FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

عنوان: پرچھائیاں

 

                                                                                      عنوان: پرچھائیاں
حصہ اول: حویلی کی خاموشیاں

آمنہ کو جب پہلی بار اس پرانی حویلی کا پتا ملا تو اس نے فوراً فیصلہ کر لیا کہ وہ یہی جگہ کرائے پر لے گی۔ وہ لاہور کی ایک مصروف زندگی سے تھک چکی تھی، اور کسی پُر سکون مقام کی تلاش میں تھی جہاں وہ اپنی مصوری پر دھیان دے سکے۔

حویلی ایک قدیم عمارت تھی، جس کے گرد نیم کے درختوں کی قطاریں ہوا میں سرسراہتی تھیں۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک عجیب سا سنّاٹا اور خوشبو اس کا استقبال کرتی۔ لکڑی کے فرش پر قدم رکھتے ہی چرچراہٹ کی آواز گویا ماضی کی سرگوشیوں کی مانند محسوس ہوتی۔

"یہ آئینہ…؟" آمنہ نے دل ہی دل میں کہا جب وہ بڑے ڈرائنگ روم میں نصب دیوار گیر آئینے کو دیکھتی ہے۔ وہ آئینہ کچھ خاص سا تھا — جیسے صرف عکس دکھانے والا شیشہ نہیں، بلکہ ایک پرانا راز چھپائے بیٹھا ہو۔


حصہ دوم: پہلا عکس

ایک رات، جب حویلی میں بارش زوروں پر تھی، آمنہ نے محسوس کیا کہ آئینہ کسی دھندلی سی روشنی سے چمکنے لگا ہے۔ اس نے قریب جا کر دیکھا، تو اس میں اپنا ہی عکس دیکھا — مگر یہ عکس آج کا نہیں تھا۔

آمنہ سفید قمیص میں، ہاتھوں میں کنگن، اور چہرے پر پرانی طرز کی جھلک کے ساتھ، کسی انجان مرد کے ساتھ کھڑی تھی۔

"یہ میں ہوں؟" وہ خوفزدہ ہو گئی۔ تصویر ہلکی ہلکی حرکت کر رہی تھی۔ اور پھر اچانک منظر ختم ہو گیا۔

آمنہ نے اگلے دن وہی لباس پہنا جو اس نے آئینے میں دیکھا تھا۔ وہ حیرت زدہ تھی کہ وہی پرانی قمیص، جو اس کے پاس نہیں تھی، اچانک اس کی الماری میں لٹکی ہوئی مل گئی۔




حصہ سوم: ایک اور زندگی

آئینہ ہر رات ایک نئی جھلک دکھانے لگا۔ ہر دفعہ آمنہ اپنے ماضی کی زندگی کے ایک ٹکڑے کو دیکھتی — کبھی اپنے شوہر کے ساتھ، کبھی اپنے بچے کے ساتھ، کبھی ایک خوفناک رات میں جلتی ہوئی حویلی کے سامنے۔

رفتہ رفتہ، آمنہ کو اندازہ ہونے لگا کہ وہ یہ سب پہلے جی چکی ہے۔ یہ زندگی، یہ حویلی، یہ آئینہ — سب اس کی سابقہ زندگی کا حصہ تھے۔

ایک دن، اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ جلتی ہوئی حویلی سے اپنے بچے کو بچا رہی ہے، مگر ایک سایہ دار شخصیت اسے روک رہی ہے۔ جب وہ اس چہرے کو دیکھتی ہے، تو وہ اس کا اپنا ہی چہرہ ہوتا ہے — مگر آنکھوں میں کوئی اور۔


حصہ چہارم: راز کا انکشاف

آمنہ نے حویلی کے ملازمہ نجمہ سے بات کی۔ نجمہ نے آہ بھری اور کہا:

"بی بی جی، اس حویلی کی ایک بیٹی تھی — زینب۔ خوبصورت، نازک، لیکن قسمت کی ماری۔ اس کا شوہر اسے چھوڑ کر چلا گیا، اور وہ پاگل ہو گئی۔ کہتے ہیں کہ وہ آئینے سے باتیں کیا کرتی تھی، اور ایک دن وہ اسی آئینے کے سامنے خود کو آگ لگا بیٹھی۔"

آمنہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ زینب؟ آئینہ؟ آگ؟ سب کچھ ویسا ہی جیسے وہ دیکھ رہی تھی۔

آمنہ نے پرانے کمرے کی دراز سے زینب کی ڈائری نکالی۔ اس میں لکھا تھا:

"میں جانتی ہوں، یہ زندگی دوبارہ شروع ہو گی۔ اور میں خود کو روکنے آؤں گی۔ مگر کیا میں اپنے آپ کو روک سکوں گی؟"


حصہ پنجم: المیہ کی تکرار

اگلی رات، آمنہ نے خواب میں وہی منظر دیکھا — حویلی میں آگ، بچہ چیختا ہوا، زینب یعنی خود، آگ کے شعلوں میں گم۔

مگر اس بار وہ تیار تھی۔

اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس المیے کو نہیں دہرانے دے گی۔ اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر زور سے کہا: "میں اپنی تقدیر بدلوں گی۔"

اور آئینے میں پھر وہی سایہ ابھرا — وہی پرانی زینب — جو اب صرف ایک عکس نہیں بلکہ ایک روح تھی۔ زینب نے کہا:

"تم وہی ہو جو میں تھی… مگر اب وقت بدل گیا ہے۔ تمہارے پاس انتخاب ہے۔"




حصہ ششم: انجام

اگلی صبح آمنہ نے فیصلہ کر لیا کہ وہ حویلی چھوڑ دے گی۔ وہ آئینہ اسی کمرے میں چھوڑ آئی۔ جاتے ہوئے اس نے پلٹ کر آخری بار اس پر نظر ڈالی۔ آئینہ شفاف تھا، مگر اب اس میں کوئی عکس نہ تھا۔

شہر واپس آ کر آمنہ نے ایک کہانی لکھی — "پرچھائیاں" کے نام سے۔ وہ ہر اس روح کے لیے تھی جو وقت میں قید ہے، جو بار بار ایک ہی غلطی دہراتی ہے، جب تک کہ وہ خود کو آزاد نہ کر لے۔

کبھی کبھی، ہماری پرچھائیاں ہمیں صرف ڈراتی نہیں — وہ ہمیں بچاتی بھی ہیں۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...