FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"نادان اولاد، بے بس والدین

  عنوان: "پچھتاوے کی آگ"

صبح کے سنہری اجالے نے پورے گاؤں کو روشن کر دیا تھا، پرانے برگد کے درخت کے نیچے دو بوڑھی آنکھیں اُفق کی طرف تَک رہی تھیں۔ رحمت علی اور اس کی بیوی زینب، جو کبھی اپنے گھر کے آنگن میں ہنستے بستے تھے، آج گاؤں کے دروازے پر ایک تنہا بنچ پر بیٹھے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ویرانی تھی، اور دل حسرتوں کا مرقع بن چکا تھا۔

یہ سب اس دن سے شروع ہوا جب ان کے بیٹے ندیم اور جمشید، جو شہر جا کر پڑھ لکھ کر بڑے افسر بن گئے تھے، واپس آئے۔ باپ نے فخر سے سینہ چوڑا کر لیا تھا، ماں نے شکرانے کے نفل ادا کیے تھے کہ اُن کے بیٹے اب گھر آ کر آرام سے رہیں 

گے، مگر انہیں کیا خبر تھی کہ قسمت ان کے لیے ایک اور آزمائش تیار کر چکی ہے۔

ظلم کی ابتدا

ندیم اور جمشید کی شادیاں ہو چکی تھیں، وہ اپنی بیویوں کے ساتھ واپس آئے۔ شروع میں سب کچھ ٹھیک رہا، مگر پھر آہستہ آہستہ ان کے رویے بدلنے لگے۔ پہلے باتوں میں تلخی آئی، پھر احکامات جاری ہونے لگے۔

"ابا، یہ پرانا مکان ہمارے قابل نہیں، ہم اسے جدید طرز پر بنوانا چاہتے ہیں۔" "امی، آپ دونوں کو بزرگوں کے لیے بنائے گئے 

ایک اولڈ ہوم میں رہنا چاہیے، وہ جگہ آپ کے لیے زیادہ آرام دہ ہوگی۔


"

رحمت علی اور زینب پر یہ الفاظ بجلی بن کر گرے۔ یہ وہ گھر تھا جسے انہوں نے اپنی جوانی کی محنت سے بنایا تھا، جس میں ان کے بچوں کی ہر خوشی بسی تھی۔

نکلنے کا حکم

جب ماں نے احتجاج کیا تو بہو نے کہا، "امی، اب ہمارا بھی حق ہے، ہم نے بھی زندگی گزارنی ہے۔ آپ لوگ ہمیں قید میں نہیں رکھ سکتے۔"

باپ نے نظر اٹھائی، مگر ندیم اور جمشید نے نظریں چرالیں۔ ان کا فیصلہ ہو چکا تھا۔

"یہ گھر اب ہمارا ہے، آپ دونوں کہیں اور چلے جائیں۔"

بوڑھے ماں باپ کے دل میں گویا خنجر اتر گیا۔ وہ خاموشی سے دروازے کے باہر آ کر بیٹھ گئے، جہاں برسوں پہلے ان کے بچوں نے پہلی بار قدم رکھنا سیکھا تھا۔

جدائی کا کرب

رات کی تاریکی میں جب ہوا کی سردی بڑھ جاتی، زینب سسکیاں لیتی، "رحمت، ہمارے بیٹے ایسے کیسے ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم نے انہیں محبت نہیں دی؟"

رحمت کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ان کی نظریں بس گاؤں کے ان راستوں پر جمی رہتیں، جہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ کبھی چہل قدمی کیا کرتے تھے


۔

وقت کا انتقام

مہینے گزرتے گئے، ندیم اور جمشید نے نیا گھر بنا لیا، پر سکون نہ پاسکے۔ کاروبار میں نقصان ہونے لگا، بچے باغی ہو گئے۔ دولت کے پیچھے بھاگنے والے والدین کو اپنی اولاد کی بغاوت نے حیران کر دیا۔

ایک دن خبر آئی کہ ندیم کا بیٹا زاہد کسی بری صحبت میں پڑ گیا اور جمشید کی بیٹی نے گھر چھوڑ دیا۔ دونوں بھائیوں کے سر شرم سے جھک گئے۔

پچھتاوے کا عذاب

اب وہ ماں باپ کو تلاش کرنے نکلے، جو دن رات انہیں یاد کرتے تھے۔ وہی درخت جس کے نیچے وہ دونوں رہ رہے تھے، وہاں آج صرف زینب کی چادر پڑی تھی۔ گاؤں والوں نے بتایا، "تمہاری ماں چند دن پہلے اس دنیا سے چلی گئی، اور تمہارے باپ نے بولنا چھوڑ دیا ہے۔"

ندیم اور جمشید زمین پر گر کر رو دیے، پر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

نتیجہ

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ والدین کے بغیر دنیا کی کوئی خوشی پائیدار نہیں۔ دولت اور سہولتیں وقتی ہیں، مگر والدین کی دعائیں ہمیشہ زندگی میں برکت کا باعث بنتی ہیں۔ جو اولاد والدین سے بے رخی برتتی ہے، وہ کبھی خوشحال نہیں رہ سکتی۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...