عنوان: محبت کی روشنی
پہلا حصہ: ایک نئے رشتے کا آغاز
شادی کا دن گزر چکا تھا۔ روشانے کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب کسی اور گھر کی بہو بن چکی ہے۔ گھر کی دہلیز پار کرتے ہی اس کا دل بے چین تھا۔ سامنے کھڑی ایک باوقار اور رعب دار خاتون، یعنی اس کی ساس، مسز فریدہ، اُسے گہری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ روشانے نے جھک کر سلام کیا، لیکن جواب محض ایک ہلکی سی نظر سے ملا۔روشانے کو لگا کہ شاید ساس صاحبہ کو وہ پسند نہیں آئی۔ وہ دل ہی دل میں دعا کرنے لگی کہ یہ رشتہ خوشگوار رہے۔
دوسرا حصہ: سرد جنگ
گھر کے ماحول میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ مسز فریدہ ہر بات میں نقص نکالتیں، کبھی کھانے میں کمی، کبھی صفائی میں خامی۔ روشانے خاموشی سے سب سنتی اور مزید بہتر کرنے کی کوشش کرتی۔
ایک دن، جب روشانے نے اپنے ہاتھوں سے ساس کے لیے خاص کھانا بنایا، تو مسز فریدہ نے محض ایک چمچ کھا کر پلیٹ رکھ دی۔ روشانے کی آنکھوں میں آنسو آگئے، لیکن اس نے کچھ نہ کہا۔ وہ ہر روز نئی امید لے کر دن کا آغاز کرتی اور ہر شام مایوسی کے سائے میں گزارتی۔
تیسرا حصہ: حقیقت کا انکشاف
ایک دن، روشانے نے غلطی سے مسز فریدہ کی پرانی ڈائری اٹھا لی۔ وہ حیران رہ گئی جب اس نے پڑھا کہ ان کی اپنی ساس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی رویہ تھا۔ مسز فریدہ نے اپنی زندگی میں جو کچھ سہا تھا، وہی وہ بے دھیانی میں اپنی بہو کے ساتھ کر رہی تھیں۔ روشانے کو احساس ہوا کہ یہ سب صرف سختی نہیں بلکہ ایک اندرونی زخم کی جھلک تھی۔
اسی دن، روشانے نے ایک مختلف انداز اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اگلی صبح اس نے مسز فریدہ کے ساتھ چائے پی اور پرانی یادوں کے بارے میں بات چیت کی۔ اس گفتگو میں پہلی بار مسز فریدہ نے روشانے کو بیٹی کی طرح دیکھا۔
چوتھا حصہ: محبت کی روشنی
دن گزرتے گئے اور دھیرے دھیرے ساس اور بہو کے درمیان محبت کی روشنی پھیلنے لگی۔ ایک دن، جب روشانے بیمار پڑی، تو مسز فریدہ نے پہلی بار اپنی بہو کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور اس کا حال دریافت کیا۔ روشانے کی آنکھوں میں آنسو آگئے، مگر اس بار وہ خوشی کے آنسو تھے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب دونوں نے سمجھ لیا کہ رشتے محبت اور سمجھداری سے بنتے ہیں، نہ کہ سختی یا ضد سے۔ آج وہ نہ صرف ساس اور بہو تھیں، بلکہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کی ساتھی بھی۔
Post a Comment