FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

"چاند نگر کی روشنی: محبت اور امید کی داستان"

یہ کہانی ایک چھوٹے گاؤں کی ہے جہاں لوگ اپنی سادہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ گاؤں کا نام "چاند نگر" تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں ہر ماہ کے آخر میں چاند غیر معمولی طور پر روشن ہوتا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس چاند کی روشنی میں ایک پراسرار جھیل کا دروازہ کھلتا تھا جسے کسی نے آج تک نہیں دیکھا۔

گاؤں کے باسی ہمیشہ سے اس کہانی کو سن کر بڑے ہوتے تھے، لیکن کسی نے بھی اس جھیل کی حقیقت جاننے کی جستجو نہیں کی۔ مگر ایک دن، ایک نوجوان لڑکی "نور" نے فیصلہ کیا کہ وہ اس راز کو جان کر رہے گی۔ نور ہمیشہ سے الگ سوچتی تھی، وہ چاند نگر کی روایات اور کہانیوں پر یقین کرتی تھی، لیکن اسے لگتا تھا کہ اس جھیل کے پیچھے کوئی خاص بات چھپی ہے۔



چاند کی روشنی والی رات میں، نور نے اپنے گاؤں کے لوگوں کو چھوڑا اور جنگل کی طرف چل پڑی جہاں وہ جھیل پوشیدہ تھی۔ اس کے دل میں خوف بھی تھا اور جوش بھی۔ جیسے ہی وہ جنگل میں پہنچی، وہاں کا منظر اس کے وہم و گمان سے بھی زیادہ پراسرار تھا۔ درختوں کے پتوں سے چاند کی روشنی چھن کر زمین پر چمکتی ہوئی ریشمی جالوں کی طرح نظر آ رہی تھی۔

نور چلتی گئی، اور آخرکار اسے جھیل نظر آئی۔ جھیل کی سطح آئینے کی طرح صاف تھی، اور اس میں چاند کی روشنی منعکس ہو کر ایک عجیب چمک پیدا کر رہی تھی۔ جیسے ہی نور جھیل کے قریب پہنچی، جھیل کی سطح پر ایک دروازہ نمودار ہوا۔ نور کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، لیکن اس نے ہمت کی اور دروازہ کھول دیا۔

دروازے کے دوسری طرف ایک حیرت انگیز دنیا تھی۔ یہ دنیا چمکدار نیلے پانیوں اور خوبصورت جھیلوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن وہاں کوئی انسان نہیں تھا، صرف روشنی کے عجیب و غریب وجود تھے جو ہوا میں تیر رہے تھے۔ نور کو محسوس ہوا کہ وہ روشنی کے وجود اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک روشنی کا وجود نور کے قریب آیا اور ایک نرم آواز میں کہا، "ہم وہ روحیں ہیں جو اس جھیل کی حفاظت کرتی ہیں۔ ہر سو سال میں ایک منتخب انسان کو یہاں آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ تم وہ خوش قسمت ہو جو اس راز کو جان سکی ہو۔"

نور نے حیران ہو کر پوچھا، "لیکن یہ سب کیوں؟"

روشنی کی روح نے جواب دیا، "یہ جھیل انسانوں کی خواہشات اور خوابوں کی جگہ ہے۔ جو انسان یہاں آتا ہے، اسے اپنی زندگی کے سب سے بڑے راز کا علم ہوتا ہے۔"

نور نے سوچا اور کہا، "میری سب سے بڑی خواہش تو یہ ہے کہ میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو خوشی دے سکوں۔"

روح نے مسکرا کر کہا، "یہی تمہاری اصل طاقت ہے۔ اپنے دل کی سنو اور اس روشنی کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ جب تم واپس جاؤ گی، تم اپنے گاؤں کو خوشی اور محبت کی روشنی سے بھر دو گی۔"



نور نے روشنی کی دنیا سے واپس قدم رکھا اور جھیل کا دروازہ بند ہوگیا۔ جب وہ چاند نگر واپس آئی، تو وہ پہلے جیسی نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی اور دل میں ایک نیا عزم۔ اس نے گاؤں کے لوگوں کو امید اور خوشی کے نئے خواب دکھائے، اور جلد ہی چاند نگر ایک ایسا گاؤں بن گیا جہاں محبت اور امن کا نور ہمیشہ چمکتا رہتا۔

یہ کہانی چاند نگر کی نہ تھی، بلکہ ہر اُس دل کی تھی جو خواب دیکھتا ہے اور ان کو حقیقت میں بدلنے کی جستجو کرتا ہے

نور کی زندگی اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ چاند نگر کے لوگ اس کی باتوں اور مثبت توانائی سے متاثر ہونے لگے تھے۔ وہ اپنے گاؤں کے ہر فرد کو خوشی اور امید کا سبق سکھانے لگی تھی۔ نور کے دل میں جھیل کی روشنی کا راز چھپا ہوا تھا، مگر اس نے کبھی کسی کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، نور نے گاؤں میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ وہ جانتی تھی کہ ہر انسان کے دل میں خواب اور خواہشیں ہوتی ہیں، اور ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد ضروری ہے۔ نور نے اپنے گاؤں میں ایسے کام شروع کیے جن سے لوگوں کے دلوں میں محبت اور اتحاد بڑھنے لگا۔

ایک دن گاؤں میں ایک مسئلہ پیدا ہوگیا۔ خشک سالی کی وجہ سے کھیتوں میں پانی کی کمی ہو گئی اور گاؤں کے لوگ پریشان ہونے لگے۔ پانی کی قلت سے فصلیں خراب ہو رہی تھیں، اور لوگوں کے چہرے مایوسی سے بھرنے لگے تھے۔ نور نے دیکھا کہ یہ وہ وقت ہے جب اسے جھیل کی روشنی کی طاقت کا صحیح استعمال کرنا ہے۔

نور نے چاند نگر کے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا اور کہا، "ہم سب کو مل کر اپنی زمین اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہوگا۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تو مشکلات بھی کمزور ہو جائیں گی۔ ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔"

اس کی باتوں نے گاؤں والوں کے دلوں میں امید پیدا کی۔ سب نے نور کے ساتھ مل کر گاؤں کے قریب ایک نئی نہر کھودنے کا فیصلہ کیا تاکہ بارش کے پانی کو جمع کیا جا سکے۔ نور کی قیادت میں، گاؤں کے لوگ دن رات محنت کرتے رہے۔ جلد ہی نہر تیار ہو گئی اور بارش کا پانی اس میں بھرنا شروع ہو گیا۔ گاؤں کے کھیت دوبارہ سرسبز ہو گئے اور خشک سالی کا مسئلہ ختم ہوگیا۔

گاؤں کے لوگ حیران تھے کہ کیسے نور کی قیادت نے ان کی زندگیاں بدل دیں۔ وہ جانتے تھے کہ نور میں کوئی خاص طاقت ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ روشنی کی دنیا سے ایک راز لے کر آئی ہے جو اسے طاقتور بناتا تھا۔

وقت گزرتا گیا اور نور کی روشنی پورے چاند نگر میں پھیل گئی۔ وہ گاؤں والوں کی محبت اور عزت کا مرکز بن گئی۔ لیکن نور کو ہمیشہ یاد رہتا تھا کہ اصل طاقت محبت اور اتحاد میں ہے۔

ایک رات، جب چاند پھر سے پورے جوبن پر تھا، نور جھیل کے کنارے جا پہنچی۔ اس نے جھیل کی سطح پر چاند کی روشنی میں اپنا عکس دیکھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس جھیل نے اسے صرف ایک راز نہیں دیا، بلکہ زندگی کی سب سے بڑی سچائی سکھائی ہے: "جو دل دوسروں کی خوشیوں کو اپنی خوشی سمجھتا ہے، وہی دل سب سے زیادہ روشن ہوتا ہے۔"

نور نے مسکراتے ہوئے جھیل کی طرف دیکھا اور واپس اپنے گاؤں کی طرف چل دی۔ وہ جانتی تھی کہ اب چاند نگر ہمیشہ خوشی اور امن کا گہوارہ رہے گا۔ جھیل کا دروازہ تو بند ہوگیا تھا، مگر نور نے اپنے دل میں جو روشنی جگائی تھی، وہ ہمیشہ کے لیے چمکتی رہے گی۔

0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...