FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"وقت کا مقروض"

 عنوان: وقت کا مقروض


وقت کا مقروض

باب 1 — گاؤں کا گھڑی ساز

گاؤں کے بیچوں بیچ، ایک پرانی ٹوٹی ہوئی دکان تھی، جس کے اوپر لکڑی کا سڑتا ہوا بورڈ لٹک رہا تھا، جس پر مدھم حروف میں لکھا تھا: "رحمت گھڑی ساز"۔
رحمت ایک دبلا پتلا، جھریوں بھرا بوڑھا شخص تھا، جس کی آنکھوں میں ہمیشہ ماضی کی دھند بسی رہتی تھی۔ اس کے ہاتھ باریک مگر نہایت ماہر تھے۔ گاؤں میں جتنی بھی پرانی گھڑیاں اور دیوار گھڑیاں تھیں، سب نے کبھی نہ کبھی اس کے کاؤنٹر پر آرام کیا تھا۔

رحمت کی بیوی پندرہ سال پہلے فوت ہو چکی تھی، اور اس کا بیٹا شہر جا کر واپس کبھی نہ آیا۔ اب اس کی زندگی صرف گھڑیوں کی ٹک ٹک اور تنہائی کی آواز میں گزرتی تھی۔

گاؤں کے لوگ اسے ایک عجیب آدمی سمجھتے تھے، جو وقت کے ساتھ کھیلتا ہے مگر اپنی زندگی کے ٹوٹے ہوئے لمحے کبھی جوڑ نہ سکا۔




باب 2 — پراسرار گھڑی

ایک سرد شام کو، جب سورج کے آخری سنہری کرنیں گاؤں کی چھتوں پر بکھر رہی تھیں، رحمت دکان بند کرنے ہی والا تھا کہ ایک اجنبی عورت دروازہ کھول کر اندر آئی۔
وہ عورت لمبے سیاہ برقع میں لپٹی ہوئی تھی، اور اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی، پرانی جیب گھڑی تھی۔ گھڑی کا دھات زنگ آلود تھا، مگر شیشے کے اندر کی سوئیاں… الٹی سمت میں چل رہی تھیں۔

"یہ ٹھیک کر دو،" عورت نے ایک مدھم مگر گہری آواز میں کہا۔
رحمت نے گھڑی کو ہاتھ میں لیا، اس کا وزن عام گھڑیوں سے کہیں زیادہ محسوس ہوا۔ جیسے اس میں وقت قید ہو۔

"اس کی قیمت…؟" رحمت نے پوچھا۔
عورت نے ہلکی سی مسکراہٹ کی، "اس کی قیمت تم خود جان لو گے، رحمت۔"
اور وہ بغیر پیسے دیے، دکان سے باہر نکل گئی۔

رحمت نے حیرانی سے دیکھا — اس عورت کا نام اس نے کبھی نہ پوچھا، اور اس کے قدموں کے نشان باہر کی برف پر چند لمحوں میں غائب ہو گئے۔


باب 3 — گھڑی کا راز

رحمت نے گھڑی کو کھول کر مرمت شروع کی، مگر جتنا وہ اس کی اندرونی مشینری میں جھانکتا، اتنا ہی الجھتا گیا۔ یہ گھڑی عام گھڑیوں سے مختلف تھی۔
اس میں ایک چھوٹا سا سلور ڈائل تھا، جس پر کوئی اجنبی زبان کے الفاظ کندہ تھے۔

جب اس نے غلطی سے ڈائل گھمایا، تو اچانک دکان کے اندر کی فضا بدل گئی۔ ٹک ٹک کی آواز تیز ہو گئی، اور رحمت کو محسوس ہوا جیسے وہ خود اپنی کرسی پر بیٹھا نہیں بلکہ کئی سال پیچھے چلا گیا ہے — اس دن پر، جب اس کا بیٹا چھوٹا تھا اور بیوی کھانا بنا رہی تھی۔

رحمت کے ہاتھ کانپنے لگے۔ "یہ… یہ وقت کو واپس لے جا سکتی ہے؟"

اس رات وہ پوری گھڑی کے میکانزم کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔ تجربہ کرتے ہوئے اس نے ایک عجیب بات دریافت کی — اگر وہ ڈائل گھما کر دل میں ایک خاص دن یا لمحہ سوچتا، تو وہ لمحہ اس کی زندگی میں دوبارہ آ جاتا، مگر اس کے بدلے میں گاؤں کے کسی دوسرے شخص کی عمر سے ایک دن کم ہو جاتا۔


باب 4 — پہلا سود

رحمت نے کئی دن گھڑی کو الماری میں چھپا کر رکھا۔ مگر تنہائی اور یادیں اسے اندر سے کھا رہی تھیں۔
ایک دن وہ اپنے بیٹے کے بچپن کی ایک ہنستی ہوئی صبح دوبارہ دیکھنے کی خواہش کو روک نہ سکا۔ اس نے گھڑی کو ہاتھ میں لیا، ڈائل گھمایا، اور دل میں وہ صبح یاد کی۔

آنکھ جھپکتے ہی وہ اپنے پرانے کمرے میں کھڑا تھا، بیٹا کھیل رہا تھا، بیوی ہنسی میں کھانا پکا رہی تھی۔
رحمت نے اس لمحے کو جی بھر کے محسوس کیا۔ مگر اچانک منظر دھندلا ہونے لگا اور وہ واپس دکان میں آ گیا۔

اسی شام خبر آئی کہ گاؤں کے ایک نوجوان لڑکے کی اچانک موت ہو گئی۔ رحمت کا دل دھک سے رہ گیا۔


باب 5 — لالچ کا کھیل

رحمت نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ محض اتفاق ہے، مگر جلد ہی اس نے جان بوجھ کر گھڑی استعمال کرنا شروع کر دی۔
کبھی اپنی بیوی سے آخری بار ملنے کے لیے، کبھی اپنے باپ کی نصیحتیں سننے کے لیے۔
ہر بار گاؤں میں کوئی نہ کوئی مر جاتا یا بیمار پڑ جاتا۔

وقت کا یہ کھیل نشہ بن گیا تھا۔ رحمت جانتا تھا کہ وہ قاتل بن رہا ہے، مگر ماضی کا لمس اتنا میٹھا تھا کہ وہ رک نہ سکا۔


باب 6 — گاؤں کا خوف

کچھ ہی ہفتوں میں گاؤں میں عجیب خوف پھیل گیا۔ لوگ رات کو گھروں کے دروازے بند رکھنے لگے، بچوں کو باہر بھیجنا کم کر دیا گیا۔
گاؤں کے مولوی صاحب نے کہا کہ یہ سب کسی "وقت کے جن" کا کام ہے، جو لوگوں کی عمریں چرا رہا ہے۔

رحمت بھی خوفزدہ تھا، مگر اپنی لالچ سے آزاد نہ ہو سکا۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک بار پھر دن گزارے، چاہے اس کے لیے کسی کا کل چرا لینا پڑے۔


باب 7 — اجنبی کی واپسی

ایک طوفانی رات، وہی سیاہ برقع پوش عورت واپس آئی۔
"وقت کے سوداگر،" اس نے کہا، "تم نے اپنی روح کا سودا شروع کر دیا ہے۔ اب فیصلہ کرو — گھڑی کو ختم کرو، یا اس کے غلام بن جاؤ۔"

رحمت نے کانپتی آواز میں کہا، "میں بس اپنے بیٹے کو ایک دن کے لیے واپس چاہتا ہوں۔"
عورت نے آنکھیں تنگ کیں، "اس ایک دن کی قیمت تمہاری باقی پوری زندگی ہوگی۔"


باب 8 — آخری سودا

رحمت نے لمحہ بھر سوچا۔ تنہائی میں سڑنے سے بہتر تھا کہ وہ ایک آخری دن اپنے بیٹے کے ساتھ گزار لے۔
اس نے گھڑی کا ڈائل گھمایا۔

اس بار، وہ نہ صرف ماضی میں گیا بلکہ وقت میں پھنس گیا — اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتے ہوئے، بیوی کے ساتھ ہنستے ہوئے۔
مگر باہر کی دنیا میں، رحمت کی دکان خالی پڑی تھی، اور گاؤں والے صبح اس کی لاش کو کرسی پر بیٹھے ہوئے، مسکراتے 

ہوئے پائے۔




باب 9 — گھڑی کا نیا مالک

گاؤں کے لوگ رحمت کے مرنے کے بعد اس کی دکان بند کر کے سب سامان بیچنے لگے۔
مگر وہ پراسرار گھڑی… غائب تھی۔

کچھ ہفتوں بعد، ایک دوسرے گاؤں میں ایک نیا گھڑی ساز کھل گیا۔ اور ایک دن، وہی سیاہ برقع پوش عورت وہاں داخل ہوئی…


انجام — وقت کبھی مفت نہیں ملتا

وقت کے کھیل میں کوئی جیتتا نہیں، سب ہارتے ہیں۔ رحمت نے اپنے دل کی خواہش پوری کی، مگر قیمت اپنی زندگی سے چکائی۔
اور گھڑی؟ وہ اب کسی اور کے ہاتھوں میں تھی، کسی اور کی لالچ کو جگانے کے لیے۔


یہ مکمل کہانی تقریباً 3000 الفاظ میں پھیلی ہوئی ہو گی اگر میں ہر منظر، مکالمہ، اور ماحول کی تفصیل بھر دوں۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس کو اگلے پیغام میں پورے مکالموں، جذباتی مناظر اور سنسنی خیز تفصیل کے ساتھ مکمل طور پر 3000 الفاظ میں لکھ دوں تاکہ یہ ایک مکمل ناولٹ کی طرح بن جائے۔

کیا میں اسے مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ دوں؟

You said:
yes
ChatGPT said:

ٹھیک ہے، تو میں "وقت کا مقروض" کو ایک مکمل 3000 الفاظ کی سنسنی خیز اور جذباتی اُردو کہانی میں تفصیل، مکالموں، اور ماحول کی بھرپور تصویر کے ساتھ لکھوں گا۔
اس میں میں ہر منظر کو زندہ کروں گا تاکہ قاری ایسا محسوس کرے جیسے وہ خود کہانی کے اندر موجود ہو۔


وقت کا مقروض

باب 1 — گاؤں کا گھڑی ساز

گاؤں کے بیچوں بیچ ایک پرانی، بوسیدہ سی دکان تھی، جس کا لکڑی کا بورڈ دھوپ اور بارش سے مدھم پڑ چکا تھا۔ اس پر ہلکے ہلکے حروف میں لکھا تھا: "رحمت گھڑی ساز"۔

رحمت کی عمر پینسٹھ برس تھی۔ اس کے چہرے پر گہری جھریاں اور آنکھوں میں اداسی کی پرچھائیاں بسی رہتی تھیں۔ اس کے لمبے مگر کمزور ہاتھ گھڑیوں کے نازک پرزے اس مہارت سے پکڑتے جیسے کوئی ماہر خطاط قلم پکڑتا ہے۔

دکان کے اندر ہر دیوار پر پرانی گھڑیاں لٹک رہی تھیں — بڑی دیوار گھڑیاں، جیب گھڑیاں، اور کچھ اتنی پرانی کہ دیکھ کر لگتا تھا وہ کئی نسلوں سے وقت کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ ہر طرف ٹک ٹک کی آواز گونج رہی تھی، جیسے سو سے زیادہ دل ایک ساتھ دھڑک رہے ہوں۔

رحمت کی زندگی میں اب کوئی قریبی رشتہ دار باقی نہ تھا۔ بیوی کو فوت ہوئے پندرہ سال ہو چکے تھے، اور اکلوتا بیٹا شہر جا کر کبھی واپس نہ آیا۔
اس کی زندگی اب صرف گھڑیوں کے ساتھ گزرتی تھی۔ وقت کے ساتھ کھیلنے والا یہ شخص خود وقت کے ہاتھوں قیدی بن چکا تھا۔


باب 2 — پراسرار مہمان

وہ ایک سرد شام تھی۔ سورج کی آخری سنہری کرنیں گاؤں کی چھتوں پر ڈھل رہی تھیں۔ باہر ہوا میں برف کی نمی گھل چکی تھی۔ رحمت دکان بند کرنے ہی والا تھا کہ دروازے پر لٹکتی گھنٹی بجی۔

دروازہ آہستہ سے کھلا، اور اندر ایک عورت داخل ہوئی۔ وہ سر سے پاؤں تک سیاہ برقع میں لپٹی ہوئی تھی، چہرہ نقاب سے ڈھکا تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی جیب گھڑی تھی — زنگ آلود دھات، مگر شیشے کے اندر کی سوئیاں الٹی سمت میں چل رہی تھیں۔

"یہ گھڑی… ٹھیک کر دو،" عورت نے مدھم مگر گہری آواز میں کہا۔
رحمت نے گھڑی ہاتھ میں لی، اس کا وزن عام گھڑیوں سے زیادہ تھا۔ جیسے اس کے اندر کوئی بھاری راز چھپا ہو۔

"اس کی قیمت…؟" رحمت نے پوچھا۔
عورت نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کی، "اس کی قیمت تم خود جان لو گے… رحمت۔"

رحمت چونک گیا — اس نے اپنا نام نہیں بتایا تھا۔
مگر عورت اور کچھ کہے بغیر، دروازہ کھول کر برف میں قدم رکھتی چلی گئی۔

رحمت باہر دیکھتا رہ گیا۔ برف پر اس کے قدموں کے نشان چند لمحوں میں دھندلا گئے، جیسے وہ کبھی وہاں آئی ہی نہ ہو۔


باب 3 — گھڑی کا راز

رحمت نے رات دیر تک اس گھڑی کو گھورتے ہوئے گزار دی۔
اس نے آہستہ سے پچھلا کور کھولا۔ اندر کا میکانزم عام گھڑیوں سے بالکل مختلف تھا۔ پرزوں کے بیچ ایک چھوٹا سا سلور ڈائل نصب تھا، جس پر عجیب زبان میں الفاظ کندہ تھے۔

رحمت نے احتیاط سے ڈائل گھمایا۔ اچانک کمرے میں ٹک ٹک کی آواز تیز ہو گئی۔ اس کی نظر دھندلا گئی، اور جب وہ صاف ہوئی تو…

وہ اپنے پرانے گھر میں کھڑا تھا۔ کمرے میں لکڑی کا صوفہ، دیوار پر پرانی تصویر، اور کچن سے بیوی کی آواز:
"رحمت! کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا، جلدی آ جاؤ!"

رحمت کا دل دھڑکنے لگا۔ اس نے کچن میں جھانکا — وہاں اس کی بیوی زندہ کھڑی تھی، بالکل ویسی ہی جیسی پندرہ سال پہلے تھی۔

یہ سب چند لمحوں میں ختم ہو گیا۔ رحمت واپس اپنی دکان میں تھا، ہاتھ میں وہی گھڑی۔

اس کے دل میں ایک ہی سوال تھا:
"یہ گھڑی… وقت واپس لے جا سکتی ہے؟"


باب 4 — قیمت کا پتہ چلتا ہے

اگلے دن گاؤں میں خبر پھیلی کہ ایک نوجوان لڑکا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے مر گیا۔
رحمت کا دل کانپ گیا — یہ نوجوان وہی تھا جسے اس نے پچھلی شام دیکھا تھا۔

رحمت کو شک ہوا کہ کہیں اس کا ماضی میں جانا اور اس لڑکے کی موت جڑے ہوئے تو نہیں۔

اس نے مزید جانچ کی۔ اس بار اس نے ڈائل گھما کر بیٹے کے بچپن کا منظر یاد کیا۔
پلک جھپکتے میں وہ بیٹے کے ساتھ کچے صحن میں کھیل رہا تھا، بیوی مسکرا رہی تھی۔ مگر یہ خوشی بھی چند لمحوں کی مہمان نکلی۔

اسی دن گاؤں میں ایک بوڑھی عورت کی موت کی خبر آ گئی۔

رحمت نے سچ سمجھ لیا — ہر بار جب وہ ماضی میں جاتا ہے، کسی دوسرے شخص کی زندگی سے ایک دن کاٹ لیا جاتا ہے، اور کبھی کبھی یہ دن اس کی آخری سانس بھی ثابت ہوتا ہے۔


باب 5 — لالچ کا آغاز

رحمت نے سوچا کہ وہ رک جائے گا… مگر ماضی کا لمس بہت میٹھا تھا۔
ایک بار وہ بیوی کا ہنسنا سن لیتا، ایک بار بیٹے کی معصوم شرارت دیکھ لیتا۔

ہر بار گاؤں میں کوئی نہ کوئی مر جاتا یا بیمار ہو جاتا۔
رحمت جانتا تھا کہ وہ لالچی ہو رہا ہے، مگر تنہائی کا قفل توڑنے کے لیے وہ قیمت چکانے کو تیار تھا — چاہے یہ قیمت دوسروں کی زندگی ہو۔


باب 6 — گاؤں میں خوف

چند ہفتوں میں گاؤں میں عجیب خوف پھیل گیا۔ لوگ رات کو دروازے بند رکھنے لگے، بیماریاں بڑھ گئیں۔
مولوی صاحب نے کہا: "یہ سب کسی وقت کے جن کا کام ہے، جو لوگوں کی عمریں چرا رہا ہے۔"

رحمت کو لگتا تھا جیسے ہر شخص اسے شک کی نظر سے دیکھ رہا ہے، مگر کوئی اس راز تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔


باب 7 — پراسرار عورت کی واپسی

ایک طوفانی رات، دکان کے دروازے پر گھنٹی بجی۔ وہی سیاہ برقع پوش عورت اندر آئی۔
"وقت کے سوداگر،" اس نے سرد لہجے میں کہا، "تم جانتے ہو کہ یہ گھڑی تمہاری روح نگل رہی ہے۔"

رحمت نے ہچکچاتے ہوئے کہا، "میں صرف اپنے بیٹے کے ساتھ ایک دن گزارنا چاہتا ہوں۔"

عورت نے آنکھیں سکیڑ کر کہا، "اس ایک دن کی قیمت تمہاری باقی پوری زندگی ہوگی۔"


باب 8 — آخری سودا

رحمت نے لمحہ بھر سوچا۔ اس نے فیصلہ کر لیا۔
"ہاں، میں مانتا ہوں۔"

اس نے ڈائل گھمایا، اور لمحہ بھر میں اپنے پرانے گھر میں تھا۔ بیٹا کھیل رہا تھا، بیوی ہنس رہی تھی۔
رحمت نے اس دن کو پوری شدت سے جیا، اور کبھی واپس نہ آیا۔


باب 9 — گاؤں کا انجام

اگلی صبح گاؤں والے دکان کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ رحمت کرسی پر بیٹھا تھا، چہرے پر سکون بھری مسکراہٹ، مگر سانس بند۔
گھڑی… غائب تھی۔


باب 10 — نیا شکار

کچھ ہفتوں بعد، ایک دوسرے گاؤں میں ایک نیا گھڑی ساز کھل گیا۔ اور ایک دن، وہی سیاہ برقع پوش عورت وہاں داخل ہوئی…
اس کے ہاتھ میں وہی الٹی چلنے والی گھڑی تھی۔


انجام:
وقت کبھی مفت نہیں ملتا۔ جو اس سے کھیلتا ہے، آخر میں خود وقت کا مقروض بن جاتا ہے۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...