FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"خاموش کتب خانہ"

 

خاموش کتب خانہ

حصہ اوّل: اجنبی محلہ اور پراسرار عمارت

رات کا وقت تھا۔ لاہور کی تنگ اور سنسان گلیوں میں ٹمٹماتے بلب کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ہلکی بارش کے بعد سڑک پر نمی اور مٹی کی خوشبو چھائی ہوئی تھی۔ ثانیہ، ایک بیس سالہ لڑکی، ایک بوسیدہ گلی سے گزر رہی تھی۔ اس کے دل پر اداسی کا بوجھ تھا۔ والدین کی وفات کے بعد رشتہ داروں نے اسے سہارا دینے کے بجائے بوجھ سمجھا۔ دن کو وہ ایک فیکٹری میں کام کرتی، رات کو تھکی ہاری اپنے کمرے میں آکر سو جاتی۔ زندگی بے رنگ اور بے مقصد لگتی تھی۔

اس رات وہ روٹین کے راستے کے بجائے ایک اور گلی میں مڑ گئی۔ اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے۔ جیسے کسی انجانی طاقت نے اس کے قدموں کو قابو کر لیا ہو۔ اچانک اس کی نظر ایک بڑی پرانی عمارت پر پڑی۔ سامنے لکڑی کا دروازہ تھا، جس پر دھندلے حروف میں لکھا تھا:

"کتب خانہ – مگر صرف ان کے لیے جو خاموشی کو سمجھتے ہیں۔"

ثانیہ کے دل میں عجیب سا تجسس جاگا۔ اس نے دروازہ کھولا، اندر داخل ہوئی۔




حصہ دوئم: کتب خانہ کی خاموشی

اندر کا منظر حیران کن تھا۔ لکڑی کی پرانی الماریاں چھت تک بھری ہوئی تھیں۔ فرش پر سرخ قالین بچھا تھا اور ہر طرف پرانی کتابوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ کمرے میں عجیب سی خاموشی تھی، اتنی گہری کہ ثانیہ کو اپنی سانسوں کی آواز تک غیر معمولی لگ رہی تھی۔

ایک کونے میں ایک بزرگ بیٹھے تھے۔ سفید داڑھی، گہری آنکھیں اور ہاتھ میں چراغ۔ انہوں نے مسکرا کر کہا:
"تم آ ہی گئیں، ثانیہ۔"

ثانیہ حیران ہوئی: "آپ میرا نام کیسے جانتے ہیں؟"

بوڑھے شخص نے جواب دیا: "یہ کتب خانہ ان لوگوں کو خود بلاتا ہے جنہیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔"

وہ اٹھے اور اسے ایک الماری کے پاس لے گئے۔ "یاد رکھو، یہاں دن کی کتابیں عام ہیں، مگر رات کی کتابیں راز کھولتی ہیں۔ جو کچھ تم پڑھو گی، وہ کل حقیقت بن جائے گا۔ لیکن شرط ہے کہ تم صبح تک سب کچھ بھول جاؤ گی۔"

ثانیہ کے دل میں خوف اور تجسس کی ملی جلی کیفیت تھی۔


حصہ سوئم: پہلی کتاب – خواہش کا ظہور

اس رات ثانیہ نے ایک بھاری کتاب کھولی۔ اس میں لکھا تھا:
"جو تنہا ہے، اس کی تنہائی کو کوئی اجنبی توڑ دے گا۔"

ثانیہ نے سادہ دل سے کتاب بند کی اور نیند کی گرفت میں آ گئی۔ اگلی صبح جب وہ فیکٹری گئی تو حیران رہ گئی۔ ایک نئی لڑکی ملازمت کے لیے آئی تھی، اور وہ سیدھی ثانیہ کے پاس آ کر بولی:
"کیا آپ میری دوست بنیں گی؟"

ثانیہ کا دل چونک گیا۔ اسے کتب خانے کا منظر تو یاد نہیں تھا، مگر یہ لمحہ ایسے لگا جیسے وہ پہلے سے طے شدہ ہو۔


حصہ چہارم: دوسری کتاب – خواب کا خطرہ

چند دن بعد ثانیہ دوبارہ اسی گلی میں پہنچی۔ کتب خانہ جیسے اس کا منتظر تھا۔ اس بار اس نے ایک اور کتاب کھولی۔ اس میں لکھا تھا:
"دولت کا در کھلے گا، مگر ساتھ ہی سایہ بھی آئے گا۔"

اگلی صبح فیکٹری کے مالک نے اچانک ثانیہ کو بلا لیا۔ "ہمیں ایک نئے پروجیکٹ کے لیے سپروائزر چاہیے، اور ہم نے تمہیں چنا ہے۔" ساتھ ہی اس کی تنخواہ دوگنی کر دی گئی۔

ثانیہ خوش تو ہوئی، مگر اس کے بعد اس کے کمرے میں اجیب سا احساس رہنے لگا۔ جیسے کوئی سایہ اسے مسلسل دیکھ رہا ہو۔ رات کو نیند آنا مشکل ہو گئی۔


حصہ پنجم: مستقبل کی کتاب

تیسری بار جب وہ کتب خانے پہنچی تو بوڑھے شخص نے اسے منع کیا:
"اب تم وہ کتاب پڑھنے جا رہی ہو جسے کوئی نہیں پڑھتا۔ اس میں تمہارا مستقبل لکھا ہے، مگر یاد رکھو، ہر صفحے کے بعد بوجھ بڑھتا ہے۔"

ثانیہ نے لرزتے ہاتھوں سے کتاب کھولی۔ پہلا صفحہ اس کے بچپن کا عکس تھا۔ دوسرا صفحہ اس کے والدین کی موت کی خبر۔ تیسرے صفحے پر لکھا تھا:
"ثانیہ ایک دن اپنی تقدیر خود لکھے گی۔"

جب وہ آخری صفحے تک پہنچی تو وہ خالی تھا۔ اس نے بوڑھے شخص سے پوچھا:
"یہ صفحہ خالی کیوں ہے؟"

بوڑھے نے کہا: "یہ اختیار تمہارے ہاتھ میں ہے۔ جو تم لکھو گی، وہی تمہاری حقیقت بن جائے گا۔ مگر سوچ سمجھ کر لکھنا، کیونکہ ایک بار لکھنے کے بعد مٹایا نہیں جا سکتا۔"




حصہ ششم: قلم کی طاقت

ثانیہ نے قلم اٹھایا۔ دل میں ہزاروں خواہشیں ابھر آئیں۔ امیری، شہرت، سکون، محبت۔ مگر جیسے ہی وہ لکھنے لگی، کتب خانہ لرزنے لگا۔ شیشے ٹوٹنے لگے، دیواروں پر سائے رقص کرنے لگے۔

بوڑھے نے بلند آواز میں کہا: "یاد رکھو، ہر لفظ ایک بوجھ ہے۔ جو تم لکھو گی، اس کی قیمت تمہیں ادا کرنی ہوگی۔"

ثانیہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے گہری سانس لی اور لکھ دیا:

"میں اپنی تقدیر کی قید سے آزاد ہونا چاہتی ہوں۔"

جیسے ہی اس نے یہ الفاظ مکمل کیے، کتاب زور سے بند ہوگئی۔ کتب خانہ میں روشنی پھیل گئی اور بوڑھا شخص غائب ہوگیا۔


حصہ ہفتم: آزاد تقدیر یا نیا امتحان؟

اگلی صبح ثانیہ ایک عجیب دنیا میں اٹھی۔ اب وہ فیکٹری کی ملازمہ نہیں تھی۔ وہ ایک آزاد روح تھی، کسی کی قید میں نہیں، کسی کی محتاج نہیں۔ وہ سفر کر سکتی تھی، خواب پورے کر سکتی تھی۔

مگر جلد ہی اسے احساس ہوا کہ آزادی کے ساتھ تنہائی بھی آ گئی ہے۔ دوست، رشتہ دار، جاننے والے – سب جیسے غائب ہو گئے۔ وہ دنیا میں اکیلی تھی۔

کتب خانہ کے الفاظ یاد آئے: "ہر لفظ ایک بوجھ ہے۔"

اب اس پر واضح ہوا کہ آزادی سب کچھ چھین لینے کے برابر بھی ہو سکتی ہے۔


حصہ ہشتم: واپسی کا راستہ

ثانیہ دوبارہ اسی گلی میں پہنچی۔ مگر اس بار وہاں وہ عمارت موجود ہی نہ تھی۔ جہاں کبھی "خاموش کتب خانہ" تھا، اب صرف ایک خالی میدان تھا۔

وہ زمین پر بیٹھ گئی، آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے سرگوشی کی:
"کاش میں سوچ سمجھ کر لکھتی۔"

اسی لمحے ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس کے سامنے وہی کتاب آ کر گری۔ آخری صفحے پر ایک نئی لائن ابھری تھی:

"اگر دل سے پکارو، تو کتب خانہ پھر لوٹ آئے گا۔"

ثانیہ نے اپنی آنکھیں بند کیں اور دعا کی۔ اچانک روشنی پھیلی، اور وہ دوبارہ کتب خانے کے اندر کھڑی تھی۔

بوڑھا مسکرا رہا تھا:
"اب تم نے سیکھ لیا ہے۔ تقدیر لکھی جاتی ہے، مگر اصل طاقت یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات کا بوجھ سمجھیں۔"


حصہ نہم: اصل انتخاب

اس بار ثانیہ نے قلم اٹھایا اور لکھا:
"میں اپنی تقدیر کو ایسے جینا چاہتی ہوں کہ دوسروں کی زندگی میں روشنی لے آؤں۔"

کتاب نے جھماکے سے بند ہو کر اپنی جگہ لے لی۔

اس دن کے بعد ثانیہ نے اپنی زندگی دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ اس نے غریب بچوں کے لیے اسکول کھولا، عورتوں کے لیے کام کے مواقع بنائے۔ وہ جان گئی کہ اصل آزادی دوسروں کے لیے فائدہ مند بننے میں ہے۔


اختتام

کتب خانہ اب بھی اس شہر میں موجود ہے۔ مگر وہ صرف ان کو نظر آتا ہے جو خاموشی کو سمجھتے ہیں اور تقدیر کو بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

ثانیہ کی کہانی کتب خانے کی دیواروں میں محفوظ ہوگئی، تاکہ آنے والے لوگ اس سے سبق سیکھیں۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...