پہلا حصہ: پرانا مکان اور نئی زندگی
گاؤں کی گلیاں تنگ اور کچی تھیں۔ گرد اڑتی ہوئی جھونپڑیوں کے در و دیوار پر جا بیٹھتی تھی اور رات کو ہوا کے ساتھ درختوں کی ٹہنیاں کسی سنسان ساز کی طرح بجتی تھیں۔ اسی گاؤں کے آخری کونے پر ایک پرانا مکان کھڑا تھا۔ اینٹیں کچی، پلستر جھڑ چکا اور دیواروں پر کائی کی سبز تہہ ایسے جمی تھی جیسے وقت نے اپنی انگلیوں سے یادیں نقش کر دی ہوں۔
یہی وہ مکان تھا جس میں اب نمرہ اپنی دادی کے ساتھ آ کر رہنے والی تھی۔ نمرہ کے والدین شہر میں حادثے کا شکار ہوئے تھے۔ چھوٹی عمر میں ماں باپ کا سایہ سر سے اٹھ جائے تو زندگی کا رنگ بدل جاتا ہے۔ دادی نے کہا، "بیٹی، یہ پرانا مکان ہمارا ہے، وراثت میں ملا ہے۔ ہم یہاں سکون سے رہ لیں گے۔"
نمرہ نے مکان کو دیکھا تو دل میں ایک عجیب سا بوجھ محسوس کیا۔ کھڑکیاں آدھی ٹوٹی ہوئی تھیں، لکڑی کے دروازے پر پرانی زنجیر لٹک رہی تھی، اور اندر داخل ہوتے ہی ہوا میں بوسیدگی کی مہک تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے مکان سانس لے رہا ہو۔
دوسرا حصہ: پہلی سرگوشی
پہلی رات نمرہ کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ دادی تو کمرے کے ایک کونے میں آرام سے سو چکی تھیں، لیکن نمرہ کو لگتا تھا جیسے اندھیروں میں کوئی موجود ہے۔ وہ چھت پر پڑنے والی ہوا کی آہٹیں سن رہی تھی، پھر اچانک دیوار سے ایک مدھم سی آواز آئی:
"نمرہ۔۔۔ نمرہ۔۔۔"
نمرہ کے جسم میں کپکپی دوڑ گئی۔ اس نے کمبل اپنے اوپر کھینچ لیا۔ وہ کان لگائے سنتی رہی لیکن کچھ دیر بعد خاموشی چھا گئی۔ اگلی صبح اس نے دادی کو بتایا تو دادی نے ہنس کر کہا، "یہ سب وہم ہے۔ مکان پرانا ہے، ہوا اینٹوں میں سے گزر کر ایسی آوازیں نکالتی ہے۔"
لیکن نمرہ کے دل کو یقین نہیں آیا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کوئی عام آواز نہیں تھی۔
تیسرا حصہ: سرگوشیوں کا راز کھلنے لگا
اگلے دن نمرہ مکان کی پرانی دیواروں کو دیکھنے لگی۔ ایک کمرے کی دیوار پر دراڑ ایسی تھی جیسے کسی نے ناخن سے چیر دیا ہو۔ جب وہ قریب گئی تو پھر سرگوشی ابھری:
"وہ تمہارا نہیں تھا۔۔۔ اس نے دھوکہ دیا۔۔۔ خون ابھی تک سوکھا نہیں۔۔۔"
نمرہ پیچھے ہٹ گئی۔ آواز میں درد اور غصہ ملا ہوا تھا۔ اس کے دل میں خوف کے ساتھ تجسس بھی جاگ گیا۔ وہ سوچنے لگی کہ یہ مکان صرف پرانی اینٹوں کا ڈھیر نہیں بلکہ اس کے اندر کوئی راز دفن ہے۔
چوتھا حصہ: بستی کی کہانی
نمرہ نے گاؤں کی عورتوں سے بات کی۔ ایک بوڑھی عورت نے کہا، "بیٹی، اس مکان کے بارے میں سوال مت کر۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کئی سال پہلے ایک قتل ہوا تھا۔ اس گھر میں رہنے والی لڑکی اچانک غائب ہو گئی تھی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسے مار دیا گیا اور لاش دیوار میں چن دی گئی۔"
نمرہ کے قدم سن ہو گئے۔ کیا واقعی دیوار میں کوئی دفن ہے؟ کیا یہ سرگوشیاں کسی زندہ نہ رہنے والے کی ہیں؟
پانچواں حصہ: خواب اور حقیقت
اسی رات نمرہ نے خواب دیکھا۔ خواب میں وہ ایک اندھیرے کمرے میں کھڑی تھی، دیوار سے خون بہہ رہا تھا اور ایک عورت کی آواز کہہ رہی تھی:
"میرا نام فریال ہے۔۔۔ مجھے دھوکہ دیا گیا۔۔۔ میرا حق چھینا گیا۔۔۔"
نمرہ چیخ کر اٹھ بیٹھی۔ دادی گھبرا گئیں لیکن نمرہ نے خواب کا ذکر نہیں کیا۔ دل میں وہ طے کر چکی تھی کہ سچائی جانے بغیر چین نہیں آئے گا۔
چھٹا حصہ: دیوار سے بات چیت
دن گزرتے گئے اور نمرہ نے محسوس کیا کہ وہ دیوار کی سرگوشیوں کو سمجھنے لگی ہے۔ کبھی آوازیں ہلکی ہوتیں، کبھی غصے سے بھری۔
"میرے قاتل کو سزا نہیں ملی۔۔۔ وہ آزاد ہے۔۔۔ نمرہ، تم ہی میرا انصاف کرو۔"
نمرہ کے وجود پر کپکپی چھا گئی۔ دیوار اسے اپنا ہم راز بنا رہی تھی۔
ساتواں حصہ: خاندانی راز
ایک دن نمرہ نے دادی سے ضد کر کے پرانی الماری کھلوائی۔ اندر سے پرانے کاغذ، خطوط اور تصویریں نکلیں۔ ان میں ایک تصویر تھی جس میں ایک حسین لڑکی کھڑی تھی۔ تصویر کے پیچھے لکھا تھا: "فریال – 1947"
نمرہ کا دل تیز دھڑکنے لگا۔ یہ وہی نام تھا جو دیوار نے سرگوشی میں بتایا تھا۔ اس نے دادی سے پوچھا تو دادی کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ دادی نے لرزتی آواز میں کہا:
"وہ تمہاری پر نانی تھی۔ خاندان کی سب سے حسین لڑکی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسے اپنی محبت نے دھوکہ دیا اور پھر اچانک وہ غائب ہو گئی۔ کوئی کچھ نہ جان سکا۔"
آٹھواں حصہ: قبر دیوار کے اندر
نمرہ کا تجسس اب جنون بن چکا تھا۔ ایک رات اس نے کمرے کی دیوار پر چراغ جلایا اور غور سے دیکھنے لگی۔ دراڑ مزید گہری محسوس ہوئی۔ اچانک سرگوشی گونجی:
"یہاں کھودو۔۔۔ سچ تمہیں ملے گا۔۔۔"
نمرہ کے ہاتھ کانپنے لگے لیکن اس نے ہمت کی۔ اگلے دن اس نے مزدور بلائے کہ دیوار کا پلستر اکھاڑ دیں۔ جیسے ہی دیوار کا حصہ ٹوٹا، اندر سے پرانی ہڈیاں نکل آئیں۔ ساتھ ہی ایک زیور کی چین بھی ملی جس پر "فریال" کا نام کندہ تھا۔
گاؤں میں ہنگامہ مچ گیا۔ یہ ثابت ہو گیا کہ فریال واقعی قتل ہوئی تھی اور اس کی لاش دیوار میں چھپا دی گئی تھی۔
نواں حصہ: قاتل کا انکشاف
لیکن سوال باقی تھا: قاتل کون تھا؟
دیوار نے پھر سرگوشی کی:
"وہ قریبی رشتہ دار تھا۔۔۔ دولت کے لالچ میں اس نے میرا خون بہایا۔۔۔"
نمرہ نے مزید تحقیق کی۔ پرانے خطوط سے پتا چلا کہ فریال اپنے ہی کزن سے محبت کرتی تھی۔ مگر اس کزن نے اسے دھوکہ دیا، کسی اور سے شادی کر لی، اور جائیداد پر قبضے کے لیے فریال کو راستے سے ہٹا دیا۔
وہ کزن کوئی اور نہیں بلکہ نمرہ کے دادا کے بڑے بھائی تھے۔ یعنی قاتل خود نمرہ کے خاندان کا حصہ تھا۔
دسواں حصہ: انصاف یا انتقام
نمرہ نے جب یہ راز دادی کو بتایا تو دادی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ "بیٹی، یہ سچ ہمارے خاندان پر بوجھ ہے۔ ہم نے ہمیشہ اسے چھپایا۔ مگر شاید اب وقت آ گیا ہے کہ انصاف ہو۔"
نمرہ نے پولیس کو اطلاع دی۔ تحقیقات کھلنے لگیں۔ اگرچہ قاتل تو کب کا مر چکا تھا، لیکن اس کے وارثوں کو جائیداد سے محروم کر دیا گیا۔
گیارھواں حصہ: آخری سرگوشی
جب انصاف ہوا تو اس رات نمرہ نے پہلی بار سکون سے سونا چاہا۔ لیکن سوتے وقت دیوار سے ایک آخری سرگوشی آئی:
"شکریہ نمرہ۔۔۔ میرا قرض اتار دیا۔۔۔ اب میں آزاد ہوں۔۔۔"
دیوار پر دراڑ آہستہ آہستہ بند ہونے لگی۔ کائی اکھڑ گئی اور پہلی بار مکان کے اندر ایک تازہ خوشبو پھیل گئی۔
نمرہ نے مسکرا کر آنکھیں بند کر لیں۔ مکان اب بوجھ نہیں رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس نے صرف ایک دیوار کی نہیں بلکہ اپنے خاندان کی روح کو آزاد کر دیا ہے۔
اختتام
یہ کہانی دیوار کی سرگوشیاں ایک پرانی بستی، وراثتی مکان، اور خاندانی راز کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں ماضی اور حال جُڑتے ہیں، خوف اور تجسس بڑھتا ہے اور آخر میں انصاف اور سکون کا پہلو سامنے آتا ہے۔
.jpg)
.jpg)
Post a Comment