🌑 وقت جمع کرنے والا آدم
باب 1 — وقت کا بوجھ
نایاب اپنی کتابیں میز پر پھیلائے بیٹھی تھی، مگر صفحوں پر لکھی لائنیں اس کی آنکھوں کے سامنے دھندلا رہی تھیں۔ اس کی عمر صرف سترہ سال تھی، مگر کبھی کبھی اسے ایسا لگتا جیسے وہ دنیا کی تھکن اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتی ہو۔
اس کے ہم عمر دوست ہنستے کھیلتے تھے، ان میں چستی تھی، ایک عجیب سا نور تھا۔ مگر نایاب کے چہرے پر ہمیشہ ایک سائے جیسی تھکن نظر آتی۔ بہت سے لوگ اس کی آنکھوں میں چھپا اداسی کا سمندر دیکھ کر پوچھتے:
“نایاب، تم اتنی سنجیدہ کیوں رہتی ہو؟”
وہ مسکرا دیتی، مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنے ہی سوال دفن تھے۔ اسے خود نہیں پتا تھا کہ اسے ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے۔ جیسے زندگی اس سے بہت کچھ مانگ رہی ہو — بہت زیادہ، جتنا ایک سترہ سالہ لڑکی کو مانگا ہی نہیں جانا چاہیے۔
کبھی کبھی اسے لگتا جیسے وہ بہت کچھ کھو چکی ہو… مگر اس نے تو ابھی زندگی کی دوڑ شروع بھی نہیں کی تھی۔
ایک رات جب وہ چھت پر بیٹھی آسمان کو دیکھ رہی تھی، اس کی ماں نے آ کر پوچھا:
“بیٹا، تم ٹھیک ہو؟”
نایاب نے آسمان سے نظریں ہٹا کر کہا:
“امی… کیا آپ کو بھی کبھی لگتا ہے کہ آپ کے اندر کی عمر آپ کے جسم کی عمر سے بہت زیادہ ہے؟”
امی چونک گئیں۔
“تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟”
نایاب نے سانس بھری، “پتا نہیں… لگتا ہے جیسے میں نے بہت کچھ کھو دیا ہے، مگر مجھے یاد بھی نہیں کہ کھویا کیا ہے۔”
امی نے اس کی پیشانی کو چوما۔ “وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا، بیٹا۔”
مگر نایاب جانتی تھی کہ یہ کوئی عام تھکن نہیں۔
یہ کچھ اور تھا۔
کچھ بہت عجیب۔
کچھ ایسا… جو دنیا کی نظروں سے چھپا ہوا تھا۔
باب 2 — پراسرار راستہ
ایک شام، نایاب گھر سے باہر نکلی اور گلی کے آخر میں موجود ٹوٹی ہوئی دیوار کے پاس پہنچ گئی۔ ادھر وہ کم ہی جاتی تھی۔ مگر اس دن دل میں عجیب سی کھچاؤ تھا، جیسے کوئی اسے کھینچ رہا ہو۔
دیوار کے پیچھے ایک پرانی، ویران زمین تھی۔ برسوں پہلے وہاں ایک باغ ہوا کرتا تھا، مگر اب اسے بھوت بنگلا سمجھ کر کوئی ادھر نہیں آتا تھا۔
نایاب نے دراڑ سے جھانکا تو اندر گھاس میں ہوا کی سنسناہٹ سنائی دی، مگر ایک اور چیز نے اس کا دل مارا —
ایک درخت… جس کی شاخوں پر بوتلیں لٹکی ہوئی تھیں۔
ہر بوتل کے اندر بے رنگ روشنی… جیسے کوئی چھوٹا سا چمکتا ہوا لمحہ بند ہو۔
وہ حیران رہ گئی۔
اسے لگا شاید وہ خواب دیکھ رہی ہے۔
“یہ… کیا ہے؟” اس کے منہ سے نکلا۔
شاید یہ اس کی آنکھوں کا دھوکا ہو۔ شاید روشنی سورج کی تھی۔
مگر وہ جتنا دیکھتی، اتنی ہی بوتلیں دکھائی دیتیں — سینکڑوں… ہاں شاید ہزاروں، سبھی خاموشی میں جھولتی ہوئی۔
ایک لمحے کے لیے اسے خوف محسوس ہوا۔ مگر اگلے لمحے ایسا لگا جیسے کوئی آہستہ سے اس کے دل پر دستک دے رہا ہو۔
وہ دیوار میں موجود سوراخ سے گزرتی ہوئی اندر چلی گئی۔
باغ ہولناک حد تک خاموش تھا۔ صرف بوتلوں کی ہلکی ہلکی آواز… جیسے کوئی وقت آہستہ سے سانس لے رہا ہو۔
اور پھر کسی نے پیچھے سے کہا:
“آخر تم آ ہی گئیں…”
نایاب چونک کر پلٹی۔
اس کے سامنے سفید کپڑوں میں ملبوس ایک بوڑھا شخص کھڑا تھا۔
اس کی داڑھی چاندنی کی طرح سفید، آنکھیں عجیب حد تک گہری، ایسی کہ جیسے وہ انسان کے اندر جھانک لیتی ہوں۔
“آپ… کون ہیں؟” نایاب نے خوف زدہ ہو کر پوچھا۔
“وہ شخص… جو وقت کو جمع کرتا ہے۔”
باب 3 — وقت کی منڈی
بوڑھا آدمی آہستہ سے مسکرا کر بولا:
“لوگ سمجھتے ہیں کہ وقت کانٹوں پر چلتا ہے، منٹوں میں گزرتا ہے۔ مگر اصل وقت… یہاں ہوتا ہے۔” وہ بوتلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
“ہر بوتل میں کسی انسان کا چرایا ہوا یا بیچا ہوا وقت ہے۔”
نایاب کے ہاتھ کانپ گئے۔
“چرایا ہوا وقت؟ یہ… کیا مطلب ہے؟”
آدمی نے بات جاری رکھی:
“لوگ جب زندگی ضائع کرتے ہیں، جب وہ اپنے قیمتی لمحے بے خیالی میں پھینک دیتے ہیں، میں ان لمحوں کو محفوظ کر لیتا ہوں۔”
نایاب کے دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا۔
“کیا… کیا میرا وقت بھی یہاں ہے؟”
آدمی کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی۔
“ہاں، نایاب۔ اس طرف آؤ۔”
وہ اسے درختوں کے درمیان لے گیا۔
ہر درخت پر سینکڑوں بوتلیں۔ ہر بوتل کے اندر ایک چمکتا ہوا وقت… کوئی ہنسی جیسا روشنی والا پل، کوئی روتی ہوئی اداسی کا لمحہ، کوئی بچپن کا قیمتی دن۔
ایک بوتل کی روشنی خاص طور پر عجیب لگ رہی تھی — نصف بجھی ہوئی، نصف چمکتی ہوئی۔
بوڑھا آدمی اسے اٹھاتا ہے۔
“یہ تمہارا ہے… تمہارے آٹھ سال…”
نایاب کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔
“میرے… آٹھ سال؟ کیا مطلب؟ میں نے تو کچھ بیچا نہیں!”
بوڑھا آدمی خاموش رہا، جیسے وہ سوچ رہا ہو کہ اسے کتنا بتائے۔
پھر وہ آہستہ سے بولا:
“تمہاری زندگی میں جب تم دو سال کی تھیں… تمہیں ایک سنگین بیماری نے پکڑ لیا تھا۔ تمہیں بچانے کے لیے بہت طاقت، بہت وقت، بہت عمر چاہیے تھی۔”
نایاب کا سانس رک گیا۔
“تو؟”
بوڑھے نے کہا:
“تمہارے والد تمہیں چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی عمر کے سال پیش کیے۔ مگر… غلطی ہو گئی۔
ان سے تمہارے آٹھ سال لے لیے گئے۔”
نایاب نے اپنی سانسوں میں لرزش محسوس کی۔
“تو… میں اتنی تھکی ہوئی اسی لیے رہتی ہوں؟
اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ میں بوڑھی ہوں؟
اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ میں نے بہت کچھ کھو دیا ہے؟”
بوڑھے کی آنکھوں نے ہاں کہا۔
باب 4 — انتخاب
“کیا میں اپنا وقت واپس لے سکتی ہوں؟”
نایاب کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
بوڑھے نے کہا:
“ہاں… مگر اس کی قیمت ہے۔
تم اپنا وقت واپس لے لو گی تو تمہارے والد کے آٹھ سال… فوراً ختم ہو جائیں گے۔
وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے بوڑھے ہو جائیں گے۔ شاید… زندہ بھی نہ رہیں۔”
نایاب کی آنکھیں بھر آئیں۔
“اور اگر میں وقت واپس نہ لوں؟”
بوڑھے نے آہستہ سے کہا:
“تو تم ہمیشہ ایسے ہی رہو گی۔
تھکی ہوئی۔
بوڑھی۔
ادھوری۔”
نایاب کے دل میں طوفان مچ گیا۔
ایک طرف اس کی اپنی زندگی تھی — اس کے آٹھ سال، وہ وقت جو کبھی اس کا تھا ہی نہیں۔
دوسری طرف اس کے والد — جنہوں نے اپنی زندگی داؤ پر لگا کر اسے بچایا تھا۔
“کیا کوئی اور راستہ نہیں؟”
اس نے پوچھا، مگر جواب اس کی خاموشی میں چھپا تھا۔
باب 5 — نایاب کا فیصلہ
وہ بوتل ہاتھ میں لے کر بیٹھ گئی۔
اس کے اندر بند چمکتی روشنی گویا اس سے باتیں کر رہی تھی — وہ وقت، جو اس نے کبھی جیا ہی نہیں۔
اس کے اندر دو آوازیں لڑ رہی تھیں۔
ایک کہتی:
“یہ تمہارا حق ہے۔
تمہیں مکمل زندگی ملنی چاہیے۔
تم ساری عمر ایسے نہیں رہ سکتیں۔”
دوسری کہتی:
“باپ نے تمہارے لیے اپنی جوانی قربان کی…
کیا تم اسے واپس چھین لو گی؟”
نایاب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اور وہ جانتی تھی…
فیصلہ صرف ایک ہی ہو سکتا تھا۔
وہ کھڑی ہوئی اور بوتل بوڑھے آدمی کے ہاتھ میں واپس رکھ دی۔
“میں یہ وقت واپس نہیں لوں گی۔
اگر میری زندگی ادھوری ہے…
تو بھی ٹھیک ہے۔
لیکن میں اپنے ابا کی زندگی سے ایک لمحہ بھی نہیں چھین سکتی۔”
بوڑھا اسے حیرت سے دیکھتا رہا۔
“تمہیں پتا ہے، نایاب… زیادہ تر لوگ اپنا وقت واپس لینے دوڑتے ہیں۔
تم واحد ہو جس نے اپنے وقت کو خود قربان کیا ہے۔”
نایاب کی آواز بھرا گئی۔
“میری زندگی کا مطلب ابا سے ہے۔
اگر وہ نہیں…
تو وقت رکھ کر بھی کیا فائدہ؟”
بوڑھے نے آہستہ سے مسکرا کر بوتل واپس درخت پر لٹکا دی۔
“اب تم جا سکتی ہو۔”
نایاب آہستہ آہستہ باغ سے نکل گئی۔
لیکن جاتے ہوئے اسے لگا جیسے اس کے اندر کوئی ہلکی سی روشنی جل اٹھی ہو — جیسے کسی نے اس کے دل کی تھکن کم کر دی ہو۔
باب 6 — حیرت انگیز انجام
شام کے وقت جب وہ گھر پہنچی، اس کے والد صحن میں بیٹھے مسکرا رہے تھے۔
“نایاب، آج تم بہت مختلف لگ رہی ہو… سب خیریت ہے؟”
نایاب ان کے پاس بیٹھ گئی۔
دل چاہتا تھا سب بتا دے — کہ کیسے ان کے آٹھ سال اس کی بوتل میں قید تھے، کیسے وہ انہیں آزاد کرنا چاہتی تھی، کیسے وہ اپنی زندگی قربان کر آئی ہے۔
مگر وہ کچھ نہ بولی۔
صرف ان کا ہاتھ پکڑا… اور سینے سے لگا لیا۔
اس کے باپ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
“میری بیٹی… آج تو مجھے لگ رہا ہے جیسے میری ساری تھکن ختم ہو گئی ہو۔”
نایاب کے آنسو اس کے دامن میں گرنے لگے۔
اسے پتا نہیں تھا کہ بوڑھے آدمی نے اس کے لیے ایک تحفہ چھوڑا تھا —
اس نے نایاب کے دل میں سے قربانی کا بوجھ اور ادھورے پن کی تھکن نکال دی تھی۔
وہ وقت تو واپس نہیں آیا… مگر اس کی روح ہلکی ہو گئی تھی۔
وہ دوبارہ ہنس سکتی تھی۔
دوبارہ جی سکتی تھی۔
مگر سب سے بڑھ کر —
وہ اپنے باپ کو مکمل دیکھ سکتی تھی۔
باب 7 — وقت کا محافظ
کئی ہفتے بعد نایاب اسی جگہ دوبارہ گئی۔
مگر باغ… غائب تھا۔
دیوار کے پیچھے اب صرف خالی زمین تھی، کوئی درخت نہیں، کوئی بوتلیں نہیں، کچھ نہیں۔
جیسے وہ جگہ کبھی تھی ہی نہیں۔
نایاب مسکرائی۔
شاید وقت جمع کرنے والے آدمی نے اپنا باغ کسی اور جگہ منتقل کر دیا تھا۔
شاید کسی اور کہانی، کسی اور انسان کے لیے۔
مگر وہ جانتی تھی:
اصل وقت… ہم اپنے فیصلوں سے بناتے ہیں۔
اور اصل عمر… دل کے اندر ہوتی ہے، سالوں میں نہیں۔
نایاب نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا:
“شکریہ… وقت کے رکھوالے۔”


Post a Comment