا۔ کمرے میں وہی کیمرا رکھا ہوا تھا۔ نقاب پوش نے ٹائمر لگایا۔ کیمرے کی آنکھ کھلی، ایک فلش چمکا، اور علی کی آخری تصویر کھینچی گئی۔
تصویر میں وہی منظر قید ہو گیا جو اس نے پہلے دیکھا تھا — علی بندھا ہوا، اندھیرے کمرے میں، اور نقاب پوش اس کے پیچھے۔
اگلے دن پرانے بازار میں ایک اور خریدار آیا۔ اس کی نظر ایک پرانے کیمرے پر پڑی، جو دکان کے کونے میں رکھا تھا۔ دکاندار مسکرا کر بولا:
"یہ بہت خاص کیمرا ہے، پرانی یادیں قید کر لیتا ہے۔ چاہیں تو خرید لیجیے…"
اختتام
کمرے کی دیواروں پر لٹکتی پرانی تصاویر ہلکی ہوا سے جھول رہی تھیں۔ ان میں ایک نئی تصویر شامل ہو چکی تھی — علی کی آخری تصویر۔


Post a Comment