کہانی: "ظلم کی فصل"
حصہ اول: اندھیر نگری
چک نمبر 19، پنجاب کے ایک دور دراز علاقے میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ یہاں کے کھیت سرسبز تھے، مگر دلوں میں اندھیرے تھے۔ اس گاؤں پر جاگیردار فیاض خان کا راج تھا — ایک ایسا شخص جس کی نگاہ سے زمین پر گرا پتہ بھی چھپا نہ رہتا۔
فیاض خان کا محل گاؤں کے کنارے ایک بلند پہاڑی پر واقع تھا، جہاں سے وہ پورے گاؤں کو اپنے قدموں تلے دیکھتا تھا۔ اس کے پاس سو سے زائد نوکر، درجنوں بندوق بردار، اور لاکھوں کی زمین تھی۔ مگر سب سے بڑھ کر اس کے پاس جو چیز تھی
وہ تھی خوف — ایک ایسا خوف جو ہر گھر، ہر دل اور ہر عورت کی آنکھ میں واضح دکھائی دیتا تھا۔
حصہ دوم: رزق کے بدلے عزت
فیاض خان گاؤں کی زمین کا مالک تھا، اور گاؤں کے کسان اس کے رحم و کرم پر تھے۔ ہر سال فصل کا آدھا حصہ وہ خود رکھتا، باقی جو بچتا وہ بھی کسی نہ کسی بہانے چھین لیتا۔
غریب عورتیں جب اپنے شوہروں کے علاج یا بچوں کی فیس کے لیے جاگیردار کے در پر جاتیں، تو انہیں صرف دو چیزیں ملتی تھیں — حقارت اور مطالبہ۔ فیاض خان عورتوں کو بلیک میل کرتا، ان کی عزت کو رزق کے بدلے نیلام کرنے کی کوشش کرتا۔
ایک دن، حلیمہ نامی عورت، جو بیوہ تھی، اپنے بیٹے کے علاج کے لیے فیاض خان کے محل پر گئی۔ فیاض خان نے نہ صرف اس کی بےبسی کا مذاق اُڑایا، بلکہ اُس سے ایسی شرمناک شرط رکھی کہ حلیمہ بے ہوش ہو گئی۔ گاؤں کے لوگوں کو اس واقعے کی بھنک پڑی، مگر کوئی کچھ نہ بولا — کیونکہ زبان کھولنے کا مطلب تھا موت۔
حصہ سوم: بغاوت کا بیج
فیاض خان کی بدمعاشی دن بدن بڑھتی گئی۔ وہ گاؤں کی لڑکیوں کو شادیوں کے لیے روک لیتا، ان کے والدین کو دھمکاتا کہ "پہلے میرے محل سے ہو کر جاؤ، پھر کہیں اور جاؤ۔"
لیکن ایک دن، گاؤں میں ایک نئی ہوا چلی۔ حلیمہ کا بیٹا، جمشید، جو شہر میں مزدوری کرتا تھا، اچانک واپس آیا۔ جب اسے ماں کی حالت، اور فیاض خان کی بدسلوکی کے بارے میں پتہ چلا تو وہ تڑپ گیا۔ جمشید نے فیصلہ کیا کہ اب مزید ظلم برداشت نہیں ہوگا۔
حصہ چہارم: روشنی کا پہلا چراغ
جمشید نے گاؤں کے نوجوانوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔ اس نے چھپ چھپ کر سب کو شعور دینا شروع کیا — "تم انسان ہو، غلام نہیں!" — وہ انہیں بتاتا کہ قانون کس کا حق ہے، اور کس طرح جاگیردار کے خلاف آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔
عورتیں، جو برسوں سے خاموش تھیں، پہلی بار ایک دوسرے سے بات کرنے لگیں۔ انہوں نے اپنی کہانیاں سنائیں، اپنے آنسو بانٹے، اور اپنے دلوں میں چپکے چپکے ایک امید پیدا کی۔
حصہ پنجم: آخری ضرب
ایک رات، جب فیاض خان اپنے محل میں شراب کے نشے میں دھت تھا، جمشید اور اس کے ساتھیوں نے حملہ کر دیا۔ بندوق برداروں کو چکما دے کر وہ اندر داخل ہو گئے۔ جمشید نے فیاض خان کو گاؤں کی ان تمام عورتوں کے سامنے لایا جن پر اس نے ظلم کیے تھے۔
"یہ وہی ہے جس نے تمہاری عزتیں پامال کیں!" جمشید چیخا۔
عورتوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے محل کی دیواریں گرا دیں، اس کے تخت کو جلا دیا، اور اس کے ظلم کی نشانیوں کو مٹی میں ملا دیا۔
فیاض خان کو قانون کے حوالے کیا گیا، اور پہلی بار گاؤں میں سورج طلوع ہوتے وقت ہوا میں آزادی کی خوشبو محسوس ہوئی۔
uاختتام: ایک نیا سورج
اب چک نمبر 19 کا نام بدل چکا تھا — "امید نگر"۔ یہاں اب زمین کا بٹوارہ مساوی تھا، عورتوں کو ان کا حق ملتا، بچے اسکول جاتے، اور ہر جمعے کو حلیمہ کی پیشوائی میں انصاف کی محفل سجتی۔
جمشید نے گاؤں کی بیٹیوں کو بتایا، "ظلم سہنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اگر تم ظلم کے خلاف کھڑی ہو جاؤ، تو دنیا بدل سکتی ہے
Post a Comment