زندگی ہمیش اندھیرا اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ روشنی کی کرن دیکھنا محال ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی تین بہن بھائیوں کی ہے جو ایک حادثے کے بعد زندگی کی تاریکی میں گھر گئے لیکن اپنی ہمت، جستجو اور محبت کے سہارے آخر کار اپنی منزل پا ہی لی۔
بکھرتا ہوا آشیانہ
علی، حمزہ اور عائشہ، تین بہن بھائی تھے۔ ان کے والدین ایک سڑک حادثے میں اچانک اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ حادثہ ان کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ ایک پل میں ان کی خوشیوں بھری دنیا اندھیروں میں ڈوب گئی۔ والدین کے سائے کے بغیر، وہ بے یار و مددگار رہ گئے۔
علی سب سے بڑا تھا، صرف 19 سال کا۔ حمزہ 16 کا اور سب سے چھوٹی عائشہ محض 12 برس کی تھی۔ ماں باپ کے بغیر زندگی گزارنا کسی آزمائش سے کم نہیں تھا۔ خاندان کے کچھ لوگوں نے مدد کا وعدہ کیا، مگر وقت کے ساتھ وہ وعدے بھی دھندلا گئے۔ وہ تینوں اپنے ہی حال پر چھوڑ دیے گئے۔
مشکلات کا سمندر
وراثت میں جو کچھ ملا، وہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔ حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا، اور پیٹ بھرنے کی فکر ہر لمحہ انہیں کھائے جا رہی تھی۔
علی نے محنت مزدوری کا فیصلہ کیا۔ اس نے ایک ورکشاپ میں کام شروع کر دیا۔ دن بھر سخت محنت کرتا، شام کو تھکا ہارا گھر آتا لیکن چہرے پر ہمیشہ حوصلے کی چمک رہتی۔ حمزہ بھی اسکول کے بعد ایک چھوٹے سے ہوٹل میں کام کرنے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اور علی محنت نہ کرتے، تو ان کی چھوٹی بہن عائشہ کا مستقبل بھی تباہ ہو جاتا۔
قربانیوں کا سلسلہ
علی کی خواہش تھی کہ کم از کم عائشہ کی تعلیم متاثر نہ ہو، اس لیے وہ اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر اپنی بہن کے تعلیمی اخراجات پورے کرتا رہا۔ حمزہ نے بھی اپنی تعلیم چھوڑ کر علی کا ہاتھ بٹانے کا فیصلہ کیا، مگر علی نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ حمزہ اپنی تعلیم مکمل کرے تاکہ وہ ایک بہتر زندگی گزار سکے۔
دن، مہینے اور سال گزرتے گئے۔ مشکلات کم نہ ہوئیں، مگر حوصلہ بھی کمزور نہیں ہوا۔ علی نے اپنی مہارت میں اضافہ کیا اور جلد ہی ایک اچھی نوکری حاصل کر لی۔ حمزہ نے بھی تعلیم مکمل کر لی اور ایک کمپنی میں کام مل گیا۔
مزید مشکلات اور کامیابی کی راہ
کچھ سال بعد، علی کو کاروبار شروع کرنے کا خیال آیا۔ وہ جانتا تھا کہ نوکری سے زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ وہ کچھ اپنا کرے۔ مگر اس کے پاس سرمایہ نہیں تھا۔ حمزہ نے اپنی بچت سے علی کو مدد فراہم کی اور دونوں نے مل کر ایک چھوٹا سا گیراج کھولا جہاں علی نے گاڑیوں کی مرمت اور سروس کا کام شروع کیا۔ ابتدا میں کام سست رہا، مگر علی کی محنت اور ایمانداری نے جلد ہی اسے کامیاب بنا دیا۔
دوسری طرف، حمزہ نے کمپنی میں مزید محنت کی اور اپنی قابلیت سے ترقی حاصل کی۔ وہ ایک سینئر انجینئر بن گیا اور مالی طور پر کافی مستحکم ہو گیا۔ اس نے عائشہ کی تعلیم میں مزید مدد کی، تاکہ وہ اپنی ڈاکٹر بننے کی خواہش پوری کر سکے۔
زندگی کی نئی راہ
کچھ ہی سالوں میں، علی کا گیراج ایک بڑی ورکشاپ میں بدل گیا، جہاں کئی مزدور کام کرنے لگے۔ حمزہ کی نوکری میں مزید ترقی ہوئی، اور وہ ایک بہتر شہر میں منتقل ہو گیا۔ عائشہ نے میڈیکل کی تعلیم مکمل کر کے اسپتال میں نوکری حاصل کر لی۔
اب وہ تینوں ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ جن دنوں وہ بھوکے سوتے تھے، وہ اب صرف ایک یاد بن گئے تھے۔ مشکلات نے انہیں مضبوط بنا دیا تھا، اور اب وہ دوسروں کی مدد کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے تاکہ کوئی اور ان کی طرح بے سہارا نہ رہے۔
اختتام
یہ سفر آسان نہیں تھا۔ مگر محبت، قربانی اور استقامت نے انہیں وہ مقام دلا دیا جہاں آج وہ فخر سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں، تو زندگی کی کٹھنائیوں کا سامنا کیا جا سکتا ہے اور اندھیروں کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔ اب وہ اپنے والدین کے خوابوں کو حقیقت میں بدل چکے تھے، اور یہ جانتے تھے کہ ہر مشکل کے بعد ایک نئی صبح آتی ہے، جو امید کی کرن سے بھرپور ہوتی ہے۔
ہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی دھوپ ہوتی ہے تو کبھی چھاؤں، اور کبھی
Post a Comment