FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"چھت کے پار شہر — ایک ایسی دنیا جو صرف رات کو زندہ ہوتی ہے"

 

چھت کے پار شہر

پہلا باب — حویلی کا راز

شہر کے پرانے حصے میں ایک خستہ حال حویلی کھڑی تھی۔ لوگ اسے "نواب منظور کی حویلی" کہتے تھے۔ نواب منظور تو عرصہ پہلے مر چکے تھے، اور ان کے بعد یہ حویلی ویران ہو گئی۔ اردگرد کے بچے اس کے قریب آنے سے بھی ڈرتے تھے۔ محلے میں کہاوت تھی کہ حویلی کے اوپر ایک ایسی چھت ہے، جہاں سے ایک اور دنیا دیکھی جا سکتی ہے۔

حنا، جو ایک بیس سالہ جری اور تجسس سے بھری لڑکی تھی، ہمیشہ اس حویلی کے بارے میں سن کر سوچتی رہتی کہ آخر سچ کیا ہے۔ ایک دن بارش کے بعد جب آسمان پر بادل چھٹ گئے اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگی، حنا نے فیصلہ کیا کہ آج وہ حویلی کے اندر جائے گی۔


دوسرا باب — پہلی جھلک

حویلی کے اندر ہر طرف جالے، ٹوٹی کھڑکیاں اور دھندلا اندھیرا تھا۔ لکڑی کی سیڑھیاں اس کے قدموں کے نیچے چرچرائیں۔ آخرکار وہ اوپر کی منزل پر پہنچی، جہاں ایک چھوٹا سا کواڑ کھلا تھا جو چھت کی طرف جاتا تھا۔

چھت پر پہنچ کر حنا نے شہر کی طرف نظر دوڑائی۔ ہر طرف عام سا منظر تھا۔ لیکن جیسے ہی شام ہوئی اور سورج غروب ہوا، اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے منظر بدل گیا۔

سامنے، حویلی کی پچھلی طرف، ایک نیا شہر ابھر آیا۔ اس شہر میں سنہری روشنیوں سے جگمگاتے محل، لمبی گلیاں، اور عجیب لباس پہنے لوگ گھوم رہے تھے۔ یہ شہر کسی نقشے میں نہیں تھا، اور نہ ہی حقیقت میں کبھی دیکھا تھا۔




تیسرا باب — روشنیوں کے لوگ

اگلی رات حنا دوبارہ چھت پر آئی۔ اس بار وہ آہستہ آہستہ حویلی کے پچھلے حصے کی طرف بڑھی، جہاں شہر نظر آ رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ کنارے کے قریب پہنچی، اچانک ایک نرم سی چمک نے اسے گھیر لیا، اور پلک جھپکتے ہی وہ خود کو اس شہر کے بیچوں بیچ پایا۔

یہاں کے لوگ لمبے چمکدار لباس پہنے تھے، ان کے چہرے پر عجیب سکون تھا۔ ایک نوجوان لڑکی، جو خود بھی کسی کہانی کی شہزادی لگ رہی تھی، حنا کے پاس آئی اور بولی:
"تم باہر کی ہو، نا؟"

حنا نے سر ہلایا۔
"یہ شہر صرف رات کو زندہ ہوتا ہے، اور ہم سب یہاں صدیوں سے وقت میں قید ہیں۔"


چوتھا باب — قید کا قصہ

شہزادی نے بتایا کہ صدیوں پہلے ایک جادوگر نے اس شہر پر جادو کر دیا تھا۔ دن کے وقت شہر غائب ہو جاتا، اور لوگ وقت کے ایک ہی لمحے میں پھنس جاتے۔ رات کے وقت وہ لمحہ دوبارہ جیتے رہتے۔ کوئی بوڑھا نہیں ہوتا، کوئی مر نہیں سکتا، لیکن کوئی آزاد بھی نہیں ہو سکتا۔

حنا کو پتہ چلا کہ جادو توڑنے کا ایک ہی طریقہ ہے: وہ گھڑی ڈھونڈنا جس میں جادوگر نے شہر کا وقت قید کیا تھا۔ وہ گھڑی حویلی کی چھت کے نیچے کہیں چھپی ہوئی تھی۔


پانچواں باب — گھڑی کی تلاش

اگلے دن حنا نے حویلی کی تلاشی شروع کی۔ پرانے کمروں، ٹوٹی الماریوں، اور زنگ آلود صندوقوں میں ہاتھ مارا، مگر کچھ نہ ملا۔ پھر اچانک اس نے دیکھا کہ چھت کے نیچے لکڑی کا ایک حصہ باقی جگہوں سے نیا لگ رہا ہے۔ جب اس نے اسے کھولا، تو اندر سے ایک سنہری گھڑی نکلی، جس پر عجیب نشان بنے ہوئے تھے۔


چھٹا باب — وقت کا ٹوٹنا

اس رات حنا گھڑی لے کر دوبارہ شہر میں گئی۔ جیسے ہی اس نے گھڑی کے کانٹے الٹے گھمایے، ایک زوردار روشنی پھیلی، اور شہر کے لوگ چیخ اٹھے — مگر یہ خوشی کی چیخ تھی۔

جادو ٹوٹ چکا تھا۔ صبح کا سورج شہر پر طلوع ہوا، اور صدیوں سے قید لوگ پہلی بار دن کی روشنی دیکھ رہے تھے۔ شہزادی نے حنا کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
"تم نے ہمیں آزاد کر دیا، لیکن یاد رکھو… وقت ہمیشہ اپنا قرض واپس لیتا ہے۔"




ساتواں باب — قیمت

حنا جیسے ہی پیچھے مڑ کر جانے لگی، اچانک اسے احساس ہوا کہ اس کے اردگرد سب کچھ دھندلا رہا ہے۔ وہ حویلی کی چھت پر کھڑی تھی، لیکن شہر غائب ہو چکا تھا۔

کچھ دن بعد، لوگ حیران ہونے لگے کہ حنا ویسی نہیں رہی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک آ گئی تھی، اور وہ اکثر رات کو آسمان کی طرف دیکھ کر مسکراتی تھی — جیسے کسی اور دنیا سے رابطہ ہو۔

اور ایک دن وہ خود بھی غائب ہو گئی…
محلے والے کہتے ہیں کہ شاید وہ دوبارہ "چھت کے پار شہر" میں چلی گئی — اس بار ہمیشہ کے لیے۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...