وہ گھر جہاں راستے بدلتے تھے
رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔
شہر سے بہت دور پہاڑوں کے درمیان ایک پرانی سڑک پر دو دوست، حارث اور زین، اپنی گاڑی میں خاموش بیٹھے تھے۔
بارش مسلسل ہو رہی تھی۔
سڑک کے دونوں طرف اتنے گھنے درخت تھے کہ گاڑی کی ہیڈلائٹس بھی چند قدم سے آگے روشنی نہیں کر پا رہی تھیں۔
"زین… مجھے لگتا ہے ہمیں واپس چلے جانا چاہیے۔"
حارث نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔
زین ہنس پڑا۔
"تم ہر بار ڈر جاتے ہو۔ بس دس منٹ اور۔"
"لیکن نقشے کے مطابق یہاں کوئی سڑک ہونی ہی نہیں چاہیے۔"
زین نے موبائل دیکھا۔
اسکرین پر نقشہ اب بھی چل رہا تھا۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ…
ان کی گاڑی نقشے پر دکھائی ہی نہیں دے رہی تھی۔
زین کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
"یہ… کیا ہو رہا ہے؟"
اچانک گاڑی زور سے جھٹکے کے ساتھ بند ہوگئی۔
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
حارث نے کئی بار گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی۔
کچھ نہیں ہوا۔
پھر انہیں دور درختوں کے درمیان ایک زرد روشنی نظر آئی۔
"وہاں شاید کوئی گھر ہے۔"
زین نے کہا۔
دونوں ٹارچ لے کر گاڑی سے باہر نکل آئے۔
تقریباً پانچ منٹ چلنے کے بعد وہ ایک پرانی، خستہ حال عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔
عمارت پر لکڑی کی ایک تختی لگی تھی۔
اس پر صرف دو الفاظ لکھے تھے:
"واپس جاؤ"
زین نے تختی کو دیکھا اور ہنس دیا۔
"لگتا ہے کسی نے مذاق کے لیے لگائی ہے۔"
اس نے دروازہ کھولا۔
دروازہ بغیر کسی آواز کے کھل گیا۔
اندر مکمل اندھیرا تھا۔
دونوں اندر داخل ہوئے۔
دروازہ ان کے پیچھے خود بخود بند ہوگیا۔
دھڑام!
حارث فوراً پلٹا۔
"زین… دروازہ کھولو۔"
زین نے ہینڈل گھمایا۔
دروازہ نہیں کھلا۔
اس نے پوری طاقت لگائی۔
اچانک…
اندر کہیں سے ایک بچے کے ہنسنے کی آواز آئی۔
دونوں ساکت ہوگئے۔
"ک…کیا تم نے سنا؟"
حارث نے سرگوشی کی۔
زین نے جواب نہیں دیا۔
پھر اوپر کی منزل سے کسی کے دوڑنے کی آواز آئی۔
دھم… دھم… دھم…
ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ننگے پاؤں فرش پر بھاگ رہا ہو۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
"ہم اوپر نہیں جائیں گے۔"
حارث نے کہا۔
زین نے سر ہلایا۔
مگر اسی لمحے اوپر سے ایک آواز آئی۔
بالکل زین کی آواز میں۔
"حارث… اوپر آؤ۔"
حارث کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
اس نے زین کی طرف دیکھا۔
زین اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔
"یہ آواز…"
زین کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
"میری تھی۔"
اچانک نیچے والا دروازہ کھل گیا۔
دونوں نے پلٹ کر دیکھا۔
مگر وہاں دروازہ نہیں تھا۔
صرف ایک لمبی، تاریک راہداری تھی۔
حارث نے موبائل کی فلیش جلائی۔
راہداری کے آخر میں ایک چھوٹا سا آئینہ لگا تھا۔
وہ دونوں آہستہ آہستہ آگے بڑھے۔
آئینے کے سامنے پہنچ کر حارث رک گیا۔
آئینے میں دونوں نظر آ رہے تھے۔
لیکن…
آئینے میں زین نہیں مسکرا رہا تھا۔
حقیقی زین خوفزدہ کھڑا تھا۔
آئینے والا زین مسکرا رہا تھا۔
اور اس کے ہاتھ میں خون سے بھرا ہوا چاقو تھا۔
حارث نے فوراً زین کا ہاتھ پکڑا۔
"بھاگو!"
وہ دونوں واپس دوڑے۔
راہداری پہلے سے کہیں زیادہ لمبی ہو چکی تھی۔
"یہ جگہ بدل رہی ہے!"
حارث چیخا۔
وہ ایک دروازے تک پہنچے۔
زین نے دروازہ کھولا۔
اندر ایک کمرہ تھا۔
کمرے کے بیچ میں ایک پرانی میز رکھی تھی۔
میز پر دو کپ چائے کے رکھے تھے۔
چائے سے ابھی بھی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
اور میز پر ایک کاغذ پڑا تھا۔
حارث نے کاغذ اٹھایا۔
اس پر لکھا تھا:
"تم دونوں میں سے صرف ایک واپس جائے گا۔"
زین نے کاغذ اس کے ہاتھ سے چھین لیا۔
"یہ کس نے لکھا ہے؟"
اسی وقت کمرے کی تمام کھڑکیاں ایک ساتھ بند ہوگئیں۔
لائٹ جل گئی۔
دیوار پر ایک پرانی گھڑی لٹک رہی تھی۔
حارث نے گھڑی دیکھی۔
اس کی سوئیاں الٹی سمت چل رہی تھیں۔
پھر گھڑی رک گئی۔
2:17
زین نے اپنا موبائل دیکھا۔
وقت بھی وہی تھا۔
"حارث…"
"کیا؟"
"میرا موبائل بھی 2:17 پر رک گیا ہے۔"
اچانک ان کے پیچھے کسی نے کہا:
"کیونکہ تم یہاں کبھی آئے ہی نہیں تھے۔"
دونوں نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا۔
وہاں ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔
سفید کپڑے۔
سفید بال۔
اور آنکھیں…
بالکل سیاہ۔
"آپ کون ہیں؟"
حارث نے پوچھا۔
بوڑھا مسکرایا۔
"میں وہ ہوں جو یہاں آنے والوں کو واپس جانے کا راستہ دکھاتا ہے۔"
زین نے فوراً پوچھا:
"تو راستہ کہاں ہے؟"
بوڑھے نے کمرے کے آخری دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
"وہ آخری دروازہ کھولو۔"
حارث نے دروازہ دیکھا۔
اس پر خون سے ایک لفظ لکھا تھا:
"اکیلے"
بوڑھے نے کہا:
"دروازہ صرف ایک شخص کھول سکتا ہے۔"
زین نے حارث کی طرف دیکھا۔
"میں جاتا ہوں۔"
"نہیں!"
حارث نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"ہم دونوں ساتھ جائیں گے۔"
بوڑھا زور سے ہنسا۔
اتنا خوفناک کہ پوری عمارت لرزنے لگی۔
"یہاں دوستی کی کوئی قیمت نہیں۔"
اچانک فرش پر دراڑیں پڑنے لگیں۔
زین نے حارث کو دھکا دیا۔
"بھاگو!"
حارث نے زین کو پکڑنے کی کوشش کی۔
مگر فرش دونوں کے درمیان ٹوٹ گیا۔
زین دوسری طرف جا گرا۔
"حارث!"
حارث چیخا:
"زین!"
دونوں کے درمیان صرف ایک گہری تاریکی تھی۔
پھر وہی آواز آئی۔
"صرف ایک واپس جائے گا…"
حارث نے دیکھا کہ آخری دروازہ زین کے بالکل پیچھے تھا۔
زین نے دروازہ کھولا۔
ایک تیز سفید روشنی نکلی۔
"حارث! یہاں سے نکلنے کا راستہ ہے!"
حارث نے چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔
لیکن اچانک اسے کچھ عجیب محسوس ہوا۔
اس نے زین کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
وہ زین نہیں تھا۔
اس کی آنکھیں مکمل سیاہ تھیں۔
حارث پیچھے ہٹ گیا۔
"تم… زین نہیں ہو۔"
وہ چیز مسکرائی۔
"آخر تمہیں سمجھ آ ہی گئی۔"
اس کے چہرے کی جلد پھٹنے لگی۔
اور چند سیکنڈ میں وہ بالکل حارث جیسی شکل اختیار کر گئی۔
اب سامنے دو حارث کھڑے تھے۔
ایک حقیقی۔
ایک نقلی۔
عمارت میں آواز گونجی:
"اب فیصلہ کرو… اصل کون ہے؟"
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
نقلی حارث نے کہا:
"میں اصل ہوں۔"
دوسرے نے بھی کہا:
"میں اصل ہوں۔"
پھر ایک نے اچانک کہا:
"زین کو یاد ہے ہم پہلی بار کہاں ملے تھے؟"
دوسرے حارث نے جواب دیا:
"اسکول کے کھیل کے میدان میں۔"
حارث نے آنکھیں بند کر لیں۔
اس نے آہستہ سے کہا:
"غلط۔"
نقلی حارث رک گیا۔
حارث مسکرایا۔
"ہم پہلی بار اسکول میں نہیں ملے تھے۔ ہم چھ سال کی عمر میں ایک پرانی دکان کے باہر ملے تھے۔"
نقلی حارث پیچھے ہٹنے لگا۔
"تم زین نہیں ہو۔"
وہ مخلوق چیخی۔
اس کی آواز سے پوری عمارت ہل گئی۔
حارث نے آخری دروازے کی طرف دوڑ لگائی۔
وہ اندر داخل ہوا۔
ایک لمحے کے لیے اسے لگا کہ وہ کامیاب ہوگیا۔
اگلے ہی لمحے…
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔
صبح ہو چکی تھی۔
بارش رک چکی تھی۔
سڑک بالکل صاف تھی۔
حارث نے سکون کا سانس لیا۔
پھر اسے یاد آیا…
زین کہاں ہے؟
وہ فوراً گاڑی سے باہر نکلا۔
سڑک پر کوئی نہیں تھا۔
اس نے زین کو فون کیا۔
فون بجا۔
ایک بار…
دو بار…
پھر کال اٹھ گئی۔
دوسری طرف خاموشی تھی۔
"زین؟"
چند سیکنڈ بعد آواز آئی۔
"حارث… تم مجھے وہاں چھوڑ کر کیوں آگئے؟"
حارث کے ہاتھ سے موبائل تقریباً گر گیا۔
"تم کہاں ہو؟"
زین ہنسا۔
"میں تمہارے پیچھے بیٹھا ہوں۔"
حارث کا پورا جسم سن ہوگیا۔
اس نے آہستہ سے گاڑی کی پچھلی سیٹ کی طرف دیکھا۔
سیٹ خالی تھی۔
مگر شیشے پر اندر سے انگلی سے کچھ لکھا ہوا تھا۔
"اب تمہاری باری ہے۔"
حارث نے فوراً گاڑی اسٹارٹ کی۔
گاڑی چل پڑی۔
مگر ریئر ویو مرر میں…
اسے پچھلی سیٹ پر زین بیٹھا نظر آ رہا تھا۔
زین مسکرا رہا تھا۔
اور اس کی آنکھیں…
بالکل سیاہ تھیں۔
اسی لمحے ریڈیو خود بخود آن ہوا۔
ایک بچے کی آواز آئی:
"ایک واپس آگیا ہے… دوسرا ابھی اندر ہے۔"
حارث نے بریک لگا دی۔
مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
اس کے سامنے سڑک دوبارہ اسی پرانی عمارت کے دروازے میں تبدیل ہو چکی تھی۔
اور دروازے پر لکڑی کی تختی لٹک رہی تھی۔
اس بار اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
"حارث، اپنے دوست کو واپس لینے آئے ہو؟"
حارث نے گاڑی بند کردی۔
پیچھے سے زین کی آواز آئی:
"اس بار… دروازہ تم اکیلے کھولو گے۔"
اور پھر…
گاڑی کے تمام دروازے خود بخود لاک ہوگئے۔
ختم۔
Post a Comment