FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"خوشیوں کا سفر، صدمے کی منزل"

 


عنوان: “سفر کا انجام”

حصہ اول: خوشیوں بھرا آغاز

وہ جون کی ایک روشن صبح تھی۔ سورج کی کرنیں کھڑکیوں سے اندر جھانک رہی تھیں اور پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ وقار صاحب نے کئی مہینے پہلے ہی یہ خاندانی روڈ ٹرپ پلان کیا تھا۔ ان کا خواب تھا کہ وہ اپنی بیوی زینب، بیٹے حسن، بیٹی علیزے اور چھوٹے بیٹے سفیان کے ساتھ شمالی پاکستان کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہوں۔

گاڑی میں سامان رکھ دیا گیا، کیمرہ، سلیپنگ بیگز، سنیکس، اور ہر وہ چیز جو ایک یادگار سفر کے لیے ضروری ہو سکتی تھی۔ علیزے خوشی سے چیخ رہی تھی، "امی! جلدی کریں، ہمیں مری جانا ہے نا!" زینب نے ہنستے ہوئے کہا، "بیٹا، مری سے آگے بھی جانا ہے، پورا ہنزہ تک!"

پہلا پڑاؤ نتھیا گلی تھا، جہاں ہریالی، بادل، اور پہاڑی ہوا نے ان سب کو خوش آمدید کہا۔ رات کو کیمپ فائر کے گرد بیٹھ کر سب نے کہانیاں سنائیں، قہقہے لگائے، اور سردی میں چائے کا لطف لیا۔ یہ سب کچھ ایک خواب جیسا لگ رہا تھا۔

حصہ دوم: سفر کی روانی

اگلے دن انہوں نے ہنزہ کی طرف روانگی کی۔ حسن نے ڈرائیونگ کی ذمہ داری لی، اور راستے بھر وہ موسیقی سنتے، لطیفے سناتے اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے گئے۔ راستے میں ایک چھوٹے گاؤں میں رک کر مقامی لوگوں سے ملاقات کی، ان کی ثقافت جانی، اور زینب نے مقامی عورتوں سے ہاتھ کی بنی ہوئی چادریں بھی خریدیں۔

علیزے نے اپنے انسٹاگرام پر تصویریں ڈالیں اور فالوورز سے داد سمیٹی۔ سب کچھ بہت خوبصورت اور مکمل لگ رہا تھا، جیسے زندگی کا یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے رک جانا چاہیے۔



حصہ سوم: بدلتا موسم، بدلی فضا

چوتھے دن وہ خنجراب پاس کی طرف روانہ ہوئے۔ موسم آہستہ آہستہ خراب ہونے لگا۔ بادل گہرے ہو گئے، سردی بڑھنے لگی، اور بارش نے راستہ پھسلن زدہ کر دیا۔ وقار صاحب نے مشورہ دیا کہ واپس کسی نزدیکی ہوٹل میں رک جائیں، مگر حسن اور علیزے نے اصرار کیا کہ منزل اب قریب ہے۔

زینب پریشان ہو گئی، سفیان کو سردی لگ رہی تھی، اور وہ تھکا ہوا بھی تھا۔ پھر بھی وہ آگے بڑھتے رہے۔

حصہ چہارم: حادثہ

راستے میں ایک تنگ اور خطرناک موڑ آیا۔ بارش زوروں پر تھی، پہاڑوں سے پانی کے نالے سڑک پر بہہ رہے تھے۔ اچانک گاڑی کے ٹائروں نے گرفت کھو دی۔ حسن نے بریک دبائی، مگر گاڑی پھسلنے لگی۔ سب کی چیخیں، زینب کی دعا، سفیان کا رونا، سب کچھ ایک لمحے میں گڈمڈ ہو گیا۔

گاڑی ایک طرف لڑھکی، پہاڑی ڈھلوان سے نیچے جا گری۔

چند لمحوں کے لیے سب خاموش ہو گیا، جیسے وقت تھم گیا ہو۔

حصہ پنجم: ملبے کے نیچے

جب ہوش آیا تو زینب کا سر زخمی تھا، حسن بے ہوش تھا، سفیان کی آواز سنائی دے رہی تھی، جو سسکیاں لے رہا تھا۔ علیزے کی ٹانگ ملبے میں دب چکی تھی۔ ان کی گاڑی ایک درخت کے سہارے رک گئی تھی، ورنہ انجام اس سے بھی زیادہ ہولناک ہو سکتا تھا۔

زینب نے بمشکل موبائل نکالا، مگر نیٹ ورک نہیں تھا۔ وہ چلائی، "کسی کو مدد کے لیے بلاؤ!" مگر پہاڑوں میں آواز گم ہو گئی۔ رات ہو چکی تھی، سردی بڑھ گئی تھی، اور زخمی افراد کے لیے ہر لمحہ قیمتی ہو گیا تھا۔

حصہ ششم: نجات کی امید

صبح ایک مقامی چرواہے نے تباہ شدہ گاڑی دیکھی اور گاؤں جا کر ریسکیو کو اطلاع دی۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں قریبی ہسپتال پہنچایا گیا۔ حسن کو کئی دنوں بعد ہوش آیا، علیزے کی ٹانگ کا آپریشن ہوا، زینب اور سفیان کو بھی علاج کی ضرورت پڑی۔

اس حادثے نے سب کی زندگی بدل دی۔



حصہ ہفتم: نیا آغاز

مہینوں بعد، جب سب صحتیاب ہوئے، وقار صاحب نے ایک مرتبہ پھر سب کو اکٹھا کیا اور کہا، "ہم نے قدرت کے حسن کو دیکھا، پھر اس کے قہر کو بھی جھیلا۔ مگر ہم زندہ ہیں، ایک ساتھ ہیں، اور یہی سب سے بڑی نعمت ہے۔"

کہانی کا یہ اختتام ایک نئے آغاز کا اشارہ تھا۔ جہاں خوف، درد اور نقصان تھا، وہیں شکر، قربت اور محبت بھی تھی۔        

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...