FmD4FRX3FmXvDZXvGZT3FRFgNBP1w326w3z1NBMhNV5=
items

اندھیرے کا قیدی: سچائی کی تلاش میں ایک خوفناک جنگ"

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                 اندھیرے کا قیدی: سچائی کی تلاش میں ایک خوفناک جنگ"   

 


                                                                                                                                                                       ایک اندھیری رات تھی، ہوا کی سرسراہٹ جنگل کے درختوں کو ہلا رہی تھی۔ موہن نامی ایک نوجوان نے اپنی زندگی کے سب سے پراسرار سفر پر قدم رکھا تھا۔ وہ جنگل کے بیچوں بیچ ایک چھوٹے سے گاؤں میں آیا تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں کوئی زندہ نہیں بچتا۔ یہ گاؤں "پراسرار وادی" کے نام سے جانا جاتا تھا۔

موہن کو ایک عجیب سا خط ملا تھا جس میں لکھا تھا: "اگر تم حقیقت جاننا چاہتے ہو تو اس گاؤں میں آؤ، لیکن یاد رکھو، سچ کی قیمت بہت بھاری ہوگی۔" موہن کو ہمیشہ سے غیرمعمولی چیزوں کی تلاش تھی، اور اس خط نے اس کی جستجو کو مزید بڑھا دیا تھا۔

گاؤں میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی خاموشی نے اس کا استقبال کیا۔ کوئی انسان، کوئی جانور، کچھ بھی نہ تھا۔ ہر چیز ویران اور خوفناک لگ رہی تھی۔ وہ گاؤں کے مرکز میں پہنچا تو ایک پرانا مکان نظر آیا۔ مکان کا دروازہ کھلا ہوا تھا، اور اندر سے ایک مدھم روشنی جھلک رہی تھی۔ وہ سست قدموں سے اندر داخل ہوا۔

اندر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کی آنکھوں میں ایک پراسرار چمک تھی۔ بوڑھے نے کہا، "تم یہاں کیوں آئے ہو؟"

موہن نے خط دکھایا اور کہا، "میں سچائی کی تلاش میں ہوں۔"

بوڑھا مسکرایا اور بولا، "سچائی جاننے کی تمہاری جستجو تمہیں تباہی کی طرف لے جائے گی، لیکن اگر تم سچ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو تو چلو، تمہیں وہ دکھاتا ہوں جو آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔"

بوڑھے نے ایک دروازہ کھولا جو زمین کے نیچے جاتی ہوئی ایک تاریک سرنگ میں کھلتا تھا۔ موہن نے بے خوفی سے سرنگ میں قدم رکھا۔ جیسے جیسے وہ نیچے جاتا گیا، ویسے ویسے سردی اور گھپ اندھیرا بڑھتا گیا۔ آخر کار، وہ ایک بڑی، پراسرار غار میں پہنچا جہاں جگہ جگہ عجیب و غریب علامتیں بنی ہوئی تھیں۔

غار کے بیچوں بیچ ایک قدیم صندوق رکھا تھا، جس کے گرد ایک سرخ روشنی کا ہالہ تھا۔ بوڑھے نے کہا، "یہ وہ سچ ہے جس کی تمہیں تلاش تھی۔ اسے کھولو اور دیکھو کہ تمہیں کیا ملتا ہے۔"

موہن نے صندوق کو کھولا تو اچانک غار میں ایک زوردار گرج کی آواز گونجی اور سب کچھ لرزنے لگا۔ صندوق کے اندر ایک پراسرار آئینہ تھا۔ اس آئینے میں اس کی اپنی ہی تصویر تھی، لیکن وہ تصویر دھیرے دھیرے بدلنے لگی۔ اس کا چہرہ عجیب سا ہوتا جا رہا تھا، جیسے وہ کوئی اور بن رہا ہو۔

بوڑھا ہنستے ہوئے بولا، "یہ آئینہ تمہاری اندرونی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ جو تم اپنے آپ سے چھپاتے ہو، وہی تمہارے سامنے لاتا ہے۔ تمہاری سب سے بڑی خوفناک حقیقت یہی ہے کہ تم اس سچائی کا سامنا نہیں کر سکتے کہ تم کون ہو!"

موہن کو اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنے بارے میں بہت کچھ نہیں جانتا تھا۔ آئینے میں اس کا چہرہ مکمل طور پر بدل چکا تھا، اور وہ ایک وحشی، خونخوار مخلوق کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

بوڑھے نے کہا، "اب تم جان چکے ہو کہ سچائی ہمیشہ خوشگوار نہیں ہوتی۔ کچھ سچ ایسے بھی ہوتے ہیں جو تمہاری روح کو تاریکی میں دھکیل دیتے ہیں۔"

موہن کو ایسا لگا جیسے وہ خود کو کھو رہا ہو۔ وہ چیخنے لگا، لیکن اس کی آواز کہیں کھو گئی۔ اچانک، سب کچھ دھندلا ہونے لگا، اور جب وہ ہوش میں آیا، تو وہ پھر سے گاؤں کے باہر کھڑا تھا، لیکن اس بار وہ اکیلا نہیں تھا۔

اس کے ساتھ وہ مخلوق تھی جو آئینے میں نظر آئی تھی۔ وہ اب اس کا سایہ بن چکی تھی، اور وہ جانتا تھا کہ اس سچائی سے اب وہ کبھی فرار نہیں پا سکتا۔

                                                                                                                                                                          موہن نے جیسے ہی آئینے میں اپنی بدلی ہوئی شکل دیکھی، اس کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔ اس کا دماغ سن ہو گیا، اور اس نے فوراً آئینہ بند کرنے کی کوشش کی، مگر آئینہ جیسے اس کے ہاتھوں میں چپک گیا تھا۔ آئینے سے نکلتی روشنی تیز ہوتی جا رہی تھی، اور اسی لمحے غار کی دیواریں لرزنے لگیں۔ بوڑھے کی پراسرار ہنسی اب خوفناک چیخ میں بدل چکی تھی۔

موہن نے آئینے کو زمین پر پٹخ دیا، لیکن جیسے ہی وہ زمین سے ٹکرایا، ایک زوردار دھماکہ ہوا اور غار میں موجود ہر چیز ہوا میں معلق ہو گئی۔ موہن کا جسم کسی غیرمرئی طاقت کے قابو میں آگیا تھا، اور وہ غار کی دیواروں سے زور زور سے ٹکرانے لگا۔ ہر ٹکر کے ساتھ اس کے جسم سے خون بہنے لگا، لیکن اس کا درد اس سے زیادہ تھا جو وہ محسوس کر سکتا تھا۔

بوڑھا غائب ہو چکا تھا، اور اس کی جگہ ایک پراسرار سایہ نمودار ہوا۔ وہ سایہ کسی انسانی شکل کا نہیں تھا، بلکہ ایک مافوق الفطرت مخلوق کی مانند تھا، جس کی آنکھوں میں سرخ آگ جل رہی تھی۔

سایہ آہستہ آہستہ موہن کے قریب آنے لگا اور اس کے کان میں سرگوشی کی، "تم نے وہ سچائی چھیڑ دی ہے جسے کبھی نہیں چھیڑنا چاہیے تھا۔ اب تم میرے قیدی ہو، اور تمہاری روح ہمیشہ کے لیے میری ہوگی۔"

موہن نے چیخنے کی کوشش کی، مگر اس کی آواز نکل نہیں رہی تھی۔ اس کے ہاتھ پیر جیسے جکڑ گئے تھے۔ وہ سایہ اب اس کے وجود کے اندر داخل ہو رہا تھا۔ موہن کو اپنے اندر ایک شدید سردی محسوس ہوئی، جیسے اس کی روح کسی تاریک کنویں میں گر رہی ہو۔

اچانک، غار کے فرش سے ہزاروں سیاہ ہاتھ نکلنے لگے، جو موہن کو نیچے کھینچنے لگے۔ وہ ہاتھ اس کے جسم کے گرد لپٹتے جا رہے تھے، اور وہ ہر لمحے موت کے قریب ہوتا جا رہا تھا۔ ہر ہاتھ کی گرفت میں ایک عجیب سا جلن تھا، جیسے وہ ہاتھ انسانی نہیں بلکہ جہنمی مخلوق کے ہوں۔

لیکن تبھی، موہن کو اپنے ذہن میں ایک غیرمرئی آواز سنائی دی، "اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو تو خوف کو اپنے قابو میں کرو۔" یہ آواز بہت پراسرار تھی، جیسے کوئی پرانی یاد کی طرح۔

موہن نے اپنی تمام ہمت کو جمع کیا اور دل کی گہرائیوں سے چیخ ماری، "میں اس خوف کا غلام نہیں بنوں گا!"

اس چیخ کے ساتھ ہی غار کی دیواریں پھٹنے لگیں، اور ایک روشنی کی کرن موہن کے وجود کے گرد لپٹ گئی۔ وہ روشنی اتنی شدید تھی کہ سائے اور سیاہ ہاتھ جلنے لگے، اور غار میں موجود ہر مخلوق پگھلنے لگی۔

موہن کے سامنے پھر وہی آئینہ نمودار ہوا، مگر اس بار اس کی تصویر دھندلی نہیں تھی۔ اس نے اپنی اصل شکل دیکھی، مگر اب وہ پہلے جیسا نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر عجیب نشان تھے، جیسے وہ کسی پراسرار دنیا کا مسافر بن چکا ہو۔

غار سے نکلتے ہی موہن کو ایک بار پھر بوڑھا دکھائی دیا، جو اب زیادہ بوڑھا اور کمزور لگ رہا تھا۔ اس نے کمزور آواز میں کہا، "تم نے سچ کو قابو کر لیا، لیکن یاد رکھو، یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جو مخلوق تمہارے اندر جاگ چکی ہے، وہ ہمیشہ تمہارے پیچھے ہوگی۔"

موہن نے بوڑھے کی طرف دیکھا اور بولا، "میں اب وہ پرانا موہن نہیں ہوں۔ جو میرے پیچھے آئے گا، میں اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔"

یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے گاؤں سے باہر نکل گیا۔ لیکن گاؤں کے باہر جاتے ہی اسے پیچھے سے ایک بار پھر سرسراہٹ کی آواز سنائی دی، جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو۔ اس نے مڑ کر دیکھا، لیکن کچھ نظر نہیں آیا۔ مگر اسے معلوم تھا کہ وہ سائے ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گے۔


0/Post a Comment/Comments

Advertisement

73745675015091643

Advertisement


Loading...