FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"نیندوں کا سوداگر – ایک خوفناک اور پراسرار اردو کہانی"

 

نیندوں کا سوداگر

حصہ اول: خوابوں کا بازار

پرانے شہر کی ایک گلی میں، جہاں نیم مردہ لالٹینیں رات کو مچھر اور پرندوں کو اپنی زرد روشنی سے لبھاتی تھیں، ایک چھوٹی سی دکان ہوا کرتی تھی۔ دکان کے اوپر تختی لگی تھی:

"نیندوں کا سوداگر – خواب خریدے اور بیچے جاتے ہیں"

یہ دکان صرف رات کے وقت کھلتی تھی۔ دن کے اجالے میں وہاں ایک پرانی بوسیدہ کھڑکی نظر آتی جس پر گرد جمی رہتی، لیکن جیسے ہی سورج غروب ہوتا، وہ کھڑکی روشن ہو جاتی اور اندر سے عطر، کافور اور خوشبوؤں کی ملی جلی لہر باہر آنے لگتی۔

دکان کا مالک ایک پراسرار شخص تھا جس کا نام کوئی نہیں جانتا تھا۔ لوگ اسے بس "سوداگر" کہتے تھے۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ عام خواب نہیں بیچتا بلکہ ایسے خواب جن میں خواہشیں، یادیں اور راز بند ہوتے ہیں۔

اس کے گاہک عام لوگ نہیں ہوتے تھے۔ وہ رات کے اندھیرے میں دبے پاؤں آتے، اپنے دل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں یا دبی ہوئی خواہشوں کے بدلے خواب خریدتے اور چپ چاپ رخصت ہو جاتے۔ سوداگر ان کے خواب لیتا، ایک شیشے کی بوتل میں قید کرتا اور پھر کسی اور کو بیچ دیتا۔



حصہ دوم: خوابوں کی قیمت

ایک بار ایک جوان لڑکی آئی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ اس نے کہا:
"مجھے ایسا خواب چاہیے جس میں میری ماں زندہ ہو اور مجھے گلے لگائے۔"

سوداگر نے مسکرا کر کہا:
"اس کی قیمت تمہیں اپنی خوشی دینی ہوگی۔ تم زندگی بھر دوسروں کو خوش دیکھو گی مگر خود کبھی ہنس نہ سکو گی۔"

لڑکی نے آنکھیں بند کیں اور سر ہلا دیا۔ سوداگر نے بوتل نکالی، اس میں روشنی سی قید کی اور خواب اس کے حوالے کر دیا۔ لڑکی روتی ہوئی لیکن مطمئن چلی گئی۔

ایسا ہی ایک دن ایک بوڑھا شخص آیا۔ اس نے کہا:
"مجھے ایسا خواب چاہیے جس میں میں پھر جوان ہو جاؤں۔"

سوداگر نے کہا:
"اس کے بدلے تمہیں اپنی یادداشت دینی ہوگی۔ تم جوان تو ہو جاؤ گے لیکن اپنے بیٹے کا نام تک یاد نہ رکھ سکو گے۔"

بوڑھے نے لمحہ بھر سوچا اور سودا کر لیا۔

یہی سوداگر کا کاروبار تھا۔ خواب بکتا اور اس کے بدلے میں کسی کی ہنسی، کسی کا ماضی، کسی کی یاد، یا پھر کسی کی امید ضبط ہو جاتی۔

حصہ سوم: وہ خواب جو سب کچھ بدل گیا

ایک رات سوداگر کے پاس ایک غریب شخص آیا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، آنکھوں میں عجیب وحشت تھی۔ اس نے جیب سے ایک کاغذ نکالا اور کہا:
"میرے پاس دینے کو کچھ نہیں، لیکن میرے پاس ایک خواب ہے۔ اگر تم خریدو تو۔"

سوداگر چونکا۔ وہ ہمیشہ دوسروں سے کچھ لے کر خواب دیتا تھا۔ لیکن یہ پہلا موقع تھا جب کوئی خود خواب بیچنے آیا تھا۔

اس نے پوچھا:
"کون سا خواب ہے تمہارے پاس؟"

آدمی کے ہونٹ کانپے:
"ایک خواب جس میں پورا شہر جل رہا ہے، آسمان سرخ ہے اور لوگ زمین پر رینگ رہے ہیں۔ لیکن اس خواب کے آخر میں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ شہر پھر سے زندہ ہو جاتا ہے۔ عمارتیں سنہری روشنی سے جگمگاتی ہیں اور ہر طرف خوشبو پھیل جاتی ہے۔"

سوداگر کی آنکھوں میں لالچ چمکنے لگا۔
"یہ خواب میں خریدتا ہوں۔"

اس نے بوتل نکالی اور عجیب منتر پڑھا۔ اچانک کمرے میں سرد ہوا چلی اور خواب قید ہوگیا۔

لیکن جیسے ہی خواب بوتل میں بند ہوا، شہر میں عجیب واقعات شروع ہو گئے۔

حصہ چہارم: خواب کی حقیقت

پہلے پہل لوگوں نے معمولی تبدیلیاں محسوس کیں۔ پرندے رات کو بولنے لگے، گلیوں میں اجنبی لوگ نظر آنے لگے جو دن میں غائب ہو جاتے۔ پھر آہستہ آہستہ حقیقت بدلنے لگی۔

ایک روز آسمان اچانک سرخ ہو گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ دیواروں پر وہی تصویریں ابھر آئی ہیں جو انہوں نے اپنے خوابوں میں دیکھی تھیں۔ کوئی اپنی مر گئی ماں کو گلی میں دیکھ رہا تھا، کوئی اپنے بچپن کے دوست سے بات کر رہا تھا جو برسوں پہلے مر گیا تھا۔

پہلے لوگ خوش ہوئے کہ ان کے خواب حقیقت بن رہے ہیں۔ لیکن جلد ہی یہ خوشی خوف میں بدل گئی۔ کیونکہ کچھ خواب ڈراؤنے بھی تھے۔

کسی نے سانپوں کے خواب دیکھے تھے، تو وہ سانپ گلیوں میں رینگنے لگے۔ کسی نے طوفان کے خواب دیکھے تھے، تو آسمان سے بجلیاں برسنے لگیں۔

شہر افراتفری میں ڈوب گیا۔

حصہ پنجم: سوداگر کی کشمکش

سوداگر حیران و پریشان تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ خواب بوتل میں قید ہے پھر حقیقت کیسے بن گیا؟

رات کو جب وہ دکان بند کر رہا تھا تو بوتل سے سرگوشیاں آنے لگیں۔
"تم نے وہ خواب خرید لیا ہے جو صرف دیکھنے کے لیے نہیں تھا… وہ خواب حقیقت میں ڈھلنے کے لیے تھا۔ اب تم بھی اس کا حصہ ہو۔"

سوداگر کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔

اگلے دن وہ گاہک واپس آیا۔ وہ غریب شخص جس نے خواب بیچا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سرخی تھی۔
"میں نے کہا تھا نا کہ یہ خواب سب کچھ بدل دے گا؟ اب دیکھ لو۔"

سوداگر نے کانپتے ہوئے کہا:
"اس خواب کو واپس لے لو۔ میں اسے قید رکھنا چاہتا ہوں۔"

آدمی ہنس پڑا:
"اب دیر ہو گئی ہے۔ خواب آزاد ہو چکا ہے۔ تم چاہو بھی تو اسے قید نہیں کر سکتے۔"

حصہ ششم: شہر کی تباہی

چند دنوں میں شہر بدل کر ایک عجیب مقام بن گیا۔ دن رات کی پہچان ختم ہو گئی۔ لوگ سوتے تو جاگتے رہتے، جاگتے تو خواب دیکھتے۔ حقیقت اور خواب کے درمیان کوئی فرق باقی نہ رہا۔

بچوں کے کھلونے خود چلنے لگتے۔ قبریں کھل جاتیں اور مردے گھروں کو لوٹ آتے۔ کبھی پورا شہر روشنی میں نہا جاتا اور کبھی اندھیروں میں ڈوب جاتا۔

لوگ سوداگر کو الزام دینے لگے۔ "یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے! تم نے وہ خواب خریدا تھا!"

سوداگر اپنی جان بچانے کے لیے چھپنے لگا۔

حصہ ہفتم: نجات کی تلاش

سوداگر جانتا تھا کہ اگر وہ اس خواب کو ختم نہ کر سکا تو پورا شہر نیست و نابود ہو جائے گا۔ اس نے پرانی کتابیں کھنگالیں، بزرگ عاملوں سے ملا، لیکن کسی کے پاس اس خواب کو روکنے کا طریقہ نہ تھا۔

آخرکار اسے ایک کتاب میں ایک جملہ ملا:
"جو خواب حقیقت بن جائے اسے ختم کرنے کے لیے سوداگر کو اپنا سب سے قیمتی خواب قربان کرنا پڑتا ہے۔"

سوداگر نے آنکھیں بند کیں۔ اس کا سب سے قیمتی خواب ایک چھوٹا سا بچپن کا خواب تھا — ماں کے ہاتھ کا لمس، جو بچپن میں یتیم ہونے کے بعد کبھی نصیب نہ ہوا۔

وہ جانتا تھا کہ اگر یہ خواب قربان کر دیا تو وہ کبھی سکون محسوس نہ کر سکے گا۔ لیکن شہر کو بچانے کے لیے اسے یہی قربانی دینا تھی۔

حصہ ہشتم: انجام

ایک رات سوداگر نے اپنی آخری بوتل کھولی، اس میں اپنا سب سے قیمتی خواب قید کیا اور آسمان کی طرف پھینک دیا۔

بوتل ٹوٹ گئی، خواب روشنی کی شکل میں بکھر گیا اور پورا شہر لرزنے لگا۔ آسمان کا سرخ رنگ ختم ہوا، دیواروں سے تصویریں مٹ گئیں، مردے واپس اپنی قبروں میں سو گئے۔



شہر پھر سے عام ہو گیا۔ لوگ بچ گئے۔

لیکن سوداگر کی آنکھوں سے روشنی بجھ گئی۔ اب وہ کبھی خواب نہیں دیکھ سکتا تھا۔ نہ دن میں نہ رات میں۔ وہ زندہ تھا لیکن اس کے لیے نیند محض اندھیرا تھی۔

لوگوں نے اسے فراموش کر دیا۔ اس کی دکان بند ہو گئی۔ صرف پرانی دیوار پر مٹی لگی تختی باقی رہ گئی:

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...