ایک منفرد کہانی: "کھویا ہوا وقت"
ایک بار کا ذکر ہے کہ پاکستان کے ایک قدیم شہر میں، جہاں وقت ہمیشہ لوگوں کے ہاتھوں سے پھسلتا ہوا محسوس ہوتا تھا، ایک نوجوان لڑکا، عارف، اپنی زندگی کے سب سے عجیب و غریب سفر پر نکلنے والا تھا۔ عارف ایک عام سا لڑکا تھا، جس کی دنیا کتابوں اور خوابوں کے گرد گھومتی تھی۔ اس کی زندگی میں کچھ بھی خاص نہیں تھا، سوائے ایک چیز کے: ایک پرانا گھڑیال جو اس کے دادا سے وراثت میں ملا تھا۔
یہ گھڑیال ایک عام گھڑیال نہیں تھا۔ اس کی سوئیاں نہایت آہستگی سے حرکت کرتی تھیں، اور اس پر کند تحریر میں ایک پراسرار جملہ درج
" وقت کا راز، اس کی قدر میں چھپا ہے۔"
عارف ہمیشہ اس جملے کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا، لیکن کوئی کامیابی نہ ملتی۔ ایک رات، جب شہر کے سارے چراغ گل ہو چکے تھے اور آسمان پر ستارے روشن تھے، عارف نے گھڑیال کو غور سے دیکھتے ہوئے اچانک ایک غیر معمولی حرکت دیکھی۔ گھڑیال کی سوئیاں تیزی سے گھومنے لگیں، اور ایک ہلکی سی
روشنی کمرے میں پھیل گئی۔
روشنی کے ختم ہونے کے بعد، عارف نے خود کو ایک عجیب و غریب جگہ پر پایا۔ یہ کوئی عام دنیا نہیں تھی۔ یہ ایک جگہ تھی جہاں وقت اپنی اصل شکل میں بہتا تھا۔ یہاں لمحے شفاف بلبلوں کی طرح تیرتے تھے، اور ہر بلبلے میں ایک یاد، ایک واقعہ، یا ایک خواب بند تھا۔ عارف حیرت زدہ کھڑا تھا کہ اچانک ایک بوڑھے آدمی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"تم یہاں کیسے پہنچے؟" بوڑھے نے سوال کیا۔
عارف نے گھبرا کر جواب دیا، "میں نہیں جانتا۔ یہ سب گھڑیال کی وجہ سے ہوا
بوڑھے نے مسکرا کر کہا، "تو تم وقت کے وارث ہو۔ یہ جگہ 'وادیٔ وقت' کہلاتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جو وقت کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں یا سمجھنا چاہتے ہیں۔"
عارف کو بوڑھے کی باتیں عجیب لگ رہی تھیں، لیکن اس نے سوال کیا، "یہ بلبلے کیا ہیں؟"
بوڑھے نے ایک بلبلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "یہ بلبلے انسانوں کے وقت کی کہانیاں ہیں۔ کچھ خوشیوں کے لمحات ہیں، کچھ غموں کے، اور کچھ ایسے جو کبھی جیے ہی نہیں گئے۔ تم ان میں جھانک سکتے ہو اور ان سے سیکھ سکتے ہو۔ لیکن یاد رکھو، وقت کو چرانا یا اس کے ساتھ کھیلنا خطرناک ہو سکتا ہے۔"
عارف کی تجسس سے بھری آنکھیں بلبلوں کی طرف دیکھنے لگیں۔ ایک بلبلہ اس کی طرف بڑھا، اور جب اس نے اسے چھوا، وہ اچانک اپنے ماضی میں پہنچ گیا۔ یہ وہ دن تھا جب اس نے اپنے سب سے اچھے دوست کو چھوڑ دیا تھا، صرف اس لیے کہ وہ کسی بحث میں جیتنا چاہتا تھا۔ وہ منظر اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گیا۔ عارف نے اپنے دوست کی آنکھوں میں دکھ دیکھا، اور وہ لمحہ اسے کاٹنے لگا۔
اس نے فوراً اپنے آپ کو وادیٔ وقت میں واپس پایا۔ بوڑھے نے کہا، "یہ تمہارا ماضی تھا۔ کیا تم نے کچھ
سیکھا؟"
عارف نے سر ہلایا اور کہا، "میں نے اپنی انا کے لیے ایک قیمتی رشتہ کھو دیا۔"
بوڑھے نے کہا، "تمہیں ایک اور موقع دیا جائے گا۔ لیکن یاد رکھو، وقت کو ضائع کرنے کا خمیازہ ہمیشہ بھگتنا پڑتا ہے۔"
عارف نے مزید بلبلے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس بار وہ ایک بلبلے میں اپنے مستقبل میں پہنچ گیا۔ وہ خود کو ایک کامیاب بزنس مین کے طور پر دیکھ رہا تھا، لیکن اس کے اردگرد کوئی دوست یا خاندان نہ تھا۔ عارف کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ کامیابی کے پیچھے بھاگتے ہوئے اس نے اپنی زندگی کے اہم رشتے کھو دیے تھے۔
وادیٔ وقت میں رہتے ہوئے عارف نے یہ سیکھا کہ زندگی کے لمحات کتنے قیمتی ہیں، اور ہر فیصلہ کس طرح ہماری زندگی کو بدل سکتا ہے۔ بوڑھے نے اسے واپس جانے کی اجازت دی، لیکن ایک نصیحت کے ساتھ:
"وقت تمہاری زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے۔ اس کی قدر کرو، ورنہ یہ تم سے چھین لیا جائے گا۔"
عارف واپس اپنی دنیا میں آ گیا، لیکن وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ اس نے اپنے ماضی کی غلطیوں کو سدھارا، اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ رشتے دوبارہ جوڑے، اور وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے بہتر بنانے میں لگایا۔
پرانا گھڑیال اب بھی اس کے پاس تھا، لیکن اس کی سوئیاں اب عام گھڑیوں کی طرح چل رہی تھیں۔ عارف جان گیا تھا کہ وقت کا راز اس کی اہمیت کو سمجھنے میں چھپا ہے۔
یوں عارف نے اپنی زندگی کا وہ سبق سیکھا جو شاید ہر انسان کو کبھی نہ کبھی سیکھنا چا۔"ہیے
Post a Comment