FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"منظور کا خزانہ: ایک خوفناک راز"

"منظور کا خزانہ: ایک خوفناک راز"                                                                                            



شہر کے ایک کونے میں ایک پرانا، خستہ حال گھر تھا، جس کے بارے میں لوگوں میں مختلف کہانیاں مشہور تھیں۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ یہ گھر بھوتوں کا مسکن ہے، جبکہ کچھ کا ماننا تھا کہ یہاں خزانہ دفن ہے۔ اس گھر کا مالک، ایک بوڑھا شخص تھا جس کا نام منظور تھا۔ منظور کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ بہت امیر تھا، لیکن اس نے اپنی دولت چھپا رکھی تھی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ دولت کہاں ہے۔

ایک دن، منظور کے اچانک انتقال کی خبر پھیل گئی۔ شہر کے لوگ حیران تھے کیونکہ منظور کی موت کے ساتھ ہی اس کی دولت کا راز بھی دفن ہو گیا تھا۔ اسی دوران، چار دوست – حارث، وقار، سعد اور علی – جو کہ مہم جوئی کے شوقین تھے، اس راز کو جاننے کے لیے تیار ہو گئے۔

"ہمیں منظور کے گھر جانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ وہاں کیا چھپا ہوا ہے،" حارث نے تجویز دی۔

وقار نے خوفزدہ ہوتے ہوئے کہا، "لیکن لوگ کہتے ہیں کہ وہ گھر آسیب زدہ ہے!"

سعد نے مذاق کرتے ہوئے کہا، "ارے وقار، اگر ہم خزانہ ڈھونڈ لیں تو تمہیں بھوتوں کی فکر نہیں ہوگی!"

علی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، "چلو، رات کو وہاں چلتے ہیں۔ دن کے وقت جانا بے وقوفی ہوگی کیونکہ لوگ دیکھ سکتے ہیں۔"

رات کو، چاند کی روشنی میں، چاروں دوست چپکے سے منظور کے پرانے گھر پہنچ گئے۔ گھر کی حالت بہت خستہ تھی، کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور دروازے پر زنگ لگا ہوا تھا۔ جیسے ہی وہ گھر کے اندر داخل ہوئے، سرد ہوا کا ایک جھونکا ان کے چہروں سے ٹکرایا۔

"یہ جگہ واقعی خوفناک ہے،" وقار نے دبے دبے لہجے میں کہا۔

علی نے ٹارچ نکالی اور کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ "یہاں تو کچھ خاص نظر نہیں آرہا، شاید ہمیں نیچے تہہ خانے میں جانا چاہیے۔"

حارث نے کہا، "تمہیں کیسے پتا کہ یہاں تہہ خانہ ہے؟"

علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "یہ پرانے گھروں میں ہمیشہ تہہ خانہ ہوتا ہے۔ چلو، تلاش کرتے ہیں۔"

کچھ دیر بعد انہیں تہہ خانے کا دروازہ مل گیا، جو آدھا کھلا ہوا تھا۔ جیسے ہی انہوں نے دروازہ کھولا، ایک عجیب سی بو ان کے نتھنوں میں گھس گئی۔ تہہ خانہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، اور صرف علی کی ٹارچ کی روشنی ہی ان کے راستے کو ظاہر کر رہی تھی۔

"مجھے یہ جگہ پسند نہیں آ رہی،" وقار نے کہا، لیکن باقی دوستوں نے اس کی بات کو نظرانداز کر دیا۔

Chat

حارث نے ہنستے ہوئے کہا، "بھوتوں کی باتیں صرف کہانیاں ہیں۔ ہم چاروں دوست ہیں، کچھ نہیں ہوگا۔ اگر ہم ڈر گئے، تو کبھی کچھ نیا نہیں کر سکیں گے۔"

سعد نے حارث کی حمایت کی، "ہاں، ہمیں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اگر منظور کے گھر میں واقعی خزانہ ہے تو ہم امیر ہو سکتے ہیں۔"

علی نے بھی ہامی بھر لی، اگرچہ وہ تھوڑا سا پریشان نظر آ رہا تھا۔ چاروں دوستوں نے منصوبہ بنایا کہ وہ رات کے وقت منظور کے پرانے گھر جائیں گے تاکہ کوئی انہیں نہ دیکھے۔ رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا اور شہر کی سڑکیں سنسان تھیں۔ چاروں دوست چھپتے چھپاتے منظور کے گھر پہنچے۔

گھر کے باہر کھڑے ہو کر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پرانا مکان ویران اور خوفناک نظر آ رہا تھا۔ حارث نے آگے بڑھ کر گھر کا دروازہ کھولا جو زنگ آلود ہونے کے باعث بڑی آواز سے کھلا۔ اندر کا ماحول سرد اور خاموش تھا، جیسے برسوں سے کوئی وہاں نہیں آیا ہو۔

وقار نے دھیرے سے کہا، "یہ جگہ واقعی ڈراؤنی لگ رہی ہے۔"

سعد نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، "ہم یہاں خزانہ ڈھونڈنے آئے ہیں، ڈرنے کا وقت نہیں ہے۔"

گھر کے اندر جاتے ہی ان کے قدموں کی آواز سنسان کمرے میں گونجنے لگی۔ ہر کمرہ خالی تھا، دیواروں پر پرانی تصویریں لٹکی ہوئی تھیں اور زمین پر مٹی کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی۔

علی نے جلدی سے ایک ٹارچ نکالی اور روشنی کی۔ وہ چاروں ایک بڑے کمرے میں پہنچے جہاں دیوار کے ساتھ ایک پرانی الماری رکھی ہوئی تھی۔

"شاید کچھ یہاں چھپا ہو،" حارث نے کہا اور الماری کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی اس نے الماری کا دروازہ کھولا، اندر سے ایک پرانا صندوق نظر آیا۔ صندوق کا تالا زنگ آلود تھا، لیکن سعد نے زور لگایا اور تالا توڑ دیا۔

صندوق کھلتے ہی ان کی آنکھوں کے سامنے سنہری سکے اور ہیرے جگمگانے لگے۔ چاروں کی سانسیں رک گئیں۔

"یہ واقعی خزانہ ہے!" علی نے خوشی سے چیخ کر کہا۔

لیکن ابھی ان کی خوشی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک کمرے میں ایک عجیب سی آواز گونجی۔ ایک سرد ہوا کا جھونکا آیا اور کمرے کے دروازے خود بخود بند ہو گئے۔

وقار نے خوفزدہ ہو کر کہا، "یہ کیا ہو رہا ہے؟"

سب کے دلوں میں خوف بیٹھ گیا تھا۔ اچانک دیواروں پر لگی تصویریں ہلنے لگیں اور ایک بوڑھے آدمی کی پرچھائیں ان کے سامنے نمودار ہوئی۔ وہ پرچھائیں منظور کی تھی، جو اپنے خزانے کی حفاظت کے لیے وہاں موجود تھا۔

"یہ خزانہ میرا ہے!" ایک گونجتی ہوئی آواز سنائی دی۔ "تم لوگ اسے نہیں لے جا سکتے!"

چاروں دوست خوف سے لرز اٹھے۔ حارث نے کانپتے ہوئے کہا، "ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے!"

لیکن دروازے بند ہو چکے تھے اور کمرہ جیسے کسی انجان قوت کے قابو میں تھا۔ پرچھائیں مزید قریب آتی جا رہی تھی اور ہر لمحہ ان کا خوف بڑھتا جا رہا تھا۔ سعد نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا، "ہمیں اکٹھے رہنا ہوگا۔ شاید یہ ہماری آزمائش ہے۔"

اسی دوران، علی نے دیوار کے ایک کونے میں ایک چھوٹی سی کھڑکی دیکھی۔ "وہ دیکھو! وہاں سے نکلنے کا راستہ ہے!" اس نے اشارہ کیا۔

بغیر وقت ضائع کیے، وہ چاروں اس کھڑکی کی طرف دوڑے۔ علی نے سب سے پہلے کھڑکی کھولی اور باہر نکلنے کی کوشش کی۔ لیکن جیسے ہی وہ کھڑکی کے قریب پہنچے، پرچھائیں نے چیخ مار کر کہا، "تم اس خزانے کو نہیں لے جا سکتے!" اور کمرے میں ہر چیز ہلنے لگی۔

حارث، علی، وقار، اور سعد نے مل کر کھڑکی کے باہر چھلانگ لگائی اور جلدی سے گھر سے باہر نکل گئے۔ باہر کی تازہ ہوا نے انہیں زندگی کا احساس دلایا۔ وہ سب تیزی سے دوڑتے ہوئے گھر سے دور جا پہنچے۔

جب وہ کافی دور پہنچ گئے، تو سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور تھوڑا سا سکون کا سانس لیا۔ وقار نے ہانپتے ہوئے کہا، "یہ کیا تھا؟ وہ واقعی بھوت تھا یا ہماری نظر کا دھوکہ؟"

علی نے جواب دیا، "میں نہیں جانتا، لیکن میں دوبارہ اس گھر کے قریب بھی نہیں جانا چاہتا۔"

سعد نے اتفاق کرتے ہوئے کہا، "شاید یہ منظور کی روح تھی جو اپنے خزانے کی حفاظت کر رہی تھی۔ ہمیں وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔"

حارث نے سر جھٹکتے ہوئے کہا، "شاید خزانے کی لالچ نے ہمیں یہ سب کرنے پر مجبور کیا، لیکن اب میں سمجھ گیا ہوں کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں چھیڑنا نہیں چاہیے۔"

چاروں دوست خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ ان کا مہم جوئی کا شوق اب خوف میں بدل چکا تھا، اور انہوں نے عہد کیا کہ وہ دوبارہ کبھی کسی خفیہ جگہ پر جانے کی کوشش نہیں کریں گے۔

شہر میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ منظور کے گھر میں جانے والے چار لڑکوں نے کسی نامعلوم قوت کا سامنا کیا تھا، اور اس کے بعد کسی نے اس گھر کے قریب جانے کی ہمت نہیں کی۔

خزانہ اب بھی منظور کے گھر میں تھا، لیکن اس تک پہنچنا ایک ایسا راز بن چکا تھا، جو شاید ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا تھا۔


                                                                                                

1/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...