FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"سحرِ سیاہ، عشق کی جیت"

 

کہانی: "محبت پر سایہ"

حصہ اول: محبت کا آغاز

ماہم ایک خوبصورت، ذہین اور نیک دل لڑکی تھی۔ لاہور کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن کی طالبہ تھی۔ وہ ہر دل عزیز تھی، خاص طور پر اپنے ہم جماعت زید کی، جو نہ صرف ہینڈسم تھا بلکہ ایک اچھے گھرانے کا اکلوتا بیٹا بھی تھا۔

زید اور ماہم کی دوستی جلد ہی محبت میں بدل گئی۔ دونوں نے وقت کے ہر لمحے کو قیمتی بنایا، خوابوں کے محل بنائے، مستقبل کی پلاننگ کی۔ گھر والوں کو منانے میں تھوڑا وقت لگا، لیکن آخرکار دونوں کی محبت کی جیت ہوئی، اور نکاح ہو گیا۔ شادی کے بعد ماہم زید کے گھر منتقل ہو گئی جہاں زید کی ماں، بہن اور ایک خالہ رہتی تھیں۔

حصہ دوم: نیا گھر، نئی کہانی

شروع کے دن خوابوں جیسے گزرے۔ زید ہر لمحے ماہم کا خیال رکھتا، اسے محبت دیتا، لیکن زید کی ماں شاہدہ بیگم کو ماہم بالکل پسند نہ آئی۔ انہیں لگتا تھا کہ زید نے ان کی مرضی کے بغیر شادی کرکے غلطی کی ہے۔ شاہدہ بیگم کی خالہ رشیدہ خالہ ایک پرانی سوچ کی عورت تھی، جو اکثر تعویذ گنڈوں اور عملیات پر یقین رکھتی تھی۔

ماہم کے ساتھ عجیب و غریب واقعات ہونے لگے۔ کبھی وہ رات کو چیخوں کے ساتھ اٹھتی، کبھی چیزیں خود بخود گرنے لگتیں، کبھی آئینے میں اسے اپنی شبیہ بدلتی ہوئی دکھائی دیتی۔ ماہم نے زید کو بتایا، لیکن زید نے سمجھا کہ یہ محض شادی کے بعد کا دباؤ ہے۔



حصہ سوم: کالے سائے کا آغاز

ایک رات، ماہم کمرے میں اکیلی تھی۔ اسے لگا جیسے کوئی اسے گھور رہا ہے۔ اچانک لائٹ بند ہو گئی، اور کمرہ ٹھنڈا ہو گیا۔ کچھ لمحوں بعد اسے کسی کے سانسوں کی آواز سنائی دی۔ اس نے چیخنے کی کوشش کی مگر آواز نہ نکلی۔ وہ بے ہوش ہو گئی۔

صبح زید نے اسے فرش پر پایا۔ وہ ڈاکٹر کے پاس گئے لیکن رپورٹس نارمل تھیں۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ماہم جانتی تھی، یہ کچھ اور ہے۔

حصہ چہارم: حقیقت کی تلاش

ایک دن، ماہم نے زید کی غیر موجودگی میں گھر کی صفائی کرتے ہوئے اسٹور روم میں ایک پرانا صندوق دیکھا۔ تجسس میں آ کر اس نے صندوق کھولا تو اس میں عجیب و غریب تعویذ، کالے دھاگے، انسانی بال اور کچھ جلے ہوئے کاغذ تھے جن پر عجیب رسم الخط میں کچھ لکھا تھا۔

ماہم نے فوراً یہ چیزیں زید کو دکھائیں۔ زید نے پہلے تو مذاق سمجھا، لیکن جب ماہم کی حالت مزید بگڑنے لگی، تو اس نے ایک معروف روحانی عامل سے رابطہ کیا۔ عامل نے گھر کا معائنہ کیا اور کہا:

"یہ کالے جادو کا اثر ہے، کسی قریبی نے کیا ہے۔ مقصد ہے ماہم کو بیمار کرنا، بے اولاد رکھنا یا اسے زید سے جدا کرنا۔"

حصہ پنجم: سچ کا انکشاف

عامل نے عملیات شروع کیے۔ چند دنوں بعد، رشیدہ خالہ گھر آئی۔ جیسے ہی اس نے عامل کو دیکھا، اس کا رنگ زرد ہو گیا۔ عامل نے کہا، "یہ کام اندر کے ہی کسی فرد کا ہے۔" رشیدہ خالہ نے گھبرا کر سب مان لیا۔

"ہاں، میں نے ہی کیا... ماہم نے شاہدہ بیگم کی مرضی کے خلاف آ کر گھر میں جگہ بنائی۔ وہ لڑکی اس گھر کی مالکن کیسے بن سکتی ہے؟ میں نے اپنے تعلقات استعمال کیے، عملیات کروائے۔ مقصد تھا کہ وہ یا تو پاگل ہو جائے یا خود ہی چھوڑ کر چلی جائے۔"

ماحول میں سناٹا چھا گیا۔ شاہدہ بیگم بھی شرمندہ ہو گئی کہ انہوں نے اپنی خالہ کی باتوں میں آ کر اپنی بہو کو اذیت دی۔

حصہ ششم: نجات اور معافی

عامل نے کئی دنوں تک عمل کیے۔ گھر میں موجود منفی توانائی ختم ہونے لگی۔ ماہم کی صحت بہتر ہونے لگی، اس کی نیند بحال ہوئی، اور پھر وہی مسکراہٹ واپس آ گئی جو زید نے پہلی بار اس کے چہرے پر دیکھی تھی۔

رشیدہ خالہ کو گھر سے نکال دیا گیا۔ شاہدہ بیگم نے ماہم سے معافی مانگی اور اسے اپنی بیٹی کا درجہ دیا۔ زید، جو اپنی بیوی سے بے حد محبت کرتا تھا، ایک بار پھر خوشی سے جی اٹھا۔

چند مہینے بعد، ماہم امید سے ہوئی۔ گھر میں خوشیوں نے ڈیرے ڈالے۔

حصہ ہفتم: سبق

ماہم نے اپنی زندگی میں جو کچھ سہا، وہ کسی فلم سے کم نہ تھا۔ لیکن اس نے ہار نہیں مانی۔ اس کی محبت، ایمان، اور سچائی نے اسے بچا لیا۔ اس واقعے کے بعد، اس نے خواتین کو آگاہی دینے کے لیے ایک یوٹیوب چینل شروع کیا، جہاں وہ جادو ٹونے کے اثرات اور بچاؤ کے طریقے بتاتی تھی۔




نتیجہ:

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت اگر سچی ہو، تو کوئی جادو، کوئی سازش، کوئی ظلم اسے شکست نہیں دے سکتا۔ کالے جادو جیسے ہتھکنڈے وقتی طور پر انسان کو تکلیف دے سکتے ہیں، لیکن اگر نیت صاف ہو، دل میں ایمان ہو، تو وہ ہر بری طاقت کے خلاف ڈھال بن جاتا ہے۔


0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...