FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"زخموں کی گواہ"

 عنوان: زہر کا پیالہ

حصہ اول: خوابوں کا محل

فرح ایک حسین، نرم دل اور خواب دیکھنے والی لڑکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک چمک رہتی تھی، جو اس کی معصومیت اور امیدوں کی گواہ تھی۔ اس کے والدین نے بہت محبت سے اسے پالا تھا، اور اس کی شادی ایک خوشحال اور نیک خاندان میں کروانے کا خواب دیکھا تھا۔ جب فرح کی شادی عمران سے طے پائی، تو سب نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ عمران ایک اچھی نوکری کرتا تھا، اور اس کا خاندان معاشرتی طور پر معزز تھا۔ فرح کو لگا کہ اس کا خواب سچ ہونے والا ہے۔

شادی کا دن آیا، اور وہ اپنے سسرال میں قدم رکھتے ہی ایک نئی دنیا میں داخل ہو گئی۔ اس کے دل میں بے شمار خواب تھے، مگر یہ خواب حقیقت کے تیز دھار سے ٹکرا کر چکنا چور ہونے والے تھے۔



حصہ دوم: ظلم کے سائے

شادی کے ابتدائی دنوں میں سب کچھ ٹھیک تھا، مگر جلد ہی سسرال والوں کے رویے میں بدلاؤ آنے لگا۔ ساس نے اس کے لباس اور چال ڈھال پر تنقید شروع کر دی، نندوں نے طنزیہ جملے کسنے شروع کر دیے، اور شوہر، جو پہلے محبت کی قسمیں کھاتا تھا، اب اس کی طرف کم ہی دیکھتا۔

فرح کو ہر کام میں نقص نکال کر ذلیل کیا جاتا۔ اگر کھانے میں نمک کم ہوتا تو ساس کہتی، "یہ تو سیدھی سادھی بات بھی نہیں سمجھ سکتی۔" اگر وہ تھک کر کچھ دیر بیٹھ جاتی تو نندیں کہتیں، "شاید ہمارے گھر میں رانی بن کر آئی ہے۔" شوہر عمران اپنی ماں اور بہنوں کی ہاں میں ہاں ملانے لگا۔ وہ ہر روز اس پر چیختا، بعض اوقات مار پیٹ بھی کرتا۔

حصہ سوم: امید کا دیا

فرح کی امیدوں کا دیا تب جلنے لگا جب اسے معلوم ہوا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ اس نے سوچا کہ شاید اب سسرال والے اس کے ساتھ بہتر سلوک کریں گے۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ ساس کہنے لگی، "یہ بھی پتہ نہیں کہ لڑکی ہوگی یا لڑکا۔ اگر لڑکی ہوئی تو تمہاری خیر نہیں۔"

نو ماہ گزرے، اور اللہ نے فرح کو ایک بیٹی عطا کی۔ مگر یہ خوشی سسرال والوں کے لیے زہر سے کم نہ تھی۔ عمران نے اس کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا، اور ساس نے اسے کوسنے دینا شروع کر دیے۔ "ہمارے خاندان میں ہمیشہ بیٹے پیدا ہوتے ہیں، یہ منحوس لڑکی کہاں سے آ گئی؟" فرح نے اپنے آنسو پونچھے اور بیٹی کو گلے سے لگا لیا۔



حصہ چہارم: ستم کی انتہا

فرح کا جینا اور مشکل ہو گیا۔ اسے کھانے کے لیے باسی روٹی اور بچے کھچے سالن دیے جانے لگے۔ اسے مارا پیٹا جانے لگا، اور عمران نے دوسری شادی کی دھمکی دینا شروع کر دی۔ "تم میرے کسی کام کی نہیں، میں دوسری شادی کروں گا،" وہ روز کہتا۔

ایک دن، فرح کی ساس نے اسے چولہے پر چائے بنانے کا کہا۔ وہ چائے بنا رہی تھی کہ اچانک ساس نے اسے زور سے دھکا دیا، اور اس کا ہاتھ گرم چائے پر جا پڑا۔ وہ تڑپ کر پیچھے ہٹی تو نند نے طنز کیا، "یہ سب ڈرامہ ہے، ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔" فرح نے کسی سے کوئی شکوہ نہ کیا، مگر اندر سے وہ ٹوٹتی جا رہی تھی۔

حصہ پنجم: آخری سانسیں

ایک رات، عمران نے نشے میں دھت ہو کر فرح پر ہاتھ اٹھایا۔ اس کے چہرے پر نیل پڑ گئے، اور وہ زمین پر گر گئی۔ صبح جب اس کی ماں سے فون پر بات ہوئی، تو اس نے بمشکل کہا، "اماں، مجھے لے جاؤ یہاں سے، میں اب نہیں رہ سکتی۔" مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

اسی شام، ساس نے اسے کھانے میں کچھ ملا کر دیا۔ کھانے کے بعد فرح کی طبیعت بگڑنے لگی، اور وہ کراہنے لگی۔ عمران نے اسے اسپتال لے جانے کے بجائے دروازہ بند کر دیا۔ وہ تڑپتی رہی، اپنی معصوم بیٹی کو دیکھتی رہی، مگر کسی کو رحم نہ آیا۔

صبح، جب دروازہ کھولا گیا، تو فرح کا بے جان جسم وہاں پڑا تھا۔ ایک معصوم بچی ماں کی چھاتی سے لگی رو رہی تھی، مگر ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔

اختتام: ظلم کی داستان

فرح کی موت کو خودکشی قرار دے دیا گیا، اور سسرال والوں نے اسے دبا دیا۔ اس کی بیٹی نانی کے پاس چلی گئی، اور ایک نئی زندگی کی تلاش میں نکل پڑی۔ مگر فرح کی کہانی ہر اس عورت کی کہانی ہے جو شادی کے بعد ظلم سہتی ہے، مگر کوئی اس کی فریاد نہیں سنتا۔

فرح چلی گئی، مگر اس کی یادیں، اس کا درد، اور اس کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔



0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...