وقت کی بُنتی
حصہ اوّل: گاؤں کی عورت اور دھاگوں کا راز
کسی ویران اور چھوٹے سے گاؤں میں، جہاں شام کے بعد سناٹا یوں چھا جاتا تھا جیسے ہوا بھی سانس لینا بھول گئی ہو، ایک بیوہ عورت "زرینہ" رہتی تھی۔ زرینہ کو گاؤں والے "دھاگوں والی بی" کہتے تھے۔ اس کی عمر پچاس کے قریب تھی، مگر اس کے چہرے پر جھریاں وقت کے بوجھ سے زیادہ کہانیوں کی گواہ لگتی تھیں۔
زرینہ کے پاس ایک پرانی کڑھائی کی ٹوکری تھی جس میں رنگ برنگے دھاگے رکھے تھے۔ مگر یہ دھاگے عام نہیں تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ دھاگے اس کی ماں کے زمانے سے ہیں، اور ان کے اندر ایک عجیب سا جادو بھرا ہوا ہے۔ جو بھی زرینہ ان دھاگوں سے کڑھائی کرتی، وہ چیز حقیقت میں بدل جاتی۔
شروع میں زرینہ نے کبھی اس راز کو کسی پر ظاہر نہیں کیا۔ وہ معمولی پھول، درخت اور پرندے بناتی تھی، اور یہ سب کچھ اس کے ہاتھ سے نکلتے ہی حقیقت کا روپ دھار لیتے تھے۔ اگر وہ کڑھائی میں سرخ گلاب بناتی، تو اگلے دن اس کے گھر کے باہر گلاب کا پودا اُگ آتا۔ اگر وہ چڑیا بناتی تو وہ کھڑکی پر آ بیٹھتی۔
گاؤں کے چند پرانے لوگ اس حقیقت سے واقف تھے، مگر وہ اسے کرامت سمجھ کر خاموش رہتے۔ زرینہ بھی زیادہ تر چیزیں اپنے دل بہلانے یا اپنے غم بھلانے کے لیے بناتی تھی۔
حصہ دوم: ظلم کی زنجیریں
اس گاؤں پر ایک ہی زمیندار کی حکومت تھی: "جاوید خان"۔ وہ طاقتور، ظالم اور لالچی انسان تھا۔ گاؤں کی ساری زمینیں اسی کی ملکیت تھیں۔ کسان محنت کرتے اور اپنی فصل کا آدھا حصہ اسے دیتے۔ جو انکار کرتا، اس کا گھر جلایا جاتا یا اس کی بیٹی کو ذلیل کیا جاتا۔
جاوید خان نے کئی بار زرینہ کو دیکھا تھا۔ اس نے گاؤں والوں سے سنا تھا کہ زرینہ کی کڑھائی میں کوئی جادو ہے۔ پہلے وہ ہنسا، پھر اس نے سوچا:
"اگر یہ سچ ہے، تو یہ عورت میری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔"
ایک دن جاوید خان اپنے آدمیوں کے ساتھ زرینہ کے گھر آیا۔ وہ گھر جو کچی اینٹوں اور پرانی لکڑی کے دروازے سے بنا تھا۔ اس نے حکم دیا:
"زرینہ! میرے لیے ایک کپڑا بناؤ۔ اس کپڑے پر میری موت لکھی ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھے معلوم ہو کہ میرا انجام کیسے ہوگا تاکہ میں اسے بدل سکوں۔"
زرینہ نے کانپتی آواز میں کہا:
"خان صاحب، یہ ممکن نہیں۔ دھاگے اپنی مرضی کے مطابق بنتے ہیں۔ میں صرف ہاتھ چلاتی ہوں، باقی فیصلہ یہ دھاگے کرتے ہیں۔"
جاوید خان نے ہنستے ہوئے کہا:
"مجھے کہانیاں مت سنا۔ اگر تو نے انکار کیا تو تیرا یہ گھر جلا دوں گا۔ تیرے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔"
زرینہ جانتی تھی کہ وہ سچ کہہ رہا ہے۔ جاوید کی آنکھوں میں وہی سفاکی تھی جو کئی معصوموں کو برباد کر چکی تھی۔
حصہ سوم: کڑھائی کی شروعات
اگلی رات زرینہ نے چراغ جلایا اور اپنی ٹوکری کھولی۔ دھاگے عجیب روشنی میں چمکنے لگے۔ اس نے کپڑا پھیلایا اور ہاتھ میں سوئی پکڑی۔
پہلا ٹانکا ڈالا تو دھاگے کپڑے پر ناچنے لگے۔ زرینہ نے سوچا وہ موت کا منظر بنائے گی، مگر دھاگے اپنی مرضی سے آگے بڑھنے لگے۔
کپڑے پر گاؤں کے کھیتوں کی تصویر بنی، پھر کسانوں کے دکھ، عورتوں کے آنسو، جلتے ہوئے گھروں کے نقش، اور جاوید خان کے ظلم کے نشان اُبھرنے لگے۔ زرینہ کے ہاتھ کانپنے لگے، مگر دھاگے رکنے والے نہیں تھے۔
پھر اچانک کپڑے پر ایک منظر ابھرا:
جاوید خان زمین پر گرا ہوا ہے، اور گاؤں کے لوگ اس پر پتھر برسا رہے ہیں۔ آسمان پر بجلی چمک رہی ہے، اور بارش کے پانی میں خون بہہ رہا ہے۔
زرینہ نے کپڑا چھوڑ دیا۔ پسینے میں شرابور ہو گئی۔
"یہ سب… یہ سب ہونا طے ہے؟" اس کے دل نے سوال کیا۔
حصہ چہارم: سچائی کا بوجھ
زرینہ نے اگلی صبح کپڑا لپیٹ کر صندوق میں چھپا دیا۔ مگر جاوید خان کے آدمی دوبارہ آئے۔
"خان صاحب کو کپڑا چاہیے!" انہوں نے دھمکی دی۔
زرینہ نے ٹالنے کی کوشش کی، مگر وہ نہ مانے۔ آخرکار وہ کپڑا جاوید خان تک پہنچا دیا گیا۔
جاوید خان نے کپڑا پھیلا کر دیکھا۔ پہلے وہ حیران ہوا، پھر غصے سے بھڑک اٹھا۔
"یہ کیا ہے؟ یہ تو میری موت کی تصویر ہے! یہ عورت مجھ پر جادو کر رہی ہے!"
اس نے حکم دیا کہ زرینہ کو قید کر لیا جائے۔ مگر گاؤں والے جانتے تھے کہ زرینہ بے گناہ ہے۔ ان کے دلوں میں بغاوت کی آگ جلنے لگی۔
حصہ پنجم: وقت کی بغاوت
چند دن بعد بارش کا موسم آیا۔ آسمان پر بادل گرجنے لگے۔ زرینہ قید میں تھی، مگر دھاگے اب بھی اپنے آپ حرکت کرتے تھے۔ اس کے گھر کی ٹوکری میں دھاگے کپڑے کے بغیر فضا میں بُننے لگے۔
گاؤں کے لوگ دیکھنے لگے کہ کپڑوں پر منظر حقیقت بنتے جا رہے ہیں۔ جاوید خان کے ظلم کی داستان ہوا میں نقش ہونے لگی۔ لوگ اب مزید خاموش نہ رہ سکے۔
ایک رات گاؤں والوں نے فیصلہ کیا۔ وہ سب کھیتوں میں جمع ہوئے۔ زرینہ کی قید توڑی گئی۔ اس نے کپڑا اٹھا کر گاؤں کے بیچوں بیچ لٹکا دیا۔
سب نے دیکھا: کپڑے پر جاوید خان کی موت لکھی ہے۔ یہ محض کڑھائی نہیں، یہ سچائی ہے۔
حصہ ششم: انجام
اسی رات جاوید خان اپنے آدمیوں کے ساتھ آیا۔ اس نے کپڑا جلانے کی کوشش کی، مگر جیسے ہی اس نے آگ لگائی، آسمان سے بجلی کڑکی اور بارش برسنے لگی۔
بارش کے ساتھ ہی گاؤں والے چیخنے لگے:
"بس اب بہت ہوا!"
انہوں نے جاوید خان پر حملہ کر دیا۔ وہ چیختا رہا، لڑتا رہا، مگر گاؤں کے لوگ سینکڑوں تھے۔ بالکل ویسا ہی ہوا جیسا زرینہ کے کپڑے پر دکھایا گیا تھا۔
جاوید خان زمین پر گر گیا۔ بارش کا پانی خون سے مل کر بہنے لگا۔
زرینہ نے کپڑے کی آخری لکیروں کو دیکھا۔ دھاگے رک گئے۔ وقت کا کھیل مکمل ہو چکا تھا۔
حصہ ہفتم: نیا آغاز
جاوید خان کی موت کے بعد گاؤں آزاد ہو گیا۔ اب زمین کسانوں کی تھی۔ لوگ خوش تھے، مگر سب جانتے تھے کہ یہ سب زرینہ اور اس کے دھاگوں کی بدولت ممکن ہوا۔
زرینہ نے اپنی ٹوکری بند کر دی۔ وہ جان گئی کہ یہ طاقت ہمیشہ کے لیے نہیں۔ یہ دھاگے وقت کی امانت تھے۔
اس نے گاؤں والوں سے کہا:
"اب یہ دھاگے سو جائیں گے۔ تمہیں اپنے نصیب خود بنانا ہوں گے۔ ظلم کو روکنے کے لیے تمہیں اٹھنا ہوگا، نہ کہ کسی جادو کا انتظار کرنا ہوگا۔"
گاؤں والوں نے سر جھکا کر وعدہ کیا۔
زرینہ کے گھر کے دروازے پر اس دن ایک نیا گلاب اُگا، جو کبھی نہ مرجھاتا تھا۔ یہ اس بات کی نشانی تھا کہ وقت کی بُنتی نے سچ کو جیتا دیا ہے۔


Post a Comment