چاندنی رات کا وعدہ
حصہ اول: پرانی حویلی اور جھیل کا راز
کہتے ہیں کچھ جگہیں اپنے اندر راز چھپائے رکھتی ہیں، اور وہ راز صدیوں تک زبانِ خلق پر افسانوں کی صورت گھومتے رہتے ہیں۔ ایک ایسی ہی جگہ شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ایک پرانی حویلی کے قریب جھیل تھی، جسے لوگ "چاندنی جھیل" کے نام سے جانتے تھے۔
اس جھیل کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔ بزرگ کہتے تھے کہ یہاں ایک لڑکی ہر چاندنی رات کو دکھائی دیتی ہے، سفید لباس میں ملبوس، بال ہوا میں بکھرے ہوئے، اور اس کی آنکھوں میں ایسا درد جیسے صدیوں کا انتظار سمیٹے بیٹھی ہو۔ کوئی کہتا وہ محبت کی دیوی ہے، کوئی کہتا وہ بدروح ہے۔
اسی شہر میں احمد نام کا ایک نوجوان مصور رہتا تھا۔ وہ خواب دیکھنے والا، حساس دل کا مالک اور اپنے فن میں ڈوبا رہنے والا انسان تھا۔ اس کا جنون تھا کہ وہ اپنے کینوس پر وہ منظر اتارے جو دوسروں نے نہ دیکھے ہوں۔ اس کی ماں اکثر اسے کہتی:
"بیٹا، دنیا کے رنگ تو سبھی دیکھتے ہیں، تم اپنے اندر کے رنگ کیوں نہیں دیکھتے؟"
لیکن احمد جانتا تھا کہ اس کی تخلیق کو ایک ایسے منظر کی ضرورت ہے جو عام نہ ہو، جو روح کو جھنجھوڑ دے۔
ایک دن شہر کے بازار میں اس نے چند بوڑھوں کو جھیل کی کہانی کرتے سنا۔ احمد کے دل میں تجسس کی آگ بھڑک اٹھی۔
"شاید وہی منظر میری تلاش کا اختتام ہو،" اس نے سوچا۔
حصہ دوم: پہلی ملاقات
چاندنی رات تھی۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی اور جھیل کی سطح آئینے کی طرح چمک رہی تھی۔ احمد اپنے کینوس اور برش ساتھ لایا تھا۔ اس نے جھیل کے کنارے بیٹھ کر سکون سے مناظر بنانا شروع کیا۔ اچانک ہوا کا ایک جھونکا آیا، اور ساتھ ہی ایک نرم سی سرگوشی سنائی دی۔
"تم یہاں کیوں آئے ہو؟"
احمد نے چونک کر پلٹ کر دیکھا۔ سامنے سفید لباس میں ایک لڑکی کھڑی تھی۔ اس کے بال ہوا میں بکھرے تھے، اور اس کی آنکھوں میں اتنی گہرائی تھی جیسے کوئی سمندر ہو۔ احمد لمحے بھر کے لیے سانس لینا بھول گیا۔
"میں۔۔۔ میں ایک مصور ہوں،" احمد نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ "میں چاہتا ہوں کہ اس جھیل کی خوبصورتی کو اپنی پینٹنگ میں اتاروں۔"
لڑکی کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ ابھری، مگر وہ مسکراہٹ بھی درد بھری تھی۔
"یہ جھیل خوبصورت ضرور ہے، مگر اس کے پانی میں بہت دکھ چھپے ہیں۔ کیا تم ان دکھوں کو دیکھنے کی ہمت رکھتے ہو؟"
احمد نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ وہ کوئی عام لڑکی نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کی تھکن اور انتظار کی چھاپ تھی۔
"تم کون ہو؟" احمد نے پوچھا۔
لڑکی نے پل بھر کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ سے کہا:
"میرا نام نازنین ہے۔۔۔ لیکن میرا وجود صرف ان لوگوں کے سامنے آتا ہے جو محبت کو سچے دل سے محسوس کرتے ہیں۔"
حصہ سوم: محبت کی پہلی کرن
اس دن کے بعد احمد ہر رات جھیل پر جانے لگا۔ نازنین ہر بار وہاں موجود ہوتی، اور دونوں کے درمیان باتیں بڑھتی گئیں۔ کبھی وہ پرانے وقتوں کے قصے سناتی، کبھی محبت کی تعریف بیان کرتی۔
ایک رات احمد نے کہا:
"نازنین، تم حقیقت ہو یا خواب؟ کبھی کبھی لگتا ہے میں تمہیں چھو لوں گا تو تم ہوا میں تحلیل ہو جاؤ گی۔"
نازنین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"میں خواب نہیں ہوں احمد، لیکن حقیقت بھی نہیں۔۔۔ میں ایک وعدے کی قید میں ہوں۔"
"کون سا وعدہ؟" احمد نے بے تابی سے پوچھا۔
نازنین نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے چاندنی سے بات کر رہی ہو۔
"صدیوں پہلے میرے خاندان نے ایک ظلم کیا تھا۔ اس ظلم کا بدلہ میری روح کو قید کر کے لیا گیا۔ جب تک کوئی شخص اپنی جان سے زیادہ محبت کی سچائی ثابت نہ کرے، میں آزاد نہیں ہو سکتی۔"
احمد کے دل میں تڑپ اٹھنے لگی۔
"تو پھر میں وہ شخص بنوں گا نازنین۔۔۔ میں تمہیں آزاد کروں گا!"
حصہ چہارم: راز کی گہرائی
دن گزرتے گئے، احمد کی پینٹنگز نازنین کے ساتھ ملاقاتوں سے رنگین ہونے لگیں۔ لیکن شہر میں افواہیں پھیلنے لگیں۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ احمد پر کسی جادو کا اثر ہو گیا ہے۔ کچھ کہتے وہ پاگل ہو گیا ہے۔
ایک دن احمد کے دوست عارف نے اسے سمجھایا:
"احمد! یہ سب وہم ہیں۔ کوئی لڑکی نہیں ہے وہاں۔ تم صرف اپنے تخیل میں پھنس گئے ہو۔"
لیکن احمد نے غصے سے کہا:
"عارف! وہ حقیقت ہے۔ وہ سانس لیتی ہے، بولتی ہے، ہنستی ہے۔۔۔ اور میں اس سے محبت کرتا ہوں۔"
عارف خاموش ہو گیا، مگر اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔
اگلی رات نازنین نے احمد کو بتایا:
"احمد، وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اگر تم نے میرا راز نہ جانا تو بہت دیر ہو جائے گی۔ اس حویلی میں جا کر تلاش کرو جس کے قریب یہ جھیل ہے۔ وہاں تمہیں میرے قید کی اصل وجہ ملے گی۔ لیکن یاد رکھنا۔۔۔ ہر قدم پر تمہیں موت کا سامنا ہوگا۔"
چاندنی رات کا وعدہ
حصہ پنجم: حویلی کا سفر
اگلی رات احمد نے ہمت باندھی۔ نازنین کی باتوں نے اس کے دل میں طوفان برپا کر دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر سچ جاننا ہے تو اسے اس پرانی حویلی میں قدم رکھنا ہوگا، جس کے قریب یہ جھیل موجود تھی۔
وہ رات اندھیری تھی۔ چاند بادلوں میں چھپا ہوا تھا اور حویلی کے اطراف درخت ایسے سرسرا رہے تھے جیسے کسی کی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہوں۔ احمد نے کانپتے دل کے ساتھ حویلی کا زنگ آلود دروازہ کھولا۔ اندر قدم رکھتے ہی عجیب سا بوجھ اس کے کندھوں پر آن پڑا، جیسے دیواریں صدیوں کی آہیں بھر رہی ہوں۔
حویلی کے اندر جا بجا جالے تھے۔ دیواروں پر ماندہ تصویریں لٹکی ہوئی تھیں۔ ایک تصویر پر احمد کی نظر رکی۔ وہ ایک حسین لڑکی کی تصویر تھی۔۔۔ اور وہ لڑکی نازنین ہی تھی۔
احمد کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔ تصویر کے نیچے سنہری حروف میں لکھا تھا:
"نازنین بیگم، شہزادیٔ حویلی — سنہ 1790"
احمد کے ہاتھ کانپنے لگے۔ تو یہ وہی تھی! صدیوں پرانی، لیکن آج بھی زندہ۔
حصہ ششم: خاندانی راز
اسی لمحے کمرے کی خاموشی کو ایک گہری آواز نے توڑا:
"تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا!"
احمد پلٹ کر دیکھتا ہے۔ ایک بوڑھا شخص، جس کی آنکھوں میں سرخی اور ہاتھ میں چراغ تھا، سامنے کھڑا تھا۔ وہ حویلی کا پرانا خادم بابا رحمت تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ نسلوں سے اسی خاندان کی خدمت کرتا آیا ہے۔
"بابا، مجھے سچ بتاؤ، نازنین کون ہے؟" احمد نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
بوڑھا شخص گہری سانس لیتا ہے:
"بیٹا، یہ ایک ایسا راز ہے جسے صدیوں سے دفن رکھا گیا۔ نازنین بیگم اس حویلی کے نواب کی بیٹی تھی۔ وہ ایک غریب کسان کے بیٹے سے محبت کرتی تھی۔ لیکن نواب کو یہ رشتہ منظور نہ تھا۔ نواب نے ظلم کر کے اس نوجوان کو قتل کروا دیا۔ نازنین بیگم نے بغاوت کی اور اپنی جان دینے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن ایک عامل نے اس کی روح کو قید کر دیا کہ وہ نہ مر سکے، نہ جی سکے۔"
احمد کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
"تو یہ عذاب کب ختم ہوگا؟"
بابا رحمت نے آہستہ کہا:
"یہ عذاب تبھی ختم ہوگا جب کوئی شخص اپنی محبت کی سچائی کو موت سے بڑھ کر ثابت کرے۔"
حصہ ہفتم: امتحانِ عشق
اس رات جب احمد دوبارہ جھیل پر گیا، نازنین پہلے سے زیادہ اداس تھی۔
"احمد! تم نے میرا راز جان لیا۔ لیکن اب ایک سوال ہے۔۔۔ کیا تم اتنی ہمت رکھتے ہو کہ میری قید توڑ سکو؟"
احمد نے مضبوط لہجے میں کہا:
"ہاں نازنین! میں اپنی جان بھی قربان کر دوں گا لیکن تمہیں آزاد کراؤں گا۔"
نازنین نے آنکھیں بند کر کے آسمان کی طرف دیکھا۔ اچانک جھیل کے پانی میں ہلچل مچ گئی۔ پانی سے دھواں اٹھنے لگا اور ایک سیاہ سایہ نمودار ہوا۔ وہ عامل کی روح تھی جس نے نازنین کو قید کیا تھا۔
"کون ہے جو اس قید کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے؟" سایہ غرایا۔
احمد نے آگے بڑھ کر کہا:
"میں ہوں۔ میں نازنین سے محبت کرتا ہوں، اور محبت کسی قید کو نہیں مانتی۔"
سایہ ہنسا، "محبت؟ اگر یہ سچ ہے تو اپنی جان کا ثبوت دو!"
اچانک جھیل کی سطح پر آگ کا دائرہ بن گیا۔ سایہ بولا:
"اس دائرے میں قدم رکھو۔ اگر تمہاری محبت جھوٹی ہوئی تو تم لمحوں میں جل کر راکھ ہو جاؤ گے۔ لیکن اگر سچی ہوئی۔۔۔ تو نازنین آزاد ہو جائے گی۔"
حصہ ہشتم: قربانی اور آزادی
احمد نے پلٹ کر نازنین کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
"احمد، یہ مت کرو! میں نہیں چاہتی تمہاری زندگی ختم ہو جائے۔"
لیکن احمد مسکرایا۔
"نازنین! تم میری زندگی ہو۔ اگر تم آزاد نہیں تو میری زندگی کا کیا مطلب؟"
یہ کہہ کر احمد نے آگ کے دائرے میں قدم رکھ دیا۔
اچانک شعلے بھڑک اٹھے، لیکن احمد کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔ وہ صرف نازنین کو دیکھ رہا تھا۔ شعلے اس کے جسم کو چھوئے، لیکن اس کا وجود سلامت رہا۔ لمحہ بھر کے بعد آگ بجھ گئی، اور جھیل کا پانی چمکنے لگا۔
سایہ چیخ مار کر غائب ہو گیا۔ نازنین کے جسم سے روشنی پھوٹی، اور وہ ہوا میں بلند ہو گئی۔ اس کا سفید لباس سنہری روشنی میں بدل گیا۔
"احمد۔۔۔ تم نے وہ کر دکھایا جو صدیوں میں کوئی نہ کر سکا۔ تمہاری محبت نے مجھے آزاد کر دیا۔"
نازنین کے آنسو موتیوں کی طرح ٹپکے۔ احمد نے دوڑ کر اسے تھام لیا۔ اس بار نازنین کا وجود نرم اور حقیقی تھا، جیسے کوئی خواب حقیقت میں بدل گیا ہو۔
حصہ نہم: نیا آغاز
صبح کی روشنی جھیل پر پھیل گئی۔ پرندوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ احمد اور نازنین ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیٹھے تھے۔
بابا رحمت قریب آیا، اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
"بیٹا، تم نے صدیوں پرانی قید توڑ دی۔ آج سے یہ جھیل بدروح کی نہیں بلکہ محبت کی پہچان کہلائے گی۔"
احمد نے نازنین کو دیکھ کر کہا:
"یہ صرف آغاز ہے۔ اب ہم اپنی کہانی خود لکھیں گے۔"
نازنین مسکرا اٹھی۔ وہ مسکراہٹ اب درد بھری نہیں تھی، بلکہ آزادی اور محبت کی روشنی سے بھری تھی۔
اختتام: چاندنی رات کا وعدہ
سالوں بعد لوگ جھیل کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر دیکھتے، جہاں ایک مصور اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ لوگ حیران ہوتے کہ نازنین کی جوانی صدیوں بعد بھی کیسے باقی ہے، لیکن احمد اور نازنین جانتے تھے کہ جب محبت سچی ہو تو وقت بھی ہار مان لیتا ہے۔
جھیل اب بھی چمکتی تھی، لیکن اب وہاں کسی پراسرار لڑکی کا سایہ نہیں آتا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ لڑکی اب محبت کے وعدے میں ہمیشہ کے لیے زندہ تھی۔


Post a Comment