FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

بابِ دل

 


پہلا باب: گمنام گلیوں کی لڑکی

فضا میں دھول اڑ رہی تھی، سورج دھندلے بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، اور لاہور کی پرانی گلیوں میں زندگی ہمیشہ کی طرح اپنی دھیمی رفتار سے جاری تھی۔ ان ہی گلیوں میں ایک لڑکی رہتی تھی — مہرین۔ عمر کوئی سترہ سال، گندمی رنگ، چھوٹے قد کی، لیکن آنکھوں میں عجیب سی چمک۔ وہ یتیم تھی، ماں باپ ایک حادثے میں چل بسے تھے۔ اب وہ اپنی بوڑھی نانی کے ساتھ ایک چھوٹے سے کرائے کے کمرے میں رہتی تھی اور محلے میں بچوں کو پڑھا کر دو وقت کی روٹی کماتی تھی۔

مہرین نہ صرف صابر اور شاکر تھی، بلکہ ہر کسی کی مدد کو تیار رہتی۔ اس کا دل نرم تھا، جیسے کسی جھیل کا پانی، جسے چھو کر سکون ملے۔


دوسرا باب: وہ پرانی کتاب

ایک دن مہرین اپنی نانی کے لیے پرانے بازار سے دوائیں لینے گئی۔ واپسی پر، ایک بوسیدہ دکان کے سامنے رک گئی جس کا بورڈ جھکا ہوا تھا:
“کتابوں کی دنیا – خزانے یہاں ملتے ہیں”

اندازہ تھا کہ یہ کوئی پرانی لائبریری ہے۔ اندر داخل ہوتے ہی دھول، پرانی جلدوں کی خوشبو، اور خاموشی نے اسے لپیٹ لیا۔ دکاندار، ایک بوڑھا شخص، سفید داڑھی اور جھکی کمر کے ساتھ، آرام کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔

"بیٹی، کچھ خاص تلاش کر رہی ہو؟" اس نے پوچھا۔

"نہیں بس یونہی۔ کتابیں اچھی لگتی ہیں۔"

بوڑھا مسکرایا، پھر ایک پرانی الماری کی طرف اشارہ کیا، "اس خانے میں جو کتاب تمہیں خود سے گر کر ملے، وہی تمہارے لیے ہے۔"

مہرین نے حیرت سے دیکھا۔ جیسے ہی وہ الماری کے قریب گئی، ایک کتاب زور سے نیچے گری۔ سیاہ رنگ کی جلد، سنہری حرفوں میں لکھا:
“بابِ دل: وہ دروازہ جو سچے دل سے کھلتا ہے”




تیسرا باب: دروازے کا انکشاف

گھر پہنچ کر، اس نے وہ کتاب کھولی۔ صفحات پر ہاتھ سے لکھے گئے حروف تھے، جیسے کسی نے اسے دل سے تخلیق کیا ہو۔ ایک صفحے پر لکھا تھا:

“اے پڑھنے والے، اگر تیرا دل صاف ہے، اگر تیری نیت نیک ہے، تو تُو اُس دروازے تک پہنچ سکتا ہے جو خوابوں کو حقیقت بناتا ہے۔ مگر یاد رکھ! ہر خواہش ایک قیمت مانگتی ہے۔”

اگلے صفحے پر ایک نقشہ تھا — پرانے شہر کے کنارے ایک ویران باغ کا پتہ۔

اگلی ہی صبح، مہرین نقشے کے مطابق وہاں گئی۔ ویران جگہ، جھاڑیاں، پرانے درخت، اور ایک خستہ حال دیوار کے ساتھ ایک عجیب سا دروازہ — لکڑی کا، لیکن اس پر سنہری نشان۔

جیسے ہی اس نے دروازے کو چھوا، دروازہ خود بخود کھل گیا۔


چوتھا باب: جادوئی باغ

دروازے کے پیچھے، وہ جیسے کسی اور ہی دنیا میں داخل ہو گئی۔ روشن آسمان، چمکتے پھول، ہوا میں خوشبو، اور پرندوں کے گیت۔ ہر شے غیر حقیقی، لیکن خوبصورت۔

درمیان میں ایک شفاف جھیل، اور جھیل کے کنارے ایک آواز گونجی:
"خوش آمدید، مہرین۔ تم نے دل کی سچائی سے یہ دروازہ کھولا ہے۔ اب تم یہاں ایک خواہش مانگ سکتی ہو۔ لیکن خبردار! ہر خواہش کی ایک قیمت ہے۔"

مہرین گھبرا گئی۔ "تم کون ہو؟"
"میں اس باغ کا محافظ ہوں۔ تمہاری نیکی نے تمہیں یہاں پہنچایا ہے۔ سوچ سمجھ کر خواہش کرو۔"

مہرین نے بہت سوچا۔ پھر کہا، "میں اپنی نانی کی صحت مانگتی ہوں۔ وہ بیمار ہیں، میں چاہتی ہوں وہ خوش ہوں اور صحت مند ہوں۔"

آواز خاموش ہوئی۔ اچانک ایک روشنی سی پھوٹی اور سب کچھ دھندلا ہو گیا۔


پانچواں باب: پہلی قیمت

مہرین کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے کمرے میں تھی۔ نانی جاگ رہی تھیں — نہ صرف جاگ رہی تھیں بلکہ بالکل صحت مند، خوش اور ہشاش بشاش۔

مہرین حیران تھی، خوش بھی، لیکن دل میں ایک خوف سا تھا — "قیمت کیا ہوگی؟"

اسی دن شام کو، جس لڑکے کا وہ ٹیوشن دیتی تھی — حارث — کے ابو کا فون آیا، "بیٹا، وہ سیڑھیوں سے گر گیا ہے، دعا کرنا۔"

مہرین کو جھٹکا لگا۔ کیا یہ قیمت تھی؟ کیا ایک جان کے بدلے دوسری؟ دل پر بوجھ لیے وہ رات بھر جاگتی رہی۔


چھٹا باب: دوسری خواہش

کچھ دن بعد، محافظ کی آواز ایک بار پھر اس کے خواب میں گونجی،
"کیا تم دوسری خواہش مانگنا چاہتی ہو؟"
"نہیں!"
"یاد رکھو، جادو ایک تحفہ ہے، لیکن تم اسے بار بار استعمال نہیں کر سکتیں۔ تیسری بار آخری ہوگی۔"

مہرین ڈر گئی۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ دوبارہ کوئی خواہش نہیں مانگے گی۔

لیکن زندگی آسان نہ تھی۔ ایک دن نانی کو دل کا دورہ پڑا۔ اسپتال میں ایمرجنسی تھی، دوا مہنگی تھی، اور پیسے نہیں تھے۔

دل پر پتھر رکھ کر، وہ دوبارہ جادوئی باغ میں گئی۔

"میں چاہتی ہوں کہ میری نانی بچ جائیں۔"
"تمہیں معلوم ہے قیمت؟"
"ہاں، لیکن وہ مر جائیں یہ میں برداشت نہیں کر سکتی۔"


ساتواں باب: آخری قیمت

نانی بچ گئیں، لیکن مہرین کی آواز ہمیشہ کے لیے چلی گئی۔ وہ بول نہیں سکتی تھی۔

اب وہ خاموش تھی، لیکن دل میں عجیب سکون۔ نانی کے چہرے پر خوشی دیکھ کر، اسے اپنا نقصان کم لگا۔

اب صرف ایک خواہش باقی تھی۔


آٹھواں باب: آخری دروازہ

ایک رات، اس نے خواب میں جادوئی محافظ کو دیکھا۔
"اب تمہیں آخری موقع دیا جاتا ہے۔ تیسری خواہش مانگو، لیکن اس بار قیمت سب سے بڑی ہوگی۔"
مہرین خاموش رہی۔ پھر اشارے سے لکھ کر کہا:

"میں چاہتی ہوں کہ دنیا میں ہر یتیم بچہ محبت پائے، جیسے میری نانی نے مجھے دی۔"

خاموشی چھا گئی۔

"کیا تم جانتی ہو، اس خواہش کی قیمت کیا ہے؟"
مہرین نے سر ہلایا — ہاں۔




نواں باب: آخری تحفہ

اگلے دن، محلے میں خبر پھیلی:
"مہرین نہیں رہی۔ اس نے دل کا دورہ پڑنے سے جان دے دی۔"

لیکن وہی دن تھا، جب یتیم خانے میں فنڈز آئے، بچوں کو گود لینے والوں کی قطاریں لگ گئیں، اور ہزاروں بچوں کو نئے والدین ملے۔

نانی رو رہی تھیں، لیکن آسمان صاف تھا۔ جیسے کسی نے چپکے سے دعا قبول کی ہو۔


آخری باب: دروازہ کھلا رہے گا

وہ پرانی کتاب اب نانی کے تکیے کے نیچے تھی۔ اور اس پر ایک نیا جملہ لکھا تھا:

"دروازہ اب بھی کھلا ہے — ہر اس دل کے لیے جو سچا ہے۔"

کہانی ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ ایسے دل آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔


📚 سبق:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچا دل نہ صرف معجزے حاصل کر سکتا ہے، بلکہ دوسروں کی زندگی بدلنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ خواہشوں کی قیمت ہوتی ہے، لیکن اگر نیت نیک ہو، تو قربانی بھی عبادت بن جاتی ہے۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...