عنوان: ہولناک ولا کا خونی راز
رات کا اندھیرا ہر سو پھیل چکا تھا، سرد ہوا کے جھونکے درختوں کی سوکھی شاخوں سے ٹکرا کر عجیب سی سرگوشیاں پیدا کر رہے تھے۔ ویران راستے کے کنارے ایک قدیم، وسیع و عریض ولا کھڑا تھا، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ آسیب زدہ ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے خوفناک قصے بڑھتے جا رہے تھے، لیکن حقیقت کوئی نہیں جانتا تھا۔
رضوان اور اس کے دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس ولا کے راز کو جاننے کے لیے ایک رات وہاں گزاریں گے۔ ان سب کو مہم جوئی کا بے حد شوق تھا، لیکن اس بار کا تجربہ ان کی سوچ سے کہیں زیادہ بھیانک ہونے والا تھا۔
ولا میں داخلہ
رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے جب وہ سب ولا کے بڑے اور بوسیدہ دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔ دروازہ ہلکی سی دھکیلنے پر چرچراتے ہوئے کھل گیا۔ اندر کی فضا میں گھٹن اور نمی کی بو بسی ہوئی تھی۔ دیواروں پر مٹی اور جالے چھائے ہوئے تھے، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہاں صدیوں سے کوئی نہیں آیا۔
“یہ تو عام خالی گھر کی طرح لگ رہا ہے،” علی نے ہنستے ہوئے کہا۔
“ابھی زیادہ خوش نہ ہو، ہمیں ابھی یہاں کی حقیقت کا سامنا کرنا ہے،” رضوان نے جواب دیا۔
غیر مرئی سائے اور پراسرار آوازیں
جیسے ہی وہ اندر بڑھے، زمین پر بکھری ہوئی چیزوں پر ان کے قدموں کی آواز گونجنے لگی۔ اچانک ایک سرد ہوا کا جھونکا آیا، اور ایک دروازہ خودبخود بند ہوگیا۔ سب ایک دوسرے کی طرف خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
“یہ ہوا کی وجہ سے ہوگا،” نایاب نے خود کو تسلی دی۔
لیکن تبھی دیواروں پر کسی کے چلنے کی مدھم آوازیں سنائی دینے لگیں۔ رضوان نے ٹارچ جلاتے ہوئے ادھر ادھر روشنی ڈالی، لیکن کچھ نظر نہ آیا۔
“یہاں کوئی ہے؟” علی نے بلند آواز میں پکارا، لیکن جواب میں بس ایک گونجتی ہوئی خاموشی تھی۔
خفیہ تہہ خانہ اور خون سے لت پت لکڑی
ولاح کے اندر ایک پرانی سیڑھی نیچے تہہ خانے کی طرف جاتی تھی۔ وہ سب تجسس کے مارے نیچے اترنے لگے۔ جیسے ہی وہ نیچے پہنچے، ان کے سامنے ایک بڑی سی میز رکھی تھی جس پر خون کے دھبے جمی ہوئی تھے۔
“یہ خون کہاں سے آیا؟” نایاب نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
اسی لمحے دیواروں پر ہاتھوں کے سرخ نشانات ابھرنے لگے اور فرش پر کسی کے قدموں کی آوازیں آنے لگیں۔
“یہ جگہ واقعی آسیب زدہ ہے، ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا چاہیے،” علی نے کہا۔
لیکن جیسے ہی وہ واپسی کے لیے مڑے، دروازہ خودبخود بند ہوگیا اور ایک کرخت آواز گونجی، “اب تم لوگ یہاں سے جا نہیں سکتے!”
خونی ماضی کا انکشاف
اچانک ہوا میں ایک عورت کی دھندلی شبیہ نمودار ہوئی۔ اس کی آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا، اور وہ زور زور سے ہنس رہی تھی۔
“یہ کون ہے؟” نایاب نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
“یہ اس ولا کی سابقہ مالکن ہے۔” رضوان نے ایک پرانی کتاب سے صفحہ پلٹتے ہوئے کہا۔ “یہ ولا ایک امیر خاندان کا تھا، لیکن یہاں ایک خوفناک قتل ہوا تھا۔”
“کیا قتل؟” علی نے سانس روکتے ہوئے پوچھا۔
“یہاں ایک عورت کو بے دردی سے مار دیا گیا تھا، اور اس کی روح آج بھی بدلہ لینے کے لیے بھٹک رہی ہے۔”
فرار یا موت؟
یہ سنتے ہی سب نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی، لیکن وہ مضبوطی سے بند تھا۔ اچانک ایک بھاری چیز ہوا میں اڑی اور علی کے سر پر آ کر لگی، وہ بے ہوش ہو کر گر گیا۔ نایاب چیخنے لگی، جبکہ رضوان اور حسن نے مل کر ۔۔
دروازہ زور سے دھکا دیا۔
یکایک ایک دھماکے کی آواز کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔ وہ سب تیزی سے باہر کی طرف بھاگے، لیکن جیسے ہی وہ ولا سے نکلے، علی کی آنکھیں کھل گئیں۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سرخی تھی۔
“علی، تم ٹھیک ہو؟” رضوان نے پریشانی سے پوچھا۔
علی نے ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ سر اٹھایا اور بولا، “میں علی نہیں ہوں!”
اور اسی لمحے سب کی چیخیں گونج اٹھیں۔(اختتام)
Post a Comment