FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

پہاڑوں کی پکار: ایک سنسنی خیز مہماتی سفر

                                                                                                         سفر کی لذت: پہاڑوں کی سیر کی دلچسپ کہان

ایک بار کا ذکر ہے کہ میں اور میرے دوستوں نے مل کر ایک ایسے مقام پر جانے کا ارادہ کیا جو ہمارے لیے ایک غیر معمولی جگہ تھی۔ ہماری منزل سمنی کے پہاڑ تھے جو اپنے فطری حسن اور غیر معمولی بلندی کی وجہ سے مشہور تھے۔ ہم سب ایک عرصے سے کسی مہماتی سفر کے خواہشمند تھے، اور بالآخر یہ موقع ہمیں میسر آ ہی گیا۔

ہمارا سفر ایک صبح کے وقت شروع ہوا جب سورج مشرق سے اوپر اٹھ رہا تھا اور ہم سب اپنے سفر کی تیاری میں مصروف تھے۔ ہمارا مقصد نہ صرف کیمپنگ اور پہاڑ چڑھنا تھا بلکہ اس کی روانی اور موسم کی لذت اپنے انداز میں لینا بھی اہم تھا۔ راستے میں ہم نے کئی جھیلیں اور چشمے دیکھے جن کا پانی شفاف اور ٹھنڈا تھا۔ ہر لمحہ ایک نیا تجربہ تھا، ایک نئی حیرانی تھی جو فطرت کی گود میں ہمیں مل رہی تھی


۔

پہلی منزل ایک معمولی کیمپ سائٹ تھی مگر جیسے جیسے ہم پہاڑوں کی انسانی آبادی سے دور ہوتے گئے، ویسے ہی خطرے اور مہم جوئی کی رومانوی فضا بھی بڑھتی گئی۔ ہمارے ساتھ سفر میں کیمپنگ کی لذت اور پہاڑوں کی سحر انگیز خوبصورتی دیکھنے کا جوش بھی بہت زیادہ تھا۔ پہاڑی راستوں پر قدم جمانا آسان نہ تھا، مگر ہم سب ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

ملکی جنگل کی شام اور پہاڑی روشنی ہمیں ایک نئے تجربے کی طرف لے جا رہی تھی۔ جیسے جیسے ہم اونچائی کی طرف بڑھتے گئے، موسم مزید ٹھنڈا ہوتا گیا اور ہوا کی تازگی نے ہمیں مزید پرجوش کر دیا۔ ہر موڑ پر قدرت کے حسین مناظر ہمیں دنگ کر دیتے۔ اونچے درختوں کے درمیان چلنے کا اپنا ایک الگ لطف تھا، پرندوں کی چہچہاہٹ اور ہوا کی سرسراہٹ ہمیں خوش آمدید کہہ رہی تھی۔

راستے میں ہمیں کچھ مقامی چرواہے بھی ملے جو اپنی بھیڑ بکریاں چرا رہے تھے۔ ان کے ساتھ گفتگو میں ہمیں علاقے کی بہت سی دلچسپ کہانیاں سننے کو ملیں۔ ایک چرواہے نے ہمیں بتایا کہ ان پہاڑوں میں کئی صدیوں سے لوگ عبادت کے لیے آتے رہے ہیں اور یہاں کئی پراسرار داستانیں مشہور ہیں۔ اس کہانی نے ہمیں مزید تجسس میں ڈال دیا اور ہم نے سوچا کہ ان کہانیوں کی حقیقت جاننے کے لیے ہمیں مزید آگے جانا ہوگا۔

رات کو جب ہم نے کیمپ لگایا تو آسمان تاروں سے بھرا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ہوا اور لکڑیوں کی ہلکی آنچ ہمیں گرم رکھنے میں مدد


 دے رہی تھی۔ ہم سب نے آگ کے گرد بیٹھ کر کہانیاں سنائیں اور گٹار پر گانے بھی گائے۔ وہ لمحہ زندگی کے حسین ترین لمحات میں سے ایک تھا۔ وہ خاموشی، وہ سکون، اور قدرت کے ساتھ وہ قربت ہمیں بہت کچھ سکھا رہی تھی۔

اگلی صبح ہم نے ایک اور بلند چوٹی کو سر کرنے کا فیصلہ کیا۔ سفر دشوار تھا مگر جوش و خروش نے ہمیں تھکن کا احساس نہیں ہونے دیا۔ جیسے ہی ہم چوٹی پر پہنچے، نیچے کا منظر ناقابل بیان تھا۔ گھنے جنگلات، بہتے دریا اور نیلے آسمان نے ہمیں \اپنے سحر میں جکڑ لیا

راستے میں ہمیں ایک غار نظر آئی، جس کے بارے میں چرواہوں نے ہمیں خبردار کیا تھا کہ وہاں قدیم دور کے آثار موجود ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ اسے دریافت کرنا ضروری ہے۔ جب ہم اندر داخل ہوئے تو اندھیرے اور ٹھنڈک نے ہمیں اپنی گرفت میں لے 



لیا۔ دیواروں پر کچھ قدیم تحریریں اور نقش و نگار بنے ہوئے تھے، جو کسی قدیم تہذیب کی نشانیاں معلوم ہوتی تھیں۔

یہ سفر نہ صرف ایک یادگار مہم تھا بلکہ ایک سیکھنے کا موقع بھی تھا۔ ہم نے سادگی، مہم جوئی اور فطرت کے قریب رہنے کی حقیقی خوشی کو محسوس کیا۔ ہمارے درمیان ہر ایک نے وعدہ کیا کہ ہم دوبارہ اس جگہ آئیں گے اور قدرت کی ان خوبصورت وادیوں میں مزید وقت گزاریں گے۔

یہ کہانی ایک یادگار سفر کی ہے، جو ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ پہاڑوں کی خوبصورتی، دریاؤں کی روانی، جنگل کی خاموشی اور دوستوں کے ساتھ گزارا گیا وقت وہ خزانہ تھا جو ہم ہمیشہ اپنی یادوں میں محفوظ رکھیں گے۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...