FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

⭐ "چاندنی محل کی خادمہ – ایک طلسم شدہ شہزادے اور خادمہ کی قربانی پر مبنی پراسرار اردو کہانی"

 حصہ 1: خادمہ اور خواب

برصغیر کے ایک دورافتادہ گاؤں میں "چاندنی محل" نام کی ایک شکستہ و ویران حویلی صدیوں سے سنسان کھڑی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ یہاں کبھی ایک عظیم ریاست کا مرکز تھا جہاں شہزادے، وزراء، رقاصائیں، اور خادمائیں آباد تھے۔ مگر اب، صرف ہوائیں گونجتی تھیں اور در و دیوار سنّاٹوں سے باتیں کرتے تھے۔

نوراں، ایک 17 سالہ یتیم لڑکی، اسی گاؤں میں ایک بیوہ کے ہاں پالی گئی تھی۔ وہ معمولی تعلیم یافتہ مگر بے حد حساس دل کی مالک تھی۔ دن بھر محنت کرتی اور رات کو ایک ہی خواب دیکھا کرتی — ایک حسین شہزادہ، نیلی پگڑی اور سونے کی زنجیروں میں جکڑا، دیوار کے پیچھے قید، آنکھوں میں التجا لیے بس ایک ہی جملہ کہتا:

"طلسم توڑو، ورنہ وقت رک جائے گا!"

پہلے تو نوراں نے سمجھا یہ محض تخیل ہے، مگر جب ایک دن چاندنی محل کے قریب سے گزرنے پر اس نے دیوار میں وہی نیلی آنکھیں جھانکتی دیکھیں، تو اس کے قدمیں جم گئیں۔ اب وہ خواب حقیقت بننے لگا تھا۔


حصہ 2: حویلی کا راز

نوراں نے چاندنی محل کی پرانی نگراں بی بی زاہدہ سے اس بارے میں بات کی۔ بی بی زاہدہ ایک نیم دیوانی بوڑھی عورت تھی جو خود کبھی محل کی خادمہ رہ چکی تھی۔

بی بی زاہدہ نے کپکپاتی آواز میں کہا:
"وہ شہزادہ تیمور ہے... آخری بادشاہ کا اکلوتا بیٹا... جس پر ایک رقاصہ نے محبت میں دھوکہ دے کر طلسم باندھ دیا۔ وہ لڑکی ایک جادوگرنی تھی جس نے عشق میں ناکامی کے بعد شہزادے کو قید کر دیا، تاکہ نہ وہ مرے، نہ زندہ ہو۔"

نوراں نے پوچھا:
"کیا طلسم توڑا جا سکتا ہے؟"
بوڑھی عورت نے صرف سر ہلایا،
"ہاں، لیکن قربانی دینی ہوگی۔"




حصہ 3: خواب میں داخلہ

نوراں نے اب ہر رات ایک نیا قدم اٹھایا۔ چاندنی محل کے پرانے حصے میں چھپی ہوئی ایک کتاب اسے ملی، جس میں "وقت کا آئینہ" نامی باب تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ طلسم کو صرف وہی توڑ سکتا ہے جو اپنی روح کا آدھا حصہ قید کی روح کو دے دے — یعنی ہمیشہ کے لیے آدھی ذات اس قید میں شریک ہو جائے۔

اب نوراں دوہری زندگی گزارنے لگی۔ دن میں عام لڑکی، اور رات کو شہزادے کے خوابوں کی ساتھی۔ شہزادہ تیمور اسے اپنے بچپن، اپنی قید، اور اس جادوگرنی کے بارے میں بتاتا رہا۔ نوراں کے دل میں اس شہزادے کے لیے نہ صرف ہمدردی بلکہ ایک انجانی محبت جنم لینے لگی۔


حصہ 4: قربانی

ایک رات، چودھویں کے چاند کے نیچے، نوراں نے چاندنی محل کی اصلی دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر وہ عمل دُہرایا جو کتاب میں لکھا تھا۔

"میں اپنی ذات کا آدھا حصہ، شہزادہ تیمور کے لیے پیش کرتی ہوں، تاکہ طلسم ٹوٹے، اور وقت پھر سے بہنے لگے۔"

ایک زلزلہ سا آیا، دیوار پھٹی، نیلا نور پھوٹا، اور شہزادہ تیمور — جوان، خوش لباس، اور مگر دھندلا — باہر آیا۔ مگر نوراں کو لگا جیسے اس کا وجود ہلکا ہوتا جا رہا ہو۔ وہ گرنے لگی۔ تیمور نے اسے تھاما۔

"کیوں؟ تم نے اپنی زندگی کا آدھا حصہ میرے لیے قربان کر دیا؟"

نوراں نے مسکرا کر کہا:
"محبت صرف جسموں کی قید نہیں، روحوں کی قربانی ہے۔ اب تم آزاد ہو۔"


حصہ 5: ایک نئی قید

شہزادہ آزاد ہو گیا، مگر نوراں کا آدھا وجود ہمیشہ کے لیے محل کے در و دیوار میں سما گیا۔ اب وہ خوابوں میں نہیں آتی، مگر چاندنی محل میں ایک نئی آواز گونجتی ہے:

"نوراں... میری رہائی کا چراغ... میری خادمہ، میری ملکہ!"

شہزادہ تیمور اب چاندنی محل میں زندہ ہے، مگر وہ ہر رات محل کے در و دیوار کو چھو کر نوراں کی موجودگی کو محسوس کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ محبت کبھی مکمل نہیں ہوتی، مگر اس کی روشنی ہمیشہ باقی رہتی ہے۔




اختتامیہ:

آج بھی جب کوئی چاندنی رات کو چاندنی محل کے قریب سے گزرتا ہے، تو دو سائے محل کی چھت پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نظر آتے ہیں —
ایک شہزادہ، اور ایک خادمہ...
جن کی محبت نے وقت اور طلسم کو شکست دی۔


0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...