پہلا منظر: ہسپتال کا کمرہ
کراچی کے ایک پرائیویٹ ہسپتال کے کمرہ نمبر 209 میں ایک بوڑھی عورت، زینب بی بی، بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔ آکسیجن ماسک، وینٹ کے نلکے، اور دل کی دھڑکن پر نظر رکھنے والی مشینوں نے اس کمرے کو ایک انجانی خاموشی میں لپیٹ رکھا تھا۔ ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ اب ان کے پاس وقت کم ہے، بہت کم۔ زینب بی بی کے چہرے پر جھریوں کا جال، آنکھوں میں دھندلی روشنی اور لبوں پر ایک پرانی حسرت کا عکس نمایاں تھا۔
نرس نائلہ جب دوپہر کے وقت دوا دینے آئی، تو زینب بی بی نے دھیمی آواز میں کہا:
"بیٹا، میری ایک آخری خواہش ہے… مجھے میری دوست حلیمہ سے ملوا دو۔ ہم بچپن کی سہیلیاں تھیں، مگر ایک غلط فہمی نے ہمیں جدا کر دیا۔"
نائلہ نے سر ہلایا، لیکن دل میں سوچنے لگی: "ابھی ان کے حالات میں یہ کیسے ممکن ہوگا؟"
دوسرا منظر: گاؤں کا سفر
نائلہ نے ڈاکٹر سے اجازت لی، اور دو دن کی چھٹی لے کر زینب بی بی کے گاؤں چک نمبر 37 جنوبی جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے پرانے کاغذات، ڈائری اور چند تصاویر کی مدد سے وہ حلیمہ کا پتا ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئی۔ گاؤں پہنچ کر اس نے ایک سفید داڑھی والے بزرگ، امام دین، سے پوچھا:
"کیا آپ حلیمہ بی بی کو جانتے ہیں؟"
امام دین کا چہرہ بجھ سا گیا۔ "بیٹی… حلیمہ تو پندرہ سال پہلے مر گئی تھی۔"
"کیا؟" نائلہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ "لیکن زینب بی بی کہہ رہی تھیں کہ وہ روز ان سے ملنے آتی ہے۔"
امام دین نے گہری سانس لی۔ "شاید دل کے کچھ راز صرف دل ہی سمجھتا ہے۔"
تیسرا منظر: ماضی کی گرہیں
نائلہ نے وہی رات گاؤں میں گزاری، اور امام دین سے زینب بی بی اور حلیمہ کی دوستی کی پرانی کہانی سنی۔
"وہ دونوں بچپن سے ایک ساتھ تھیں۔ سکول بھی ایک ساتھ، کھیل بھی ایک ساتھ، خواب بھی۔ مگر جوانی میں ایک دن ایسا آیا جب حلیمہ کی ایک بات پر زینب کو شک ہوا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ حلیمہ نے ان کے رشتے کی بات کو خراب کیا۔ غصے میں رشتہ توڑ دیا، اور کبھی مڑ کر نہ دیکھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حلیمہ بےقصور تھی۔ وہ زینب کو سمجھانا چاہتی تھی… مگر زینب نے اسے دھتکار دیا۔"
نائلہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ "پھر حلیمہ کا انتقال کب ہوا؟"
"پندرہ سال پہلے، خاموشی سے… مگر مرتے دم تک وہ زینب کو یاد کرتی رہی۔ اس نے ایک چٹھی بھی لکھی تھی، جو کبھی بھیج نہ سکی۔"
چوتھا منظر: ہسپتال میں واپسی
نائلہ اگلے دن واپس ہسپتال پہنچی۔ زینب بی بی کی حالت مزید بگڑ چکی تھی۔ ان کی آنکھیں بند تھیں، سانسیں مدھم۔ نائلہ نے خاموشی سے حلیمہ کی وہ آخری چٹھی ان کے ہاتھ میں رکھی، جسے امام دین نے دیا تھا۔
زینب بی بی نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں، اور لرزتے ہاتھوں سے چٹھی کو تھاما۔ پڑھتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ چٹھی میں لکھا تھا:
"زینب… میری پیاری سہیلی،
میں جانتی ہوں تم ناراض ہو۔ مگر میرے دل میں تمہارے لیے آج بھی محبت ہے۔ میری دعا ہے کہ ایک دن تم سچ کو جان لو… اور مجھے معاف کر دو۔
تمہاری… ہمیشہ کی سہیلی،
حلیمہ"
زینب بی بی نے سرہانے دیکھا… اور مدھم آواز میں بولیں:
"حلیمہ… کیا تم آئی ہو؟"
نائلہ نے دیکھا… کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ لیکن زینب بی بی کی آنکھیں کسی کو دیکھ رہی تھیں… ان کا چہرہ پرسکون ہو گیا، جیسے برسوں کی الجھن سلجھ گئی ہو۔
اگلے لمحے… دل کی دھڑکن کی مشین خاموش ہو گئی۔
پانچواں منظر: سوال کا جواب
چند دن بعد نائلہ ہسپتال کی فائلز دیکھ رہی تھی، تو ایک عجیب چیز نظر آئی۔ ہر رات زینب بی بی کے کمرے کے دروازے کا سینسر کسی کے داخل ہونے کا سگنل دیتا… مگر ویڈیو میں کوئی نظر نہیں آتا تھا۔
نائلہ کے دل میں ایک سوال پھر سے گونجا:
"تو پھر روز اس کے کمرے میں کون آ رہا تھا؟"
اس نے آنکھیں بند کیں، اور مسکرا کر کہا:
"شاید وہی… جو کبھی بھیج نہ سکی… وہ خط، وہ معافی، وہ دوستی۔"
نتیجہ:
یہ کہانی صرف ایک ملاقات کی نہیں… بلکہ معافی، محبت، اور پچھتاوے کی کہانی ہے۔ کبھی کبھی وقت کے ساتھ نہ صرف لوگ بچھڑ جاتے ہیں، بلکہ احساس بھی مر جاتا ہے۔ لیکن روحیں… وہ شاید کبھی نہیں بچھڑتیں۔


Post a Comment