🌙 وقت کا سوداگر
پہاڑوں کے دامن میں چھپا ہوا ایک خاموش اور پراسرار گاؤں تھا — چنارکوٹ۔ اس گاؤں میں شامیں جلد ڈھل جاتی تھیں، اور صبحیں دیر سے طلوع ہوتیں۔ لوگ اکثر کہتے کہ یہاں وقت دوسرے گاؤں کی نسبت آہستہ چلتا ہے۔ کچھ تو یہ بھی کہتے کہ یہاں وقت کبھی کبھی پیچھے بھی چلنے لگتا ہے۔
لیکن سب سے زیادہ حیرت انگیز شے تھی وہ چھوٹی سی ورکشاپ جہاں ایک بوڑھا، کمزور، اور اندھا گھڑی ساز رہتا تھا —
بابا ایاز۔
بابا ایاز کی آنکھوں نے کئی سالوں سے روشنی نہیں دیکھی تھی، مگر اس کے کان… وقت کی دھڑکن سن سکتے تھے۔
وہ کہتا تھا:
“وقت بھی ایک جیتا جاگتا وجود ہے… اگر خاموشی میں کان لگا کر سنو تو وہ تمہاری باتوں کا جواب دیتا ہے۔”
اسی خصوصیت کی وجہ سے بابا ایاز جو گھڑیاں بناتا تھا، وہ عام نہیں تھیں۔
اس کی گھڑیاں انسان کے مستقبل کے راستے بدل دیتیں۔
جو شخص گھڑی خریدتا، اس کی زندگی بدل جاتی — کبھی بہتر، کبھی بدتر، مگر بدلاؤ یقینی ہوتا۔
اور ہر گھڑی کے ساتھ بابا ایک شرط نامہ دیتا:
“جتنا وقت بدلتا ہے، اتنی ہی قیمت وصول کرتا ہے۔”
گاؤں والے اسے وقت کا سوداگر کہتے تھے۔
1 — یتیم لڑکی کی دستک
اسی گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی — مہرو۔
اس کی عمر بیس بائیس برس کے درمیان تھی۔
بڑی آنکھیں، سنجیدہ چہرہ، اور اندر کہیں گہری اداسی چھپی رہتی۔
مہرو اور اس کا چھوٹا بھائی دانش دونوں یتیم تھے۔
ماں بچپن میں ہی مر گئی تھی، اور باپ کچھ سال پہلے ایک پہاڑی حادثے میں اس دنیا سے چلا گیا تھا۔
دانش تو اب بھی کچھ نہ کچھ ہنس لیتا تھا، مگر مہرو کے دل میں ہمیشہ ایک جلتا ہوا افسوس رہتا —
“کاش اُس دن میں بابا کو روکتی… وہ پہاڑ پر نہ جاتا… وہ آج زندہ ہوتا…”
یہ احساس اسے اندر سے کھا رہا تھا۔
کبھی کبھی وہ رات کو دیر تک جاگتی رہتی، اور سوچتی کہ کاش وقت کو پیچھے لے جا سکتی۔
اسی خاموش خواہش نے اسے ایک دن بابا ایاز کی ورکشاپ تک پہنچا دیا۔
وہ لکڑی کے دروازے تک گئی اور آہستہ دستک دی۔
چند لمحوں بعد بابا کی مریل سی آواز آئی:
“آ جاؤ بیٹی… میں جانتا ہوں تم کیوں آئی ہو۔ وقت نے پہلے ہی تمہاری آہٹ میرے کانوں تک پہنچا دی ہے۔”
مہرو حیران رہ گئی۔
وہ اندر داخل ہوئی۔ ورکشاپ تنگ تھی مگر دیواروں پر سینکڑوں گھڑیاں لگی تھیں —
اور حیرت یہ کہ سب گھڑیاں مختلف وقت بتا رہی تھیں۔
کہیں کچھ آگے چل رہی تھیں، کہیں کچھ بہت پیچھے۔
مہرو نے دھیرے سے پوچھا:
“بابا… کیا آپ… ماضی بدل سکتے ہیں؟”
بابا ایاز کچھ دیر تک خاموش رہا۔ پھر دھیرے سے بولا:
“کیوں؟ مستقبل سے اتنی نا امید کیوں ہو، بیٹی؟”
مہرو کی آنکھیں بھر آئیں۔
“میں اپنے بابا کو بچانا چاہتی ہوں۔ اگر وہ واپس آ جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہمارا گھر، ہمارا سکون… سب لوٹ آئے گا۔”
بابا ایاز نے سرد آہ بھری۔
“ماضی کو بدلنا آسان نہیں۔ وقت پیچھے ضرور جا سکتا ہے… مگر وہ واپسی میں اپنی قیمت لیتا ہے۔”
“کیسی قیمت، بابا…؟”
مہرو نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
بابا نے اندر کی دراز کھولی اور ایک سیاہ گھڑی نکالی۔
گھڑی کی سوئیاں الٹی سمت گھوم رہی تھیں۔
اس کا ڈائل بھی سیاہ تھا، جس میں معمولی سی سرخ روشنی سانس لینے کی طرح ٹمٹما رہی تھی۔
بابا نے گھڑی اس کے سامنے رکھ دی۔
“یہ گھڑی تمہیں ماضی میں لے جائے گی… لیکن یاد رکھو — جب تم واپس آؤ گی، وقت کسی پیاری یاد کو تم سے چھین لے گا۔ کوئی ایسا شخص جسے تم بہت چاہتی ہو… تمہاری زندگی سے غائب ہو جائے گا۔”
مہرو کا دل کانپ گیا۔
“کون…؟ کون غائب ہوگا؟”
بابا ایاز نے کہا:
“میں نہیں بتا سکتا۔ وقت خود فیصلہ کرتا ہے۔”
کمرے کی گھڑیاں ایک دم زور سے چلنے لگیں، جیسے سب ایک ساتھ چیخ رہی ہوں۔
مہرو کے دل میں ہچکیاں بھر آئیں۔ مگر اس کی خواہش… اس کا درد… اس کے باپ کی موت… سب مل کر ایک ہی سوال بن گئے:
“کیا میں اپنے بابا کو بچا سکتی ہوں؟”
بابا ایاز نے ہاں میں سر ہلایا۔
“لیکن ہر بدلاؤ کے ردّعمل ہوتے ہیں۔ سوچ لو… فیصلہ تمہارا ہے۔”
مہرو نے آنسو صاف کیے۔
“میں کوئی بھی قیمت قبول ہوں… مجھے ماضی میں جانا ہے!”
بابا نے گھڑی اس کی کلائی پر باندھ دی۔
گھڑی کی سوئیاں تیزی سے پیچھے گھومنے لگیں۔
کمرے میں ایک عجیب سی سانسوں جیسی آواز گونجنے لگی۔
دیواریں دھندلائیں… فرش جیسے غائب ہونے لگا۔
پھر…
اندھیرا چھا گیا۔
2 — ماضی کی دنیا
جب مہرو نے آنکھیں کھولیں تو وہ چھ سال پہلے والے دن میں کھڑی تھی۔
وہی گھر، وہی پہاڑی ہوا، وہی صبح کی ٹھنڈی روشنی۔
سب کچھ ویسا ہی تھا۔
اور سب سے بڑھ کر — بابا زندہ تھے۔
وہ کچن میں چائے بنا رہے تھے۔
مہرو نے آگے بڑھ کر انہیں زور سے گلے لگا لیا۔
بابا چونکے، ہنس پڑے:
“ارے بیٹا، خیر تو ہے؟ صبح صبح اتنی محبت؟”
مہرو کے جذبات قابو سے باہر تھے۔ آنسو رکے نہیں رکھ رہے تھے۔
“بابا… آج پہاڑ پر مت جانا… پلیز مت جانا۔”
بابا حیران رہ گئے۔
“کیوں؟ میں تو ہر ہفتے جاتا ہوں۔ لکڑی کاٹ لاتا ہوں۔”
“آج نہ جائیے!”
وہ چیخ اٹھی۔
بابا اس کی حالت دیکھ کر رُک گئے۔
محبت نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دیں۔
انہوں نے کندھے پر رکھا کلہاڑا اتارا اور ہنس کر کہا:
“ٹھیک ہے… آج نہیں جاتا۔”
مہرو کے بابا اس دن نہیں گئے…
اور یوں باپ کی زندگی بچ گئی۔
مہرو کے دل میں سکون اتر گیا۔
اس نے وہ دن اپنے بابا کے ساتھ گزارا۔
گھر میں ہنسی گونجتی رہی، دانش بھی کھیلتا رہا، سب کچھ ویسا ہی تھا جیسے سالوں سے کھویا ہوا خواب۔
رات کے وقت گھڑی کی سوئیاں دوبارہ تیزی سے گھومنے لگیں۔
وقت اسے واپس بلا رہا تھا…
مہرو نے اپنے بابا کی طرف آخری نظر ڈالی۔
دل بھر آیا، مگر وہ مطمئن تھی —
“اب سب ٹھیک ہو گیا ہے…”
اور پھر…
وہ دھند کی لپیٹ میں دوبارہ غائب ہو گئی۔
3 — ایک بدلی ہوئی دنیا
جب مہرو نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو وہ اپنے موجودہ وقت میں تھی۔
وہی کمرہ، وہی بستر… مگر کچھ چیزیں الگ تھیں۔
دیواروں پر نئی تصویریں تھیں۔
کمرے کا فرنیچر بدلا ہوا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور کی زندگی میں ہے۔
وہ دوڑ کر باہر نکلی۔
صحن میں ایک بوڑھا شخص لکڑی صاف کر رہا تھا —
مہرو کا بابا۔
زندہ! بالکل صحت مند!
مہرو خوشی سے چیخ اٹھی:
“بابا!!!”
بابا نے چونک کر اسے دیکھا،
“بیٹا… کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو نا؟”
مہرو ان کے گلے لگ گئی۔
اس کی دنیا اب مکمل تھی۔
لیکن ایک پریشانی تھی —
دانش کہاں ہے؟
وہ گھر میں دوڑی، کمرے کمرے تلاش کیا، صحن، گلی… سب جگہ دیکھی۔
مگر دانش کہیں نہیں تھا۔
وہ بابا کے پاس واپس آئی اور چلّائی:
“بابا، دانش کہاں ہے؟”
بابا حیران ہوئے۔
“کون دانش؟”
مہرو کو لگا شاید بابا مذاق کر رہے ہیں۔
“بابا… میرا بھائی… آپ کا بیٹا!”
بابا کی آنکھوں میں حیرت پھیل گئی۔
“بیٹا… میرا تو کوئی بیٹا نہیں۔ تم اکیلی پیدائش ہو۔ تم ہمیشہ اکیلی ہی رہی ہو…”
مہرو کا دل ایسے ٹوٹا جیسے کسی نے اندر سے ایک تار کھینچ کر اسے خالی کر دیا ہو۔
وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے…؟ وہ تو میرے ساتھ ہی رہتا تھا…!”
تب سمجھ آئی —
وقت نے قیمت وصول کر لی ہے۔
اس نے بابا کو بچایا تھا…
اور وقت نے اس کے بدلے اس کا بھائی چھین لیا۔
اب دانش اس کی زندگی، اس کے ماضی اور اس کی یادوں سے مٹا دیا گیا تھا۔
بابا اسے کبھی جانتے ہی نہیں تھے۔
گاؤں والے بھی اسے نہیں پہچانتے تھے۔
وہ گلیوں میں دوڑی دوڑی پھر رہی تھی، لوگوں سے پوچھ رہی تھی:
“دانش کہاں ہے؟ کیا کسی نے میرے بھائی کو دیکھا ہے؟”
مگر ہر چہرہ خالی تھا، ہر جواب یکساں:
“تمہارا تو کوئی بھائی نہیں تھا…”
یہ لمحہ اس کے دل پر ہتھوڑے کی ضرب تھا۔
4 — وقت کی سچائی
مہرو کانپتی ہوئی بابا ایاز کی ورکشاپ پہنچی۔
بابا دروازے پر ہی کھڑے تھے، جیسے اسے پہلے سے معلوم تھا کہ وہ آنے والی ہے۔
“میں نے کہا تھا بیٹی… وقت اپنی قیمت ضرور لیتا ہے۔”
مہرو رو پڑی، تقریباً چیختی ہوئی آواز میں بولی:
“میں اپنا بھائی واپس چاہتی ہوں! جو چاہے لے لو… سب کچھ لے لو… بس دانش دے دو!”
بابا ایاز نے سر جھکا لیا۔
“بیٹی… تم نے وقت کے دھاگے کھینچے ہیں۔
اب اگر چاہو تو تبدیلی واپس کر سکتی ہو…
مگر پھر تمہارا بابا… جو آج زندہ ہے… دوبارہ چلا جائے گا۔”
مہرو کے قدم جیسے پتھر کے ہو گئے۔
اسے دو راستوں میں سے ایک چننا تھا —
یا تو بابا کو رکھے اور دانش کو بھول جائے
یا دانش کو واپس لائے اور بابا کو کھو دے۔
اس کی سانسیں لرزنے لگیں۔
“کیا کوئی ایسا راستہ نہیں… جس میں دونوں رہ سکیں؟”
بابا ایاز نے آہ بھری۔
“وقت کا توازن ایک بار ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ جونا آس ہے… مگر ممکن نہیں۔
یہ ایک ہی سچ قبول کرتا ہے — یا تو ایک زندگی، یا دوسری زندگی۔”
مہرو کی روح ٹوٹنے لگی۔
اس نے سوچا:
دانش… وہ معصوم سا بچہ… جس کی ہنسی گونجتی تھی، جس کی انگلی پکڑ کر میں بازار جاتی تھی… جسے میں نے ماں بن کر پالا…
اور دوسری طرف:
بابا… جنہیں میں نے کھویا تھا، جنہیں میں نے آنسوؤں میں یاد کیا تھا… جنہیں آج چھو سکتی ہوں، ان سے بات کر سکتی ہوں…
وہ روتی رہی…
زمین پر بیٹھی رہی…
گھنٹوں تک۔
بابا ایاز خاموش کھڑے اسے دیکھتے رہے۔
آخرکار —
مہرو نے ایک فیصلہ کر لیا۔
5 — آخری فیصلہ
سرد ہوا چل رہی تھی۔
بابا ایاز نے اسے دوبارہ وہ سیاہ گھڑی تھما دی۔
“سوچ لو، بیٹی… یہ آخری موقع ہے۔”
مہرو نے گھڑی اپنی کلائی پر باندھی۔
گھڑی کی سرخ روشنی دھیرے دھیرے تیز ہونے لگی۔
بابا ایاز نے پوچھا:
“کسے واپس لانا چاہتی ہو؟”
مہرو نے لرزتی آواز میں کہا:
“جسے وقت بھی نہیں چھین سکتا…
میرا بھائی… دانش۔
وہ معصوم تھا…
میری ذمہ داری تھا…
میری ماں کی آخری نشانی…”
بابا ایاز نے سر ہلایا، جیسے اس فیصلے کی گہرائی سمجھ رہا ہو۔
“واپس آؤ گی تو تمہارا بابا… اس دنیا میں نہیں ہوگا۔ کیا تم تیار ہو؟”
مہرو نے آنکھیں بند کر لیں۔
اس کی پلکوں پر لرزتے آنسو جیسے فیصلہ کی مہرو تائید کر رہے تھے۔
“میں تیار ہوں۔
ہر ماں اپنے بچے کے لیے قربانی دیتی ہے…
اور میں اس کی بہن ہوں۔
میری محبت بھی ماں جیسی ہے۔”
گھڑی کی سوئیاں الٹی سمت بے قابو گھومنے لگیں۔
دنیا اندھیرے میں ڈوب گئی۔
6 — توازن کی واپسی
جب مہرو نے آنکھیں کھولیں، وہ اپنے اصل وقت میں تھی۔
گھر ویسا ہی تھا جیسا پہلے تھا —
تھوڑا ٹوٹا پھوٹا، مگر اپنا۔
دروازہ کھلا…
اور اندر سے ایک جانا پہچانا لڑکا نکلا —
دانش۔
وہ حیران کھڑا تھا۔
“اپا، آپ رو کیوں رہی ہیں؟”
مہرو اس کے قدموں میں بیٹھ گئی اور اسے زور سے گلے لگا لیا۔
“میں تمہیں کبھی کھونے نہیں دوں گی، دانش… کبھی نہیں…”
دانش نے اس کے آنسو صاف کیے۔
“میں تو کہیں نہیں گیا تھا… آپ عجیب کیوں باتیں کر رہی ہیں؟”
مہرو نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
“نہیں بیٹا… اب سب ٹھیک ہے۔”
لیکن اندر کہیں ایک خالی پن تھا۔
بابا کی یاد… ایک خلا کی طرح… چند تصویریں، چند دھندلی آوازیں… وہ سب کچھ کہیں دور چلا گیا تھا۔
وہ جانتی تھی کہ بابا اب دوبارہ نہیں ملیں گے۔
لیکن اس نے دانش کو پا لیا تھا۔
اور کچھ رشتے… کچھ محبتیں… دنیا کی کسی طاقت کے بدلے نہیں جاتیں۔
بابا ایاز کی ورکشاپ سے گھڑیوں کی ہلکی ہلکی آواز آئی—
جیسے وقت نے خود بھی تسلیم کر لیا ہو کہ مہرو کا فیصلہ…
وقت کے خلاف نہیں،
بلکہ محبت کے حق میں تھا۔


Post a Comment