FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"یادوں کی دکان: خوشی اور غم کا سودا"

 

کہانی: یادوں کی دکان


حصہ اول: پراسرار دکان

قصبے کے پرانے حصے میں ایک تنگ و تاریک گلی تھی۔ گلی اتنی سنسان کہ دن کے وقت بھی وہاں کوئی جانے کی جرات نہیں کرتا تھا۔ اسی گلی کے آخر میں ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ نہ اس پر کوئی بورڈ، نہ شیشہ، نہ روشنی—بس ایک لکڑی کا دروازہ جس پر زنگ آلود تالا لٹکا رہتا۔ دن بھر دروازہ بند رہتا اور لوگ اسے محض ایک پرانی اور بوسیدہ جگہ سمجھ کر گزر جاتے۔

لیکن رات ہوتے ہی یہ دکان بدل جاتی۔ جیسے ہی گھڑی بارہ بجاتی، دروازہ خود بخود کھل جاتا، اور اندر سے ایک مدھم سنہری روشنی باہر جھلکنے لگتی۔ اندر جاتے ہی خوشبوؤں کا ایک ہجوم محسوس ہوتا—کبھی پرانے کتابوں کی مہک، کبھی بارش کے بعد کی مٹی کی خوشبو، اور کبھی کسی ماں کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کی باس۔

اس دکان کا مالک ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس کی آنکھوں میں اتنی گہرائی تھی کہ دیکھنے والے کو یوں لگتا جیسے وہ صدیوں کے راز اپنے اندر چھپائے بیٹھا ہے۔ اس کا نام کوئی نہیں جانتا تھا، اور نہ ہی کسی نے جاننے کی کوشش کی۔ لوگ اسے بس "بابا" کہتے۔




حصہ دوم: یادوں کا سودا

یہ دکان عام دکانوں جیسی نہیں تھی۔ یہاں کپڑے، جوتے، یا کھانے کی چیزیں نہیں ملتیں بلکہ یہاں "یادیں" خریدی اور بیچی جاتی تھیں۔ کوئی شخص اپنی تکلیف دہ یاد بیچ سکتا تھا، اور بدلے میں سکون پا سکتا تھا۔ اور کوئی چاہے تو کوئی خوشگوار یاد خرید کر اپنی زندگی میں ایک نئی روشنی لا سکتا تھا۔

لیکن اس دکان کا ایک سخت قانون تھا:
یاد خریدنے یا بیچنے والا شخص کبھی وہی نہیں رہتا جو پہلے تھا۔ اس کی زندگی کسی نہ کسی طرح بدل جاتی تھی۔ کچھ لوگ بہتر ہو جاتے، کچھ بدتر۔ یہ فیصلہ یادوں کی طاقت پر منحصر ہوتا تھا۔

قصبے کے لوگ اکثر سرگوشیوں میں اس دکان کا ذکر کرتے۔ کچھ کہتے کہ یہ شیطان کا کھیل ہے، کچھ کا خیال تھا کہ یہ خدا کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ لیکن جو لوگ وہاں گئے، ان کے حالات بدل گئے—اچھے یا برے۔



حصہ سوم: پہلا گاہک—صفیہ بی بی

ایک رات، سب سے پہلے صفیہ بی بی وہاں داخل ہوئیں۔ وہ ایک بوڑھی عورت تھیں جن کے بیٹے ایک حادثے میں مر گئے تھے۔ وہ دن رات اس یاد کے بوجھ تلے دب کر روتی رہتی تھیں۔

"بابا... کیا میں اپنی وہ یاد بیچ سکتی ہوں؟" صفیہ بی بی نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔

بابا نے مسکرا کر کہا: "یاد دینا آسان ہے بیٹی، لیکن سوچ لو—اس کے بعد تمہاری زندگی بدل جائے گی۔"

صفیہ بی بی نے اصرار کیا۔ بابا نے اپنی الماری سے ایک چھوٹی شیشی نکالی۔ "اپنی آنکھیں بند کرو اور اس لمحے کو یاد کرو جب تم نے اپنے بیٹوں کی لاشیں دیکھیں۔"

صفیہ بی بی نے روتے ہوئے آنکھیں بند کیں۔ شیشی خود بخود بھرنے لگی—کالے دھوئیں کی طرح ایک غمگین منظر اس میں قید ہو گیا۔ بابا نے شیشی بند کی اور کہا: "اب یہ تمہاری نہیں رہی۔"

صفیہ بی بی نے ایک لمبی سانس لی۔ ان کے چہرے پر برسوں بعد سکون کے آثار تھے۔ لیکن کچھ دن بعد لوگ دیکھنے لگے کہ وہ اپنے بیٹوں کے بارے میں کچھ یاد ہی نہیں رکھتیں۔ وہ ان کے نام بھی بھول چکی تھیں۔ جیسے وہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ ان کی زندگی ہلکی ہو گئی تھی، لیکن ان کا دل خالی سا رہ گیا تھا۔


حصہ چہارم: دوسرا گاہک—کامران

کامران ایک نوجوان تھا، ہمیشہ مایوسی میں رہتا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی زندگی میں خوشی ہو۔ ایک رات وہ بھی اس دکان میں آیا۔

"مجھے کوئی خوشی چاہیئے۔ کوئی ایسی یاد جو مجھے طاقت دے، مجھے امید دے۔"

بابا نے کہا: "یاد خریدنے کی قیمت بہت بھاری ہے۔ کیا تم تیار ہو؟"

کامران نے سر ہلایا۔ بابا نے ایک شیشی نکالی جس میں سنہری روشنی جگمگا رہی تھی۔ "یہ یاد ہے ایک ایسے شخص کی، جسے پہلی بار اپنی محبت نے 'ہاں' کہا تھا۔ یہ یاد روشنی ہے، خوشبو ہے، امید ہے۔"

کامران نے شیشی لی اور آنکھوں سے لگائی۔ اچانک وہ لمحہ اس کے دل میں زندہ ہو گیا۔ جیسے وہ خود وہ شخص ہو جسے پہلی بار محبت ملی۔ اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔

لیکن اگلے دن سے اس کی زندگی بدل گئی۔ وہ اپنی موجودہ حقیقت کو بھولنے لگا۔ اپنی ماں، اپنی بہن، اپنے دوست—سب اسے غیر لگنے لگے۔ کیونکہ اس کا دل اب اس یاد میں قید ہو چکا تھا جو اصل میں اس کی تھی ہی نہیں۔ وہ خوش تھا، لیکن اکیلا۔


حصہ پنجم: اصل راز

دن گزرتے گئے اور قصبے کے مزید لوگ اس دکان میں آنے لگے۔ کوئی غم بیچتا، کوئی خوشی خریدتا۔ کچھ خوش ہو گئے، کچھ تباہ۔

ایک دن قصبے کا ایک معصوم لڑکا، عادل، دکان میں آ گیا۔ اس کی ماں بیمار تھی، اور وہ چاہتا تھا کہ اپنی ماں کی تکلیف چھین لے۔

"بابا، کیا آپ میری ماں کا غم مجھ میں ڈال سکتے ہیں؟"

بابا نے چونک کر کہا: "بیٹا، تم ابھی بچے ہو۔ یہ بوجھ تمہارے لیے بہت بھاری ہے۔"

عادل ضد کرتا رہا۔ آخر بابا نے شیشی نکالی اور ماں کا دکھ اس میں قید کر کے عادل کو دے دیا۔ اگلے دن لوگ حیران تھے کہ عادل کی ماں تندرست ہو گئی ہے، لیکن عادل کی آنکھوں میں ایسا غم آ گیا جو کسی بوڑھے انسان میں بھی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

تب قصبے کے لوگ سمجھے کہ یہ دکان نعمت نہیں بلکہ ایک امتحان ہے۔


حصہ ششم: بابا کی حقیقت

ایک رات قصبے کے چند نوجوان ہمت کر کے بابا سے پوچھنے گئے: "آپ آخر ہیں کون؟ اور یہ دکان کیوں چلاتے ہیں؟"

بابا نے لمبی سانس لی اور کہا:
"میں بھی ایک زمانے میں تمہاری طرح انسان تھا۔ میرے پاس ایک موقع آیا کہ میں اپنی سب تکلیف دہ یادیں بیچ دوں۔ میں نے سب بیچ ڈالیں۔ اس کے بعد میری زندگی خالی ہو گئی۔ خوشی نہ غم۔ بس ایک خلا۔ اور اس خلا نے مجھے اس دکان کا رکھوالا بنا دیا۔ اب میرا کام ہے دوسروں کو راستہ دکھانا، لیکن فیصلہ ان کا اپنا ہوتا ہے۔"

یہ کہہ کر بابا خاموش ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں صدیوں کی تھکن جھلک رہی تھی۔


حصہ ہفتم: انجام

وقت گزرتا گیا۔ کچھ لوگ اب بھی اس دکان میں جاتے، لیکن زیادہ تر نے سمجھ لیا کہ اپنی یادوں کو سنبھالنا ہی اصل زندگی ہے۔ کیونکہ غم اور خوشی دونوں انسان کو مکمل بناتے ہیں۔

ایک دن اچانک وہ دکان ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی۔ قصبے کے لوگ جب گئے تو وہاں صرف ایک خالی جگہ تھی۔ نہ دیواریں، نہ دروازہ۔ جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ تھی۔

لیکن قصبے کے بزرگ کہا کرتے تھے کہ جب بھی کوئی انسان اپنے غم یا خوشی کو سہنے کے قابل نہ رہے، تو یہ دکان دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں پھر کھل جاتی ہے۔ اور وہاں ایک بوڑھا بابا بیٹھا ہوتا ہے، یادوں کا سوداگر۔


0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...