کہانی کا عنوان: "ماں کی ڈھال"
حصہ اول: سناٹا اور سایے
شفق گاؤں کے کنارے ایک پرانا، مٹی کا مکان تھا۔ نہایت سادہ مگر صاف ستھرا۔ دروازے پر لکڑی کا پرانا پردہ جھولتا، جس سے ہوا کے ہر جھونکے پر ایک مانوس سی آواز آتی تھی۔ اس گھر میں رہتی تھی "بشریٰ"، ایک تنہا بیوہ، اور اس کے دو بچے – علی اور نور۔
بشریٰ کا شوہر، ماجد، چار سال قبل ایک حادثے میں مارا گیا تھا۔ مگر وہ حادثہ محض اتفاقیہ نہ تھا۔ کچھ جانتے تھے کہ اس کے پیچھے کچھ پرانے دشمنوں کا ہاتھ تھا – وہی دشمن جنہوں نے ماجد کے کاروبار کو برباد کیا، اور پھر اس کی جان بھی لے لی۔
ماجد کی موت کے بعد بشریٰ نے گاؤں چھوڑنے کا سوچا، مگر وہ جانتی تھی کہ اگر وہ بھاگ گئی، تو دشمنوں کو اور زیادہ موقع ملے گا۔ اس نے اپنی جگہ پر ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔
حصہ دوم: قربانی کی چادر
بشریٰ ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے جاگتی، پرانے کنویں سے پانی بھرتی، اور پھر محنت مزدوری کے لیے نکل جاتی۔ کبھی کسی کے کھیتوں میں کام، کبھی کسی کے کپڑے سی کر دو وقت کی روٹی کماتی۔ علی صرف 12 سال کا تھا اور نور 9 سال کی، مگر دونوں اپنی ماں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلتے۔
ایک دن، نور نے بشریٰ سے پوچھا:
"ماں، بابا کو کس نے مارا تھا؟"
بشریٰ کے ہاتھ کانپ گئے۔ اس نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا، اور بس اتنا کہا: "کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی خوشیاں برداشت نہیں کر سکتے۔ تم بس اتنا جان لو، کہ ہمیں ان سے ڈرنا نہیں ہے۔"
مگر سچ تو یہ تھا کہ دشمن اب بھی موجود تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ماجد کے بیٹے علی میں وہی صلاحیت ہے، جو ماجد میں تھی – اگر یہ بچہ بڑا ہوا، تو ان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
حصہ سوم: پرچھائیاں لوٹ آئیں
ایک رات، جب بارش تیز ہو رہی تھی، دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔ بشریٰ نے جلدی سے علی کو چھپایا اور نور کو بستر میں بھیج دیا۔ دروازہ کھولا، تو سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا۔ مگر اس کی آنکھیں اجنبی نہ تھیں۔ یہ "طاہر" تھا – ماجد کا پرانا دشمن، جو کئی سالوں بعد واپس آیا تھا۔
"بشریٰ، ہم تمہیں ایک آخری موقع دینے آئے ہیں۔ یہ گاؤں چھوڑ دو، یا نتائج کے لیے تیار رہو۔"
بشریٰ نے پلٹ کر علی کی طرف دیکھا، جو کھڑکی کے پیچھے چھپا سب دیکھ رہا تھا۔
"میں اپنی زمین، اپنی اولاد، اور اپنے شوہر کی عزت کے لیے آخری سانس تک لڑوں گی، طاہر۔"
طاہر ہنسا، اور بولا: "پھر تیار ہو جاؤ۔ کھیل شروع ہو چکا ہے۔"
حصہ چہارم: ڈھال بننے کا وقت
اگلے دن بشریٰ گاؤں کے بزرگوں کے پاس گئی۔ مگر سب نے ڈر کے مارے چپ سادھ لی۔ طاہر بااثر تھا، اور سب کو ڈر تھا کہ اگر بشریٰ کی حمایت کی، تو ان کے اپنے خاندان خطرے میں آ جائیں گے۔
بشریٰ تنہا تھی۔ مگر اس نے ہار نہ مانی۔ وہ دن میں علی کو تعلیم دیتی، رات کو نور کے ساتھ کھانا بناتی، اور خود نگرانی کرتی کہ دشمن کب اور کہاں سے وار کر سکتے ہیں۔
علی بھی سمجھدار ہو چکا تھا۔ اس نے اپنی ماں سے دفاعی تربیت لینا شروع کر دی۔ بشریٰ نے اپنے شوہر کی پرانی کتابوں سے جنگی حربے سیکھے، اور بچوں کو سکھائے کہ اگر دشمن سامنے آ جائے، تو کیسے بچنا ہے۔
حصہ پنجم: رات کا حملہ
ایک رات، طاہر کے آدمیوں نے گھر پر حملہ کیا۔ وہ چار تھے، مسلح اور وحشی۔ مگر بشریٰ تیار تھی۔ اس نے دروازے پر کھولنے سے پہلے ایک جلتا ہوا تیل کا پیالہ ان پر پھینکا۔ شور مچ گیا۔ علی نے چھت سے پتھر برسائے، نور نے گھنٹی بجا کر گاؤں والوں کو خبردار کیا۔
مگر کوئی مدد نہ آئی۔
بشریٰ نے ایک چھوٹا چاقو نکالا، اور دو آدمیوں کو زخمی کر دیا۔ باقی دو بھاگ نکلے، مگر جاتے ہوئے ایک نے علی پر فائر کیا۔ گولی اس کے بازو کو چیرتی ہوئی نکل گئی۔ بشریٰ نے چیخ ماری، اور علی کو اپنی گود میں لے لیا۔
"ماں… میں ٹھیک ہوں… میں نے کہا تھا نا، ہم نہیں ڈریں گے۔"
حصہ ششم: روشنی کی کرن
اگلی صبح، گاؤں والوں کے ضمیر جاگ گئے۔ وہ بشریٰ کے گھر آئے، اور کہا:
"ہم نے بہت برداشت کر لیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب ایک ہو جائیں۔"
اسی دن گاؤں کے مرد، عورتیں، اور جوان، سب نے مل کر طاہر کی حویلی کا گھیراؤ کیا۔ پولیس کو خبر دی گئی، اور ثبوتوں کے ساتھ طاہر کو گرفتار کروا دیا گیا۔
عدالت میں بشریٰ کی گواہی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
حصہ ہفتم: نئی صبح
چند مہینے بعد، علی کے زخم بھر چکے تھے، نور اسکول کی بہترین طالبہ بن چکی تھی، اور بشریٰ… وہ اب صرف ایک بیوہ نہیں تھی، بلکہ پورے گاؤں کے لیے "ماں جی" بن چکی تھی۔ اس نے ایک چھوٹا سا اسکول کھولا، جہاں گاؤں کی بچیاں تعلیم حاصل کرتیں، اور لڑکوں کو خود اعتمادی سکھائی جاتی۔
ایک دن، ایک صحافی اس سے پوچھنے آیا:
"آپ نے یہ سب کیسے کر لیا، اکیلے؟"
بشریٰ مسکرائی، اور کہا:
"اکیلی نہیں تھی۔ میرے ساتھ میری اولاد کی امید تھی، میرے شوہر کی روح کی طاقت تھی، اور ایک ماں کا جذبہ تھا – جو دشمنوں کی دیواروں کو بھی گرا دیتا ہے۔"
اختتام
یہ کہانی صرف بشریٰ کی نہیں، ہر اس ماں کی ہے جو دنیا کے کسی کونے میں اپنی اولاد کے لیے ڈھال بنی کھڑی ہے۔ دشمن کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، ماں کی دعا اور حوصلہ ان سب پر بھاری ہوتا ہے۔
Post a Comment