FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

🕰️ "وقت کا کمرہ: ایک بزرگ کی ماضی میں واپسی اور زندگی بدل دینے والا فیصلہ"

 

پہلا باب: پرانی الماری کا راز

کراچی کے ایک پرانے علاقے میں واقع ایک بوسیدہ مکان میں، 78 سالہ انور علی زندگی کے آخری دن گن رہا تھا۔ ان کی بیوی وفات پا چکی تھی، بیٹے بیرون ملک جا چکے تھے، اور اب وہ تنہا اپنی یادوں میں الجھا ہوا رہتا تھا۔ وہ ایک ریٹائرڈ پروفیسر تھا، جس نے پوری زندگی تاریخ پڑھائی تھی، مگر خود وقت کی تاریخ میں کبھی جھانکنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

ایک دن صفائی کرتے ہوئے اس کی نظر گھر کے پچھلے کمرے میں رکھی ایک قدیم لکڑی کی الماری پر پڑی، جو برسوں سے بند تھی۔ الماری کے دروازے کو زنگ آلود تالا لگا ہوا تھا، مگر انور علی نے ضد پکڑ لی کہ آج اسے کھول کر دیکھے گا۔

تین گھنٹے کی محنت کے بعد جب الماری کھلی، تو اندر پرانی کتابیں، کچھ تصاویر، اور نیچے ایک عجیب سا لکڑی کا تختہ نظر آیا۔ انور نے جیسے ہی وہ تختہ ہٹایا، نیچے ایک پتھر کی بنی سیڑھیوں کا سلسلہ نظر آیا۔ حیرت اور خوف کے امتزاج میں اس نے نیچے اترنے کا فیصلہ کیا۔


دوسرا باب: وقت کا کمرہ

نیچے ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، جس میں ایک قدیم طرز کی گھڑی، ایک میز اور دیوار پر لگا ہوا ایک شیشہ تھا۔ گھڑی کی سوئیاں گھوم رہی تھیں، مگر وقت کے حساب سے نہیں — وہ الٹی سمت میں جا رہی تھیں۔ شیشے کے سامنے آتے ہی انور کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں: شیشے میں اس کا عکس نہیں، بلکہ 1947 کا لاہور دکھائی دے رہا تھا — گھوڑا گاڑیاں، انگریز فوجی، اور آزادی کے نعروں سے گونجتی گلیاں۔

اچانک شیشے سے ایک آواز آئی:
"یہ وقت کا دروازہ ہے، اگر تم اس میں داخل ہوئے تو 1947 میں جا سکتے ہو۔ مگر خبردار، ہر قدم کی قیمت ہے۔"

انور علی نے کانپتے ہاتھوں سے شیشے کو چھوا، اور ایک زوردار روشنی کے بعد وہ بیہوش ہو گیا۔




تیسرا باب: 1947 کا پاکستان

جب آنکھ کھلی، تو وہ خود کو لاہور کی ایک گلی میں پایا۔ فضا میں آزادی کے نعرے گونج رہے تھے۔ لوگوں کے چہروں پر امید اور خوف دونوں کے آثار تھے۔ انور علی نے محسوس کیا کہ وہ بوڑھا نہیں رہا — وہ دوبارہ 25 سال کا نوجوان تھا، وہی عمر جب اس نے پہلی بار محبت کی تھی اور ملک تقسیم ہو رہا تھا۔

انور کے سامنے دو راستے تھے:

  1. وہ صرف تماشائی بن کر ماضی کو دیکھے اور واپس چلا جائے۔

  2. وہ اپنی زندگی کے فیصلوں کو دوبارہ بدلے، اپنی محبوبہ شائستہ سے شادی کرے، اپنے والدین کو بچائے، اور ان غلطیوں سے بچ جائے جنہوں نے اس کی زندگی میں خلا پیدا کیا تھا۔


چوتھا باب: فیصلہ

انور نے ماضی کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے شائستہ کو دوبارہ ڈھونڈا، جو اُس وقت ایک اسکول میں معلمہ تھی۔ پہلی ملاقات میں ہی شائستہ نے اسے پہچان لیا — جیسے وقت نے بھی اس کے قدم روک لیے ہوں۔

"انور؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ تم تو۔۔۔ تم تو چلے گئے تھے!"
"نہیں شائستہ، میں آیا ہوں، سب کچھ بدلنے کے لیے۔"

ان دونوں نے خفیہ طور پر شادی کر لی، اور انور نے اپنے والدین کو بھی دہلی سے لاہور ہجرت کرنے کے لیے قائل کر لیا، اس سے پہلے کہ فسادات ان کی جان لے لیتے۔


پانچواں باب: وقت کی قیمت

زندگی بہتر ہو رہی تھی، مگر ایک رات انور کو خواب میں وہی شیشہ نظر آیا، اور آواز آئی:
"تم نے وقت کے دھارے کو بدلا ہے، اب موجودہ وقت تمہیں بھولنے لگا ہے۔"

اگلی صبح انور نے خود کو پہچاننا چھوڑ دیا۔ اسے اپنے بیٹے کا چہرہ یاد نہیں آ رہا تھا۔ اسے اپنی بیوی کی موت کا دکھ بھی ختم ہوتا محسوس ہوا۔ ہر بار جب وہ کوئی ماضی کا واقعہ بدلتا، حال کی ایک یاد اس کے ذہن سے مٹ جاتی۔


چھٹا باب: آخری موقع

ایک دن وہ شیشہ دوبارہ نظر آیا، ایک پرانی کتاب کی پشت پر۔ اس پر لکھا تھا:
"اگر تم واپس جانا چاہتے ہو، تو سب کچھ چھوڑنا ہو گا۔ اور اگر تم یہی رہنا چاہتے ہو، تو موجودہ وقت تمہیں مکمل طور پر بھلا دے گا۔"

انور نے شائستہ کی طرف دیکھا، جو اس کے ساتھ بیٹھی چائے پینا سیکھ رہی تھی، اور دل کانپ گیا۔
"کیا میں پھر تنہا ہو جاؤں؟" اس نے سوچا۔

لیکن پھر اسے اپنے بیٹے کی آواز سنائی دی — ایک یاد کے آخری کنارے سے:

"ابا، آپ کہاں چلے گئے؟"




ساتواں باب: واپسی

آنکھوں میں آنسو اور دل میں بوجھ لیے، انور نے شیشہ چھوا، اور دوبارہ روشنی میں غائب ہو گیا۔ جب آنکھ کھلی، تو وہ واپس اپنے کمرے میں تھا — بوڑھا، کمزور، اور تنہا۔ الماری بند تھی، سیڑھیاں غائب تھیں، اور شیشہ ٹوٹ چکا تھا۔

مگر اس بار اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ماضی میں اس نے محبت کو پایا، ماں باپ کو بچایا، اور اپنا آپ پہچانا۔ وہ اب مکمل تھا — چاہے حال کتنا ہی خالی کیوں نہ ہو۔


آخری باب: وقت کا راز

کچھ دن بعد اس کے بیٹے عامر پاکستان واپس آیا۔ اس نے دیکھا کہ انور علی کے کمرے میں ایک نئی توانائی تھی۔ الماری صاف تھی، کمرہ ترتیب سے تھا، اور ایک ڈائری میز پر رکھی تھی۔

ڈائری پر لکھا تھا:

"میں وقت میں گیا، میں نے ماضی کو چھوا، میں نے وہ پایا جو کھو چکا تھا — اور اب میں جانتا ہوں: وقت ہمیں نہیں بدلتا، ہم خود کو وقت کے ساتھ بدلتے ہیں۔"

عامر نے ڈائری بند کی، آنکھیں بند کیں، اور محسوس کیا جیسے کوئی بہت پرانی بات آج مکمل ہو گئی ہو۔


خاتمہ
🕰️ وقت کبھی نہیں رکتا، مگر کبھی کبھی، ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم خود کو تلاش کر سکیں۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...