ابتداء
شہر کی ہلچل سے دور، ایک خاموش قصبہ تھا — "رنگپور"۔ اس قصبے کے کنارے ایک پرانی، ویران حویلی کھڑی تھی جس کے اطراف درختوں کی جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں، اور پتھر کی دیواروں پر وقت نے اپنی مہر ثبت کر رکھی تھی۔ لوگ اسے "بیگم سائرہ کی حویلی" کہتے تھے، مگر اب صرف "بیوہ حویلی" کے نام سے جانی جاتی تھی۔
قصبے کے بزرگ کہتے تھے کہ اس حویلی میں صدیوں پرانے راز دفن ہیں۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے تھے کہ یہاں رات کو کسی عورت کے رونے کی آوازیں آتی ہیں، اور کھڑکیوں سے پرچھائیاں جھانکتی ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ان باتوں کو افسانہ سمجھا جانے لگا تھا۔
کرداروں کا تعارف
عائشہ ایک ذہین، خودمختار اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی طالبہ تھی جو شہر سے دور یونیورسٹی میں ماسٹرز کرنے آئی تھی۔ اسے رہائش کی ضرورت تھی، اور کم کرایے کی تلاش میں اس کا سامنا رنگپور کی اس پرانی حویلی سے ہوا۔
بیگم سائرہ، جنہیں سب "بیوہ" کہہ کر پکارتے تھے، ایک ضعیف عورت تھیں۔ سفید لباس، چاندی جیسے بال، اور آنکھوں میں چھپی گہری خاموشی ان کا خاصہ تھی۔ وہ تنہائی پسند تھیں اور کم ہی کسی سے بات کرتی تھیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کا شوہر ایک حادثے میں مر گیا، مگر کچھ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ قتل ہوا تھا۔
نئی رہائش
عائشہ نے جب پہلی بار حویلی دیکھی، تو اسے ایک غیر مرئی بوجھ کا احساس ہوا۔ جیسے دیواریں کسی بھاری راز کو چھپا رہی ہوں۔ مگر جگہ بڑی تھی، کرایہ کم، اور بیگم سائرہ نے فوراً ہاں کر دی۔
عائشہ کو رہائش کی اجازت ایک شرط پر دی گئی:
"رات نو بجے کے بعد حویلی کے پچھلے حصے میں مت جانا۔"
وہ حیران تو ہوئی، لیکن کرایے اور سہولت کو دیکھتے ہوئے خاموش رہی۔
پراسرار واقعات
پہلے چند دن ٹھیک گزرے۔ مگر جلد ہی عجیب واقعات ہونے لگے:
-
ایک رات عائشہ کو سیڑھیوں سے کسی کے چلنے کی آواز آئی، حالانکہ بیگم سائرہ اپنے کمرے میں تھیں۔
-
ایک دن اس نے باتھ روم کے آئینے میں کسی پرانی عورت کا سایہ دیکھا، جو پل بھر میں غائب ہو گیا۔
-
دروازے خودبخود کھلنے لگے، کمرے میں ٹھنڈی ہوا دوڑ جاتی، اور کبھی پرانا سا گانا کسی کونے سے سنائی دیتا۔
عائشہ نے جب بیگم سائرہ سے ان واقعات کا ذکر کیا، تو انہوں نے خاموشی اختیار کی اور صرف اتنا کہا:
"ہر چیز کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض راز دفن ہی رہنے چاہییں۔"
پچھلے حصے کی کھوج
ایک رات عائشہ کی طبیعت خراب ہو گئی۔ وہ پانی لینے اٹھی، اور واپسی پر غلطی سے پچھلے حصے کی طرف چل پڑی۔ اچانک زمین پر پڑا پرانا صندوق اس کی نظر میں آ گیا۔ تجسس غالب آیا، اس نے ڈھکن اٹھایا — اندر ایک پرانا سا جوڑا، خون کے دھبے، اور ایک خالی بندوق کا غلاف تھا۔
اچانک ایک سرد ہوا چلی، اور پیچھے سے بیگم سائرہ کی آواز آئی:
"میں نے کہا تھا، پچھلے حصے میں مت آنا!"
ان کی آنکھوں میں اس وقت ایک ایسا طوفان تھا جو برسوں دبائے گیا ہو۔
سچائی کا پردہ چاک
اگلی صبح بیگم سائرہ نے خود عائشہ کو بلایا۔ ان کی آنکھوں میں نمی تھی۔
"تم جاننا چاہتی ہو نا کہ میں کون ہوں؟"
بیگم سائرہ نے کہنا شروع کیا:
"میں ایک بیٹی، بیوی، اور ماں تھی۔ میرا شوہر، سجاد، ایک ظالم انسان تھا۔ اس نے میرے بھائی کو زمین کے جھگڑے میں قتل کیا، پھر میرے ساتھ زبردستی کی، اور آخرکار مجھے اس حویلی میں قید کر دیا۔ میں نے پولیس سے فریاد کی، مگر سجاد کا اثر و رسوخ سب پر حاوی تھا۔
ایک دن... میں نے خود اس کے ظلم کا خاتمہ کیا۔
جی ہاں، میں نے اسے مارا... اور خود کو 'بیوہ' بنا دیا۔
تب سے میں اس حویلی میں اکیلی رہتی ہوں، اس خوف سے کہ اگر میں باہر گئی، تو پھر سے وہی دنیا مجھے قید کرے گی۔"
عائشہ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔
اختتام کی نئی صبح
عائشہ نے فیصلہ کیا کہ وہ بیگم سائرہ کو خاموش نہیں رہنے دے گی۔ وہ ان کے ساتھ شہر گئی، وکیل سے ملی، اور ان کی کہانی عدالت میں پیش کی۔
چند ہفتوں کے بعد عدالتی فیصلہ آیا:
"یہ قتل دفاع میں کیا گیا، اور بیگم سائرہ کو بری کیا جاتا ہے۔"
اس دن کے بعد "بیوہ حویلی" پھر سے "بیگم سائرہ کی حویلی" بن گئی۔
وہ باہر آنے لگیں، لوگوں سے بات کرنے لگیں، اور عائشہ کے لیے ماں جیسی بن گئیں۔
عائشہ کی بھی تعلیم مکمل ہوئی اور وہ اسی قصبے میں بطور استاد کام کرنے لگی۔
آخری منظر
ایک دن، عائشہ اور سائرہ بیگم حویلی کے صحن میں بیٹھی تھیں۔ سائرہ بیگم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:
"کچھ زخم وقت نہیں بھرتا... مگر سچ کو روشنی میں لانا سکون ضرور دے دیتا ہے۔"
ہوا میں ایک سکون تھا۔ جیسے حویلی نے برسوں بعد سکون کا سانس لیا ہو۔ عائشہ نے ان کے ہاتھ تھامے اور مسکرا کر کہا:
"اور کچھ راز، جب بیان ہو جائیں... تو روح آزاد ہو جاتی ہے۔"
نتیجہ:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
-
خاموشی کبھی کبھی ظلم کو طول دیتی ہے۔
-
سچائی کا سامنا کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو، سکون اسی میں ہے۔
-
اور یہ کہ انسان کا ماضی، خواہ کتنا بھی تاریک ہو، اس کا مستقبل بدلنے سے نہیں روک سکتا۔
Post a Comment