"سایۂ گناہ"
شہر کی گلیاں اندھیری اور سنسان تھیں، اور ہوا میں ایک عجیب سی سردی تیر رہی تھی۔ جمشید ایک عام آدمی تھا، لیکن اس کی زندگی کا یہ دن کچھ غیر معمولی تھا۔ وہ شام ڈھلے اپنے دفتر سے نکلا اور تیز قدموں کے ساتھ اپنے گھر کی طرف چلنے لگا۔ اس کی بیوی نائلہ اس کا انتظار کر رہی تھی، اور یہ روز کا معمول تھا کہ وہ دونوں رات کے کھانے پر ملتے۔
راستے میں جمشید کو محسوس ہوا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اُس نے چند لمحے رُک کر پیچھے دیکھا، لیکن گلی خالی تھی۔ وہ خود کو یہ سمجھا کر کہ شاید یہ اس کی ذہنی تھکن کا نتیجہ ہے، دوبارہ چلنے لگا۔ مگر جوں جوں وہ آگے بڑھتا، وہی احساس دوبارہ ہوتا کہ کوئی اس کے پیچھے ہے۔
ہر قدم کے ساتھ جمشید کی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اُس نے فون نکال کر نائلہ کو کال کرنے کا سوچا، لیکن فون کی اسکرین اندھیری ہو گئی۔ جیسے ہی اس نے فون دوبارہ آن کرنے کی کوشش کی، ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا اور وہ فوراً پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا۔
"کون ہے؟" جمشید نے بلند آواز میں کہا، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ اس کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ گھر پہنچنے کی جلدی میں تھا، لیکن ہر قدم اسے ایک خوفناک تاریکی میں دھکیل رہا تھا۔
آخرکار، وہ اپنے گھر کے قریب پہنچا اور دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوتے ہی نائلہ اسے خوش آمدید کہنے کے لیے آگے بڑھی، لیکن وہ چپ تھی۔ جمشید کی آنکھوں میں خوف تھا، اور اس کی سانسیں بے قابو ہو رہی تھیں۔
"کیا ہوا؟" نائلہ نے فکر مند ہو کر پوچھا۔
"کچھ نہیں... شاید میری تھکن ہے، بس..." جمشید نے جواب دیا، لیکن وہ جانتا تھا کہ کچھ عجیب ہو رہا تھا۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد جمشید بستر پر لیٹ گیا، لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اس کے ذہن میں بار بار وہ سایہ دار احساس گردش کر رہا تھا، جیسے کوئی ہر وقت اس کے پیچھے ہو۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ نائلہ پہلے ہی سو چکی تھی، لیکن جمشید کی آنکھیں چھت کو گھور رہی تھیں۔ اچانک، ایک عجیب سی آواز نے کمرے کی خاموشی کو توڑ دیا۔ وہ آواز جیسے کسی چیز کے گھسٹنے کی تھی۔ جمشید نے فوراً آنکھیں بند کیں اور اپنے کانوں کو بند کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ آواز قریب ہوتی گئی۔
"یہ کیا ہو رہا ہے؟" جمشید کے دل میں خوف نے پنجے گاڑ لیے۔
وہ بستر سے اٹھا اور کمرے کی لائٹ آن کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن بلب کی روشنی پلک جھپکنے کے ساتھ بجھ گئی۔ اب کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
جمشید کا سانس اٹکنے لگا۔ اُس نے جلدی سے نائلہ کو جگانے کی کوشش کی، لیکن اس کے ہاتھ میں ایک عجیب سردی تھی۔ نائلہ کی جگہ خالی تھی۔
"نائلہ!" جمشید نے چیخ کر آواز دی، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ وہ بستر سے نیچے اترا اور دروازے کی طرف بھاگا، لیکن دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔
اب جمشید کی دھڑکن مزید تیز ہو گئی۔ وہ پسینے میں شرابور ہو چکا تھا، اور اس کے کانوں میں وہی عجیب آوازیں گونجنے لگیں۔ وہ روشنی کی تلاش میں تھا، لیکن اندھیرا اسے ہر طرف سے گھیرا ہوا تھا۔
"یہ خواب ہے؟" جمشید نے خود سے سوال کیا، لیکن سب کچھ اتنا حقیقت کے قریب تھا کہ خواب کہنا مشکل تھا۔
اچانک، ایک سرد ہاتھ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ جمشید کی چیخ اس کے گلے میں اٹک گئی۔ وہ مڑا، لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔
"کون ہے؟" جمشید کی آواز لرز رہی تھی۔
اسی لمحے، دروازہ دھیرے دھیرے کھل گیا۔ باہر کی ہوا اندر گھس آئی اور کمرہ سرد ہو گیا۔ جمشید نے قدم باہر رکھا اور گلی میں نکل آیا۔ وہاں کچھ بھی نہیں تھا، لیکن ایک سایہ مسلسل اس کا پیچھا کر رہا تھا۔
اب جمشید کو یقین ہو چکا تھا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ وہ بھاگنے لگا، لیکن جتنا تیز وہ بھاگتا، سایہ اتنی ہی تیزی سے اس کے پیچھے آتا۔
ایک لمحے کے لیے وہ رکا، اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔ گلی کی دیوار پر ایک بڑا سایہ تھا، جس کی کوئی شکل واضح نہیں تھی، لیکن وہ جیسے جمشید کی روح کو چھو رہا تھا۔
اچانک، سایہ حرکت کرنے لگا اور آہستہ آہستہ جمشید کے قریب آنے لگا۔ اس کی سانس رکنے لگی، اور اس کے قدم جمنے لگے۔
"یہ کیا ہے؟" جمشید نے اپنے دل میں سوچا۔ لیکن کوئی جواب نہ تھا، صرف اندھیرا اور سایہ۔
پھر ایک لمحے میں، وہ سایہ جمشید کے قریب آیا اور اُس پر چھا گیا۔ جمشید نے چیخنے کی کوشش کی، لیکن اس کی آواز بند ہو گئی۔ ہر چیز دھندلی ہونے لگی اور پھر ایک دم مکمل خاموشی چھا گئی۔
۔۔۔۔
جب جمشید کی آنکھ کھلی، تو وہ اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ نائلہ اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اور اس کا چہرہ فکر سے بھرا ہوا تھا۔
"کیا ہوا؟ تم چیخ رہے تھے،" نائلہ نے پریشان ہو کر پوچھا۔
جمشید نے اپنے اردگرد دیکھا، سب کچھ ٹھیک تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
"شاید... شاید کوئی خواب تھا،" جمشید نے سر ہلاتے ہوئے کہا، لیکن اس کا دل اب بھی دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ خواب نہیں تھا۔ وہ سایہ اب بھی کہیں موجود تھا، کسی اندھیرے کونے میں چھپا ہوا۔
نائلہ نے اُسے تسلی دی اور دوبارہ سونے کی کوشش کرنے کو کہا۔ جمشید نے آنکھیں بند کر لیں، لیکن دل میں وہ جانتا تھا کہ کچھ غیر معمولی ہو چکا ہے، اور یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
رات کے آخری پہر میں، جمشید نے خواب میں پھر وہی سایہ دیکھا۔ وہ اس کے قریب آ رہا تھا، اور اس بار جمشید جانتا تھا کہ اگلی بار یہ سایہ اسے کہاں لے جائے گا۔
دن کے اجالے میں بھی جمشید کو لگتا تھا کہ وہ سایہ کہیں نہ کہیں چھپا ہوا ہے، اس کی نظروں سے دور لیکن اس کے بہت قریب۔
جمشید کی زندگی اس رات کے بعد کبھی پہلے جیسی نہ رہی۔ وہ ہر وقت بےچین رہتا، ہر سایہ، ہر اندھیرا کونا اس کے لیے ایک نئی خوفناک حقیقت بن گیا تھا۔ اسے ہر لمحہ ایسا لگتا جیسے کوئی اس کے پیچھے ہے، کوئی اسے دیکھ رہا ہے، جیسے وہ سایہ اب اس کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔
اگلے چند دن جمشید نے خود کو کام میں مصروف رکھنے کی کوشش کی، لیکن بے سود۔ دفتر میں بھی اس کا دھیان بٹنے لگا، اور اس کی کارکردگی پر اثر پڑا۔ نائلہ کو بھی اس کی پریشانی محسوس ہو رہی تھی، لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر جمشید کو کیا ہو گیا ہے۔
ایک دن جب جمشید دفتر سے واپس آ رہا تھا، اُس نے دوبارہ وہی سایہ دیکھا۔ اس بار یہ واضح تھا—وہی شکل جو اس نے اس رات دیکھی تھی، اسے اب دن کی روشنی میں بھی نظر آنے لگی تھی۔ جمشید رک گیا اور ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لیں، دل کی دھڑکن مزید تیز ہو گئی۔ لیکن جب اُس نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو سایہ غائب ہو چکا تھا۔
گھر پہنچ کر جمشید نے فیصلہ کیا کہ اب وہ مزید اس خوف میں نہیں جی سکتا۔ اُس نے نائلہ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ "نائلہ، مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔" اُس کی آواز میں خوف اور بے بسی کی جھلک تھی۔
"کیا ہوا؟" نائلہ نے اُسے غور سے دیکھا۔
جمشید نے اُس رات کی پوری کہانی سنائی—وہ سایہ، گلی میں ہونے والے واقعات، اور اس کا بار بار پیچھا کیا جانا۔ نائلہ نے پہلے تو اسے وہم سمجھا، لیکن جمشید کے چہرے پر موجود خوف نے اسے سنجیدہ کر دیا۔
"تمہیں کسی سے بات کرنی چاہیے، شاید کوئی ماہر؟" نائلہ نے مشورہ دیا۔
"شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو، لیکن یہ سب اتنا حقیقی محسوس ہوتا ہے... یہ کوئی عام ڈراؤنا خواب نہیں ہے۔" جمشید نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
دوسرے دن جمشید نے ایک ماہر نفسیات سے وقت لیا اور ملاقات کی۔ ڈاکٹر نے اسے سنا اور کہا کہ یہ شاید ذہنی دباؤ یا کسی اندرونی خوف کی علامت ہو سکتی ہے۔ جمشید نے اس بات کو سنجیدگی سے لیا اور علاج شروع کیا، لیکن اس کا دل اب بھی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ یہ سب صرف اس کے دماغ کا کھیل تھا۔
کچھ دن گزرے اور جمشید کو وقتی طور پر سکون ملا۔ وہ سوچنے لگا کہ شاید ڈاکٹر درست تھا، اور یہ سب محض اُس کے ذہن کا فریب تھا۔ لیکن ایک رات، جب وہ سو رہا تھا، اُسے دوبارہ وہی احساس ہوا—ایک سرد ہاتھ، جیسے کسی نے اُسے چھو لیا ہو۔ وہ فوراً جاگ گیا، اور دیکھا کہ کمرہ پھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
اچانک، دروازہ خود بخود دھیرے سے کھل گیا۔ جمشید نے نائلہ کو جگانے کی کوشش کی، لیکن وہ بے حس و حرکت سو رہی تھی۔ جمشید کے دل میں خوف کی لہر دوڑ گئی، لیکن اس بار وہ بھاگا نہیں۔ وہ جانتا تھا کہ اب اسے اس سایے کا سامنا کرنا ہوگا۔
جمشید نے ہمت جمع کی اور دروازے کے باہر جھانکا۔ وہی سایہ سامنے کھڑا تھا، لیکن اس بار یہ سایہ کسی انسان کی طرح نہیں لگ رہا تھا، بلکہ یہ جیسے ہوا میں تحلیل ہوتا جا رہا تھا۔ جمشید نے اپنی سانس روکی اور ایک قدم آگے بڑھایا۔
"تم کون ہو؟" جمشید نے کپکپاتی آواز میں پوچھا۔
سایہ حرکت میں آیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے ہی دھیرے دھیرے ایک انسانی شکل اختیار کر گیا۔ یہ ایک بوڑھا آدمی تھا، جس کا چہرہ غمگین اور آنکھیں گہری تھی۔ جمشید کو ایسا لگا جیسے وہ آدمی برسوں سے کوئی بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔
"تمہیں میری مدد کرنی ہوگی..." سایہ دار آدمی نے دھیرے سے کہا، اور اس کی آواز میں ایک درد چھپا ہوا تھا۔
جمشید کی زبان خشک ہو گئی، لیکن وہ بولا، "مدد؟ تم کون ہو؟ اور کیا چاہتے ہو؟"
بوڑھے آدمی نے ایک لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر بولا، "میں مر چکا ہوں... برسوں پہلے۔ لیکن میری روح اب بھی قید ہے، ایک ایسی غلطی کے بوجھ تلے جسے میں درست نہیں کر سکا۔"
جمشید حیرت سے بوڑھے آدمی کو دیکھنے لگا، "کون سی غلطی؟"
بوڑھے آدمی نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ "میں نے اپنے وقت میں بہت ظلم کیے، لوگوں کے ساتھ برا کیا، اور اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کیے بغیر مر گیا۔ میری روح اس دنیا میں بھٹکتی رہی ہے، اور میں اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک کوئی میری غلطیوں کا کفارہ نہ دے دے۔"
جمشید نے گہری سانس لی، "لیکن میں کیا کر سکتا ہوں؟"
بوڑھا آدمی آگے بڑھا اور جمشید کے قریب آ کر بولا، "میرے گناہوں کا کفارہ تمہیں دینا ہوگا۔ تمہیں اُن لوگوں کو معاف کرانا ہوگا جن کے ساتھ میں نے برا کیا۔"
"لیکن میں انہیں کیسے تلاش کروں؟" جمشید نے بوکھلا کر پوچھا۔
بوڑھے آدمی نے ایک کاغذ جمشید کے ہاتھ میں دیا۔ "یہ وہ نام ہیں جن سے میں نے زیادتی کی۔ تمہیں انہیں تلاش کرنا ہوگا، اور ان سے معافی مانگنی ہوگی۔"
جمشید نے کاغذ پر نظریں دوڑائیں، اور اسے لگا جیسے یہ سب کچھ اس کے لیے ایک خواب کی طرح ہے، لیکن یہ حقیقت تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔ اسے ان لوگوں کو تلاش کرنا ہوگا، اور اس بوڑھے آدمی کی روح کو آزاد کرانا ہوگا۔
اگلے دن جمشید نے اپنی تلاش کا آغاز کیا۔ وہ ہر اُس شخص کو ڈھونڈنے لگا جس کا نام اُس فہرست میں تھا۔ کچھ لوگ گاؤں کے دور دراز علاقوں میں رہتے تھے، کچھ بڑے شہروں میں بکھر گئے تھے۔ جمشید ہر ایک سے ملا، ان کے سامنے بوڑھے آدمی کی کہانی سنائی، اور ان سے معافی مانگی۔
کچھ لوگوں نے اسے پاگل سمجھا، لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو سمجھ گئے کہ یہ معافی واقعی اہم ہے۔ ایک ایک کر کے، جمشید نے اُن سب لوگوں سے معافی حاصل کی جنہیں بوڑھے آدمی نے نقصان پہنچایا تھا۔
ہفتے گزرتے گئے، اور جمشید کی زندگی میں ایک عجیب سی تبدیلی آتی گئی۔ وہ سایہ جو اس کا پیچھا کرتا تھا، اب دھیرے دھیرے ختم ہوتا جا رہا تھا۔ جیسے جیسے معافی ملتی گئی، بوڑھے آدمی کی روح آزاد ہوتی گئی۔
آخرکار، جب جمشید نے آخری شخص سے معافی حاصل کی، وہ رات دوبارہ آئی جب سایہ ایک بار پھر اس کے سامنے نمودار ہوا۔ لیکن اس بار وہ بوڑھا آدمی مسکرا رہا تھا۔
"تم نے مجھے آزاد کر دیا،" بوڑھے آدمی نے دھیرے سے کہا۔ "اب میری روح سکون سے جا سکتی ہے۔ تم نے جو کیا، اس کے لیے میں ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔"
جمشید نے گہری سانس لی اور اپنے دل میں ایک عجیب سا سکون محسوس کیا۔ بوڑھے آدمی کا سایہ دھیرے دھیرے تحلیل ہونے لگا، اور آخرکار وہ مکمل طور پر غائب ہو گیا۔
اگلی صبح، جمشید کی زندگی میں پہلی بار ایک نئی روشنی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اب اس کے پیچھے کوئی سایہ نہیں، کوئی خوف نہیں۔ وہ آزاد تھا، جیسے وہ بوڑھا آدمی آزاد ہو چکا تھا۔
یہ کہانی ختم ہو چکی تھی، لیکن جمشید نے اس سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ زندگی کے اندھیروں میں چھپے سائے کبھی کبھار ہمیں وہ سبق سکھاتے ہیں جو ہم روزمرہ کی روشنی میں نہیں سیکھ پاتے۔

Post a Comment