محبت کے سائے میں جدائی
ریاض اور سحر کی کہانی ایک ایسے خواب کی مانند تھی جس کا حقیقت میں آنا ناممکن تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دل و جان سے چاہتے تھے، مگر قسمت نے ان کے راستے میں ایسی دیوار کھڑی کر دی تھی جسے گرانا ممکن نہ تھا۔
ریاض ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا نوجوان تھا، جو زندگی کی تلخیوں سے لڑتا ہوا اپنی پہچان بنانے کے لیے کوشاں تھا۔ دوسری طرف، سحر ایک رئیس زادی تھی، جس کے گھر کی چار دیواری میں محبت جیسے جذبات کی کوئی جگہ نہ تھی۔ وہ پہلی بار ایک مشاعرے میں ملے، جہاں ریاض نے ایک ایسی غزل سنائی جو سحر کے دل کی آواز بن گئی۔
"محبت وہ خواب ہے جو آنکھوں میں سجتا تو ہے، مگر حقیقت میں پلکوں سے گر جاتا ہے۔"
یہ شعر گویا ان دونوں کی زندگی کی پیش گوئی تھا۔ دونوں نے چھپ چھپ کر ملنا شروع کر دیا، لمحوں کی چوری ان کے لیے پوری دنیا کی خوشی کے برابر تھی۔ مگر ہر محبت کی طرح ان کی محبت کا امتحان بھی وقت نے لینا تھا۔
سحر کے والد نے اس کا رشتہ ایک صنعتکار کے بیٹے کے ساتھ طے کر دیا۔ جب سحر نے انکار کیا، تو اسے قید کی طرح گھر میں بند کر دیا گیا۔ دوسری طرف، ریاض کے پاس کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ سحر کو اس قید سے نکال سکے۔ اس نے دن رات محنت کی، اپنے خوابوں کو پس پشت ڈال کر صرف اس ایک امید پر زندگی گزاری کہ شاید کبھی قسمت ان پر مہربان ہو جائے۔
مہینے بیت گئے، سال گزر گئے۔ ریاض کی ہر کوشش ناکام ہوتی گئی، اور سحر کی آنکھوں کے خواب دھندلا گئے۔ جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی شادی ہونے والی ہے، تو اس نے آخری بار ریاض کو ایک خط لکھا:
"ہماری محبت مقدر کی وہ لکیر ہے، جو ایک دوسرے کے ساتھ تو چل سکتی ہے، مگر کبھی ایک نہیں ہو سکتی۔ اگر محبت میں وصال ہوتا، تو یہ دنیا جنت بن جاتی۔ مجھے معاف کر دینا کہ میں تمہاری نہ ہو سکی، مگر جان لو، میرا دل ہمیشہ تمہارا رہے گا۔"
ریاض نے خط پڑھ کر ایک آخری فیصلہ کیا۔ وہ سحر کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اس شہر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا ارادہ کر چکا تھا، مگر اس رات اسے ایک خبر ملی کہ سحر نے خودکشی کر لی ہے۔
وہ ٹوٹ گیا، بکھر گیا۔ سحر کے بغیر اس کی زندگی ایک بے معنی داستان بن چکی تھی۔ ایک شام وہ اسی جگہ پہنچا جہاں وہ پہلی بار ملے تھے، آسمان پر سرخ رنگ پھیل چکا تھا۔ اس نے اپنی آخری غزل لکھی اور دریا میں خود کو گرا دیا۔
"محبت کا مقدر جدائی ہے، مگر کیا جدائی کے بعد بھی محبت زندہ رہتی ہے؟"
لوگوں نے ان دونوں کو بچھڑتے دیکھا، مگر ان کی محبت کو کبھی ختم ہوتے نہ پایا۔ وہ دونوں ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے، مگر محبت کے امر ہونے کا ثبوت بن گئے۔
محبت کے سائے میں جدائی
(ایک ایسی محبت جو ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی)
پہلا باب: محبت کی پہلی جھلک
ریاض ایک عام سا نوجوان تھا، مگر اس کی آنکھوں میں خواب، دل میں جذبات، اور ذہن میں شاعری کے ہزاروں رنگ سجے تھے۔ وہ ایک غریب مگر باعزت گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور ایک چھوٹے سے اشاعتی ادارے میں ملازمت کرتا تھا۔ دن بھر کام کرتا اور رات کو شاعری لکھتا۔ اس کی شاعری میں محبت، درد اور زندگی کے رنگ جھلکتے تھے۔
سحر، ایک رئیس گھرانے کی بیٹی، جس کے لیے دنیا کی ہر آسائش میسر تھی۔ مگر اس کا دل ہمیشہ قید میں رہا، اس کے والدین کے اصول، خاندان کی روایات اور سوسائٹی کی پابندیاں—یہ سب اس کے لیے ایک پنجرہ تھا جس سے نکلنے کی وہ ہمیشہ تمنا کرتی تھی۔
یہ کہانی اس دن شروع ہوئی جب سحر اپنی ایک دوست کے اصرار پر شہر میں ہونے والے ایک مشاعرے میں چلی آئی۔ وہ کبھی ایسے عوامی اجتماعات میں شریک نہیں ہوتی تھی، مگر اس دن جیسے قسمت نے اسے ایک خاص راستے پر لے جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
ریاض اس مشاعرے میں پہلی بار اپنی غزل سنا رہا تھا۔ جب اس نے پڑھا:
"محبت وہ خواب ہے جو آنکھوں میں سجتا تو ہے،
مگر حقیقت میں پلکوں سے گر جاتا ہے!"
سحر کو ایسا لگا جیسے یہ الفاظ اس کے دل کی کہانی ہیں، جیسے یہ شاعری اس کی روح کے کسی گوشے میں پہلے سے زندہ تھی۔ وہ بے اختیار اس نوجوان کی طرف کھنچتی چلی گئی۔
مشاعرے کے بعد سحر نے پہلی بار کسی اجنبی سے گفتگو کی۔
"یہ شعر آپ نے کب لکھا؟"
ریاض، جو کسی رئیس زادی سے بات کرنے کا عادی نہ تھا، چونک گیا۔
"یہ شعر... میں نے برسوں پہلے اپنے خوابوں کے ٹوٹنے پر لکھا تھا، مگر آج شاید یہ کسی اور کے دل کی صدا بن چکا ہے۔"
یہی وہ لمحہ تھا جہاں دونوں کی دنیا بدل گئی۔
دوسرا باب: محبت کی تپش
ریاض اور سحر کے درمیان گفتگو ہونے لگی۔ پہلے کتابوں پر، شاعری پر، زندگی پر، اور پھر... محبت پر۔
سحر نے پہلی بار وہ آزادی محسوس کی جو اسے اپنے گھر میں کبھی نہیں ملی تھی۔ ریاض کے الفاظ، اس کی سوچ، اس کی دنیا، سب کچھ سحر کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
وہ دونوں اکثر ایک لائبریری میں ملا کرتے، جہاں ریاض سحر کے لیے شاعری سناتا، اور سحر اپنی اداس آنکھوں سے اس کے لفظوں میں کھو جاتی۔
"کبھی سوچا ہے ریاض، اگر قسمت ہمارے ساتھ نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟" سحر نے ایک دن پوچھا۔
"محبت قسمت کی محتاج نہیں ہوتی، سحر۔ یہ تو وہ آگ ہے جو جلا دیتی ہے، چاہے قربت ہو یا جدائی۔"
مگر وہ دونوں جانتے تھے کہ ان کی محبت کا راستہ آسان نہیں تھا۔ سحر کا خاندان کبھی بھی ایک عام سے شاعر کو اپنا داماد بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اور ریاض، جو خود بھی اپنی حیثیت سے واقف تھا، جانتا تھا کہ اس کا خواب، اس کا پیار، ایک دن حقیقت کے سنگین ہاتھوں میں ٹوٹ کر بکھر جائے گا۔
تیسرا باب: امتحان کی گھڑی
سحر کے والدین کو جب اس بات کی خبر ملی کہ ان کی بیٹی کسی عام لڑکے سے محبت کرتی ہے، تو گھر میں قیامت آ گئی۔
"یہ خاندان کی عزت کا سوال ہے! تمہیں وہی کرنا ہوگا جو ہم کہیں گے!" سحر کے والد نے غصے سے کہا۔
سحر کو گھر میں قید کر دیا گیا۔ اس کا فون چھین لیا گیا، باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی۔ مگر محبت کو قید کرنا آسان نہیں تھا۔
ریاض نے کئی بار اسے پیغام بھیجنے کی کوشش کی، مگر ہر کوشش ناکام ہوتی گئی۔ اس کا دل بے چین تھا۔ وہ دن رات ایک ہی سوال کے گرد گھومتا—کیا سحر اسے چھوڑ دے گی؟ یا وہ اس سے پہلے خود ختم ہو جائے گا؟
چوتھا باب: آخری ملاقات
کئی مہینوں کے بعد، سحر اپنی سہیلی کی مدد سے ریاض کو آخری بار ملنے کے لیے نکلی۔
"ریاض، ہم کبھی ایک نہیں ہو سکتے..." سحر کی آواز میں شکست تھی۔
"ایسا مت کہو، سحر! میں تمہیں لے جاؤں گا، اس دنیا سے کہیں دور، جہاں کوئی ہمیں نہ روک سکے!"
"نہیں، ریاض... ہمارے نصیب میں ساتھ نہیں لکھا، مگر میں ہمیشہ تمہاری رہوں گی..."
یہ ان کی آخری ملاقات تھی، ایک جدائی کا لمحہ جو ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں پر نقش ہو گیا۔
پانچواں باب: موت اور محبت
سحر کی زبردستی شادی طے کر دی گئی۔ وہ بے بس تھی، قیدی تھی، مگر ایک غلام نہیں تھی۔ شادی کی رات، اس نے اپنے کمرے میں زہر پی لیا۔
دوسری طرف، جب ریاض کو یہ خبر ملی، تو وہ ٹوٹ گیا۔ اس کے اندر کا شاعر مر گیا، اس کے لفظ ختم ہو گئے، اس کی دنیا ویران ہو گئی۔
اسی رات، وہ اسی جگہ پہنچا جہاں وہ پہلی بار ملے تھے۔ اس نے اپنا آخری شعر کاغذ پر لکھا:
"محبت نہ ملی، مگر جدائی امر ہو گئی،
ہم ایک نہ ہوئے، مگر کہانی مکمل ہو گئی۔"
اور پھر، اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔
آخری باب: محبت کبھی مرتی نہیں
لوگوں نے کہا، یہ کہانی ختم ہو گئی۔ مگر محبت کبھی ختم نہیں ہوتی۔
ریاض اور سحر کی محبت ایک ایسی داستان بن گئی جو ہر عاشق کے دل میں زندہ رہی۔ ان کے خطوط، ان کی شاعری، ان کے خواب، سب کچھ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
کہتے ہیں کہ آج بھی، اس دریا کے کنارے، ایک پرانی کتاب رکھی ہوتی ہے، جس کے صفحات ہوا کے ساتھ سرسراہتے ہیں، جیسے کوئی محبت کی آخری صدا سنا رہا ہو۔
یہ کہانی ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو محبت کے درد سے گزرے ہیں، جو کبھی کسی سے دل لگا بیٹھے مگر وقت کے ہاتھوں مجبور ہو گئے۔
محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے، چاہے لوگ بچھڑ جائیں، چاہے زندگیاں ختم ہو جائیں۔
Post a Comment