خواب فروش
(ایک طویل کہانی)
پہلا باب: پراسرار مسافر
گاؤں کی ہوائیں ہمیشہ پرسکون رہتی تھیں۔ کھیتوں کے درمیان بل کھاتی ہوئی کچی گلیاں، مٹی کی خوشبو، اور پرندوں کی چہچہاہٹ یہاں کے لوگوں کی زندگی کا حصہ تھیں۔ لیکن اس پرسکون فضا میں ایک رات عجیب سا اضطراب پھیل گیا۔
گاؤں کے کنارے پر ایک اجنبی نمودار ہوا۔ لمبا قد، پرانے کپڑوں میں لپٹا، کندھے پر لکڑی کی ایک بوسیدہ الماری لٹکائے ہوئے۔ اس کے ہاتھ میں ایک چراغ تھا جو عجیب سی نیلی روشنی بکھیر رہا تھا۔ لوگ حیران تھے کہ یہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے۔
وہ گاؤں کے چوک میں رُکا، چراغ کو زمین پر رکھا، اور دھیمی مگر صاف آواز میں بولا:
"خواب لو۔۔۔ خواب! خوشی کے خواب، محبت کے خواب، بچپن کے خواب، قسمت بدلنے والے خواب!"
لوگ چونک گئے۔ کچھ ہنسنے لگے، کچھ سرگوشیوں میں کہنے لگے کہ یہ پاگل ہے۔ مگر اجنبی پُر اعتماد کھڑا رہا۔
دوسرا باب: بوتلوں کا جادو
صبح جب سورج نکلا تو چند تجسس بھرے لوگ اس کے پاس گئے۔ اجنبی نے الماری کھولی۔ اندر شیشے کی بوتلیں رکھی تھیں۔ ہر بوتل میں ہلکی سی دھند اور روشنی تیر رہی تھی۔ گویا کسی نے آسمان کا ٹکڑا بند کر دیا ہو۔
"یہ کیا ہے؟" ایک بوڑھے نے پوچھا۔
اجنبی نے مسکرا کر کہا: "یہ خواب ہیں۔ جو چاہو دیکھ لو، جو چاہو جی لو۔ ایک رات کے لیے تمہاری زندگی بدل جائے گی۔"
لوگوں نے پھر قہقہہ لگایا، مگر ایک غریب کسان نے بوتل خرید لی۔ اگلے دن جب وہ واپس آیا تو اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ اس نے کہا:
"کل رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں شہزادہ ہوں، محل میں رہتا ہوں۔ میرے نوکر ہیں، سونے کے برتن ہیں۔ ایسا سکون کبھی نہ ملا تھا۔"
لوگ حیران رہ گئے۔ آہستہ آہستہ گاؤں کے زیادہ تر لوگ خواب خریدنے لگے۔
تیسرا باب: اصلیت کی جھلک
گاؤں کی ایک لڑکی، "عالیہ"، اس خواب فروش کو شک کی نظر سے دیکھتی تھی۔ عالیہ ذہین اور بہادر تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ یہ سب ایک فریب ہے۔ مگر حالات نے اس کی سوچ بدل دی۔
اس کا چھوٹا بھائی "عمیر" سخت بیمار ہو گیا۔ ڈاکٹرز نے امید چھوڑ دی۔ عالیہ روتی رہی۔ تب خواب فروش اس کے قریب آیا اور کہا:
"میں تمہیں ایسا خواب دے سکتا ہوں جس میں تمہارا بھائی تندرست اور ہنستا کھیلتا ہوگا۔"
عالیہ پہلے غصے سے بولی: "مجھے فریب مت دو!"
لیکن پھر بھائی کی کمزوری دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ گیا۔ اس نے خواب خرید لیا۔
اس رات عالیہ نے خواب میں دیکھا کہ عمیر صحت مند ہے، کھیتوں میں کھیل رہا ہے، قہقہے لگا رہا ہے۔ یہ اس کی زندگی کا سب سے حسین لمحہ تھا۔
لیکن صبح جب وہ جاگی، اس کے جسم میں عجیب کمزوری تھی۔ جیسے کوئی اس کی روح کا حصہ چرا کر لے گیا ہو۔
چوتھا باب: خواب کی قیمت
وقت گزرتا گیا۔ گاؤں کے لوگ خواب خریدتے رہے، مگر ان کی حالت بگڑنے لگی۔
-
جو خوشی کے خواب دیکھتے تھے، جاگنے پر شدید اداسی میں مبتلا ہو جاتے۔
-
جو محبت کے خواب لیتے، جاگنے پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے۔
-
کچھ تو ایسے بھی تھے جو جاگنے کے بعد زندہ لاش کی طرح ہو گئے۔
عالیہ نے غور کیا کہ خواب جتنے حسین ہوتے، جاگنے کے بعد زندگی اتنی ہی خالی محسوس ہوتی۔
وہ خواب فروش کے پاس گئی اور سخت لہجے میں بولی:
"تم کون ہو؟ یہ سب کیوں کر رہے ہو؟"
وہ شخص دھیرے سے مسکرایا:
"میں خوابوں کا خریدار اور فروش ہوں۔ انسان اپنی خواہشوں اور یادوں کو قید کر کے میرے پاس بیچ دیتا ہے، اور میں انہیں واپس بیچتا ہوں۔ یہ سب تمہاری ہی خواہشات ہیں، میں نے کچھ نیا نہیں بنایا۔"
عالیہ کے دل میں خوف دوڑ گیا۔
پانچواں باب: راز کا انکشاف
ایک رات عالیہ نے خواب فروش کا پیچھا کیا۔ وہ اسے گاؤں کے باہر ایک پرانے کھنڈر تک لے گیا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ زمین میں بڑی بڑی بوتلیں دفن تھیں۔ ہر بوتل کے اندر روشنی اور دھند کے ساتھ ساتھ انسانی چہرے جھلملاتے تھے۔ کچھ ہنس رہے تھے، کچھ رو رہے تھے۔
یہ گاؤں کے وہی لوگ تھے جنہوں نے خواب خریدے تھے۔ ان کی روحوں کے ٹکڑے قید تھے۔
عالیہ کا دل کانپ گیا۔ وہ سمجھ گئی کہ خواب فروش حقیقت میں لوگوں کی روح چرا کر اپنے قبضے میں رکھتا ہے۔
چھٹا باب: مقابلہ
عالیہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس فریب کو ختم کرے گی۔ مگر خواب فروش آسانی سے ہارنے والا نہ تھا۔ وہ بولا:
"اگر تم چاہتی ہو کہ سب آزاد ہوں تو تمہیں اپنی سب سے قیمتی شے دینی ہوگی۔"
عالیہ نے پوچھا: "وہ کیا ہے؟"
وہ مسکرایا: "تمہاری یادیں اور محبت۔ جو تمہیں تم بناتی ہیں۔"
عالیہ تذبذب میں پڑ گئی۔ اگر اس نے سب کچھ دے دیا تو وہ خالی ہو جائے گی، مگر اگر نہ دیا تو گاؤں ہمیشہ خوابوں کے جال میں پھنسا رہے گا۔
ساتواں باب: قربانی
عالیہ نے آنکھیں بند کیں، ایک گہری سانس لی اور کہا:
"میں تیار ہوں۔ لے لو میری یادیں، مگر میرے گاؤں کو آزاد کر دو۔"
خواب فروش نے ایک بوتل اس کے ہاتھ پر رکھی۔ روشنی کی ایک کرن نکلی اور عالیہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کی بچپن کی یادیں، ماں کی محبت، بھائی کی ہنسی—سب اس سے چھن گئے ہیں۔
اچانک بوتلیں ٹوٹنے لگیں، روشنی آسمان کی طرف اڑنے لگی۔ گاؤں کے لوگ جاگے اور انہیں لگا جیسے ان کی روحیں واپس آ گئی ہوں۔
لیکن عالیہ زمین پر گر گئی۔ اس کی آنکھیں خالی تھیں، جیسے سب کچھ مٹ گیا ہو۔
آٹھواں باب: کھلا انجام
خواب فروش خاموشی سے مسکرا کر گاؤں چھوڑ گیا۔ کسی کو معلوم نہ ہوا کہ وہ کہاں گیا۔
گاؤں کے لوگ خوش تھے کہ وہ آزاد ہو گئے، لیکن عالیہ خالی پن کی دنیا میں قید تھی۔ اس کا بھائی عمیر اس کے پاس بیٹھا روتا رہا۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خواب فروش دوبارہ کبھی واپس آئے گا۔ کچھ کہتے ہیں کہ عالیہ کی قربانی نے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔
لیکن رات کو گاؤں کی گلیوں میں کبھی کبھی ایک سرگوشی سنائی دیتی ہے:
"خواب لو۔۔۔ خواب لو۔۔۔"

Post a Comment